🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3956)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
66. باب في فضل الأنصار وقريش
باب: انصار اور قریش کے فضائل کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3904
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، حَدَّثَنِي الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أَلَا إِنَّ عَيْبَتِيَ الَّتِي آوِي إِلَيْهَا أَهْلُ بَيْتِي، وَإِنَّ كَرِشِيَ الْأَنْصَارُ، فَاعْفُوا عَنْ مُسِيئِهِمْ وَاقْبَلُوا مِنْ مُحْسِنِهِمْ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، قَالَ: وَفِي الْبَابِ عَنْ أَنَسٍ.
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری جامہ دانی جس کی طرف میں پناہ لیتا ہوں یعنی میرے خاص لوگ میرے اہل بیت ہیں، اور میرے راز دار اور امین انصار ہیں تو تم ان کے خطا کاروں کو درگزر کرو اور ان کے بھلے لوگوں کی اچھائیوں کو قبول کرو ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن ہے،
۲- اس باب میں انس سے بھی روایت ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3904]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 4198) (منکر) (اہل بیت کے ذکر کے ساتھ منکر ہے، سند میں عطیہ عوفی ضعیف راوی ہیں، مگر حدیث رقم 3906 سے تقویت پا کر اس کا دوسرا ٹکڑا صحیح ہے)»
وضاحت: ۱؎: «عيبه» جامہ دانی اور صندوق کو کہتے ہیں جس میں کپڑے حفاظت سے رکھے جاتے ہیں، آپ نے اپنے اہل بیت کو جامہ دانی اس لیے کہا کہ وہ آپ کے خدمت گار اور معاون تھے، اور «کرش» جانور کے اس عضو کا نام ہے جو مثل معدہ کے ہوتا ہے، آپ نے انصار کو «کرش» اس معنی میں کہا کہ جس طرح معدہ میں کھانا اور غذا جمع ہوتی ہے پھر اس سے سارے بدن و نفع پہنچتا ہے اسی طرح میرے لیے انصار ہیں کیونکہ وہ بے انتہا دیانت دار اور امانت دار ہیں اور میرے عہود و مواثیق اور اسرار کے حافظ و نگہبان اور مجھ پر دل و جان سے قربان ہیں۔
قال الشيخ الألباني: منكر - بذكر أهل البيت -، المشكاة (6240) // ضعيف الجامع الصغير (2175) //
قال الشيخ زبير على زئي:(3904) إسناده ضعيف
عطية: ضعيف (تقدم: 477)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو سعيد الخدري، أبو سعيدصحابي
👤←👥عطية بن سعد العوفي، أبو الحسن
Newعطية بن سعد العوفي ← أبو سعيد الخدري
ضعيف الحديث
👤←👥زكريا بن أبي زائدة الوادعي، أبو يحيى
Newزكريا بن أبي زائدة الوادعي ← عطية بن سعد العوفي
ثقة
👤←👥الفضل بن موسى السيناني، أبو عبد الله
Newالفضل بن موسى السيناني ← زكريا بن أبي زائدة الوادعي
ثقة ثبت ربما أغرب
👤←👥الحسين بن حريث الخزاعي، أبو عمار
Newالحسين بن حريث الخزاعي ← الفضل بن موسى السيناني
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
3904
عيبتي التي آوي إليها أهل بيتي كرشي الأنصار اعفوا عن مسيئهم اقبلوا من محسنهم
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 3904 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3904
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
(عيبة) جامہ دانی اور صندوق کو کہتے ہیں جس میں کپڑے حفاظت سے رکھے جاتے ہیں،
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اہل بیت کو جامہ دانی اس لیے کہا کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خدمت گار اور معاون تھے،
اور (کَرِش) جانور کے اس عضو کا نام ہے جو مثل معدہ کے ہوتا ہے،
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کو کرش اس معنی میں کہا کہ جس طرح معدہ میں کھانا اور غذا جمع ہوتی ہے پھر اس سے سارے بدن و نفع پہنچتا ہے اسی طرح میرے لیے انصار ہیں کیوں کہ وہ بے انتہا دیانت دار اور امانت دار ہیں اور میرے عہود و مواثیق اور اسرار کے حافظ و نگہبان اور مجھ پر دل و جان سے قربان ہیں۔

نوٹ:
(اہل بیت کے ذکر کے ساتھ منکر ہے،
سند میں عطیہ عوفی ضعیف راوی ہیں،
مگر حدیث رقم: 3906 سے تقویت پا کر اس کا دوسرا ٹکڑا صحیح ہے)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3904]