🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن ٹیکسٹ کی صورت میں حاصل کریں۔ مزید تفصیل کے لیے رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3956)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
61. باب فضل فاطمة بنت محمد صلى الله عليهما وسلم
باب: فاطمہ رضی الله عنہا کی فضیلت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3872
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ مَيْسَرَةَ بْنِ حَبِيبٍ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَتْ: " مَا رَأَيْتُ أَحَدًا أَشْبَهَ سَمْتًا , وَدَلًّا , وَهَدْيًا بِرَسُولِ اللَّهِ فِي قِيَامِهَا , وَقُعُودِهَا مِنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: وَكَانَتْ إِذَا دَخَلَتْ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ إِلَيْهَا فَقَبَّلَهَا , وَأَجْلَسَهَا فِي مَجْلِسِهِ، وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ عَلَيْهَا قَامَتْ مِنْ مَجْلِسِهَا فَقَبَّلَتْهُ وَأَجْلَسَتْهُ فِي مَجْلِسِهَا، فَلَمَّا مَرِضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَتْ فَاطِمَةُ فَأَكَبَّتْ عَلَيْهِ , فَقَبَّلَتْهُ، ثُمَّ رَفَعَتْ رَأْسَهَا , فَبَكَتْ، ثُمَّ أَكَبَّتْ عَلَيْهِ , ثُمَّ رَفَعَتْ رَأْسَهَا فَضَحِكَتْ، فَقُلْتُ: إِنْ كُنْتُ لَأَظُنُّ أَنَّ هَذِهِ مِنْ أَعْقَلِ نِسَائِنَا فَإِذَا هِيَ مِنَ النِّسَاءِ، فَلَمَّا تُوُفِّيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْتُ لَهَا: أَرَأَيْتِ حِينَ أَكْبَبْتِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَفَعْتِ رَأْسَكِ , فَبَكَيْتِ , ثُمَّ أَكْبَبْتِ عَلَيْهِ , فَرَفَعْتِ رَأْسَكِ , فَضَحِكْتِ، مَا حَمَلَكِ عَلَى ذَلِكَ؟ قَالَتْ: إِنِّي إِذًا لَبَذِرَةٌ أَخْبَرَنِي أَنَّهُ مَيِّتٌ مِنْ وَجَعِهِ هَذَا , فَبَكَيْتُ، ثُمَّ أَخْبَرَنِي أَنِّي أَسْرَعُ أَهْلِهِ لُحُوقًا بِهِ , فَذَاكَ حِينَ ضَحِكْتُ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ عَائِشَةَ.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے اٹھنے بیٹھنے کے طور و طریق اور عادت و خصلت میں فاطمہ ۱؎ رضی الله عنہ سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مشابہ کسی کو نہیں دیکھا، وہ کہتی ہیں: جب وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتیں تو آپ اٹھ کر انہیں بوسہ لیتے اور انہیں اپنی جگہ پر بٹھاتے، اور جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس آتے تو وہ اٹھ کر آپ کو بوسہ لیتیں اور آپ کو اپنی جگہ پر بٹھاتیں چنانچہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوئے تو فاطمہ آئیں اور آپ پر جھکیں اور آپ کو بوسہ لیا، پھر اپنا سر اٹھایا اور رونے لگیں پھر آپ پر جھکیں اور اپنا سر اٹھایا تو ہنسنے لگیں، پہلے تو میں یہ خیال کرتی تھی کہ یہ ہم عورتوں میں سب سے زیادہ عقل والی ہیں مگر ان کے ہنسنے پر یہ سمجھی کہ یہ بھی آخر (عام) عورت ہی ہیں، یعنی یہ کون سا موقع ہنسنے کا ہے، پھر جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی تو میں نے ان سے پوچھا کہ یہ کیا بات تھی کہ میں نے تمہیں دیکھا کہ تم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر جھکیں پھر سر اٹھایا تو رونے لگیں، پھر جھکیں اور سر اٹھایا تو ہنسنے لگیں، تو انہوں نے کہا: اگر آپ کی زندگی میں یہ بات بتا دیتی تو میں ایک ایسی عورت ہوتی جو آپ کے راز کو افشاء کرنے والی ہوتی، بات یہ تھی کہ پہلے آپ نے مجھے اس بات کی خبر دی کہ اس بیماری میں میں انتقال کر جانے والا ہوں، یہ سن کر میں رو پڑی، پھر آپ نے مجھے بتایا کہ ان کے گھر والوں میں سب سے پہلے میں ان سے ملوں گی، تو یہ سن کر میں ہنسنے لگی۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، اور یہ عائشہ سے متعدد سندوں سے آئی ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3872]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/ الأدب 155 (5217) (تحفة الأشراف: 17883) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے فاطمہ رضی الله عنہا کی منقبت کئی طرح سے ثابت ہوتی ہے، ۱- فاطمہ رضی الله عنہا آپ سے اخلاق و عادات میں بہت زیادہ مشابہت رکھتی تھیں،
۲- فاطمہ رضی الله عنہا آپ کو اپنے گھر والوں میں سب سے زیادہ پیاری تھیں،
۳- آخرت میں آپ سے شرف رفاقت سب سے پہلے فاطمہ رضی الله عنہا کو حاصل ہوئی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح نقد الكتانى (44 - 45)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥فاطمة بنت رسول الله، أم الحسن، أم أبيها، أم الحسينصحابية
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد الله
Newعائشة بنت أبي بكر الصديق ← فاطمة بنت رسول الله
صحابي
👤←👥عائشة بنت طلحة القرشية، أم عمران
Newعائشة بنت طلحة القرشية ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
ثقة
👤←👥المنهال بن عمرو الأسدي
Newالمنهال بن عمرو الأسدي ← عائشة بنت طلحة القرشية
ثقة
👤←👥ميسرة بن حبيب النهدي، أبو حازم
Newميسرة بن حبيب النهدي ← المنهال بن عمرو الأسدي
ثقة
👤←👥إسرائيل بن يونس السبيعي، أبو يوسف
Newإسرائيل بن يونس السبيعي ← ميسرة بن حبيب النهدي
ثقة
👤←👥عثمان بن عمر العبدي، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عدي
Newعثمان بن عمر العبدي ← إسرائيل بن يونس السبيعي
ثقة
👤←👥محمد بن بشار العبدي، أبو بكر
Newمحمد بن بشار العبدي ← عثمان بن عمر العبدي
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
4434
أنه يقبض في وجعه الذي توفي فيه فبكيت أني أول أهله يتبعه فضحكت
صحيح البخاري
3626
أخبرني أنه يقبض في وجعه الذي توفي فيه فبكيت أني أول أهل بيته أتبعه فضحكت
صحيح البخاري
3716
أنه يقبض في وجعه الذي توفي فيه فبكيت أني أول أهل بيته أتبعه فضحكت
صحيح مسلم
6312
أخبرني بموته فبكيت أني أول من يتبعه من أهله فضحكت
صحيح مسلم
6313
أما ترضي أن تكوني سيدة نساء المؤمنين قالت فضحكت ضحكي الذي رأيت
جامع الترمذي
3872
أخبرني أنه ميت من وجعه هذا فبكيت أني أسرع أهله لحوقا به فذاك حين ضحكت
سنن ابن ماجه
1621
ألا ترضين أن تكوني سيدة نساء المؤمنين فضحكت لذلك
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 3872 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3872
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
اس حدیث سے فاطمہ رضی اللہ عنہا کی منقبت کئی طرح سے ثابت ہوتی ہے۔


فاطمہ رضی اللہ عنہا آپ سے اخلاق وعادات میں بہت زیادہ مشابہت رکھتی تھیں۔


فاطمہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے گھر والوں میں سب سے زیادہ پیاری تھیں۔


آخرت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے شرف رفاقت سب سے پہلے فاطمہ کو حاصل ہوئی (رضی اللہ عنہا)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3872]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1621
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کا بیان۔
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں اکٹھا ہوئیں اور ان میں سے کوئی بھی پیچھے نہ رہی، اتنے میں فاطمہ رضی اللہ عنہا آئیں، ان کی چال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی چال کی طرح تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری بیٹی! خوش آمدید پھر انہیں اپنے بائیں طرف بٹھایا، اور چپکے سے کوئی بات کہی تو وہ رونے لگیں، پھر چپکے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی بات کہی تو وہ ہنسنے لگیں، عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے ان سے پوچھا کہ تم کیوں روئیں؟ تو انہوں نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ عل۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1621]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
یہ واقعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مرض وفات کے دوران میں پیش آیا جب تمام امہات المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھیں۔
مولانا صفی الرحمٰن مبارک پوری رحمۃ اللہ علیہ نے الرحیق المختوم میں اسے حیات مبارکہ کے آخری دن کا واقعہ قرا ردیا ہے۔
اور فرمایا کہ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ آخری دن نہیں بلکہ آخری ہفتے میں کسی دن پیش آیا تھا۔
واللہ أعلم، دیکھئے: (الرحیق المختوم اردو طبع مکتبہ سلفیہ ص: 628)
 اس حدیث میں حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے شرف اور فضیلت کا اظہار ہے جنھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خاص راز عطا فرمایا۔

(3)
راز کے طور پر بتائی ہوئی بات ظاہر کرنا مناسب نہیں کیونکہ راز ایک امانت کی حیثیت رکھتا ہے۔
اور امانت میں خیانت کرنا حرام ہے۔

(4)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حضرت فاطمہ کو مستقبل کی خبر دینا اور واقعات کا اسی طرح پیش آنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت ورسالت کی دلیل ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس قدر پیش گویئاں فرمائی ہیں۔
وہ سب کی سب اسی طرح بعینہ پوری ہویئں ہیں۔
جس طرح فرمائی گئی تھیں۔
جن پیش گویئوں کے ابھی پورا ہونے کاوقت نہیں آیا۔
ان کے بارے میں بھی ہمارا ایمان ہے کہ وہ ضرور پوری ہوں گی۔

(5)
حفاظ کرام کا آپس میں دور کرنا اور بالخصوص رمضان المبارک میں اس کا اہتمام کرنا سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔

(6)
عمر کے آخری حصے میں نیکی کے کاموں کا اہتما م زیاہ ہونا چاہیے۔

(7)
دوست احباب اور اقارب کے لئے اگر کسی خوش کن خبر کا علم ہوتو انھیں خوش خبری دینی چاہیے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1621]

الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 6313
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں،نبی اکرم کی تمام بیویاں آپ کے پاس تھیں،ان میں سے کوئی پیچھے نہیں رہ گئی تھی تواتنے میں حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا چلتی ہو ئی آئیں ان کی چال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی چال سے ذرہ برابر مختلف نہ تھی۔جب آپ نے انھیں دیکھا تو ان کو خوش آمدید کہا اور فر یا:"میری بیٹی کو خوش آمدید!" پھر انہیں اپنی دائیں یا بائیں جانب بٹھا یا،پھر رازی داری سے ان کے ساتھ بات کی تو وہ شدت سے رونے لگیں۔جب آپ... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:6313]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
حضرت عروہ،
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے بھانجے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہاں سرگوشی میں حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو اپنی موت کی غم انگیز خبر دی تو وہ بے قرار ہو کر رو پڑی،
پھر آپ نے دوبارہ سرگوشی میں یہ غم انگیز خبر دی کہ جلد ہی میرے بعد تم فوت ہو جاؤ گی اور مجھے آ ملو گی تو موت کی خبر پر آپ سے ملاقات کی خبر غالب آ گئی تو وہ ہنس پڑیں،
لیکن اس کے مقابلہ میں حضرت مسروق کی ایک روایت میں یہ ہے کہ آپ نے پہلی دفعہ سرگوشی میں اپنی موت کی خبر دی اور فرمایا،
تم اللہ سے ڈرنا اور صبر کرنا،
کیونکہ میں تمہارا بہترین پیش رو ہوں،
جو تمہارے استقبال کے لیے آگے جا رہا ہے تو وہ آپ کی موت کے صدمہ کی بنا پر رو پڑیں،
پھر دوبارہ سرگوشی کی تو انہیں امت کی عورتوں کی سرداری کی خوش خبری سنائی اور اس پر راضی ہونے کے لیے کہا تو ہنس پڑیں اور دوسری روایت میں یہ ہے کہ پہلی دفعہ اپنی موت کی خبر کے ساتھ حضرت فاطمہ کی موت کی خبر بھی دی،
اپنی موت کی خبر ہنسی اور گریہ دونوں کا سبب بن سکتی ہے،
موت کے اعتبار سے گریہ اور آپ کی ملاقات کا سبب ہونے کی بنا پر مسرت و شادمانی،
اس لیے جب اپنی موت کے ساتھ ہی،
ان کی موت کی خبر دے کر گریہ اور ہنسی دونوں کے حالات پیدا کر دئیے گئے،
گریہ پر ملاقات کی فرحت و مسرت غالب آ گئی تو پھر بیقراری تو دور ہو گئی،
دوبارہ سرگوشی کی کیا ضرورت رہی،
اس لیے صحیح بات یہی معلوم ہوتی ہے کہ دوسری سرگوشی میں حضرت فاطمہ کی موت کی خبر کے ساتھ انہیں سرداری کی خوش خبری بھی سنائی گئی تو انہیں مسرت ہوئی اور وہ ہنسنے لگیں۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 6313]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 3626
3626. انھوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوشیدہ بات کرتے ہوئے بتایا کہ میری وفات اسی بیماری میں ہو جائے گی جس پر میں روپڑی۔ پھر آپ نے مجھ سے آہستہ گفتگو فرمائی اور مجھے بتایا کہ تم میرے خاندان کی پہلی خاتون ہو جو میری وفات کے بعد میرے پاس آؤ گی، اس وجہ سے میں ہنس پڑی۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:3626]
حدیث حاشیہ:
جیسا آپ نے فرمایا تھا ویسا ہی ہوا۔
وفات نبوی کے چھ ماہ بعد حضرت فاطمہ ؓ کا وصال ہوگیا اس حدیث سے حضرت فاطمہ زہراءکی بڑی فضیلت نکلتی ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3626]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 3716
3716. انھوں نے (حضرت سیدہ فاطمہ ؓنے) بتایا: مجھ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آہستہ بات کی تھی کہ آپ اس بیماری میں وفات پاجائیں گے تو میں اس پر رونے لگی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے دوبارہ آہستہ گفتگو فرمائی کہ آپ کے اہل بیت میں سے میں سب سے پہلے آپ سے ملاقات کروں گی تو میں اس پر ہنس پڑی۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:3716]
حدیث حاشیہ:
جیسا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا ویساہی ہوا کہ آپ کی وفات کے تقریباً چھ ماہ بعد حضرت فاطمۃ الزہراء ؓ کا انتقال ہوگیا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ خبروحی الٰہی کے ذریعہ سے دی تھی کیونکہ آپ عالم الغیب نہیں تھے، ہاں اللہ پاک کی طرف سے جو معلوم ہوجاتا وہ فرماتے اور پھر وہ حرف بہ حرف پورا ہوجاتا۔
عالم الغیب اس کو کہتے ہیں جو خود بخود بغیر کسی کے بتلائے غیب کی خبریں پیش کرسکے، یہ علم غیب صرف اللہ تعالیٰ کو حاصل ہے اور کوئی نبی وولی غیب دان نہیں ہیں۔
۔
قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی اعلان کرادیا ہے کہ کہہ دو میں غیب جاننے والا نہیں ہوں۔
اگر آپ غیب داں ہوتے تو جنگ احد کا عظیم حادثہ پیش نہ آتا۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3716]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3626
3626. انھوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوشیدہ بات کرتے ہوئے بتایا کہ میری وفات اسی بیماری میں ہو جائے گی جس پر میں روپڑی۔ پھر آپ نے مجھ سے آہستہ گفتگو فرمائی اور مجھے بتایا کہ تم میرے خاندان کی پہلی خاتون ہو جو میری وفات کے بعد میرے پاس آؤ گی، اس وجہ سے میں ہنس پڑی۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:3626]
حدیث حاشیہ:

یہ دو حدیثیں ہیں پہلی حدیث کو حضرت عائشہ ؓ سے بیان کرنے والے حضرت مسروق ہیں۔
جبکہ دوسری حدیث کو ان سے بیان کرنے والے حضرت عروہ ؒ ہیں لیکن دونوں روایات میں کچھ اختلاف ہے پہلی روایت میں سیدہ کے رونے کا سبب آپ کا رسول اللھ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہلے پہلے ملنے کو قرار دیا گیا جبکہ دوسری روایت میں اسے سیدہ کے ہنسنے کا باعث قراردیا گیا ہے۔
دراصل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت فاطمہ ؓ کو خفیہ طور پر تین باتیں بتائیں پہلی بات تو آپ کے انتقال کی تھی یہ تو ان کے رونے کا سبب تھا۔
دوسری بات جنت میں ان کے سردار ہونے کی تھی جس کے سبب انھیں سرور لاحق ہوا اور آپ ہنس پڑیں۔
تیسری بات یہ تھی کہ اہل خانہ میں سب سے پہلے سیدہ وفات پائیں گی اور سب سے پہلے مجھ سے ان کی ملاقات ہوگی۔
یہ خبر ایک وجہ سے خوشی اور سرور کا باعث تھی جیسا کہ عروہ کی روایت میں ہے اور ایک وجہ سے غم کی خبر تھی جس وجہ سے آپ رونے لگیں۔
جیسا کہ مسروق کی روایت میں ہے اس طرح سے دونوں روایات کا اختلاف ختم ہو جاتا ہے علامہ سندھی کہتے ہیں شایدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ فاطمہ ؓ کو دو مرتبہ بشارت سنائی ہو۔
ایک مرتبہ وفات کی خبر کے ساتھ ملا دیا۔
جس سے ان پر رونا غالب آگیا اور دوسری مرتبہ بشارت سیادت کے ساتھ ملا دیا تو دونوں بشارتیں ہنسنے کا سبب بن گئیں اس طرح بھی دونوں روایات جمع ہو سکتی ہیں۔
(حاشیہ سندھی: 284/2)

الغرض ان دونوں روایات میں دو معجزے بیان ہوئے ہیں۔
ایک یہ کہ حضرت فاطمہ ؓ آپ کے بعد زندہ رہیں گی۔
چنانچہ وہ چھ ماہ بعد تک زندہ رہیں اور دوسرا معجزہ خاندان میں سے سب سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ملنے والی ہیں۔
دونوں باتیں حرف بہ حرف پوری ہوئیں جو آپ کی نبوت کی زبردست دلیل ہیں۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3626]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3716
3716. انھوں نے (حضرت سیدہ فاطمہ ؓنے) بتایا: مجھ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آہستہ بات کی تھی کہ آپ اس بیماری میں وفات پاجائیں گے تو میں اس پر رونے لگی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے دوبارہ آہستہ گفتگو فرمائی کہ آپ کے اہل بیت میں سے میں سب سے پہلے آپ سے ملاقات کروں گی تو میں اس پر ہنس پڑی۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:3716]
حدیث حاشیہ:
ان احادیث میں امام بخاری ؒ نے عنوان کے دوسرے جز کو ثابت کیا ہے۔
کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قرابت داروں سے محبت کرناایمان کا تقاضا ہے۔
ان قرابت داروں میں سرفہرست حضرت سیدہ فاطمہ ؓ ہیں۔
انھیں بلاوجہ ناراض کرنا گویا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ناراض کرناہے،اس لیے انھیں خوش رکھنے کے لیے انتہائی کوشش کی جائے،پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیش گوئی کے طور پر فرمایا:
میرے اہل بیت میں سب سے پہلے سیدہ فاطمہ ؓ مجھ سے ملاقات کریں گی،چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے چھ ماہ بعد سیدہ فاطمہ ؓوفات پاگئیں۔
اس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش گوئی حرف بحرف پوری ہوئی۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3716]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4434
4434. حضرت عائشہ‬ ؓ س‬ے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت فاطمہ‬ ؓ ک‬و اپنے مرضِ وفات میں بلایا اور ان کے کان میں کوئی بات کی تو وہ رونے لگیں۔ آپ نے انہیں پھر دوبارہ بلایا اور کچھ آہستہ سے فرمایا تو وہ ہنسنے لگیں۔ ہم نے (سیدہ فاطمہ‬ ؓ س‬ے) اس کی بابت دریافت کیا تو انہوں نے کہا: پہلے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تھا کہ اس مرض میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی روح قبض ہو گی تو یہ سن کر میں رونے لگی۔ پھر دوسری دفعہ یہ فرمایا: (اے فاطمہ!) میرے بعد اہل بیت میں سے سب سے پہلے تیری روح قبض ہو گی، یعنی تو مجھ سے ملے گی۔ یہ سن کر میں ہنسنے لگی۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:4434]
حدیث حاشیہ:

ایک روایت میں ہے کہ حضرت فاطمہ ؓ جب آئیں تو ان کی چال ڈھال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جیسی تھی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
اے لخت جگر! خوش آمدید۔
پھر انھیں دائیں یا بائیں جانب بٹھایا پھر آپ نے ان سے آہستہ سے کوئی بات کی تو وہ روپڑیں۔
میں نے پوچھا:
تم کیوں روتی ہو؟ پھر آہستہ سے آپ نے بات کی تو آپ ہنس پڑیں۔
میں نے کہا کہ غمی اور خوشی کے ملے جلے جذبات میں نے آج ہی دیکھے ہیں میں نے اس کے متعلق پوچھا تو انھوں نے کہا:
میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا رازافشاں نہیں کرنا چاہتی۔
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوئے تومیں نے پھر پوچھا تو انھوں نے کہا:
پہلی دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آہستہ سے یہ بات کہی تھی۔
جبرئیل ؑ سال میں ایک مرتبہ قرآن کا دور کرتے تھےجبکہ اس سال انھوں نے دو مرتبہ دور کیا ہے۔
میں سمجھتا ہوں کہ میری موت قریب ہے اور تم میرے اہل خانہ میں سے سب سے پہلے مجھ سے ملاقات کرو گی۔
'' تو میں رونے لگی۔
پھر آپ نے فرمایا:
تم جنت میں خواتین کی سردار ہوگی، کیا تجھے یہ بات پسند نہیں ہے میں یہ بشارت سن کر ہنس پڑی۔
(صحیح البخاري، مناقب الأنصار، حدیث: 3623۔
3624)

اس روایت سے معلوم ہوا کہ حضرت فاطمہ ؓ کے ہنسنے کے دو اسباب تھے ایک پہلی روایت میں اور دوسرا اس روایت میں مذکورہ ہے۔
واللہ اعلم۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4434]

Sunan at-Tirmidhi Hadith 3872 in Urdu