🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3956)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
29. باب مناقب العباس بن عبد المطلب رضى الله عنه
باب: عباس بن عبدالمطلب رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3760
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، قَال: سَمِعْتُ الْأَعْمَشَ يُحَدِّثُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِعُمَرَ فِي الْعَبَّاسِ: " إِنَّ عَمَّ الرَّجُلِ صِنْوُ أَبِيهِ ". وَكَانَ عُمَرُ كَلَّمَهُ فِي صَدَقَتِهِ. قَالَ: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ.
علی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر رضی الله عنہ سے عباس رضی الله عنہ کے سلسلہ میں فرمایا: بلاشبہہ آدمی کا چچا اس کے باپ کے مثل ہوتا ہے عمر رضی الله عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کے صدقہ کے سلسلہ میں کوئی بات کی تھی ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3760]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 10112) (صحیح) (شواہد کی بنا پر حدیث صحیح ہے، دیکھئے: حدیث نمبر (3761) والصحیحة 806)»
وضاحت: ۱؎: صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر رضی الله عنہ کو زکاۃ کا مال جمع کرنے کے لیے بھیجا تو کچھ لوگوں نے دینے سے انکار کر دیا، ان میں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا عباس رضی الله عنہ بھی تھے، انہی کے سلسلہ میں آپ نے عمر سے فرمایا: «و أما العباس فھی علي ومثلھا معھا» یعنی جہاں تک میرے چچا عباس کا مسئلہ ہے تو ان کا حق میرے اوپر ہے اور اسی کے مثل مزید اور، ساتھ ہی آپ نے وہ بات بھی کہی جو حدیث میں مذکور ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح بما قبله (3759) ، الإرواء (3 / 348 - 349)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥علي بن أبي طالب الهاشمي، أبو الحسن، أبو الحسينصحابي
👤←👥سعيد بن أبي عمران الطائي، أبو البختري
Newسعيد بن أبي عمران الطائي ← علي بن أبي طالب الهاشمي
ثقة ثبت فيه تشيع قليل
👤←👥عمرو بن مرة المرادي، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمن
Newعمرو بن مرة المرادي ← سعيد بن أبي عمران الطائي
ثقة
👤←👥سليمان بن مهران الأعمش، أبو محمد
Newسليمان بن مهران الأعمش ← عمرو بن مرة المرادي
ثقة حافظ
👤←👥جرير بن حازم الأزدي، أبو النضر
Newجرير بن حازم الأزدي ← سليمان بن مهران الأعمش
ثقة
👤←👥وهب بن جرير الأزدي، أبو العباس، أبو الحسن
Newوهب بن جرير الأزدي ← جرير بن حازم الأزدي
ثقة
👤←👥أحمد بن إبراهيم الدورقي، أبو عبد الله
Newأحمد بن إبراهيم الدورقي ← وهب بن جرير الأزدي
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
679
أخذنا زكاة العباس عام الأول للعام
جامع الترمذي
3760
عم الرجل صنو أبيه
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 3760 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3760
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر رضی اللہ عنہ کو زکٰوۃ کا مال جمع کرنے کے لیے بھیجا تو کچھ لوگوں نے دینے سے انکار کر دیا،
ان میں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا عباس رضی اللہ عنہ بھی تھے،
انہی کے سلسلہ میں آ پ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر سے فرمایا: (وَ أَمَّا الْعَبَّاسُ فَھِیَ عَلَيَّ وَمِثْلَھَا مَعَھَا) یعنی جہاں تک میرے چچا عباس کا مسئلہ ہے تو ان کا حق میرے اوپر ہے اور اسی کے مثل مزید اور،
ساتھ ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ بات بھی کہی جو حدیث میں مذکور ہے۔

نوٹ:
(شواہد کی بنا پر حدیث صحیح ہے،
دیکھئے: حدیث نمبر: (3761) والصحیحة: 806)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3760]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 679
وقت سے پہلے زکاۃ دینے کا بیان۔
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر رضی الله عنہ سے فرمایا: ہم عباس سے اس سال کی زکاۃ گزشتہ سال ہی لے چکے ہیں۔‏‏‏‏ [سنن ترمذي/كتاب الزكاة/حدیث: 679]
اردو حاشہ:
1؎:
اور یہی قول راجح ہے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 679]