علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
44. باب ما جاء في الوضوء لكل صلاة
باب: ہر نماز کے لیے وضو کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 58
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ الْفَضْلِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " يَتَوَضَّأُ لِكُلِّ صَلَاةٍ طَاهِرًا أَوْ غَيْرَ طَاهِرٍ " , قال: قُلْتُ لِأَنَسٍ: فَكَيْفَ كُنْتُمْ تَصْنَعُونَ أَنْتُمْ؟ قَالَ: كُنَّا نَتَوَضَّأُ وُضُوءًا وَاحِدًا. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَحَدِيثُ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، حَسَنٌ غَرِيبٌ هَذَا الْوَجْهِ، وَالْمَشْهُورُ عَنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ حَدِيثُ عَمْرِو بْنِ عَامِرٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، وَقَدْ كَانَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ يَرَى الْوُضُوءَ لِكُلِّ صَلَاةٍ اسْتِحْبَابًا لَا عَلَى الْوُجُوبِ.
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم ہر نماز کے لیے وضو کرتے باوضو ہوتے یا بے وضو۔ حمید کہتے ہیں کہ میں نے انس رضی الله عنہ سے پوچھا: آپ لوگ کیسے کرتے تھے؟ تو انہوں نے کہا کہ ہم ایک ہی وضو کرتے تھے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- حمید کی حدیث بواسطہ انس اس سند سے غریب ہے، اور محدثین کے نزدیک مشہور عمرو بن عامر والی حدیث ہے جو بواسطہ انس مروی ہے، اور بعض اہل علم ۲؎ کی رائے ہے کہ ہر نماز کے لیے وضو مستحب ہے نہ کہ واجب۔ [سنن ترمذي/كتاب الطهارة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 58]
۱- حمید کی حدیث بواسطہ انس اس سند سے غریب ہے، اور محدثین کے نزدیک مشہور عمرو بن عامر والی حدیث ہے جو بواسطہ انس مروی ہے، اور بعض اہل علم ۲؎ کی رائے ہے کہ ہر نماز کے لیے وضو مستحب ہے نہ کہ واجب۔ [سنن ترمذي/كتاب الطهارة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 58]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 740) (ضعیف) (محمد بن حمید رازی ضعیف ہیں اور محمد بن اسحاق مدلس، اور روایت ”عنعنہ“ سے ہے، لیکن متابعت جو حدیث: 60 پر آ رہی ہے کی وجہ سے اصل حدیث صحیح ہے)»
وضاحت: ۱؎: ایک ہی وضو سے کئی کئی نمازیں پڑھتے تھے۔ ۲؎: بلکہ اکثر اہل علم کی یہی رائے ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف صحيح أبى داود تحت الحديث (163)
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف
محمد بن حميد بن حيان الرازي ضعيف ضعفه الجمهور ... وابن إسحاق مدلس (... د292) وعنعن إن صح السند إليه والحديث الاتي (الأصل : 60) يغني عنه .
محمد بن حميد بن حيان الرازي ضعيف ضعفه الجمهور ... وابن إسحاق مدلس (... د292) وعنعن إن صح السند إليه والحديث الاتي (الأصل : 60) يغني عنه .
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن النسائى الصغرى |
131
| يتوضأ لكل صلاة نصلي الصلوات ما لم نحدث قال وقد كنا نصلي الصلوات بوضوء |
جامع الترمذي |
58
| يتوضأ لكل صلاة طاهرا أو غير طاهر |
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 58 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 58
اردو حاشہ:
1؎:
ایک ہی وضو سے کئی کئی نمازیں پڑھتے تھے۔
2؎:
بلکہ اکثر اہل علم کی یہی رائے ہے۔
نوٹ:
(محمد بن حمید رازی ضعیف ہیں اور محمد بن اسحاق مدلس،
اور روایت ”عنعنہ“ سے ہے،
لیکن متابعت جو حدیث: 60 پر آ رہی ہے کی وجہ سے اصل حدیث صحیح ہے)
1؎:
ایک ہی وضو سے کئی کئی نمازیں پڑھتے تھے۔
2؎:
بلکہ اکثر اہل علم کی یہی رائے ہے۔
نوٹ:
(محمد بن حمید رازی ضعیف ہیں اور محمد بن اسحاق مدلس،
اور روایت ”عنعنہ“ سے ہے،
لیکن متابعت جو حدیث: 60 پر آ رہی ہے کی وجہ سے اصل حدیث صحیح ہے)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 58]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 131
ہر نماز کے لیے تازہ وضو کرنے کا بیان۔
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چھوٹا سا برتن لایا گیا، تو آپ نے (اس سے) وضو کیا، عمرو بن عامر کہتے ہیں: میں نے پوچھا: کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہر نماز کے لیے وضو کرتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: ہاں ۱؎! اس پر (عمرو بن عامر) نے پوچھا: اور آپ لوگ؟ کہا: ہم لوگ جب تک وضو نہیں توڑتے نماز پڑھتے رہتے تھے، نیز کہا: ہم لوگ کئی نمازیں ایک ہی وضو سے پڑھتے تھے۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 131]
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چھوٹا سا برتن لایا گیا، تو آپ نے (اس سے) وضو کیا، عمرو بن عامر کہتے ہیں: میں نے پوچھا: کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہر نماز کے لیے وضو کرتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: ہاں ۱؎! اس پر (عمرو بن عامر) نے پوچھا: اور آپ لوگ؟ کہا: ہم لوگ جب تک وضو نہیں توڑتے نماز پڑھتے رہتے تھے، نیز کہا: ہم لوگ کئی نمازیں ایک ہی وضو سے پڑھتے تھے۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 131]
131۔ اردو حاشیہ: نبیٔ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ہمیشہ ہر نماز کے لیے نیا وضو نہیں فرمایا کرتے تھے۔ کبھی کبھی آپ سے ایک وضو کے ساتھ زیادہ نمازیں پڑھنا بھی مذکور ہے جیسا کہ آئندہ احادیث میں ہے، یعنی عموماً آپ ثواب اور صفائی کی خاطر وضو فرما لیا کرتے تھے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 131]
Sunan at-Tirmidhi Hadith 58 in Urdu
حميد بن أبي حميد الطويل ← أنس بن مالك الأنصاري