سنن ترمذي کل احادیث 3956 :حدیث نمبر
سنن ترمذي
کتاب: زہد، ورع، تقوی اور پرہیز گاری
Chapters On Zuhd
41. باب مَا جَاءَ فِي أَخْذِ الْمَالِ
41. باب: حلال اور جائز طریقہ سے مال و دولت حاصل کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2374
پی ڈی ایف بنائیں مکررات اعراب
(مرفوع) حدثنا قتيبة، حدثنا الليث، عن سعيد المقبري، عن ابي الوليد، قال: سمعت خولة بنت قيس , وكانت تحت حمزة بن عبد المطلب، تقول: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: " إن هذا المال خضرة حلوة من اصابه بحقه بورك له فيه، ورب متخوض فيما شاءت به نفسه من مال الله ورسوله ليس له يوم القيامة إلا النار " , قال ابو عيسى: هذا حديث حسن صحيح، وابو الوليد اسمه: عبيد سنوطا.(مرفوع) حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي الْوَلِيدِ، قَال: سَمِعْتُ خَوْلَةَ بِنْتَ قَيْسٍ , وَكَانَتْ تَحْتَ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، تَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ هَذَا الْمَالَ خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ مَنْ أَصَابَهُ بِحَقِّهِ بُورِكَ لَهُ فِيهِ، وَرُبَّ مُتَخَوِّضٍ فِيمَا شَاءَتْ بِهِ نَفْسُهُ مِنْ مَالِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ لَيْسَ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَّا النَّارُ " , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَأَبُو الْوَلِيدِ اسْمُهُ: عُبَيْدُ سَنُوطَا.
حمزہ بن عبدالمطلب کی بیوی خولہ بنت قیس رضی الله عنہما کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: یہ مال سرسبز اور میٹھا ہے ۱؎ جس نے اسے حلال طریقے سے حاصل کیا اس کے لیے اس میں برکت ہو گی اور کتنے ایسے ہیں جو اللہ اور اس کے رسول کے مال کو حرام و ناجائز طریقہ سے حاصل کرنے والے ہیں ان کے لیے قیامت کے دن جہنم کی آگ تیار ہے۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

تخریج الحدیث: «تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 15829) (صحیح)»

وضاحت:
۱؎: مال سے مراد دنیا ہے، یعنی دنیا بے انتہا میٹھی، ہری بھری، اور دل کو لبھانے والی ہے، زبان اور نگاہ سب کی لذت کی جامع ہے، اس لیے اس کے حصول کے لیے حرام طریقہ سے بچ کر صرف حلال طریقہ اپنانا چاہیئے، کیونکہ حلال طریقہ اپنانے والے کے لیے جنت اور حرام طریقہ اپنانے والے کے لیے جہنم ہے۔

قال الشيخ الألباني: صحيح، الصحيحة (1592)، المشكاة (4017 / التحقيق الثانى)

   جامع الترمذي2374خولة بنت قيسالمال خضرة حلوة من أصابه بحقه بورك له فيه رب متخوض فيما شاءت به نفسه من مال الله ورسوله ليس له يوم القيامة إلا النار
   مسندالحميدي356خولة بنت قيسإن الدنيا حلوة خضرة فإن أخذها بحقها بورك له فيها، ورب متخوض في مال الله ومال رسوله له النار يوم يلقاه

تخریج الحدیث کے تحت حدیث کے فوائد و مسائل
  الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 2374  
´حلال اور جائز طریقہ سے مال و دولت حاصل کرنے کا بیان۔`
حمزہ بن عبدالمطلب کی بیوی خولہ بنت قیس رضی الله عنہما کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: یہ مال سرسبز اور میٹھا ہے ۱؎ جس نے اسے حلال طریقے سے حاصل کیا اس کے لیے اس میں برکت ہو گی اور کتنے ایسے ہیں جو اللہ اور اس کے رسول کے مال کو حرام و ناجائز طریقہ سے حاصل کرنے والے ہیں ان کے لیے قیامت کے دن جہنم کی آگ تیار ہے۔‏‏‏‏ [سنن ترمذي/كتاب الزهد/حدیث: 2374]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
مال سے مراد دنیاہے،
یعنی دنیا بے انتہا میٹھی،
ہری بھری،
اور دل کو لبھانے والی ہے،
زبان اور نگاہ سب کی لذت کی جامع ہے،
اس لیے اس کے حصول کے لیے حرام طریقہ سے بچ کر صرف حلال طریقہ اپنانا چاہئے،
کیونکہ حلال طریقہ اپنانے والے کے لیے جنت اورحرام طریقہ اپنانے والے کے لیے جہنم ہے۔
   سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث\صفحہ نمبر: 2374   

http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.