الحمدللہ ! قرآن پاک روٹ ورڈ سرچ اور مترادف الفاظ کی سہولت پیش کر دی گئی ہے۔

 
سنن نسائي کل احادیث 5761 :حدیث نمبر
سنن نسائي
کتاب: عیدین (عیدالفطر اور عیدالاضحی) کی نماز کے احکام و مسائل
The Book of the Prayer for the Two 'Eids
35. بَابُ : اللَّعِبُ فِي الْمَسْجِدِ يَوْمَ الْعِيدِ وَنَظَرُ النِّسَائِ إِلَى ذَلِكَ
35. باب: عید کے دن مسجد میں کھیلنے کودنے اور عورتوں کے اسے دیکھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1596
پی ڈی ایف بنائیں مکررات اعراب
(مرفوع) اخبرنا علي بن خشرم، قال: حدثنا الوليد، قال: حدثنا الاوزاعي، عن الزهري، عن عروة، عن عائشة، قالت:" رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم يسترني بردائه وانا انظر إلى الحبشة يلعبون في المسجد , حتى اكون انا اسام فاقدروا قدر الجارية الحديثة السن الحريصة على اللهو".
(مرفوع) أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، قال: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، قال: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتُرُنِي بِرِدَائِهِ وَأَنَا أَنْظُرُ إِلَى الْحَبَشَةِ يَلْعَبُونَ فِي الْمَسْجِدِ , حَتَّى أَكُونَ أَنَا أَسْأَمُ فَاقْدُرُوا قَدْرَ الْجَارِيَةِ الْحَدِيثَةِ السِّنِّ الْحَرِيصَةِ عَلَى اللَّهْوِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ مجھے اپنی چادر سے آڑ کئے ہوئے تھے، اور میں حبشیوں کو دیکھ رہی تھی کہ وہ مسجد میں کھیل رہے تھے، یہاں تک کہ میں خود ہی اکتا گئی، تم خود ہی اندازہ لگا لو کہ ایک کم سن لڑکی کھیل کود (دیکھنے) کی کتنی حریص ہوتی ہے۔

تخریج الحدیث: «صحیح البخاری/النکاح 114 (5236)، (تحفة الأشراف: 16513)، مسند احمد 6/84، 85 (صحیح)»

قال الشيخ الألباني: صحيح

قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

   صحيح البخاري5236عائشة بنت عبد اللهيسترني بردائه وأنا أنظر إلى الحبشة يلعبون في المسجد حتى أكون أنا التي أسأم فاقدروا قدر الجارية الحديثة السن الحريصة على اللهو
   صحيح البخاري0عائشة بنت عبد اللهدعهما يا أبا بكر فإنها أيام عيد يسترني وأنا أنظر إلى الحبشة وهم يلعبون في المسجد فزجرهم عمر فقال النبي دعهم أمنا بني أرفدة يعني من الأمن
   صحيح البخاري455عائشة بنت عبد اللهالحبشة يلعبون في المسجد ورسول الله يسترني بردائه أنظر إلى لعبهم
   صحيح البخاري3530عائشة بنت عبد اللهأيام عيد وتلك الأيام أيام منى يسترني وأنا أنظر إلى الحبشة وهم يلعبون في المسجد فزجرهم عمر فقال النبي دعهم أمنا بني أرفدة
   صحيح البخاري5190عائشة بنت عبد اللهسترني رسول الله وأنا أنظر فما زلت أنظر حتى كنت أنا أنصرف فاقدروا قدر الجارية الحديثة السن تسمع اللهو
   صحيح مسلم2068عائشة بنت عبد اللهأنظر بين أذنيه وعاتقه وهم يلعبون في المسجد
   صحيح مسلم2066عائشة بنت عبد اللهحبش يزفنون في يوم عيد في المسجد فدعاني النبي فوضعت رأسي على منكبه فجعلت أنظر إلى لعبهم حتى كنت أنا التي أنصرف عن النظر إليهم
   صحيح مسلم2064عائشة بنت عبد اللهالحبشة يلعبون بحرابهم في مسجد رسول الله يسترني بردائه لكي أنظر إلى لعبهم ثم يقوم من أجلي حتى أكون أنا التي أنصرف فاقدروا قدر الجارية الحديثة السن حريصة على اللهو
   سنن النسائى الصغرى1595عائشة بنت عبد اللهالسودان يلعبون بين يدي النبي في يوم عيد فدعاني فكنت أطلع إليهم من فوق عاتقه فما زلت أنظر إليهم حتى كنت أنا التي انصرفت
   سنن النسائى الصغرى1596عائشة بنت عبد اللهيسترني بردائه وأنا أنظر إلى الحبشة يلعبون في المسجد حتى أكون أنا أسأم فاقدروا قدر الجارية الحديثة السن الحريصة على اللهو

تخریج الحدیث کے تحت حدیث کے فوائد و مسائل
  فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله، سنن نسائي، تحت الحديث 1596  
´عید کے دن مسجد میں کھیلنے کودنے اور عورتوں کے اسے دیکھنے کا بیان۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ مجھے اپنی چادر سے آڑ کئے ہوئے تھے، اور میں حبشیوں کو دیکھ رہی تھی کہ وہ مسجد میں کھیل رہے تھے، یہاں تک کہ میں خود ہی اکتا گئی، تم خود ہی اندازہ لگا لو کہ ایک کم سن لڑکی کھیل کود (دیکھنے) کی کتنی حریص ہوتی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 1596]
1596۔ اردو حاشیہ: مسجد میں کھیلنے اور عورت کا اسے دیکھنے کی تفصیل سابقہ حدیث کے حاشیے میں گزر چکی ہے۔ اس واقعے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلق عظیم اور بیوی سے حسن سلوک کا پتہ چلتا ہے کہ آپ نے اپنی بیوی کے جذبات کا کس قدر خیال رکھا، اچھا انسان وہی ہے جو دوسروں کے جائز جذبات کا خیال رکھے۔ اپنے جذبات کا تو ہر کوئی خیال رکھتا ہے۔
   سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث\صفحہ نمبر: 1596   

http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.