الحمدللہ ! قرآن پاک روٹ ورڈ سرچ اور مترادف الفاظ کی سہولت پیش کر دی گئی ہے۔

 
سنن ابن ماجه کل احادیث 4341 :حدیث نمبر
سنن ابن ماجه
کتاب: زکاۃ و صدقات کے احکام و مسائل
The Chapters on Charity
8. بَابُ : الْحَوَالَةِ
8. باب: حوالہ (یعنی قرض کو دوسرے کے ذمہ کر دینے) کا بیان ؎۔
حدیث نمبر: 2404
پی ڈی ایف بنائیں اعراب
(مرفوع) حدثنا إسماعيل بن توبة ، حدثنا هشيم ، عن يونس بن عبيد ، عن نافع ، عن ابن عمر ، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:" مطل الغني ظلم وإذا احلت على مليء فاتبعه".
(مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ تَوْبَةَ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَطْلُ الْغَنِيِّ ظُلْمٌ وَإِذَا أُحِلْتَ عَلَى مَلِيءٍ فَاتْبَعْهُ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مالدار کا ٹال مٹول کرنا ظلم ہے، اور جب تمہیں کسی مالدار کے حوالے کیا جائے تو اس کی حوالگی کو قبول کرو ۱؎۔

تخریج الحدیث: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 8535، ومصباح الزجاجة: 843)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/71) (صحیح)» ‏‏‏‏ (سند میں یونس بن عبید اور نافع کے مابین انقطاع ہے، لیکن سابقہ شاہد سے یہ صحیح ہے)

وضاحت:
۱؎: یعنی اگر آدمی مفلس ہو اور پیسہ پاس نہ ہو تو قرض ادا کرنے میں مجبوری ہے، لیکن پیسہ ہوتے ہوئے لوگوں کا قرض نہ دینا اس میں دیر لگانا گناہ ہے اور قرض خواہ پر ظلم ہے گویا اس کا حق مارنا گناہ ہے، اور اپنے نفس پر بھی ظلم ہے اس واسطے کہ زندگی کا اعتبار نہیں، شاید مر جائے اور قرض خواہ کا قرض رہ جائے، اس لئے جب پیسہ ہو تو فوراً قرض ادا کر دے۔

قال الشيخ الألباني: صحيح

قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

   جامع الترمذي1309عبد الله بن عمرمطل الغني ظلم وإذا أحلت على مليء فاتبعه ولا تبع بيعتين في بيعة
   سنن ابن ماجه2404عبد الله بن عمرمطل الغني ظلم وإذا أحلت على مليء فاتبعه

http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.