🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
27. باب : استلام الحجر
باب: حجر اسود کے استلام (چومنے یا چھونے) کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2944
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ الرَّازِيُّ ، عَنْ ابْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَيَأْتِيَنَّ هَذَا الْحَجَرُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَهُ عَيْنَانِ يُبْصِرُ بِهِمَا، وَلِسَانٌ يَنْطِقُ بِهِ، يَشْهَدُ عَلَى مَنْ يَسْتَلِمُهُ بِحَقٍّ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ پتھر قیامت کے دن آئے گا اس کی دو آنکھیں ہوں گی جن سے وہ دیکھ رہا ہو گا، ایک زبان ہو گی جس سے وہ بول رہا ہو گا، اور گواہی دے گا اس شخص کے حق میں جس نے حق کے ساتھ اسے چھوا ہو گا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2944]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن یہ پتھر (حجر اسود) ضرور اس حال میں حاضر ہو گا کہ اس کی دو آنکھیں ہوں گی جن سے وہ دیکھے گا، اور اس کی زبان ہو گی جس سے وہ بولے گا۔ جس نے اسے حق کے ساتھ چوما ہو گا اس کے حق میں گواہی دے گا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2944]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الحج 113 (961)، (تحفة الأشراف: 5536)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/247، 266، 291، 307، 371)، سنن الدارمی/المناسک 26 (1881) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یعنی ایمان کے ساتھ، اس سے وہ مشرک نکل گئے جنہوں نے شرک کی حالت میں حجر اسود کو چوما ان کے لیے اس کا چومنا کچھ مفید نہ ہوگا اس لیے کہ کفر کے ساتھ کوئی بھی عبادت نفع بخش اور مفید نہیں ہوتی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباسصحابي
👤←👥سعيد بن جبير الأسدي، أبو محمد، أبو عبد الله
Newسعيد بن جبير الأسدي ← عبد الله بن العباس القرشي
ثقة ثبت
👤←👥عبد الله بن عثمان القاري، أبو عثمان
Newعبد الله بن عثمان القاري ← سعيد بن جبير الأسدي
مقبول
👤←👥عبد الرحيم بن سليمان الكناني، أبو علي
Newعبد الرحيم بن سليمان الكناني ← عبد الله بن عثمان القاري
ثقة حافظ
👤←👥سويد بن سعيد الهروي، أبو محمد
Newسويد بن سعيد الهروي ← عبد الرحيم بن سليمان الكناني
صدوق يخطئ كثيرا
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
961
يبعثنه الله يوم القيامة له عينان يبصر بهما ولسان ينطق به يشهد على من استلمه بحق
سنن ابن ماجه
2944
يأتين هذا الحجر يوم القيامة وله عينان يبصر بهما ولسان ينطق به يشهد على من يستلمه بحق
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 2944 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2944
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
حجر اسود کو بوسہ دینے میں بہت ثواب ہے اس لیے اگر بوسہ دینا ممکن ہو توضرور بوسہ دینا چاہیے۔

(2)
قیامت کے حالات دنیا کے حالات سے مختلف ہیں۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا اشارہ دنیا میں فائدہ دینے کے بارے میں ہے۔
اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کا اشارہ آخرت کے بارے میں ہے جب بے جان چیزیں بھی نیکیوں کے حق میں اور بدکاروں کے خلاف گواہی دیں گی۔

(3)
حق کے ساتھ بوسہ دینا یعنی عقیدہ توحید پر قائم رہتے ہوئے اور شرک سے اجتناب کرتے ہوئے بوسہ دینا مراد ہے کیونکہ کفر اور شرک اکبر کی موجودگی میں بڑی سے بڑی نیکی کالعدم ہوجاتی ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2944]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 961
حجر اسود کا بیان۔
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجر اسود کے بارے میں فرمایا: اللہ کی قسم! اللہ اسے قیامت کے دن اس حال میں اٹھائے گا کہ اس کی دو آنکھیں ہوں گی، جس سے یہ دیکھے گا، ایک زبان ہو گی جس سے یہ بولے گا۔ اور یہ اس شخص کے ایمان کی گواہی دے گا جس نے حق کے ساتھ (یعنی ایمان اور اجر کی نیت سے) اس کا استلام کیا ہو گا ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الحج/حدیث: 961]
اردو حاشہ: 1؎:
یعنی اس کو چوما یا چھوا ہوگایہ حدیث اپنے ظاہرہی پرمحمول ہوگی اللہ تعالیٰ اس پر قادرہے کہ وہ حجراسودکو آنکھیں اورزبان دیدے اوردیکھنے اوربولنے کی طاقت بخش دے بعض لوگوں نے اس حدیث کی تاویل کی ہے کہ یہ کنایہ ہے حجراسودکا استلام کرنے والے کو ثواب دینے اوراوراس کی کوشش کو ضائع نہ کر نے سے لیکن یہ محض فلسفیانہ موشگافی ہے،
صحیح یہی ہے کہ حدیث کو ظاہرہی پرمحمول کیاجائے۔
اورایساہونے پرایمان لایاجائے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 961]

Sunan Ibn Majah Hadith 2944 in Urdu