سنن ابي داود کل احادیث 5274 :حدیث نمبر
سنن ابي داود
کتاب: اعمال حج اور اس کے احکام و مسائل
The Rites of Hajj (Kitab Al-Manasik Wal-Hajj)
67. باب يَوْمِ الْحَجِّ الأَكْبَرِ
67. باب: حج اکبر کا دن کون سا ہے؟
Chapter: The Day Of The ’Great Hajj’.
حدیث نمبر: 1946
پی ڈی ایف بنائیں مکررات اعراب English
(موقوف) حدثنا محمد بن يحيى بن فارس، ان الحكم بن نافع حدثهم، حدثنا شعيب، عن الزهري، حدثني حميد بن عبد الرحمن، ان ابا هريرة، قال:" بعثني ابو بكر فيمن يؤذن يوم النحر بمنى ان لا يحج بعد العام مشرك، ولا يطوف بالبيت عريان، ويوم الحج الاكبر يوم النحر والحج الاكبر الحج".
(موقوف) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، أَنَّ الْحَكَمَ بْنَ نَافِعٍ حَدَّثَهُمْ، حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، حَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ:" بَعَثَنِي أَبُو بَكْرٍ فِيمَنْ يُؤَذِّنُ يَوْمَ النَّحْرِ بِمِنًى أَنْ لَا يَحُجَّ بَعْدَ الْعَامِ مُشْرِكٌ، وَلَا يَطُوفَ بِالْبَيْتِ عُرْيَانٌ، وَيَوْمُ الْحَجِّ الْأَكْبَرِ يَوْمُ النَّحْرِ وَالْحَجُّ الْأَكْبَرُ الْحَجُّ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے ابوبکر رضی اللہ عنہ نے یوم النحر کو منیٰ ان لوگوں میں بھیجا جو پکار رہے تھے کہ اس سال کے بعد کوئی مشرک حج نہیں کرے گا اور نہ ہی کوئی ننگا بیت اللہ کا طواف کرے گا، اور حج ا کبر کا دن یوم النحر ہے اور حج اکبر سے مراد حج ہے۔

تخریج الحدیث: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الصلاة 10 (369)، والحج 67 (1622)، صحیح البخاری/الجزیة 16 (3177)، والمغازي 66 (4363)، وتفسیر البرائة 2 (4656)، 3 (4655)، وتفسیر البرائة 4 (4657)، صحیح مسلم/الحج 78 (1347)، سنن النسائی/الحج 161 (2960)، مسند احمد (2/299)، (تحفة الأشراف: 6624) (صحیح)» ‏‏‏‏

Narrated Abu Hurairah: Abu Bakr sent me among those who proclaim at Mina that no polytheist should perform Hajj after this year and no naked person should go round the House (the Kabah), and that the day of greater Hajj is the day of sacrifice, and the greater Hajj is the Hajj.
USC-MSA web (English) Reference: Book 10 , Number 1941


قال الشيخ الألباني: صحيح ق دون قوله ويوم الحج الأكبر

قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري (3177) صحيح مسلم (1347)


تخریج الحدیث کے تحت حدیث کے فوائد و مسائل
  الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1946  
´حج اکبر کا دن کون سا ہے؟`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے ابوبکر رضی اللہ عنہ نے یوم النحر کو منیٰ ان لوگوں میں بھیجا جو پکار رہے تھے کہ اس سال کے بعد کوئی مشرک حج نہیں کرے گا اور نہ ہی کوئی ننگا بیت اللہ کا طواف کرے گا، اور حج ا کبر کا دن یوم النحر ہے اور حج اکبر سے مراد حج ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1946]
1946. اردو حاشیہ:
➊ رسول اللہ ﷺ نے اپنے حج سے ایک سال پہلے نو ہجری میں حضرت ابوبکر کو امیر حج بنا کر روانہ فرمایا تھا اور اس موقع پر سورہ براءۃ (سورہ توبہ)کی آیات کے ذریعے سے کفار سے اعلان براءت کیا گیا تھا۔
➋ مشرکین کو حرم میں داخلہ کی اجازت نہیں۔ انہیں طاقت کے ذریعے سے اس سے روکا جانا ضروری ہے۔
➌ طواف کے لیے ستر واجب ہے۔
➍ یوم النحر (قربانی کا دن)حج اکبر کا دن ہے۔ سورہ توبہ میں ہے ﴿وَأَذ‌ٰنٌ مِنَ اللَّهِ وَرَ‌سولِهِ إِلَى النّاسِ يَومَ الحَجِّ الأَكبَرِ‌ أَنَّ اللَّهَ بَر‌ىءٌ مِنَ المُشرِ‌كينَ ۙ وَرَ‌سولُهُ.......﴾ (التوبه:3) اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے لوگوں کو بڑے حج کے دن صاف اطلاع ہے کہ اللہ مشرکوں سے بیزار ہے، اور اس کا رسول بھی۔
➎ حج اکبر سےمراد حج ہے۔جبکہ کچھ روایات میں عمرہ کو حج اصغر سے تعبیر کیا گیا ہے۔ یہ احادیث عوام الناس میں مشہور اس قول کی تردید کرتی ہیں کہ جب یوم عرفہ اور یوم جمعہ جمع ہو جائیں تو وہ حج اکبر ہوتاہے۔ نہیں! بلکہ ہر حج خواہ وہ کسی بھی روز ہو حج اکبر ہی ہوتا ہے۔ جمعہ کے روز یوم عرفہ کا واقع ہونا ایک اتفاقی امر ہے اور اللہ کےہاں قبولیت میں کوئی فرق نہیں۔
   سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعدی، حدیث\صفحہ نمبر: 1946   

http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.