الحمدللہ ! قرآن پاک روٹ ورڈ سرچ اور مترادف الفاظ کی سہولت پیش کر دی گئی ہے۔

 
صحيح البخاري کل احادیث 7563 :حدیث نمبر
صحيح البخاري
کتاب: خرید و فروخت کے مسائل کا بیان
The Book of Sales (Bargains)
35. بَابُ الأَسْوَاقِ الَّتِي كَانَتْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَتَبَايَعَ بِهَا النَّاسُ فِي الإِسْلاَمِ:
35. باب: جاہلیت کے بازاروں کا بیان جن میں اسلام کے زمانہ میں بھی لوگوں نے خرید و فروخت کی۔
(35) Chapter. The markets of the Pre-Islamic Period of Ignorance where the people continued to trade after embracing Islam.
حدیث نمبر: 2098
پی ڈی ایف بنائیں مکررات اعراب English
(مرفوع) حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا سفيان، عن عمرو بن دينار، عن ابن عباس رضي الله عنه، قال:" كانت عكاظ، ومجنة، وذو المجاز اسواقا في الجاهلية، فلما كان الإسلام، تاثموا من التجارة فيها، فانزل الله: ليس عليكم جناح سورة البقرة آية 198"، في مواسم الحج، قرا ابن عباس، كذا.(مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" كَانَتْ عُكَاظٌ، وَمَجَنَّةُ، وَذُو الْمَجَازِ أَسْوَاقًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَلَمَّا كَانَ الْإِسْلَامُ، تَأَثَّمُوا مِنَ التِّجَارَةِ فِيهَا، فَأَنْزَلَ اللَّهُ: لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ سورة البقرة آية 198"، فِي مَوَاسِمِ الْحَجِّ، قَرَأَ ابْنُ عَبَّاسٍ، كَذَا.
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے عمرو بن دینار نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ عکاظ، مجنہ اور ذوالمجاز یہ سب زمانہ جاہلیت کے بازار تھے۔ جب اسلام آیا تو لوگوں نے ان میں تجارت کو گناہ سمجھا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی «ليس عليكم جناح‏** في مواسم الحج»، ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اسی طرح قرآت کی ہے۔

Narrated Ibn `Abbas: `Ukaz, Majanna and Dhul-Majaz were markets in the Pre-Islamic period. When the people embraced Islam they considered it a sin to trade there. So, the following Holy Verse came:-- 'There is no harm for you if you seek of the bounty of your Lord (Allah) in the Hajj season." (2.198) Ibn `Abbas recited it like this.
USC-MSA web (English) Reference: Volume 3, Book 34, Number 311


   صحيح البخاري2098عبد الله بن عباسعكاظ ومجنة وذو المجاز أسواقا في الجاهلية فلما كان الإسلام تأثموا من التجارة فيها فأنزل الله ليس عليكم جناح

تخریج الحدیث کے تحت حدیث کے فوائد و مسائل
  مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 2098  
2098. حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا کہ عکاظ، مجنہ اور ذوالمجاز زمانہ جاہلیت کی منڈیاں تھیں۔ جب اسلام کا زمانہ آیا تو لوگوں نے ان منڈیوں میں خریدوفروخت کرنے کو گناہ خیال کیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: "تم پر کوئی گناہ نہیں کہ"حج کے زمانے میں"تم اللہ کا فضل تلاش کرو۔ " حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسے ایسے ہی پڑھا ہے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:2098]
حدیث حاشیہ:
یعنی تم پر گناہ نہیں کہ ایام حج میں ان بازاروں میں تجارت کرو۔
   صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث\صفحہ نمبر: 2098   
  الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:2098  
2098. حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا کہ عکاظ، مجنہ اور ذوالمجاز زمانہ جاہلیت کی منڈیاں تھیں۔ جب اسلام کا زمانہ آیا تو لوگوں نے ان منڈیوں میں خریدوفروخت کرنے کو گناہ خیال کیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: "تم پر کوئی گناہ نہیں کہ"حج کے زمانے میں"تم اللہ کا فضل تلاش کرو۔ " حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسے ایسے ہی پڑھا ہے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:2098]
حدیث حاشیہ:
(1)
اس عنوان سے معلوم ہوا کہ گناہ کے مقامات اور دور جاہلیت کی جگہیں،طاعت کے افعال کے لیے رکاوٹ کا باعث نہیں ہیں۔
(2)
واضح رہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس آیت میں في مواسم الحج پڑھا ہے۔
اسے اصطلاح میں تفسیری قراءت کہتے ہیں،اگرچہ یہ قراءت متواترہ کے خلاف ہے۔
   هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث\صفحہ نمبر: 2098   

http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.