🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3956)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
43. باب ما جاء في كراهية الإسراف في الوضوء بالماء
باب: وضو میں پانی کے بے جا استعمال کی کراہت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 57
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاودَ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا خَارِجَةُ بْنُ مُصْعَبٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ عُتَيِّ بْنِ ضَمْرَةَ السَّعْدِيِّ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ لِلْوُضُوءِ شَيْطَانًا، يُقَالُ لَهُ: الْوَلَهَانُ، فَاتَّقُوا وَسْوَاسَ الْمَاءِ ". قال: وَفِي الْبَاب عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو , وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ. قال أبو عيسى: حَدِيثُ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ غَرِيبٌ، وَلَيْسَ إِسْنَادُهُ بِالْقَوِيِّ وَالصَّحِيْحَ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ، لَأَنَّا لَا نَعْلَمُ أَحَدًا أَسْنَدَهُ غَيْرَ خَارِجَةَ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ الْحَسَنِ قَوْلَهُ: وَلَا يَصِحُّ فِي هَذَا الْبَابِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْءٌ، وَخَارِجَةُ لَيْسَ بِالْقَوِيِّ عِنْدَ أَصْحَابِنَا وَضَعَّفَهُ ابْنُ الْمُبَارَكِ.
ابی بن کعب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: وضو کے لیے ایک شیطان ہے، اسے ولہان کہا جاتا ہے، تم اس کے وسوسوں کے سبب پانی زیادہ خرچ کرنے سے بچو۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- اس باب میں عبداللہ بن عمرو اور عبداللہ بن مغفل رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں،
۲- ابی بن کعب کی حدیث غریب ہے،
۳- اس کی سند محدثین کے نزدیک قوی نہیں ہے اس لیے کہ ہم نہیں جانتے کہ خارجہ کے علاوہ کسی اور نے اسے مسنداً روایت کیا ہو، یہ حدیث دوسری اور سندوں سے حسن (بصریٰ) سے موقوفاً مروی ہے (یعنی اسے حسن ہی کا قول قرار دیا گیا ہے) اور اس باب میں نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے کوئی چیز صحیح نہیں اور خارجہ ہمارے اصحاب ۱؎ کے نزدیک زیادہ قوی نہیں ہیں، ابن مبارک نے ان کی تضعیف کی ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الطهارة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 57]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الطہارة48 (421) (تحفة الأشراف: 66)، و مسند احمد (5/136) (ضعیف جدا) (خارجہ بن مصعب متروک ہے)»
وضاحت: ۱؎: امام ترمذی جب «اصحابنا» کہتے ہیں تو اس سے محدثین مراد ہوتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف جدا، ابن ماجة (421) ، //، المشكاة (419) ، ضعيف الجامع الصغير (1970) ، ضعيف سنن ابن ماجة (94) //
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف جداً / جه 421
خارجة بن مصعب : متروك وكان يدلس عن الكاذبين إلخ (تق : 1612) وقال ابن حجر : ضعفه الجمهور .
(طبقات المدلسين : 136/5)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبي بن كعب الأنصاري، أبو المنذر، أبو الطفيلصحابي
👤←👥عتي بن ضمرة السعدي
Newعتي بن ضمرة السعدي ← أبي بن كعب الأنصاري
ثقة
👤←👥الحسن البصري، أبو سعيد
Newالحسن البصري ← عتي بن ضمرة السعدي
ثقة يرسل كثيرا ويدلس
👤←👥يونس بن عبيد العبدي، أبو عبد الله، أبو عبيد
Newيونس بن عبيد العبدي ← الحسن البصري
ثقة ثبت فاضل ورع
👤←👥خارجة بن مصعب الضبعي، أبو الحجاج
Newخارجة بن مصعب الضبعي ← يونس بن عبيد العبدي
متروك الحديث
👤←👥أبو داود الطيالسي، أبو داود
Newأبو داود الطيالسي ← خارجة بن مصعب الضبعي
ثقة حافظ غلط في أحاديث
👤←👥محمد بن بشار العبدي، أبو بكر
Newمحمد بن بشار العبدي ← أبو داود الطيالسي
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
57
للوضوء شيطانا يقال له الولهان فاتقوا وسواس الماء
سنن ابن ماجه
421
للوضوء شيطانا يقال له ولهان فاتقوا وسواس الماء
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 57 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 57
اردو حاشہ:
1؎:
امام ترمذی جب ((اَصحَابنا)) کہتے ہیں تو اس سے محدثین مراد ہوتے ہیں۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 57]