🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3956)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
113. باب ما جاء في الحجر الأسود
باب: حجر اسود کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 961
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ جَرِيرٍ، عَنْ ابْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْحَجَرِ: " وَاللَّهِ لَيَبْعَثَنَّهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَهُ عَيْنَانِ يُبْصِرُ بِهِمَا، وَلِسَانٌ يَنْطِقُ بِهِ يَشْهَدُ عَلَى مَنِ اسْتَلَمَهُ بِحَقٍّ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجر اسود کے بارے میں فرمایا: اللہ کی قسم! اللہ اسے قیامت کے دن اس حال میں اٹھائے گا کہ اس کی دو آنکھیں ہوں گی، جس سے یہ دیکھے گا، ایک زبان ہو گی جس سے یہ بولے گا۔ اور یہ اس شخص کے ایمان کی گواہی دے گا جس نے حق کے ساتھ (یعنی ایمان اور اجر کی نیت سے) اس کا استلام کیا ہو گا ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الحج عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 961]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/المناسک 27 (2735)، (تحفة الأشراف: 5536)، سنن الدارمی/المناسک 26 (1881) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی اس کو چوما یا چھوا ہو گا یہ حدیث اپنے ظاہر ہی پر محمول ہو گی اللہ تعالیٰ اس پر قادر ہے کہ وہ حجر اسود کو آنکھیں اور زبان دیدے اور دیکھنے اور بولنے کی طاقت بخش دے بعض لوگوں نے اس حدیث کی تاویل کی ہے کہ یہ کنایہ ہے حجر اسود کا استلام کرنے والے کو ثواب دینے اور اور اس کی کوشش کو ضائع نہ کرنے سے لیکن یہ محض فلسفیانہ موشگافی ہے، صحیح یہی ہے کہ حدیث کو ظاہر ہی پر محمول کیا جائے۔ اور ایسا ہونے پر ایمان لایا جائے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، المشكاة (2578) ، التعليق الرغيب (2 / 122) ، التعليق على ابن خزيمة (2735)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباسصحابي
👤←👥سعيد بن جبير الأسدي، أبو محمد، أبو عبد الله
Newسعيد بن جبير الأسدي ← عبد الله بن العباس القرشي
ثقة ثبت
👤←👥عبد الله بن عثمان القاري، أبو عثمان
Newعبد الله بن عثمان القاري ← سعيد بن جبير الأسدي
مقبول
👤←👥جرير بن عبد الحميد الضبي، أبو عبد الله
Newجرير بن عبد الحميد الضبي ← عبد الله بن عثمان القاري
ثقة
👤←👥قتيبة بن سعيد الثقفي، أبو رجاء
Newقتيبة بن سعيد الثقفي ← جرير بن عبد الحميد الضبي
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
961
يبعثنه الله يوم القيامة له عينان يبصر بهما ولسان ينطق به يشهد على من استلمه بحق
سنن ابن ماجه
2944
يأتين هذا الحجر يوم القيامة وله عينان يبصر بهما ولسان ينطق به يشهد على من يستلمه بحق
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 961 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 961
اردو حاشہ: 1؎:
یعنی اس کو چوما یا چھوا ہوگایہ حدیث اپنے ظاہرہی پرمحمول ہوگی اللہ تعالیٰ اس پر قادرہے کہ وہ حجراسودکو آنکھیں اورزبان دیدے اوردیکھنے اوربولنے کی طاقت بخش دے بعض لوگوں نے اس حدیث کی تاویل کی ہے کہ یہ کنایہ ہے حجراسودکا استلام کرنے والے کو ثواب دینے اوراوراس کی کوشش کو ضائع نہ کر نے سے لیکن یہ محض فلسفیانہ موشگافی ہے،
صحیح یہی ہے کہ حدیث کو ظاہرہی پرمحمول کیاجائے۔
اورایساہونے پرایمان لایاجائے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 961]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2944
حجر اسود کے استلام (چومنے یا چھونے) کا بیان۔
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ پتھر قیامت کے دن آئے گا اس کی دو آنکھیں ہوں گی جن سے وہ دیکھ رہا ہو گا، ایک زبان ہو گی جس سے وہ بول رہا ہو گا، اور گواہی دے گا اس شخص کے حق میں جس نے حق کے ساتھ اسے چھوا ہو گا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2944]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
حجر اسود کو بوسہ دینے میں بہت ثواب ہے اس لیے اگر بوسہ دینا ممکن ہو توضرور بوسہ دینا چاہیے۔

(2)
قیامت کے حالات دنیا کے حالات سے مختلف ہیں۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا اشارہ دنیا میں فائدہ دینے کے بارے میں ہے۔
اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کا اشارہ آخرت کے بارے میں ہے جب بے جان چیزیں بھی نیکیوں کے حق میں اور بدکاروں کے خلاف گواہی دیں گی۔

(3)
حق کے ساتھ بوسہ دینا یعنی عقیدہ توحید پر قائم رہتے ہوئے اور شرک سے اجتناب کرتے ہوئے بوسہ دینا مراد ہے کیونکہ کفر اور شرک اکبر کی موجودگی میں بڑی سے بڑی نیکی کالعدم ہوجاتی ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2944]