🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3956)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
37. باب ما جاء في تعجيل الزكاة
باب: وقت سے پہلے زکاۃ دینے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 679
حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ دِينَارٍ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ الْحَجَّاجِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ الْحَكَمِ بْنِ جَحْلٍ، عَنْ حُجْرٍ الْعَدَوِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِعُمَرَ: " إِنَّا قَدْ أَخَذْنَا زَكَاةَ الْعَبَّاسِ عَامَ الْأَوَّلِ لِلْعَامِ ". قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: لَا أَعْرِفُ حَدِيثَ تَعْجِيلِ الزَّكَاةِ مِنْ حَدِيثِ إِسْرَائِيلَ، عَنْ الْحَجَّاجِ بْنِ دِينَارٍ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَحَدِيثُ إِسْمَاعِيل بْنِ زَكَرِيَّا، عَنْ الْحَجَّاجِ عِنْدِي أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ إِسْرَائِيلَ عَنْ الْحَجَّاجِ بْنِ دِينَارٍ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا، وَقَدِ اخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي تَعْجِيلِ الزَّكَاةِ قَبْلَ مَحِلِّهَا، فَرَأَى طَائِفَةٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنْ لَا يُعَجِّلَهَا، وَبِهِ يَقُولُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، قَالَ: أَحَبُّ إِلَيَّ أَنْ لَا يُعَجِّلَهَا، وقَالَ أَكْثَرُ أَهْلِ الْعِلْمِ إِنْ عَجَّلَهَا قَبْلَ مَحِلِّهَا أَجْزَأَتْ عَنْهُ، وَبِهِ يَقُولُ الشَّافِعِيُّ، وَأَحْمَدُ، وَإِسْحَاق.
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر رضی الله عنہ سے فرمایا: ہم عباس سے اس سال کی زکاۃ گزشتہ سال ہی لے چکے ہیں۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- اس باب میں ابن عباس رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے،
۲- اسرائیل کی پہلے زکاۃ نکالنے والی حدیث کو جسے انہوں نے حجاج بن دینار سے روایت کی ہے ہم صرف اسی طریق سے جانتے ہیں،
۳- اسماعیل بن زکریا کی حدیث جسے انہوں نے حجاج سے روایت کی ہے میرے نزدیک اسرائیل کی حدیث سے جسے انہوں نے حجاج بن دینار سے روایت کی ہے زیادہ صحیح ہے،
۴- نیز یہ حدیث حکم بن عتیبہ سے بھی مروی ہے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسلاً روایت کی ہے،
۵- اہل علم کا وقت سے پہلے پیشگی زکاۃ دینے میں اختلاف ہے، اہل علم میں سے ایک جماعت کی رائے ہے کہ اسے پیشگی ادا نہ کرے، سفیان ثوری اسی کے قائل ہیں، وہ کہتے ہیں: کہ میرے نزدیک زیادہ پسندیدہ یہی ہے کہ اسے پیشگی ادا نہ کرے، اور اکثر اہل علم کا کہنا ہے کہ اگر وقت سے پہلے پیشگی ادا کر دے تو جائز ہے۔ شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ اسی کے قائل ہیں ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الزكاة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 679]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (حسن)»
وضاحت: ۱؎: اور یہی قول راجح ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن أيضا
قال الشيخ زبير على زئي:(679) إسناده ضعيف
حجر العدوي لم يتبين لي من ھو(؟) وللحديث شواھد ضعيفه

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥علي بن أبي طالب الهاشمي، أبو الحسن، أبو الحسينصحابي
👤←👥حجر العدوي
Newحجر العدوي ← علي بن أبي طالب الهاشمي
مجهول
👤←👥الحكم بن جحل الأزدي
Newالحكم بن جحل الأزدي ← حجر العدوي
ثقة
👤←👥الحجاج بن دينار الأشجعي
Newالحجاج بن دينار الأشجعي ← الحكم بن جحل الأزدي
ثقة
👤←👥إسرائيل بن يونس السبيعي، أبو يوسف
Newإسرائيل بن يونس السبيعي ← الحجاج بن دينار الأشجعي
ثقة
👤←👥إسحاق بن منصور السلولي، أبو عبد الرحمن
Newإسحاق بن منصور السلولي ← إسرائيل بن يونس السبيعي
ثقة
👤←👥القاسم بن دينار القرشي، أبو محمد
Newالقاسم بن دينار القرشي ← إسحاق بن منصور السلولي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
679
أخذنا زكاة العباس عام الأول للعام
جامع الترمذي
3760
عم الرجل صنو أبيه
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 679 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 679
اردو حاشہ:
1؎:
اور یہی قول راجح ہے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 679]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3760
عباس بن عبدالمطلب رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
علی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر رضی الله عنہ سے عباس رضی الله عنہ کے سلسلہ میں فرمایا: بلاشبہہ آدمی کا چچا اس کے باپ کے مثل ہوتا ہے عمر رضی الله عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کے صدقہ کے سلسلہ میں کوئی بات کی تھی ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب/حدیث: 3760]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر رضی اللہ عنہ کو زکٰوۃ کا مال جمع کرنے کے لیے بھیجا تو کچھ لوگوں نے دینے سے انکار کر دیا،
ان میں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا عباس رضی اللہ عنہ بھی تھے،
انہی کے سلسلہ میں آ پ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر سے فرمایا: (وَ أَمَّا الْعَبَّاسُ فَھِیَ عَلَيَّ وَمِثْلَھَا مَعَھَا) یعنی جہاں تک میرے چچا عباس کا مسئلہ ہے تو ان کا حق میرے اوپر ہے اور اسی کے مثل مزید اور،
ساتھ ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ بات بھی کہی جو حدیث میں مذکور ہے۔

نوٹ:
(شواہد کی بنا پر حدیث صحیح ہے،
دیکھئے: حدیث نمبر: (3761) والصحیحة: 806)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3760]