سنن ابي داود کل احادیث 5274 :حدیث نمبر
سنن ابي داود
ابواب: نماز شروع کرنے کے احکام ومسائل
Prayer (Tafarah Abwab Estaftah Assalah)
205. باب انْصِرَافِ النِّسَاءِ قَبْلَ الرِّجَالِ مِنَ الصَّلاَةِ
205. باب: نماز سے فارغ ہو کر مردوں سے پہلے عورتوں کے واپس جانے کا بیان۔
Chapter: Women Leavig Before Men After Prayer.
حدیث نمبر: 1040
پی ڈی ایف بنائیں مکررات اعراب English
(مرفوع) حدثنا محمد بن يحيى، ومحمد بن رافع، قالا: حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا معمر، عن الزهري، عن هند بنت الحارث، عن ام سلمة، قالت:" كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا سلم مكث قليلا" وكانوا يرون ان ذلك كيما ينفذ النساء قبل الرجال.
(مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ هِنْدِ بِنْتِ الْحَارِثِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَلَّمَ مَكَثَ قَلِيلًا" وَكَانُوا يَرَوْنَ أَنَّ ذَلِكَ كَيْمَا يَنْفُذُ النِّسَاءُ قَبْلَ الرِّجَالِ.
ام المؤمنین ام سلمی رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب (نماز سے) سلام پھیرتے تو تھوڑی دیر ٹھہر جاتے، لوگ سمجھتے تھے کہ یہ اس وجہ سے ہے تاکہ عورتیں مردوں سے پہلے چلی جائیں۔

تخریج الحدیث: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الأذان 152 (837)، 157 (849)، 163 (866)، 167 (870)، سنن النسائی/السھو77 (1334)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 33 (932)، (تحفة الأشراف: 18289)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/296، 310، 316) (صحیح)» ‏‏‏‏ ( «وکانوا یرون أن ذلک...» مدرج اور زہری کا قول ہے)

Umm Salamah said; When the Messenger of Allah ﷺ gave the salutation, he stayed for a while. By this people thought that women should return earlier than men.
USC-MSA web (English) Reference: Book 2 , Number 1035


قال الشيخ الألباني: صحيح خ لكنه جعل قوله وكانوا يرون مدرجا من قول الزهري

قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري (837)

   صحيح البخاري866هند بنت حذيفةإذا سلمن من المكتوبة قمن ثبت رسول الله ومن صلى من الرجال ما شاء الله فإذا قام رسول الله قام الرجال
   صحيح البخاري849هند بنت حذيفةإذا سلم يمكث في مكانه يسيرا
   صحيح البخاري837هند بنت حذيفةإذا سلم قام النساء حين يقضي تسليمه ومكث يسيرا قبل أن يقوم
   صحيح البخاري870هند بنت حذيفةإذا سلم قام النساء حين يقضي تسليمه ويمكث هو في مقامه يسيرا قبل أن يقوم
   صحيح البخاري875هند بنت حذيفةإذا قام النساء حين يقضى تسليمه وهو يمكث في مقامه يسيرا قبل أن يقوم
   سنن أبي داود1040هند بنت حذيفةإذا سلم مكث قليلا
   سنن النسائى الصغرى1334هند بنت حذيفةإذا سلمن من الصلاة قمن ثبت رسول الله ومن صلى من الرجال ما شاء الله فإذا قام رسول الله قام الرجال
   سنن ابن ماجه932هند بنت حذيفةإذا سلم قام النساء حين يقضي تسليمه ثم يلبث في مكانه يسيرا قبل أن يقوم

تخریج الحدیث کے تحت حدیث کے فوائد و مسائل
  الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1040  
´نماز سے فارغ ہو کر مردوں سے پہلے عورتوں کے واپس جانے کا بیان۔`
ام المؤمنین ام سلمی رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب (نماز سے) سلام پھیرتے تو تھوڑی دیر ٹھہر جاتے، لوگ سمجھتے تھے کہ یہ اس وجہ سے ہے تاکہ عورتیں مردوں سے پہلے چلی جائیں۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 1040]
1040۔ اردو حاشیہ:
اسلامی معاشرے میں مردوں اور عورتوں کا بغیر پردے کے بے ہنگم ازدحام اور میل جول قطعاً پسندیدہ نہیں ہے۔ اور مسلمان حضرات و خواتین کو چاہیے کہ شبہے اور تہمت کے مواقع سے ہمیشہ دور رہیں اور اختلاط سے بچنے کی ہر ممکن کوشش کریں۔
   سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعدی، حدیث\صفحہ نمبر: 1040   
  مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث932  
´نماز کے بعد امام کے دائیں یا بائیں طرف پھرنے کا بیان۔`
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سلام پھیرتے تو عورتیں آپ کے سلام پھیرتے ہی کھڑی ہو جاتیں، اور آپ کھڑے ہونے سے پہلے اپنی جگہ پر تھوڑی دیر ٹھہرے رہتے تھے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 932]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
عورتوں کا مردوں کے ساتھ جماعت میں شریک ہونامسنون ہے۔
تاہم ان کا گھر میں نماز پڑھنا افضل ہے۔
دیکھئے: (سنن ابی داؤد، الصلاۃ، باب ماجاء فی خروج النساء إلی المسجد، حدیث: 567)

(2)
سلام پھیرنے کے بعد عورتوں کے جلدی اٹھ جانے میں یہ حکمت ہے۔
کہ مردوں سے اختلاط نہ ہو۔
عورتوں کی صفیں بھی اسی لیے پیچھے ہوتی ہیں۔
کہ وہ جلدی مسجد سے نکل جایئں۔
آجکل عورتیں جمعہ کی نماز کےلئے مسجد میں اور عیدین کی نماز کے لئے عید گاہ میں جاتی ہیں۔
ان کی جگہیں اور دروازے اگرچہ مردوں سے الگ ہوتے ہیں۔
لیکن باہر نکل کر گزرگاہوں میں مردوں سے اختلاط ہوجاتا ہے۔
جس سے بچنے کا اہتمام نہیں کیا جاتا ظاہر بات ہے کہ یہ بات شرعاً نا مناسب ہے۔
   سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث\صفحہ نمبر: 932   

http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.