سنن ترمذي کل احادیث 3956 :حدیث نمبر
سنن ترمذي
کتاب: نیکی اور صلہ رحمی
Chapters on Righteousness And Maintaining Good Relations With Relatives
62. باب مَا جَاءَ فِي حُسْنِ الْخُلُقِ
62. باب: اخلاق حسنہ کا بیان۔
حدیث نمبر: 2003
پی ڈی ایف بنائیں مکررات اعراب
حدثنا ابو كريب، حدثنا قبيصة بن الليث الكوفي، عن مطرف، عن عطاء، عن ام الدرداء، عن ابي الدرداء، قال: سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول: " ما من شيء يوضع في الميزان اثقل من حسن الخلق وإن صاحب حسن الخلق ليبلغ به درجة صاحب الصوم والصلاة "، قال ابو عيسى: هذا حديث غريب من هذا الوجه.حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ بْنُ اللَّيْثِ الْكُوفِيُّ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَا مِنْ شَيْءٍ يُوضَعُ فِي الْمِيزَانِ أَثْقَلُ مِنْ حُسْنِ الْخُلُقِ وَإِنَّ صَاحِبَ حُسْنِ الْخُلُقِ لَيَبْلُغُ بِهِ دَرَجَةَ صَاحِبِ الصَّوْمِ وَالصَّلَاةِ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.
ابو الدرداء رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: میزان میں رکھی جانے والی چیزوں میں سے اخلاق حسنہ (اچھے اخلاق) سے بڑھ کر کوئی چیز وزنی نہیں ہے، اور اخلاق حسنہ کا حامل اس کی بدولت روزہ دار اور نمازی کے درجہ تک پہنچ جائے گا۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث اس سند سے غریب ہے۔
34125 - 2003

تخریج الحدیث: «انظر ماقبلہ (تحفة الأشراف: 10992) (صحیح)»

قال الشيخ الألباني: صحيح، الصحيحة (876) ، الإرواء (941)

   جامع الترمذي2002عويمر بن مالكما شيء أثقل في ميزان المؤمن يوم القيامة من خلق حسن الله ليبغض الفاحش البذيء
   جامع الترمذي2003عويمر بن مالكما من شيء يوضع في الميزان أثقل من حسن الخلق صاحب حسن الخلق ليبلغ به درجة صاحب الصوم والصلاة
   سنن أبي داود4799عويمر بن مالكما من شيء أثقل في الميزان من حسن الخلق
   بلوغ المرام1298عويمر بن مالك‏‏‏‏إن الله يبغض الفاحش البذيء
   بلوغ المرام1318عويمر بن مالكما من شيء في الميزان اثقل من حسن الخلق

تخریج الحدیث کے تحت حدیث کے فوائد و مسائل
   الشيخ عبدالسلام بن محمد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 1298  
بدزبانی کرنے والے بےہودہ بکنے والے سے اللہ بغض رکھتا ہے
«وعن ابي الدرداء رضى الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: ‏‏‏‏إن الله يبغض الفاحش البذيء .‏‏‏‏ اخرجه الترمذي وصححه.»
ابوالدرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یقیناً اللہ تعالیٰ بدزبان (گالیاں بکنے والے) بیہودا گندی باتیں کرنے والے سے بغض رکھتا ہے۔
اسے ترمذی نے روایت کیا اور صحیح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الجامع: 1298]

تخریج: اس کی سند میں کچھ ضعف ہے، حدیث صحیح لغیرہ ہے۔
ترمذی [2002] میں مکمل روایت اس طرح ہے:
«عن ابن ابي مليكة، عن يعلى بن مملك، عن ام الدرداء، عن ابي الدرداء، ان النبى صلى الله عليه وسلم قال: " ما شيء اثقل فى ميزان المؤمن يوم القيامة من خلق حسن، وإن الله ليبغض الفاحش البذيء»
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مومن کی میزان میں کوئی چیز اچھے خلق سے زیادہ وزنی نہیں ہے اور یقیناً اللہ تعالیٰ بدزبان (گالیاں بکنے والے) بے ہودہ گندی باتیں کرنے والے سے بغض رکھتا ہے۔
شیخ البانی رحمہ اللہ نے فرمایا: یعلیٰ بن مالک کو ابن حبان کے علاوہ کسی نے ثقہ نہیں کہا اور اس سے ابن ابی ملیکہ کے علاوہ کسی نے روایت نہیں کی اس لیے حافظ رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا مقبول یعنی مطابعت کے وقت۔ شیخ البانی فرماتے ہیں اس کے آخری حصے:
«وإن الله ليبغض الفاحش البذيء» کے دو شاہد بھی ہیں تفصیل کے لئے دیکھئے: سلسلہ الاحادیث الصحیحہ [876] اور دیکھیے: تحفۃ الاشراف [246/8]

مفردات:
«يُبْغِضُ» بغض، محبت کی ضد ہے۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ بندے کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی محبت کا مطلب یہ ہے کہ وہ اسے اچھا بدلہ دے گا اسے عزت عطا فرمائے گا اور اس کے بعض کا مطلب یہ ہے کہ اسے سزا دے گا اسے ذلیل کرے گا۔ حالانکہ سب جانتے ہیں کہ یہ محبت اور بغض کا نتیجہ تو ہو سکتا ہے ہے مگر محبت اور بغض کا مطلب یہ ہرگز نہیں محبت اور بغض کا مطلب ہر شخص جانتا ہے دوستی اور دشمنی۔ قرآن مجید کی بہت سی آیات میں اللہ تعالیٰ کی یہ صفات آئی ہیں ان پر ایمان لانا واجب ہے۔ جو لوگ ان کا کوئی اور مطلب بیان کرتے ہیں ان کے نزدیک یہ ماننے سے کہ اللہ تعالیٰ محبت کرتا ہے یا دشمنی رکھتا ہے اللہ تعالیٰ کی شان میں فرق آتا ہے کیوں کہ یہ جذبات تو انسانوں میں پائے جاتے ہیں ہیں اور انسان محبت اور دشمنی کے جذبے کے سامنے بے بس ہو جاتا ہے اس لیے انہوں نے اللہ کی صفات کی تاویل کی جو در حقیقت اصل صفت حب و بغض کی نفی ہے کیونکہ بدلہ دینا، عزت کرنا یہ الگ صفات ہیں اور اللہ تعالیٰ میں یہ بھی پائی جاتی ہیں اور محبت اور بغض اس کی الگ مستقل صفات ہیں۔
رہی یہ بات کے حب و بغض کو اللہ کی صفات مانیں تو انسانوں کی مشابہت لازم آتی ہے جبکہ اللہ کی مثل تو کوئی چیز نہیں اس لیے ہم اللہ کی ان صفات کو نہیں مانتے بلکہ ان کا مطلب دوسرا کرتے ہیں تو اس میں قابل غور یہ بات ہے کہ اگر محبت اور بغض انسانوں میں پائے جاتے ہیں تو اچھا یا برا بدلہ دینا، عزت کرنا یا بے عزتی کرنا بھی تو انسانوں میں پایا جاتا ہے پھر یہ بھی اللہ تعالیٰ میں نہیں ہونا چاہیے اور ان کا مطلب بھی کچھ اور نکالنا چاہیے اور آخر کہاں تک مطلب نکالتے جائیں گے صاف کہنا پڑے گا کہ اللہ تعالیٰ صفات سے خالی ہے۔ حالانکہ یہ مسئلہ اللہ تعالیٰ نے بالکل آسان فرما دیا ہے۔
فرمایا:
«لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ وَهُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ» [42-الشورى:11]
یعنی اللہ کی مثل کوئی چیز نہیں اور وہ سننے والا دیکھنے والا ہے۔
یعنی تم سنتے اور دیکھتے ہو اور اللہ تعالیٰ بھی سنتا ہے اور دیکھتا ہے مگر اللہ کی مثل کوئی چیز نہیں تمہارا سننا دیکھنا اور اللہ کا سننا دیکھنا ایک جیسا نہیں۔ بلکہ اللہ کا سننا اور دیکھنا اس طرح ہے جس طرح اس کی شان کے لائق ہے۔ معلوم ہوا انسانوں کی مشابہت سے بچنے کے لیے اللہ تعالیٰ کے سننے اور دیکھنے کا ہی انکار کر دینا درست نہیں بلکہ یہ دراصل قرآن کا انکار ہے۔
اسی طرح حب و بغض یقیناً اللہ تعالیٰ کی صفات ہیں، مگر جس طرح اس کی شان کے لائق ہیں۔ مخلوق کی طرح نہیں اور نہ ہی وہ انسانوں کی طرح محبت و بغض کے ہاتھوں بے بس ہے۔
«الْفَاحِشَ» «فحش»، «فاحشه»، «فحشاء» سے مراد وہ قول یا فعل ہے جو بہت ہیں قبیح ہو زنا کو اسی لیے «فاحشه» کہتے ہیں۔ شدید بخل کو «فحشاء» کہتے ہیں۔
«‏‏‏‏الشَّيْطَانُ يَعِدُكُمُ الْفَقْرَ وَيَأْمُرُكُم بِالْفَحْشَاءِ» ‏‏‏‏ [2-البقرة:268]
میں یہی مراد ہے۔ گالی بکنا بےحیائی کی بات کرنا بھی فحش ہے۔ اس حدیث میں یہی مراد ہے۔
«الْبَذِيءَ» بذاء سے فعیل کے وزن پر صفت کا صیغہ ہے۔ بے ہودہ اور گندی باتوں کو «بذاء» کہتے ہیں۔
   شرح بلوغ المرام من ادلۃ الاحکام کتاب الجامع، حدیث\صفحہ نمبر: 203   
   الشيخ عبدالسلام بن محمد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 1318  
ترازو میں اچھے خلق سے بھاری کوئی چیز نہیں
«وعن ابي الدرداء رضى الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: ‏‏‏‏ما من شيء فى الميزان اثقل من حسن الخلق ‏‏‏‏ اخرجه ابو داود والترمذي وصححه.» ابوالدرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ترازو میں کوئی چیز خلق اچھا ہونے سے زیادہ بھاری نہیں ہے۔ اسے ابوداؤد اور ترمذی نے روایت کیا ہے اور ترمذی نے اسے صحیح کہا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الجامع: 1318]

تخریج:
«صحيح»
[بلوغ المرام 1318]،
[ ابوداؤد 4799]،
[ احمد 446/6، 448]
ترمذی نے یہ الفاظ زیادہ کیے ہیں:
«وان صاحب حسن الخلق ليبلغ به درجة صاحب الصوم والصلاة»
اور اچھے خلق والا شخص اس کے ذریعے روزے اور نماز والے شخص کے درجے کو پہنچ جاتا ہے۔ [ترمذي/ البروالصلة ماجاء فى حسن الخلق]
مکمل تخریج و تصحیح کے لیے سلسلہ صحیحہ [876]
حسن خلق کے متعلق اس سے پہلے کئی احادیث میں تفصیل گزر چکی ہے۔
   شرح بلوغ المرام من ادلۃ الاحکام کتاب الجامع، حدیث\صفحہ نمبر: 244