🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3956)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
68. باب
باب: قربانی کے جانور سے متعلق ایک اور باب۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 907
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، وَأَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ الْيَمَانِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " اشْتَرَى هَدْيَهُ مِنْ قُدَيْدٍ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ الثَّوْرِيِّ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ الْيَمَانِ، وَرُوِيَ عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ " اشْتَرَى هَدْيَهُ مِنْ قُدَيْدٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَهَذَا أَصَحُّ.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہدی کا جانور قدید سے خریدا۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے ثوری کی حدیث سے صرف یحییٰ بن یمان ہی کی روایت سے جانتے ہیں: اور نافع سے مروی ہے کہ ابن عمر نے قدید ۱؎ سے خریدا، اور یہ زیادہ صحیح ہے ۲؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الحج عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 907]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/المناسک 99 (3098) (تحفة الأشراف: 7897) (ضعیف الإسناد) (سند میں یحییٰ بن یمان اخیر عمر میں مختلط ہو گئے تھے، صحیح بات یہ ہے کہ قدید سے ہدی کا جانور خود ابن عمر رضی الله عنہما نے خریدا تھا جیسا کہ بخاری نے روایت کی ہے (الحج 105 ح1693) یحییٰ بن یمان نے اس کو مرفوع کر دیا ہے)»
وضاحت: ۱؎: قدید مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک جگہ ہے۔
۲؎: یعنی یہ موقوف اثر اس مرفوع حدیث سے کہ جسے یحییٰ بن یمان نے ثوری سے روایت کیا ہے زیادہ صحیح ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد، ابن ماجة (3102)
قال الشيخ زبير على زئي:(907) إسناده ضعيف /جه 3102
سفيان الثوري عنعن (تقدم:746) ويحيى بن اليمان يخطئ كثيرًا (تقدم:239)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥نافع مولى ابن عمر، أبو عبد الله
Newنافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي
ثقة ثبت مشهور
👤←👥عبيد الله بن عمر العدوي، أبو عثمان
Newعبيد الله بن عمر العدوي ← نافع مولى ابن عمر
ثقة ثبت
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله
Newسفيان الثوري ← عبيد الله بن عمر العدوي
ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس
👤←👥يحيى بن يمان العجلي، أبو زكريا
Newيحيى بن يمان العجلي ← سفيان الثوري
صدوق يخطئ
👤←👥عبد الله بن سعيد الكندي، أبو سعيد
Newعبد الله بن سعيد الكندي ← يحيى بن يمان العجلي
ثقة
👤←👥قتيبة بن سعيد الثقفي، أبو رجاء
Newقتيبة بن سعيد الثقفي ← عبد الله بن سعيد الكندي
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
907
اشترى هديه من قديد
سنن ابن ماجه
3102
اشترى هديه من قديد
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 907 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 907
اردو حاشہ:
1؎:
قدید مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک جگہ ہے۔

2؎:
یعنی یہ موقوف اثر اُس مرفوع حدیث سے کہ جسے یحیی بن یمان نے ثوری سے روایت کیا ہے زیادہ صحیح ہے۔

نوٹ:
(سند میں یحییٰ بن یمان اخیر عمر میں مختلط ہو گئے تھے،
صحیح بات یہ ہے کہ قدید سے ہدی کا جانور خود ابن عمر رضی اللہ عنہما نے خریدا تھا جیسا کہ بخاری نے روایت کی ہے (الحج 105 ح1693) یحییٰ بن یمان نے اس کو مرفوع کر دیا ہے)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 907]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3102
ہدی کے جانوروں کو میقات کے پرے سے لے جانا۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ہدی قدید سے خریدی ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3102]
اردو حاشہ:
فوئاد و مسائل:

(1)
مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہے۔
صحیح بات یہ ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے خود اپنا قربانی کا جانور مقام قدید سے خریدا تھا۔ دیکھیے: (صحيح البخاري، الحج، باب من اشتري الهدي من الطريق، حديث: 1693)
جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہدی کے جانور ذوالحلیفہ سے لائے تھے۔

(2)
قدید ایک جگہ کا نام ہےجو مدینہ منورہ اور مکہ مکرمہ کے درمیان میقات کی حدود سے اندر کی طرف واقع ہے۔ (محمد فواد عبد الباقی حاشیة سنن ابن ماجة)
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3102]