الحمدللہ! انگلش میں کتب الستہ سرچ کی سہولت کے ساتھ پیش کر دی گئی ہے۔

 
صحيح البخاري کل احادیث 7563 :حدیث نمبر
صحيح البخاري
کتاب: گواہوں کے متعلق مسائل کا بیان
The Book of Witnesses
18. بَابُ بُلُوغِ الصِّبْيَانِ وَشَهَادَتِهِمْ:
18. باب: بچوں کا بالغ ہونا اور ان کی شہادت کا بیان۔
(18) Chapter. The boys attaining the age of puberty and their validity of their witness.
حدیث نمبر: 2665
پی ڈی ایف بنائیں مکررات اعراب English
(مرفوع) حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا سفيان، حدثنا صفوان بن سليم، عن عطاء بن يسار، عن ابي سعيد الخدري رضي الله عنه، يبلغ به النبي صلى الله عليه وسلم، قال:" غسل يوم الجمعة واجب على كل محتلم".(مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ سُلَيْمٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" غُسْلُ يَوْمِ الْجُمُعَةِ وَاجِبٌ عَلَى كُلِّ مُحْتَلِمٍ".
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کا، انہوں نے کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے صفوان بن سلیم نے بیان کیا، ان سے عطاء بن یسار نے اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر بالغ پر جمعہ کے دن غسل واجب ہے۔

Narrated Abu Sa`id Al-Khudri: The Prophet said, "Bath on Friday is compulsory for those who have attained the age of puberty."
USC-MSA web (English) Reference: Volume 3, Book 48, Number 833


   صحيح البخاري879سعد بن مالكغسل يوم الجمعة واجب على كل محتلم
   صحيح البخاري880سعد بن مالكالغسل يوم الجمعة
   صحيح البخاري858سعد بن مالكالغسل يوم الجمعة
   صحيح البخاري895سعد بن مالكغسل يوم الجمعة واجب على كل محتلم
   صحيح البخاري2665سعد بن مالكغسل يوم الجمعة واجب على كل محتلم
   صحيح مسلم1960سعد بن مالكغسل يوم الجمعة على كل محتلم
   صحيح مسلم1957سعد بن مالكالغسل يوم الجمعة
   سنن أبي داود341سعد بن مالكغسل يوم الجمعة واجب على كل محتلم
   سنن أبي داود344سعد بن مالكالغسل يوم الجمعة
   سنن النسائى الصغرى1376سعد بن مالكالغسل يوم الجمعة
   سنن النسائى الصغرى1378سعد بن مالكغسل يوم الجمعة واجب على كل محتلم
   سنن النسائى الصغرى1384سعد بن مالكالغسل يوم الجمعة
   سنن ابن ماجه1089سعد بن مالكغسل يوم الجمعة واجب على كل محتلم
   بلوغ المرام100سعد بن مالكغسل يوم الجمعة واجب على كل محتلم
   موطا امام مالك رواية ابن القاسم213سعد بن مالكغسل يوم الجمعة واجب على كل محتلم
   المعجم الصغير للطبراني112سعد بن مالك بالغسل يوم الجمعة
   المعجم الصغير للطبراني151سعد بن مالك غسل الجمعة واجب على كل محتلم
   مسندالحميدي127سعد بن مالكرأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم أكثر ما ينصرف عن شماله
   مسندالحميدي753سعد بن مالكالغسل يوم الجمعة واجب على كل محتلم

تخریج الحدیث کے تحت حدیث کے فوائد و مسائل
  علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 100  
´جمعہ کے روز غسل کرنا`
«. . . وعن ابي سعيد الخدري رضي الله عنه: ان رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم قال: ‏‏‏‏غسل يوم الجمعة واجب على كل محتلم . . .»
. . . سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جمعہ کے روز غسل کرنا ہر بالغ پر واجب ہے . . . [بلوغ المرام/كتاب الطهارة: 100]

لغوی تشریح:
«مُـحْتَلِمٍ» بالغ کو کہتے ہیں۔

فائدہ:
یہ حدیث ان لوگوں کی دلیل ہے جو یوم جمعہ کے غسل کو واجب قرار دیتے ہیں کیونکہ اس میں واجب کا لفظ صراحتاً آیا ہے۔ لیکن جہاں تک جمہور کا تعلق ہے وہ اسے مسنون قرار دیتے ہیں اور اس میں وجوب کے حکم کو تاکید کے لیے سمجھتے ہیں۔
   بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث\صفحہ نمبر: 100   
  حافظ زبير على زئي رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث موطا امام مالك رواية ابن القاسم 213  
´جمعہ کی نماز کے لئے غسل کرنا مستحب ہے`
«. . . 271- مالك عن صفوان بن سليم عن عطاء بن يسار عن أبى سعيد الخدري أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: غسل يوم الجمعة واجب على كل محتلم. . . .»
. . . سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روايت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر بالغ پر غسل جمعہ واجب ہے . . . [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 213]

تخریج الحدیث: [وأخرجه البخاري 879، ومسلم 846، من حديث مالك به]
تفقه:
➊ راجح یہی ہے کہ غسلِ جمعہ سنت ہے جیسا کہ دوسرے دلائل سے ثابت ہے لہٰذا یہاں واجب کا لفظ اپنے وجوبی معنی میں نہیں ہے۔
➋ مزید تفصیل کے لئے دیکھئے: ح204
   موطا امام مالک روایۃ ابن القاسم شرح از زبیر علی زئی، حدیث\صفحہ نمبر: 271   
  الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 341  
´جمعہ کے دن غسل کرنے کا بیان۔`
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جمعہ کے دن کا غسل ہر بالغ (مسلمان) پر واجب ہے۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة /حدیث: 341]
341۔ اردو حاشیہ:
عورتیں بھی اس کی پابند ہیں، کسی بھی مسلمان بالغ مرد و عورت کو بغیر معقول عذر کے اس بارے میں غفلت نہیں کرنی چاہیے۔
   سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعدی، حدیث\صفحہ نمبر: 341   
  مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1089  
´جمعہ کے دن غسل کرنے کا بیان۔`
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جمعہ کے دن کا غسل ہر بالغ پر واجب ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1089]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
واجب سے مر اد افضل اور بہتر ہے کیونکہ دوسری احادیث سے غسل نہ کرنے کی اجازت ظاہر ہوتی ہے۔
جیسے کہ اگلے باب میں حدیثیں آرہی ہیں۔

(2)
جمعے کی ادایئگی بالغ مردوں پر فرض ہے۔
بچوں اور عورتوں پر نہیں۔

(3)
بچے اورعورتیں اگر جمعے کی نماز کی ادایئگی کےلئے آنا چاہیں تو ان کے لئے غسل کرنا ضروری نہیں۔
   سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث\صفحہ نمبر: 1089   
  مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 2665  
2665. حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے، وہ اس حدیث کو نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ہراحتلام والے(بالغ) پر جمعے کے دن غسل واجب ہے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:2665]
حدیث حاشیہ:
یہ اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ شرعی واجبات انسان پر اس کے بالغ ہونے ہی پر نافذ ہوتے ہیں۔
شہادت بھی ایک شرعی امر ہے۔
جس کے لیے بالغ ہونا ضروری ہے۔
بلوغت کی آخر حد پندرہ سال ہے۔
جیسا کہ پچھلی روایت میں مذکور ہوا۔
اس سے امام بخاری نے یہ بھی نکالا کہ احتلام ہونے سے مرد جوان ہوجاتا ہے گو اس کی عمر پندرہ سال کو نہ پہنچی ہو۔
   صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث\صفحہ نمبر: 2665   
  الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:2665  
2665. حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے، وہ اس حدیث کو نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ہراحتلام والے(بالغ) پر جمعے کے دن غسل واجب ہے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:2665]
حدیث حاشیہ:
(1)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ احتلام شروع ہونے سے بچہ بالغ ہو جاتا ہے، لہذا اس پر شرعی احکام واجب ہوں گے جیسا کہ مذکورہ حدیث میں جمعے کے دن غسل کا حکم بیان ہوا ہے۔
کیونکہ شرعی احکام انسان کے بالغ ہونے پر ہی نافذ ہوتے ہیں۔
(2)
گواہی دینا بھی ایک شرعی امر ہے جس کے لیے بالغ ہونا ضروری ہے۔
اس کی حد پندرہ سال کی عمر ہے جیسا کہ پہلی حدیث میں بیان ہوا ہے یا احتلام بالغ ہونے کی علامت ہے جیسا کہ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے۔
احتلام ہونے کی عمر میں مرد جوان ہو جاتا ہے اگرچہ اس کی عمر پندرہ برس نہ ہو۔
   هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث\صفحہ نمبر: 2665   

http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.