صحيح مسلم کل احادیث 3033 :ترقیم فواد عبدالباقی
صحيح مسلم کل احادیث 7563 :حدیث نمبر
صحيح مسلم
مسجدوں اور نماز کی جگہ کے احکام
26. باب اسْتِحْبَابِ الذِّكْرِ بَعْدَ الصَّلاَةِ وَبَيَانِ صِفَتِهِ:
26. باب: نماز کے بعد کیا ذکر کرنا چاہئیے۔
حدیث نمبر: 1342
پی ڈی ایف بنائیں اعراب
وحدثنا ابن ابي عمر المكي ، حدثنا سفيان ، حدثنا عبدة بن ابي لبابة وعبد الملك بن عمير ، سمعا ورادا كاتب المغيرة بن شعبة ، يقول: كتب معاوية إلى المغيرة، اكتب إلي بشيء سمعته من رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: فكتب إليه، سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم، يقول إذا قضى الصلاة: " لا إله إلا الله، وحده لا شريك له، له الملك، وله الحمد، وهو على كل شيء قدير، اللهم لا مانع لما اعطيت، ولا معطي لما منعت، ولا ينفع ذا الجد منك الجد ".وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَكِّيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ أَبِي لُبَابَةَ وَعَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ ، سَمِعَا وَرَّادًا كَاتِبَ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، يَقُولُ: كَتَبَ مُعَاوِيَةُ إِلَى الْمُغِيرَةِ، اكْتُبْ إِلَيَّ بِشَيْءٍ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَكَتَبَ إِلَيْهِ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ إِذَا قَضَى الصَّلَاةَ: " لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ، وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، اللَّهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ، وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ ".
سفیان نے کہا: ہمیں عبدہ بن ابی لبابہ اور عبدالملک بن عمیر نے حدیث سنائی، انھوں نے مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے کاتب ورّاد سے سنا، وہ کہتے تھے: حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے مغیرہ رضی اللہ عنہ کو خط لکھا کہ مجھے کوئی ایسی چیز لکھ بھیجیں جو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو، تو انھوں نے لکھ بھیجا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، جب آپ نماز ختم کر لیتے تو فرماتے: لاإلہ إلا اللہ وحدہ لاشریک لہ، لہ مالملک ولاہ الحمد، وہو علی کل شیء قدیر، اللہم لا مانع لما أعطیت ولا معطی لما منعت ولا ینفع ذالجد منک الجد اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، وہ اکیلا اور یکتا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، حکومت اور فرمانروائی اسی کی ہے، وہی شکرو ستائش کا حقدار ہے اور وہی ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔ اے اللہ! جو کچھ تو کسی کو دینا چاہے اسے کوئی روک سکنے والا نہیں اور تیرے سامنے کسی شان والے کو اس کی شان کوئی فائدہ نہیں دے سکتی۔
حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مغیرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خط لکھا کہ مجھے کوئی ایسی حدیث لکھ بھیجو، جو تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو تو انہوں نے لکھ بھیجا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ جب آپصلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ لیتے تو فرماتے: (لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، اللهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ، وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ)۔
ترقیم فوادعبدالباقی: 593

   صحيح البخاري6615مغيرة بن شعبةلا إله إلا الله وحده لا شريك له اللهم لا مانع لما أعطيت ولا معطي لما منعت ولا ينفع ذا الجد منك الجد
   صحيح البخاري6330مغيرة بن شعبةإذا سلم لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير اللهم لا مانع لما أعطيت ولا معطي لما منعت ولا ينفع ذا الجد منك الجد
   صحيح البخاري7292مغيرة بن شعبةلا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير اللهم لا مانع لما أعطيت ولا معطي لما منعت ولا ينفع ذا الجد منك الجد ينهى عن قيل وقال كثرة السؤال إضاعة المال ينهى عن عقوق الأمهات وأد البنات منع وهات
   صحيح البخاري6473مغيرة بن شعبةلا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير ينهى عن قيل وقال كثرة السؤال إضاعة المال منع وهات عقوق الأمهات وأد البنات
   صحيح البخاري844مغيرة بن شعبةيقول في دبر كل صلاة مكتوبة لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير اللهم لا مانع لما أعطيت ولا معطي لما منعت ولا ينفع ذا الجد منك الجد
   صحيح مسلم1342مغيرة بن شعبةلا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير اللهم لا مانع لما أعطيت ولا معطي لما منعت ولا ينفع ذا الجد منك الجد
   صحيح مسلم1338مغيرة بن شعبةلا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير اللهم لا مانع لما أعطيت ولا معطي لما منعت ولا ينفع ذا الجد منك الجد
   سنن أبي داود1505مغيرة بن شعبةلا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير اللهم لا مانع لما أعطيت ولا معطي لما منعت ولا ينفع ذا الجد منك الجد
   سنن النسائى الصغرى1344مغيرة بن شعبةعند انصرافه من الصلاة لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير
   سنن النسائى الصغرى1342مغيرة بن شعبةإذا قضى الصلاة قال لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير اللهم لا مانع لما أعطيت ولا معطي لما منعت ولا ينفع ذا الجد منك الجد
   سنن النسائى الصغرى1343مغيرة بن شعبةيقول دبر الصلاة إذا سلم لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير اللهم لا مانع لما أعطيت ولا معطي لما منعت ولا ينفع ذا الجد منك الجد
   بلوغ المرام253مغيرة بن شعبة لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير اللهم لا مانع لما أعطيت ولا معطي لما منعت ولا ينفع ذا الجد منك الجد
   مسندالحميدي780مغيرة بن شعبة

تخریج الحدیث کے تحت حدیث کے فوائد و مسائل
  علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 253  
´نماز کی صفت کا بیان`
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہر فرض کے اختتام پر یہ دعا پڑھا کرتے تھے «لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير اللهم لا مانع لما أعطيت ولا معطي لما منعت ولا ينفع ذا الجد منك الجد» اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اس کا کوئی شریک و ساجھی نہیں۔ فرمانروائی اسی کی ہے اور حمد و ثنا اسی کے لئے ہے اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔ اے اللہ! جو کچھ تو عطا فرمائے اسے کوئی روکنے والا نہیں اور جو کچھ تو روک لے اسے عطا کرنے والا کوئی نہیں اور کسی صاحب نصیبہ کو تیرے بغیر بغیر کوئی نصیبہ نہیں دیتا۔ (بخاری و مسلم) «بلوغ المرام/حدیث: 253»
تخریج:
«أخرجه البخاري، الأذان، باب الذكر بعد الصلاة، حديث:844، ومسلم، المساجد، باب استحباب الذكر بعد الصلاة، حديث:593.»
تشریح:
1. اس حدیث میں منقول دعا اس پر دلالت کرتی ہے کہ اللہ وحدہ کے سوا کوئی بھی معبود نہیں کہ جس کی طرف حاجات اور ضروریات کی تکمیل کے لیے رجوع کیا جا سکے۔
دنیا و مافیہا اور آسمانوں کی ہر ایک چیز اس کی مخلوق ہے اور مخلوق اپنے خالق کی ہر وقت محتاج ہے۔
وہ قادر مطلق ہے‘ کسی کو کچھ دینے اور نہ دینے کے جملہ اختیارات بلا شرکت غیرے اسی کے قبضہ ٔقدرت میں ہیں۔
اس کی سرکار میں دنیوی جاہ و حشمت اور عزت و سلطنت اس کے فضل اور رحمت کے سوا ذرہ بھر بھی کارگر اور منافع بخش ثابت نہیں ہو سکتیں۔
2. یہ دعا فرض نماز سے فارغ ہو کر پڑھنی مستحب ہے۔
اور تشہد پڑھنے کے بعد‘ سلام پھیرنے سے پہلے‘ یعنی نماز کے اندر بھی پڑھی جا سکتی ہے۔
واللّٰہ أعلم۔
   بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث\صفحہ نمبر: 253   
  الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1505  
´آدمی سلام پھیرے تو کیا پڑھے؟`
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ معاویہ رضی اللہ عنہ نے انہیں لکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز سے سلام پھیرتے تو کیا پڑھتے تھے؟ اس پر مغیرہ نے معاویہ کو لکھوا کے بھیجا، اس میں تھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: «لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير، اللهم لا مانع لما أعطيت ولا معطي لما منعت ولا ينفع ذا الجد منك الجد» کوئی معبود برحق نہیں سوائے اللہ کے، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کے لیے بادشاہت ہے، اسی کے لیے حمد ہے، وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اے اللہ! جو تو دے، اسے کوئی روک نہیں سکتا اور جو تو روک دے، اسے کوئی دے نہیں سکتا اور مالدار کو اس کی مال داری نفع نہیں دے سکتی پڑھتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1505]
1505. اردو حاشیہ: کہاں یہ زبان رسالت مآب ﷺ کے اوراد مبارکہ اور کہاں جاہل صوفیوں کے خود ساختہ وظیفے سچ ہے۔ قدر زر زرگر بد اند یا بداند جوہری یہ اصحاب الحدیث کا ہی شرف ہے۔ کہ وہ رسالت مآب ﷺ کے ہر ہر فعل کو اپنا لینا ہی سعادت جانتے ہیں۔
   سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعدی، حدیث\صفحہ نمبر: 1505   

http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.