الحمدللہ! انگلش میں کتب الستہ سرچ کی سہولت کے ساتھ پیش کر دی گئی ہے۔

 
صحيح مسلم کل احادیث 3033 :ترقیم فواد عبدالباقی
صحيح مسلم کل احادیث 7563 :حدیث نمبر
صحيح مسلم
بارش طلب کرنے کی نماز
The Book of Prayer - Rain
4. باب التَّعَوُّذِ عِنْدَ رُؤْيَةِ الرِّيحِ وَالْغَيْمِ وَالْفَرَحِ بِالْمَطَرِ:
4. باب: ہوا اور بادل دیکھ کر پناہ مانگنا اور بارش دیکھ کر خوش ہونے کا بیان۔
Chapter: Seeking Refuge With Allah When Seeing Wind And Dark Clouds, And Rejoicing At The Rain
حدیث نمبر: 2086
Save to word اعراب
وحدثني هارون بن معروف ، حدثنا ابن وهب ، عن عمرو بن الحارث . ح وحدثني ابو الطاهر ، اخبرنا عبد الله بن وهب ، اخبرنا عمرو بن الحارث ، ان ابا النضر حدثه، عن سليمان بن يسار ، عن عائشة زوج النبي صلى الله عليه وسلم، انها قالت: ما رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم مستجمعا ضاحكا حتى ارى منه لهواته، إنما كان يتبسم، قالت: وكان إذا راى غيما او ريحا، عرف ذلك في وجهه، فقالت: يا رسول الله ارى الناس إذا راوا الغيم فرحوا رجاء ان يكون فيه المطر، واراك إذا رايته عرفت في وجهك الكراهية، قالت: فقال: " يا عائشة ما يؤمنني ان يكون فيه عذاب، قد عذب قوم بالريح، وقد راى قوم العذاب فقالوا: هذا عارض ممطرنا ".وحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ . ح وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ أَبَا النَّضْرِ حَدَّثَهُ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهَا قَالَتْ: مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُسْتَجْمِعًا ضَاحِكًا حَتَّى أَرَى مِنْهُ لَهَوَاتِهِ، إِنَّمَا كَانَ يَتَبَسَّمُ، قَالَتْ: وَكَانَ إِذَا رَأَى غَيْمًا أَوْ رِيحًا، عُرِفَ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَى النَّاسَ إِذَا رَأَوْا الْغَيْمَ فَرِحُوا رَجَاءَ أَنْ يَكُونَ فِيهِ الْمَطَرُ، وَأَرَاكَ إِذَا رَأَيْتَهُ عَرَفْتُ فِي وَجْهِكَ الْكَرَاهِيَةَ، قَالَتْ: فَقَالَ: " يَا عَائِشَةُ مَا يُؤَمِّنُنِي أَنْ يَكُونَ فِيهِ عَذَابٌ، قَدْ عُذِّبَ قَوْمٌ بِالرِّيحِ، وَقَدْ رَأَى قَوْمٌ الْعَذَابَ فَقَالُوا: هَذَا عَارِضٌ مُمْطِرُنَا ".
سلمان بن یسار نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ محترمہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ انھوں نے کہا: میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی پوری طرح ایسا ایسےہنستا ہوانہیں دیکھاکہ میں آپ کے حلق مبارک کے اندر کا ابھرا ہواحصہ دیکھ لوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم صرف مسکرایا کرتے تھے، اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم بادل یا آندھی دیکھتے تو اس کا اثرآپ کے چہرہ انور پرعیاں ہوجاتا تو (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے) کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !میں لوگوں کو دیکھتی ہوں کہ جب بادل دیکھتے ہیں تو اس اُمید پر خوش ہوجاتے ہیں کہ اس میں بارش ہوگی اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتی ہوں کہ جب آپ اس (بادل) دیکھتے ہیں تو میں آپ کے چہرے پر ناپسندیدگی محسوس کرتی ہوں؟حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "عائشہ!مجھے اس بات سے کیا چیز امن دلا سکتی ہے کہ کہیں ان میں عذاب (نہ) ہو، ایک قوم آندھی کے عذاب کا شکار ہوئی تھی اور ایک قوم نے عذاب کو (دور) سے دیکھا تو کہا: "یہ بادل ہے جو ہم پر بارش برسائے گا۔"
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ محترمہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے کبھی آپصلی اللہ علیہ وسلم کو پوری طرح کھل کر ہنستےنہیں دیکھا کہ میں آپ کا کوا دیکھ لوںآپ صلی اللہ علیہ وسلم صرف مسکرایا کرتے تھے، اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم بادل یا آندھی (نتد و تیز ہوا) دیکھتے تو اس کا اثرآپ کے چہرہ انور پر ظاہر ہو جاتا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !میں لوگوں کو دیکھتی ہوں کہ جب بادل دیکھتے ہیں تو خوش ہوجاتے ہیں اسی امید پر کہ بارش ہوگی اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتی ہوں کہ جب بادل دیکھتے ہیں تو میں آپ کے چہرے پر ناخوشی محسوس کرتی ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عائشہ! میں اس بات سے بے خوف نہیں ہوتا کہ کہیں اس میں عذاب ہو۔ ایک قوم آندھی کے عذاب کا شکار ہوئی تھی، ایک قوم نے عذاب دیکھ کر کہا یہ بادل ہے جو ہم پر بارش برسائے گا۔
ترقیم فوادعبدالباقی: 899

   صحيح البخاري3206عائشة بنت عبد اللهما أدري لعله كما قال قوم فلما رأوه عارضا مستقبل أوديتهم
   صحيح البخاري4829عائشة بنت عبد اللهما يؤمني أن يكون فيه عذاب عذب قوم بالريح وقد رأى قوم العذاب فقالوا هذا عارض ممطرنا
   صحيح البخاري1032عائشة بنت عبد اللهاللهم صيبا نافعا
   صحيح مسلم2084عائشة بنت عبد اللهإذا كان يوم الريح والغيم عرف ذلك في وجهه وأقبل وأدبر إذا مطرت سر به وذهب عنه ذلك قالت عائشة فسألته فقال إني خشيت أن يكون عذابا سلط على أمتي يقول إذا رأى المطر رحمة
   صحيح مسلم2085عائشة بنت عبد اللهاللهم إني أسألك خيرها وخير ما فيها وخير ما أرسلت به وأعوذ بك من شرها وشر ما فيها وشر ما أرسلت به قالت وإذا تخيلت السماء تغير لونه وخرج ودخل وأقبل وأدبر فإذا مطرت سري عنه
   صحيح مسلم2086عائشة بنت عبد اللهما يؤمنني أن يكون فيه عذاب قد عذب قوم بالريح وقد رأى قوم العذاب فقالوا هذا عارض ممطرنا
   جامع الترمذي3449عائشة بنت عبد اللهاللهم إني أسألك من خيرها وخير ما فيها وخير ما أرسلت به وأعوذ بك من شرها وشر ما فيها وشر ما أرسلت به
   جامع الترمذي3257عائشة بنت عبد اللهما أدري لعله كما قال الله فلما رأوه عارضا مستقبل أوديتهم قالوا هذا عارض ممطرنا
   سنن أبي داود5099عائشة بنت عبد اللهإذا رأى ناشئا في أفق السماء ترك العمل وإن كان في صلاة ثم يقول اللهم إني أعوذ بك من شرها فإن مطر قال اللهم صيبا هنيئا
   سنن أبي داود5098عائشة بنت عبد اللهما يؤمنني أن يكون فيه عذاب قد عذب قوم بالريح وقد رأى قوم العذاب فقالوا هذا عارض ممطرنا
   سنن النسائى الصغرى1524عائشة بنت عبد اللهإذا أمطر قال اللهم اجعله صيبا نافعا
   سنن ابن ماجه3891عائشة بنت عبد اللهما يدريك لعله كما قال قوم هود فلما رأوه عارضا مستقبل أوديتهم قالوا هذا عارض ممطرنا بل هو ما استعجلتم به
   سنن ابن ماجه3889عائشة بنت عبد اللهاللهم سيبا نافعا
   سنن ابن ماجه3890عائشة بنت عبد اللهاللهم اجعله صيبا هنيئا
   بلوغ المرام411عائشة بنت عبد الله اللهم صيبا نافعا
   مسندالحميدي272عائشة بنت عبد اللهاللهم سيبا نافعا
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 2086 کے فوائد و مسائل
  الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 2086  
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ انسان کا درجہ ومرتبہ کتنا ہی بلند وبالا کیوں نہ ہو،
وہ اللہ کے عذاب سے بے خوف نہیں ہو سکتا۔
اس لیے ایسی چیز دیکھ کر جو تباہی وبربادی کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔
اللہ سے پناہ طلب کرنی چاہیے اور تندوتیز ہوا یا آندھی کے وقت حدیث میں گزرنے والی دعا پڑھنی چاہیے۔
   تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2086   

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
  الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 5098  
´جب آندھی آئے تو کیا پڑھے؟`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی کھلکھلا کر ہنستے نہیں دیکھا کہ آپ کے حلق کے کوے کو دیکھ سکوں، آپ تو صرف تبسم فرماتے (ہلکا سا مسکراتے) تھے، آپ جب بدلی یا آندھی دیکھتے تو اس کا اثر آپ کے چہرے پر دیکھا جاتا (آپ تردد اور تشویش میں مبتلا ہو جاتے) تو (ایک بار) میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! لوگ تو جب بدلی دیکھتے ہیں تو خوش ہوتے ہیں کہ بارش ہو گی، اور آپ کو دیکھتی ہوں کہ آپ جب بدلی دیکھتے ہیں تو آپ کے چہرے سے ناگواری (گھبراہٹ اور پریشانی) جھلکتی ہے (اس کی وجہ کیا ہے؟) آپ نے فرمایا: اے عائشہ! مجھے۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5098]
فوائد ومسائل:

زور سے کھل کھلا کر اور ازحد منہ کھول کر ہنسنا نامناسب اور وقار کے منافی ہے۔
چاہیے کہ ایسے مسکرانے کو اپنی عادت بنایا جائے جو سنت ہے۔


تیز ہوا (آندھی) یا بادل کو دیکھ کر اس کی خیر کی دعا کرنی چاہیے اور عذاب سے پناہ مانگنی چاہیے۔
جیسے کہ اوپر بیان ہوا۔
   سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعدی، حدیث/صفحہ نمبر: 5098   

  مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3889  
´بادل اور بارش دیکھنے کے وقت کیا دعا پڑھے؟`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب آسمان کے کسی کنارے سے اٹھتے بادل کو دیکھتے تو جس کام میں مشغول ہوتے اسے چھوڑ دیتے، یہاں تک کہ اگر نماز میں (بھی) ہوتے تو بادل کی طرف چہرہ مبارک کرتے، اور یہ دعا ما نگتے: «اللهم إنا نعوذ بك من شر ما أرسل به» اے اللہ ہم تیری پناہ مانگتے ہیں اس چیز کے شر سے جو اس کے ساتھ بھیجی گئی ہے پھر اگر بارش شروع ہو جاتی تو فرماتے: «اللهم سيبا نافعا» اے اللہ جاری اور فائدہ دینے والا پانی عنایت فرما، دو یا تین مرتبہ یہی الفاظ دہراتے اور اگر اللہ تعالیٰ بادل ہٹا دیتا اور بار۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب الدعاء/حدیث: 3889]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
بارش اللہ کی ر حمت ہے لیکن اللہ کا عذاب بھی ہوسکتی ہے۔
اس لئے بادل دیکھ کر اللہ کی رحمت کی اُمید کے ساتھ ساتھ اس کے عذاب سے پناہ بھی مانگنی چاہیے۔

(2)
بارش انسان کےلئے انتہائی ضروری ہونے کے باجود اس میں نقصان کا پہلو بھی موجود ہے۔
اس لئے بارش کے نفع مند ہونے کی دعا کرنا ضروری ہے۔

(3)
بادل کا برسے بغیر چھٹ جانا اس لئے اللہ کا انعام ہے۔
کہ اس کے عذاب ہونے کا خطرہ ٹل گیا-
(4)
بندے کوہر حال میں اللہ سے امید کے ساتھ ساتھ اللہ کا خوف بھی رکھنا چاہیے اور ان مواقع پر یہ عایئں پڑھنے کاالتزام کرنا چاہیے۔
   سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3889   

  مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3891  
´بادل اور بارش دیکھنے کے وقت کیا دعا پڑھے؟`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بادل کو دیکھتے تو (تردد و پریشانی کی وجہ سے) آپ کے چہرہ مبارک کا رنگ بدل جاتا، کبھی اندر تشریف لے جاتے کبھی باہر، کبھی آگے جاتے کبھی پیچھے، پھر جب بارش ہونے لگتی تو آپ کی یہ کیفیت ختم ہو جاتی، عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کی اس کیفیت کا ذکر کیا جسے انہوں نے دیکھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عائشہ تجھے کیا معلوم؟ ہو سکتا ہے یہ وہی ہو جسے دیکھ کر قوم ہود نے کہا تھا: «فلما رأوه عارضا مستقبل أوديتهم قالوا هذا عارض ممطرنا بل هو ما ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب الدعاء/حدیث: 3891]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
رسول اللہ ﷺ کے دل میں اللہ کا خوف بہت زیادہ تھا۔
مومن کو بھی اللہ کے عذاب سےڈرنا چاہیے۔

(2)
نبی کریمﷺ عالم الغیب نہیں تھے۔
علم غیب اللہ کے ساتھ ہے۔
   سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3891   

  الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3257  
´سورۃ الاحقاف سے بعض آیات کی تفسیر۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب برسنے والا کوئی بادل دیکھتے تو آگے بڑھتے پیچھے ہٹتے (اندر آتے باہر جاتے) مگر جب بارش ہونے لگتی تو اسے دیکھ خوش ہو جاتے، میں نے عرض کیا: ایسا کیوں کرتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں (صحیح) جانتا تو نہیں شاید وہ کچھ ایسا ہی نہ ہو جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے «فلما رأوه عارضا مستقبل أوديتهم قالوا هذا عارض ممطرنا» جب انہوں نے اسے بحیثیت بادل اپنی وادیوں کی طرف آتے ہوئے دیکھا تو انہوں نے کہا: یہ بادل ہم پر برسنے آ رہا ہے، بلکہ یہ وہ عذاب ہے جس کی تم ن۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3257]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
جب انہوں نے اسے بحیثیت بادل اپنی وادیوں کی طرف آتے ہوئے دیکھا تو انہوں نے کہا:
یہ بادل ہم پر برسنے آ رہا ہے،
بلکہ یہ وہ عذاب ہے جس کی تم نے جلدی مچا رکھی تھی (آندھی ہے کہ جس میں نہایت دردناک عذاب ہے) (الأحقاف: 24)
   سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3257   

  الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3449  
´جب آندھی آئے تو کیا پڑھے؟`
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب ہوا چلتی ہوئی دیکھتے تو کہتے: «‏‏‏‏اللهم إني أسألك من خيرها وخير ما فيها وخير ما أرسلت به وأعوذ بك من شرها وشر ما فيها وشر ما أرسلت به» اے اللہ! میں تجھ سے اس کی خیر مانگتا ہوں، اور جو خیر اس میں ہے وہ چاہتا ہوں اور جو خیر اس کے ساتھ بھیجی گئی ہے اسے چاہتا ہوں، اور میں اس کے شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں اور جو شر اس میں چھپا ہوا ہے اس سے پناہ مانگتا ہوں اور جو شر اس کے ساتھ بھیجی گئی ہے اس سے پناہ مانگتا ہوں۔‏‏‏‏ [سنن ترمذي/كتاب الدعوات/حدیث: 3449]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
اے اللہ! میں تجھ سے اس کی خیر مانگتا ہوں،
اور جو خیر اس میں ہے وہ چاہتا ہوں اور جو خیر اس کے ساتھ بھیجی گئی ہے اسے چاہتا ہوں،
اور میں اس کے شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں اور جو شر اس میں چھپا ہوا ہے اس سے پناہ مانگتا ہوں اور جو شر اس کے ساتھ بھیجا گیا ہے اس سے پناہ مانگتاٰ ہوں۔
   سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3449   

  الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:272  
فائدہ:
اس حدیث میں بارش کے نزول کے وقت کی دعا کا ذکر ہے کہ جب بارش ہونا شروع ہو جائے تو ہمیں یہ دعا: «اللَّهُمَّ صَيِّبًا نَافِعًا» پڑھنی چاہیے تا کہ بارش نفع کا باعث بنے، نقصان اور عذاب بن کر نہ آئے۔ یہی بارش اگر مناسب وقت میں مناسب مقدار سے نازل ہو تو رحمت بن جاتی ہے، اور یہ بارش اگر غیر مناسب وقت میں غیر مناسب مقدار میں نازل ہوتو زحمت بن جاتی ہے۔
   مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 272   

  مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 3206  
3206. حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ جب آسمان پر بادل دیکھتے تو آپ کبھی آگے آتے اور کبھی پیچھے جاتے، کبھی گھر کے اندر داخل ہوتے اورکبھی باہر تشریف لے جاتے۔ اور آپ کے چہرہ انور کا رنگ فق ہوجاتا لیکن جب بارش ہونے لگتی تو پھر یہ کیفیت باقی نہ رہتی۔ حضرت عائشہ ؓ نے اس کیفیت کو بھانپا (تو آپ سے عرض کیا) آپ نے فرمایا: کیا پتہ شاید یہ بادل اس طرح کا ہو جس کے متعلق قوم (عاد) نے کہا تھا: پھر جب انھوں نے بادل کو اپنے میدانوں کی طرف بڑھتے دیکھا (تو کہنے لگے یہ بادل ہے جو ہم پر برسے گا بلکہ یہ وہ چیز تھی جس کے لیے تم جلدی مچارہے تھے، یعنی ایسی آندھی جس میں دردناک عذاب تھا)۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:3206]
حدیث حاشیہ:
ہوا بھی اللہ کی ایک مخلوق ہے جو مختلف تاثیر رکھتی ہے اور مخلوقات کی زندگی میں جس کا قدرت نے بڑا دخل رکھا ہے۔
قوم عاد پر اللہ نے قحط کا عذاب نازل کیا۔
انہوں نے اپنے کچھ لوگوں کو مکہ شریف بھیجا کہ وہاں جاکر بارش کی دعا کریں۔
مگر وہاں وہ لوگ عیش و عشرت میں پڑ کر دعا کرنا بھول گئے۔
ادھر قوم کی بستیوں پر بادل چھائے۔
قوم نے سمجھا کہ یہ ہمارے ان آدمیوں کی دعاؤں کا اثر ہے۔
مگر اس بادل نے عذاب کی شکل اختیار کرکے اس قوم کو تباہ کردیا۔
   صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3206   

  الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:1032  
1032. حضرت عائشہ‬ ؓ س‬ے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب بارش ہوتی دیکھتے تو دعا کرتے: اے اللہ! نفع آور بارش برسا۔ اس حدیث کی متابعت قاسم بن یحییٰ نے عبیداللہ عمری سے کی ہے، نیز اسے امام اوزاعی اور عقیل نے حضرت نافع سے بیان کیا ہے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:1032]
حدیث حاشیہ:
(1)
حضرت عائشہ ؓ سے مذکورہ روایت وضاحت کے ساتھ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب آسمان کے افق پر کوئی بادل وغیرہ دیکھتے تو کام کاج ترک کر دیتے، اگر بادل چھٹ جاتے تو اللہ کی حمد کرتے اور اگر بارش برستی تو فرماتے:
اے اللہ! اسے ہمارے لیے نفع آور بنا دے۔
(سنن أبي داود، الأدب، حدیث: 5099)
ایک روایت میں ہے کہ ایسے حالات میں رسول اللہ ﷺ گھبرا جاتے، کبھی اندر جاتے اور کبھی باہر، گھبراہٹ آپ کے چہرے سے نمایاں ہوتی۔
(صحیح مسلم، صلاة الاستسقاء، حدیث:
(899) (2)
امام اوزاعی کی روایت کو عمل اليوم والليلة میں متصل سند سے بیان کیا گیا ہے۔
اس میں نافعا کے بجائے ھنیئا کے الفاظ ہیں جس کے معنی خوش گوار ہیں۔
عقیل کی روایت کو امام دارقطنی ؒ نے بیان کیا ہے۔
(فتح الباري: 668/2)
   هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1032   

  الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3206  
3206. حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ جب آسمان پر بادل دیکھتے تو آپ کبھی آگے آتے اور کبھی پیچھے جاتے، کبھی گھر کے اندر داخل ہوتے اورکبھی باہر تشریف لے جاتے۔ اور آپ کے چہرہ انور کا رنگ فق ہوجاتا لیکن جب بارش ہونے لگتی تو پھر یہ کیفیت باقی نہ رہتی۔ حضرت عائشہ ؓ نے اس کیفیت کو بھانپا (تو آپ سے عرض کیا) آپ نے فرمایا: کیا پتہ شاید یہ بادل اس طرح کا ہو جس کے متعلق قوم (عاد) نے کہا تھا: پھر جب انھوں نے بادل کو اپنے میدانوں کی طرف بڑھتے دیکھا (تو کہنے لگے یہ بادل ہے جو ہم پر برسے گا بلکہ یہ وہ چیز تھی جس کے لیے تم جلدی مچارہے تھے، یعنی ایسی آندھی جس میں دردناک عذاب تھا)۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:3206]
حدیث حاشیہ:

ہوا بھی اللہ تعالیٰ کی ایک مخلوق ہ جو مختلف تاثیررکھتی ہے اور قوموں کے عروج وزوال میں اس کا بڑا دخل ہے۔
قوم عاد پر اللہ تعالیٰ نے قحط نازل فرمایا۔
یہ لوگ بہت بڑی مدت سے بارش کو ترس رہے تھے۔
انھوں نے اس دوران میں ایک کالی گھٹا کو دیکھا جو ان کے علاقے کی طرف بڑھ رہی تھی۔
وہ خوشی سے جھوم اٹھے کہ اب خوشحالی آئے گی۔
انھیں کیا خبر تھی کہ یہ گھٹا بارانِ رحمت کی گھٹا ہے یا انھیں نیست و نابود کرنے کے لیے اللہ کا عذاب ہے۔
یہ آندھی انتہائی تیز رفتار اور سخت ٹھنڈی تھی جو آٹھ دن اور سات راتیں مسلسل ان پر چلتی رہی۔

اس واقعے سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ کسی چیز کی ظاہری شکل وصورت پر فریفتہ نہیں ہونا چاہیے بلکہ ہروقت اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہنا چاہیے۔
اگرچہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو الفاظ میں تسلی دے رکھی تھی:
﴿وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَأَنْتَ فِيهِمْ﴾ جب تک آپ ان میں موجود ہیں اللہ انھیں عذاب نہیں دے گا۔
(الأنفال: 33/8)
اس کے باوجود آپ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہتے تھے کہ کہیں ایسا نہ ہوکہ جن لوگوں میں میری شخصیت نہیں ہوگی انھیں یہ بادل، عذاب کی شکل اختیار کرکے نیست ونابود کردے۔
   هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3206   

  الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4829  
4829. ام المومنین حضرت عائشہ‬ ؓ ف‬رماتی ہیں کہ آپ ﷺ جب بادل یا ہوا دیکھتے تو آپ کے چہرہ انور پر پریشانی کے اثرات نظر آتے۔ انہوں نے عرض کی: اللہ کے رسول! لوگ جب بادل دیکھتے ہیں تو اس امید پر خوش ہوتے ہیں کہ اس میں بارش ہو گی لیکن اس کے برعکس میں دیکھتی ہوں کہ جب آپ کو بادل نظر آتے ہیں تو ناگواری کے اثرات آپ کے چہرے پر نمایاں ہوتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اے عائشہ! اس امر کی کیا ضمانت ہے کہ ان میں عذاب نہ ہو۔ ایک قوم کو ہوا کا عذاب دیا گیا تھا۔ انہوں نے جب عذاب دیکھا تو کہنے لگے: یہ تو بادل ہے جو ہم پر برسے گا۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:4829]
حدیث حاشیہ:

ایک حدیث میں ہے کہ جب تیز ہوا چلتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا پڑھتے۔
(اللَّهُمَّ إِني أَسْأَلُكَ خَيْرَهَا، وَخَيْرِ مَا فِيهَا، وخَيْر ما أُرسِلَتْ بِهِ، وَأَعُوذُ بك مِنْ شَرِّهِا، وَشَرِّ ما فِيها، وَشَرِّ ما أُرسِلَت بِهِ)
جب آسمان پر بادل گہرے ہو جاتے تو آپ کے چہرہ انور کا رنگ بدل جاتا اور آپ پر خوف کی سی کیفیت طاری ہو جاتی جس سے آپ بے چین رہتے کبھی باہر نکلتے کبھی اندر آتے کبھی آگے ہوتے اور کبھی پیچھے جاتے۔
جب بارش ہو جاتی تو اطمینان کا سانس لیتے۔
(صحیح مسلم، صلاة الاستقاء، حدیث: 2085۔
(899)

قوم عاد پر جب ہوا کا عذاب آیا تو اس کی تیزی کا یہ عالم تھا کہ وہ درختوں اور پودوں کو بیخ جڑ سے اکھاڑ کر پرے پھینک دیتی تھی۔
یہی آندھی ان کے زمین دوزمکانوں میں گھس گئی اس دوران میں وہ اپنے گھروں سے نکل بھی نہ سکتے تھے سردی کی شدت سے وہ ٹھٹھرٹھٹھر کر مر گئے۔
وہاں کھنڈرات کے علاوہ کوئی چیز نظر نہ آتی تھی وہ تیز اور سخت ٹھنڈی ہوا قوم عاد پر آٹھ دن اور سات راتیں مسلسل چلتی رہی اس واقعے سے ہمیں جو سبق ملتا ہے وہ یہ ہے کہ کسی چیزکی ظاہری شکل و صورت سے بے خوف نہیں ہونا چاہیے اور نہ اس پر تکیہ ہی کر لینا چاہیے بلکہ ہر حال میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہنا چاہیے۔
واللہ المستعان۔
   هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4829   


http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.