سنن ترمذي کل احادیث 3956 :حدیث نمبر
سنن ترمذي
کتاب: زہد، ورع، تقوی اور پرہیز گاری
Chapters On Zuhd
42. باب مِنْهُ
42. باب: درہم و دینار کے پجاری ملعون ہیں۔
حدیث نمبر: 2375
پی ڈی ایف بنائیں اعراب
(مرفوع) حدثنا بشر بن هلال الصواف، حدثنا عبد الوارث بن سعيد، عن يونس، عن الحسن، عن ابي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " لعن عبد الدينار لعن عبد الدرهم " , قال ابو عيسى: هذا حديث حسن غريب من هذا الوجه، وقد روي هذا الحديث من غير هذا الوجه عن ابي صالح، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم ايضا اتم من هذا واطول.(مرفوع) حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ هِلَالٍ الصَّوَّافُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لُعِنَ عَبْدُ الدِّينَارِ لُعِنَ عَبْدُ الدِّرْهَمِ " , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيث مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيْضًا أَتَمَّ مِنْ هَذَا وَأَطْوَلَ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دینار کا بندہ ملعون ہے، درہم کا بندہ ملعون ہے۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے،
۲- یہ حدیث اس سند کے علاوہ «عن أبي صالح عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم» کی سند سے مروی ہے اور یہ بھی سند اس سے زیادہ مکمل اور طویل ہے۔

تخریج الحدیث: «تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 12248) (ضعیف) (سند میں حسن بصری مدلس ہیں، اور ابوہریرہ رضی الله عنہ سے ان کا سماع بھی نہیں ہے، اور روایت عنعنہ سے ہے)»

قال الشيخ الألباني: ضعيف، المشكاة (5180 / التحقيق الثاني) // ضعيف الجامع الصغير (4695) //

قال الشيخ زبير على زئي: (2375) إسناده ضعيف
الحسين البصري مدلس (تقدم: 21) ولم يصرح بالسماع وصح الحديث بلفظ: ”تعس عبد الدينار و عبد الدرهم“ إلخ (رواه البخاري فى صحيحه: 2886)

   صحيح البخاري2887عبد الرحمن بن صخرتعس عبد الدينار والدرهم والقطيفة والخميصة إن أعطي رضي وإن لم يعط لم يرض
   صحيح البخاري6435عبد الرحمن بن صخرتعس عبد الدينار والدرهم والقطيفة والخميصة إن أعطي رضي وإن لم يعط لم يرض
   جامع الترمذي2375عبد الرحمن بن صخرلعن عبد الدينار لعن عبد الدرهم
   سنن ابن ماجه4135عبد الرحمن بن صخرتعس عبد الدينار وعبد الدرهم وعبد القطيفة وعبد الخميصة
   سنن ابن ماجه4136عبد الرحمن بن صخرتعس عبد الدينار وعبد الدرهم وعبد الخميصة تعس وانتكس وإذا شيك فلا انتقش
   بلوغ المرام1267عبد الرحمن بن صخر‏‏‏‏تعس عبد الدينار والدرهم والقطيفة إن اعطي رضي وإن لم يعط لم يرض
   صحيح البخاري2886عبد الرحمن بن صخرتعس عبد الدينار والدرهم، والقطيفة، والخميصة إن اعطي رضي وإن لم يعط، لم يرض

تخریج الحدیث کے تحت حدیث کے فوائد و مسائل
  الشيخ مبشر احمد رباني حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري 2887  
´اشرفی کا بندہ تباہ ہوا`
«. . . عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" تَعِسَ عَبْدُ الدِّينَارِ، وَعَبْدُ الدِّرْهَمِ، وَعَبْدُ الْخَمِيصَةِ . . .»
. . . آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اشرفی کا بندہ اور روپے کا بندہ اور کمبل کا بندہ تباہ ہوا . . . [صحيح البخاري/كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ: 2887]

فوائد و مسائل
❀ حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
«تعس عبدالدينار وعبدالدرهم وعبد القطيفة»
درہم و دینار اور چادر کا بندہ تباہ ہو گیا۔ [ابن ماجه، كتاب الزهد، باب فى المكثرين 4135، بخاري الجهاد و السير، باب الحراسته فى الغزو فى سبيل الله 2886]
↰ ان احادیث سے معلوم ہوا کہ عبد کی اضافت اسماء میں جب غیر اللہ کی طرف ہوتی ہے تو یہ لفظ عبادت کے معنوں میں مستعمل ہوتا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے ناموں کو بدل دیا تھا کیونکہ یہ شرکیہ نام ہیں۔ اگر انھیں شرکیہ نہ سمجھا جائے تو پھر ان میں شرک کی بو ضرور موجود ہے۔
   احکام و مسائل، حدیث\صفحہ نمبر: 20   
   الشيخ عبدالسلام بن محمد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 1267    
پیسے کا غلام ہلاک ہو گیا
«وعن ابي هريرة رضى الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: ‏‏‏‏تعس عبد الدينار والدرهم والقطيفة إن اعطي رضي وإن لم يعط لم يرض .‏‏‏‏ اخرجه البخاري»
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہلاک ہو گیا دینار، درہم اور چادر کا غلام اگر اسے دیا جائے تو خوش ہو جاتا ہے اور اگر اسے نہ دیا جائے تو خوش نہیں ہوتا۔ بخاری۔ [بلوغ المرام/كتاب الجامع: 1267]

تخریج:
[بخاري 6435]
[تحفته الاشراف 431/9، 439/9 ]

مفردات: «تَعِسَ» «مَنَعَ» اور «سَمِعَ» دونوں کے وزن پر آتا ہے جب کسی کو مخاطب کرنا ہو تو «‏‏‏‏مَنَعَ» استعمال کرتے ہیں،
مثلاً «تَعَسْتَ» اور جب کسی کے بارے میں بیان کرنا ہو تو «فَرِح» کی طرح مثلاً «تَعِسَ» «فُلَانٌ» اس کا معنی ہلاک ہو گیا، پھسل گیا، گر گیا۔ [قاموس ]
«اَلْقَطِيْفَةِ» وہ چادر جس کو جھالر لگی ہو۔

فوائد:
➊ اس حدیث میں دینار، درہم اور چادر کا ذکر بطور مثال ہے مراد یہ ہے کہ وہ آدمی دنیا کی طلب میں اس مقام پر جا پہنچا کہ دنیا کی چیزیں اس کے مالک کی طرح اسے ہر طرف لیے پھرتی ہیں انہیں حاصل کرنے کے لیے وہ ہر ذلت برداشت کرنے کے لئے تیار ہے جس طرح غلام مالک کا ہر حکم مانتا ہے اس کی خوشی اور ناخوشی بھی اسی کے ارد گرد گھومتی ہے کہ اس کی پسندیدہ دنیا کی چیز اسے ملتی ہے یا نہیں اللہ تعالیٰ نے منافقین کے متعلق فرمایا:
«وَمِنْهُم مَّن يَلْمِزُكَ فِي الصَّدَقَاتِ فَإِنْ أُعْطُوا مِنْهَا رَضُوا وَإِن لَّمْ يُعْطَوْا مِنْهَا إِذَا هُمْ يَسْخَطُونَ» [ 9-التوبة:58 ]
اور بعض لوگ ان میں سے ایسے ہیں کہ صدقات کی تقسیم میں تجھ پر طعن کرتے ہیں۔ اگر ان کو کچھ مل جاتا ہے تو خوش ہو جاتے ہیں اور اگر نہیں ملتا تو فورا بگڑ بیٹھتے ہیں۔
پھر دنیا میں لوگوں کی پسندیدہ چیزیں بھی مختلف ہیں کوئی مال کا بھوکا ہے، کوئی عہدہ کا،کوئی حسینوں کا غلام ہے، کوئی جائیداد اور کوٹھیوں کے چکر میں گرفتار ہے۔
➋ انسان کی پیدائش کا اصل مقصد اللہ کی عبادت کرنا ہے۔
«وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ» [51-الذاريات:56]
اور میں نے جن و انس کو اسی لیے پیدا کیا کہ وہ میری عبادت کریں۔
اس لئے اس کا اصل مقصد اللہ کی رضا ہونا چاہیے دنیا کمانا یا اس کی خواہش رکھنا منع نہیں شرط صرف یہ ہے کہ آدمی ان چیزوں کا غلام نہ بنے بلکہ اللہ کا غلام بنے یہ چیزیں اس کو اللہ کی غلامی سے غافل نہ کر دیں۔ بلکہ وہ دنیا بھی اسی لیے حاصل کرے کہ وہ اللہ کی بندگی میں اس کی معاون ہو گی۔ ان لوگوں کی طرح نہ ہو جائے جن کا ذکر اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں فرمایا ہے:
«وَمِنَ النَّاسِ مَن يَعْبُدُ اللَّـهَ عَلَى حَرْفٍ فَإِنْ أَصَابَهُ خَيْرٌ اطْمَأَنَّ بِهِ وَإِنْ أَصَابَتْهُ فِتْنَةٌ انقَلَبَ عَلَى وَجْهِهِ خَسِرَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةَ ذَلِكَ هُوَ الْخُسْرَانُ الْمُبِينُ» [22-الحج:11]
اور لوگوں میں سے ایک وہ بھی ہے جو اللہ کی عبادت کنارے پر (رہ کر) کرتا ہے سو اگر اسے بھلائی حاصل ہو جائے تو اس کے ساتھ مطمئن ہو جاتا ہے اگر اسے آزمائش آ جائے تو اپنے چہرے پر پھر جاتا ہے۔ یہ دنیا اور آخرت میں نامراد ہو گیا واقعی یہ کھلا نقصان ہے۔
   شرح بلوغ المرام من ادلۃ الاحکام کتاب الجامع، حدیث\صفحہ نمبر: 104   
  مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث4136  
´مالداروں کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہلاک ہوا دینار کا بندہ، درہم کا بندہ اور شال کا بندہ، وہ ہلاک ہو اور (جہنم میں) اوندھے منہ گرے، اگر اس کو کوئی کانٹا چبھ جائے تو کبھی نہ نکلے۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4136]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
دنیا کا لالچ مذموم ہے۔

(2)
جب محبت ونفرت کی بنیاد محض دنیوی مفاد پر ہوجائے تو خلوص باقی نہیں رہتا۔
اس صورت میں خلیفۃالمسلمین یا اس کے نائب سے بیعت بھی اللہ کی رضا کے لیے اور اسلامی سلطنت کی حفاظت اور خدمت کے لیے نہیں ہوتی۔
اس طرح یہ عظیم نیکی بھی تمام برکات سے محروم ہوکر برائی میں تبدیل ہوجاتی ہے۔

(3)
دینی جماعتوں اور تنظیموں سے تعلق اللہ کی رضا اور ثواب کے لیے ہونا چاہیے۔
اسی نیت سے عہدہ اور ذمہ داری قبول کی جائےاگر محسوس ہو کہ محنت کرنے کے باوجود جماعت میں اہلیت تسلیم نہیں کی جارہی تو اکابر سے ناراض ہوکر جماعت سے الگ نہ ہوجائے۔
ہاں اگر یہ محسوس کیا جائے کہ جماعت یا تنظیم کے عہدیدار صحیح انداز سے کام نہیں کررہے اور توجہ دلانے کے باوجود اصلاح پر آمادہ نہیں تو خاموشی کے ساتھ تنظیم سے الگ ہوجائے۔

(4)
درہم و دینار کے بندے سے مراد وہ شخص ہے جو دنیا کے مال ودولت کی اتنی خواہش رکھتا ہے کہ اس کی تمام سر گرمیوں کا محور حصول دولت بن کر رہ جاتا ہے۔
اس طرح وہ دولت سے خدمت لینے کی بجائے دولت جمع کرنے اور سنبھالنے میں مصروف رہتا ہے گویا دولت اس کا آقا یا معبود ہے اور وہ غلام یا پجاری۔

(5)
دولت کے پجاری کے لیے بد دعا کی گئی ہے کہ وہ تباہ ہوجائے۔
منہ کے بل گرنے اور سر کے بل اوندھا ہوجانے سے یہی مراد ہے۔
کانٹا نہ نکالےجانے سے مراد یہ ہے کہ وہ مشکلات میں پھنسا رہے اور اس کی مدد اور نجات کی کوئی صورت پیدا نہ ہو۔
واللہ اعلم۔
   سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث\صفحہ نمبر: 4136   
  الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 2375  
´درہم و دینار کے پجاری ملعون ہیں۔`
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دینار کا بندہ ملعون ہے، درہم کا بندہ ملعون ہے۔‏‏‏‏ [سنن ترمذي/كتاب الزهد/حدیث: 2375]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں حسن بصری مدلس ہیں،
اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ان کا سماع بھی نہیں ہے،
اور روایت عنعنہ سے ہے)

   سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث\صفحہ نمبر: 2375   

http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.