سنن ترمذي کل احادیث 3956 :حدیث نمبر
سنن ترمذي
کتاب: طہارت کے احکام و مسائل
The Book on Purification
22. بَابُ الْمَضْمَضَةِ وَالاِسْتِنْشَاقِ مِنْ كَفٍّ وَاحِدٍ
22. باب: ایک ہی چلو سے کلی کرنے اور ناک میں پانی چڑھانے کا بیان​۔
حدیث نمبر: 28
پی ڈی ایف بنائیں مکررات اعراب
(مرفوع) حدثنا يحيى بن موسى، حدثنا إبراهيم بن موسى الرازي، حدثنا خالد بن عبد الله، عن عمرو بن يحيى، عن ابيه، عن عبد الله بن زيد، قال: " رايت النبي صلى الله عليه وسلم مضمض واستنشق من كف واحد، فعل ذلك ثلاثا ". قال ابو عيسى: وفي الباب عن عبد الله بن عباس. قال ابو عيسى: وحديث عبد الله بن زيد حسن غريب، وقد روى مالك , وابن عيينة وغير واحد هذا الحديث، عن عمرو بن يحيى، ولم يذكروا هذا الحرف ان النبي صلى الله عليه وسلم مضمض واستنشق من كف واحد , وإنما ذكره خالد بن عبد الله، وخالد بن عبد الله ثقة حافظ عند اهل الحديث، وقال بعض اهل العلم: المضمضة والاستنشاق من كف واحد يجزئ , وقال بعضهم: تفريقهما احب إلينا، وقال الشافعي: إن جمعهما في كف واحد فهو جائز، وإن فرقهما فهو احب إلينا.(مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ: " رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ مِنْ كَفٍّ وَاحِدٍ، فَعَلَ ذَلِكَ ثَلَاثًا ". قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَاب عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ. قال أبو عيسى: وَحَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَقَدْ رَوَى مَالِكٌ , وَابْنُ عُيَيْنَةَ وَغَيْرُ وَاحِدٍ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى، وَلَمْ يَذْكُرُوا هَذَا الْحَرْفَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ مِنْ كَفٍّ وَاحِدٍ , وَإِنَّمَا ذَكَرَهُ خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، وَخَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ثِقَةٌ حَافِظٌ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ، وقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ: الْمَضْمَضَةُ وَالِاسْتِنْشَاقُ مِنْ كَفٍّ وَاحِدٍ يُجْزِئُ , وقَالَ بَعْضُهُمْ: تَفْرِيقُهُمَا أَحَبُّ إِلَيْنَا، وقَالَ الشَّافِعِيُّ: إِنْ جَمَعَهُمَا فِي كَفٍّ وَاحِدٍ فَهُوَ جَائِزٌ، وَإِنْ فَرَّقَهُمَا فَهُوَ أَحَبُّ إِلَيْنَا.
عبداللہ بن زید رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے ایک ہی چلو سے کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا، تین بار آپ نے ایسا کیا ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- اس باب میں عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے،
۲- عبداللہ بن زید رضی الله عنہما کی یہ حدیث حسن غریب ہے،
۳- مالک، سفیان، ابن عیینہ اور دیگر کئی لوگوں نے یہ حدیث عمرو بن یحییٰ سے روایت کی ہے۔ لیکن ان لوگوں نے یہ بات ذکر نہیں کی کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے ایک ہی چلو سے کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا، اسے صرف خالد ہی نے ذکر کیا ہے اور خالد محدثین کے نزدیک ثقہ اور حافظ ہیں۔ بعض اہل علم نے کہا ہے کہ ایک ہی چلو سے کلی کرنا اور ناک میں پانی ڈالنا کافی ہو گا، اور بعض نے کہا ہے کہ دونوں کے لیے الگ الگ پانی لینا ہمیں زیادہ پسند ہے، شافعی کہتے ہیں کہ اگر ان دونوں کو ایک ہی چلو میں جمع کرے تو جائز ہے لیکن اگر الگ الگ چلّو سے کرے تو یہ ہمیں زیادہ پسند ہے ۲؎۔

تخریج الحدیث: «صحیح البخاری/الوضوء 38 (185)، و39 (186)، و41 (191)، و42 (192)، و45 (197)، صحیح مسلم/الطہارة 7 (235)، سنن ابی داود/ الطہارة 50 (118)، سنن النسائی/الطہارة 80-82 (97، 98، 99)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 51 (434) (نحوہ) و 61 (471) (مختصرا) (تحفة الأشراف: 5308) موطا امام مالک/الطہارة 1 (1)، مسند احمد (4/38، 39)، سنن الدارمی/ الطہارة 28 (721) (صحیح)»

وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ایک ہی چلو سے کلی کرنے اور ناک میں پانی چڑھانا افضل ہے دونوں کے لیے الگ الگ پانی لینے کی بھی احادیث آئی ہیں لیکن ایک چلو سے دونوں میں پانی ڈالنے کی احادیث زیادہ اور صحیح ترین ہیں، دونوں صورتیں جائز ہیں، لیکن ایک چلو سے دونوں میں پانی ڈالنا زیادہ اچھا ہے، علامہ محمد بن اسماعیل الأمیرالیمانی سبل السلام میں فرماتے ہیں: اقرب یہ ہے کہ دونوں صورتوں میں اختیار ہے اور ہر ایک سنت ہے، گرچہ دونوں کو ایک کلی میں جمع کرنے کی روایات زیادہ ہیں اور صحیح تر ہیں، واضح رہے کہ اختلاف زیادہ بہتر ہونے میں ہے جائز اور ناجائز کی بات نہیں ہے۔
۲؎: امام شافعی سے اس سلسلہ میں دو قول مروی ہیں ایک تو یہی جسے امام ترمذی نے یہاں نقل کیا ہے اور دوسرا ایک ہی چلو میں دونوں کو جمع کرنے کا اور یہ ان کا مشہور قول ہے۔

قال الشيخ الألباني: صحيح، صحيح أبي داود (110)

   صحيح البخاري186عبد الله بن زيدأكفأ على يده من التور فغسل يديه ثلاثا ثم أدخل يده في التور فمضمض واستنشق واستنثر ثلاث غرفات ثم أدخل يده فغسل وجهه ثلاثا ثم أدخل يده فغسل يديه مرتين إلى المرفقين مرتين ثم أدخل يده فمسح رأسه فأقبل بهما وأدبر مرة واحدة ثم غسل رجليه إلى الكعبين
   صحيح البخاري197عبد الله بن زيدتوضأ فغسل وجهه ثلاثا ويديه مرتين مرتين ومسح برأسه فأقبل به وأدبر وغسل رجليه
   صحيح البخاري185عبد الله بن زيدأفرغ على يده فغسل مرتين ثم مضمض واستنثر ثلاثا ثم غسل وجهه ثلاثا ثم غسل يديه مرتين مرتين إلى المرفقين ثم مسح رأسه بيديه فأقبل بهما وأدبر بدأ بمقدم رأسه حتى ذهب بهما إلى قفاه ثم ردهما إلى المكان الذي بدأ منه ثم غسل رجليه
   صحيح البخاري192عبد الله بن زيدغسلهما ثلاثا ثم أدخل يده في الإناء فمضمض واستنشق واستنثر ثلاثا بثلاث غرفات من ماء ثم أدخل يده في الإناء فغسل وجهه ثلاثا ثم أدخل يده في الإناء فغسل يديه إلى المرفقين مرتين مرتين ثم أدخل يده في الإناء فمسح برأسه فأقبل بيديه وأدبر بهما ثم أدخل
   صحيح البخاري191عبد الله بن زيدأفرغ من الإناء على يديه فغسلهما ثم غسل أو مضمض واستنشق من كفة واحدة ففعل ذلك ثلاثا فغسل يديه إلى المرفقين مرتين مرتين ومسح برأسه ما أقبل وما أدبر وغسل رجليه إلى الكعبين
   صحيح البخاري158عبد الله بن زيدتوضأ مرتين مرتين
   صحيح البخاري199عبد الله بن زيدكفأ على يديه فغسلهما ثلاث مرار ثم أدخل يده في التور فمضمض واستنثر ثلاث مرات من غرفة واحدة ثم أدخل يده فاغترف بها فغسل وجهه ثلاث مرات ثم غسل يديه إلى المرفقين مرتين مرتين ثم أخذ بيده ماء فمسح رأسه فأدبر بيديه وأقبل ثم غسل رجليه فقال هكذا
   صحيح مسلم555عبد الله بن زيدتوضأ لنا وضوء رسول الله فدعا بإناء فأكفأ منها على يديه فغسلهما ثلاثا ثم أدخل يده فاستخرجها فمضمض واستنشق من كف واحدة ففعل ذلك ثلاثا ثم أدخل يده فاستخرجها فغسل وجهه ثلاثا ثم أدخل يده فاستخرجها فغسل يديه إلى المرفقين مرتين مرتين
   صحيح مسلم559عبد الله بن زيدتوضأ فمضمض ثم استنثر ثم غسل وجهه ثلاثا ويده اليمنى ثلاثا والأخرى ثلاثا ومسح برأسه بماء غير فضل يده وغسل رجليه حتى أنقاهما
   جامع الترمذي47عبد الله بن زيدتوضأ فغسل وجهه ثلاثا وغسل يديه مرتين مرتين ومسح برأسه وغسل رجليه مرتين
   جامع الترمذي28عبد الله بن زيدمضمض واستنشق من كف واحد فعل ذلك ثلاثا
   جامع الترمذي32عبد الله بن زيدمسح رأسه بيديه فأقبل بهما وأدبر بدأ بمقدم رأسه ثم ذهب بهما إلى قفاه ثم ردهما حتى رجع إلى المكان الذي بدأ منه ثم غسل رجليه
   جامع الترمذي35عبد الله بن زيدتوضأ وأنه مسح رأسه بماء غير فضل يديه
   سنن أبي داود120عبد الله بن زيدمسح رأسه بماء غير فضل يديه وغسل رجليه حتى أنقاهما
   سنن أبي داود118عبد الله بن زيددعا بوضوء فأفرغ على يديه فغسل يديه ثم تمضمض واستنثر ثلاثا ثم غسل وجهه ثلاثا ثم غسل يديه مرتين مرتين إلى المرفقين ثم مسح رأسه بيديه فأقبل بهما وأدبر بدأ بمقدم رأسه ثم ذهب بهما إلى قفاه ثم ردهما حتى رجع إلى المكان الذي بدأ منه ثم غسل رجليه
   سنن النسائى الصغرى97عبد الله بن زيددعا بوضوء فأفرغ على يديه فغسل يديه مرتين مرتين ثم تمضمض واستنشق ثلاثا ثم غسل وجهه ثلاثا ثم غسل يديه مرتين مرتين إلى المرفقين ثم مسح رأسه بيديه فأقبل بهما وأدبر بدأ بمقدم رأسه ثم ذهب بهما إلى قفاه ثم ردهما حتى رجع إلى المكان الذي بدأ منه ثم غسل رجليه
   سنن النسائى الصغرى98عبد الله بن زيددعا بوضوء فأفرغ على يده اليمنى فغسل يديه مرتين ثم مضمض واستنشق ثلاثا ثم غسل وجهه ثلاثا ثم غسل يديه مرتين مرتين إلى المرفقين ثم مسح رأسه بيديه فأقبل بهما وأدبر بدأ بمقدم رأسه ثم ذهب بهما إلى قفاه ثم ردهما حتى رجع إلى المكان الذي بدأ منه ثم غسل رجليه
   سنن النسائى الصغرى99عبد الله بن زيدتوضأ فغسل وجهه ثلاثا ويديه مرتين وغسل رجليه مرتين ومسح برأسه مرتين
   سنن ابن ماجه434عبد الله بن زيددعا بوضوء فأفرغ على يديه فغسل يديه مرتين ثم تمضمض واستنثر ثلاثا ثم غسل وجهه ثلاثا ثم غسل يديه مرتين مرتين إلى المرفقين ثم مسح رأسه بيديه فأقبل بهما وأدبر بدأ بمقدم رأسه ثم ذهب بهما إلى قفاه ثم ردهما حتى رجع إلى المكان الذي بدأ منه ثم غسل رجليه
   سنن ابن ماجه443عبد الله بن زيدالأذنان من الرأس
   سنن ابن ماجه405عبد الله بن زيدمضمض واستنشق من كف واحد
   بلوغ المرام32عبد الله بن زيدومسح رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم براسه فاقبل بيديه وادبر
   بلوغ المرام39عبد الله بن زيدياخذ لاذنيه ماء غير الماء الذي اخذه لراسه ... ومسح براسه بماء غير فضل يديه
   بلوغ المرام49عبد الله بن زيديده فمضمض واستنشق من كف واحد،‏‏‏‏ يفعل ذلك ثلاثا
   موطا امام مالك رواية ابن القاسم58عبد الله بن زيدفدعا بوضوء فافرغ على يديه فغسل يديه مرتين، ثم مضمض واستنثر ثلاثا
   سنن أبي داود119عبد الله بن زيدفمضمض واستنشق من كف واحدة يفعل ذلك ثلاثا
   مسندالحميدي421عبد الله بن زيد

تخریج الحدیث کے تحت حدیث کے فوائد و مسائل
  علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 32  
´مسح کا آغاز سر کے اگلے حصے سے کرنا`
«. . . ومسح رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم برأسه فأقبل بيديه وأدبر . . .»
. . . رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سر کا مسح اس طرح کیا کہ دونوں ہاتھ سر کے آگے سے پیچھے کی طرف لے گئے اور پھر پیچھے سے آگے کی جانب واپس لے آئے . . . [بلوغ المرام/كتاب الطهارة: 32]

لغوی تشریح:
«أَقْبَلَ بِيَدَيٰهِ وَأَدٰبَرَ» یعنی مسح دونوں ہاتھوں سے سر کے اگلے حصے سے شروع کیا اور پھر سر کے آخری حصے، یعنی پچھلے حصے تک کیا۔ اس کی وضاحت دوسری روایت میں مذکور جملہ: «بَدَأَ بِمُقَدَّمِ رَأْسِهِ» کر رہا ہے۔
«قَفَا» سر کے آخری حصے کو کہتے ہیں جو گردن کے پچھلے حصے کے ساتھ ملحق ہے، یعنی گُدّی۔
«رَجَعَ» «رَجُعٌ» سے ماخوذ ہے اور یہاں متعدی استعمال ہوا ہے۔

فائدہ:
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ مسح کا آغاز سر کے اگلے حصے سے کرنا چاہئیے۔ ائمہ اربعہ کے علاوہ اسحاق بن راہویہ کی بھی یہی رائے ہے۔ لیکن ترمذی میں منقول ایک روایت (جسے امام ترمذی نے حسن کہا ہے) سے معلوم ہوتا ہے کہ سر کے مسح کا آغاز پچھلے حصے سے کرنا بھی جائز ہے۔ اس بنا پر بعض اہل کوفہ کا یہی مذہب ہے۔ وکیع بن جراح بھی انہی لوگوں میں سے ہیں۔ مگر یہ روایت حسن نہیں، اس کا راوی عبداللہ بن محمد بن عقیل «متكلم فيه» ہے۔ محدثین کی ایک جماعت نے اس پر حافظے کی وجہ سے جرح کی ہے، لہٰذا مسح کا پہلا طریقہ ہی صحیح ہے۔

راوی حدیث:
SR سیدنا عبداللہ بن زید بن عاصم رضی اللہ عنہ ER آپ انصاری تھے، انصار کے قبیلہ بنی مازن بن نجار کے فرد تھے، اس لیے مازنی کہلائے۔ غزوہ احد میں شریک ہوئے۔ جنگ یمامہ میں وحشی کے ساتھ مل کر مدعی نبوت مسیلمہ کذاب کو قتل کیا۔ 63 ہجری میں معرکہ حرہ کے روز شہادت کے اعلیٰ مرتبے پر فائز ہوئے۔ یہ عبداللہ بن زید وہ نہیں ہیں جنہوں نے خواب میں اذان سنی تھی بلکہ یہ عبداللہ بن زید بن عاصم ہیں اور وہ عبداللہ بن زید بن عبدربہ تھے۔ دونوں کے دادا الگ الگ تھے۔ ابن عبدربہ کا ذکر باب الأذان میں آئے گا۔ «إن شاء الله»
   بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث\صفحہ نمبر: 32   
  علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 39  
´کانوں کے مسح کے لیے نیا پانی لینا`
«. . . انه راى النبي صلى الله عليه وآله وسلم ياخذ لاذنيه ماء غير الماء الذي اخذه لراسه . . .»
. . . آپ صلی اللہ علیہ وسلم جو پانی سر کے مسح کے لئے لیتے تھے، کانوں کے مسح کے لئے اس سے الگ لیتے تھے . . . [بلوغ المرام/كتاب الطهارة: 39]

لغوی تشریح:
«وَهُوَ عِنْدَ مُسْلِمٍ» سے مراد ہے کہ یہ الفاظ مسلم کے ہیں، ملاحظہ ہو: [صحيح مسلم، الطهارة، باب آخر فى صفة الوضوء، حديث: 236]
«مِنْ هٰذَا الْوَجْهِ» کہنے کا مطلب یہ ہے کہ جس سند سے بیہقی نے اس کو بیان کیا ہے مسلم میں بھی اسی سند سے بیان ہوئی ہے۔
«بِمَاءٍ» ہمزہ تنوین کے ساتھ مجرور ہے۔ گرامر کے اعتبار سے موصوف واقع ہو رہا ہے اور «غَيْرِ فَضْلِ يَدَيْهِ» اس کی صفت ہے۔ اور «فَضْل» کے معنی ضرورت سے زائد چیز کے ہیں، یعنی ضرورت پوری کرنے کے بعد جو کچھ باقی بچ جائے۔ پورے جملے کے معنی یہ ہوئے کہ دونوں ہاتھوں کو دھونے کے بعد جو پانی کی تری ہاتھوں کے ساتھ لگی رہی اس سے سر کا مسح نہیں کیا بلکہ مسح کے لیے نیا پانی لیا۔
«وَهُوَ الْمَحْفُوْظُ» سے مراد یہ ہے کہ مسلم نے جس سیاق اور جن الفاظ سے روایت بیان کی ہے وہ محفوظ ہے۔ اس میں کسی قسم کا کلام نہیں اور بیہقی کے الفاظ اس پر دلالت کرتے ہیں کہ کانوں کے مسح کے لیے نیا پانی لینا مشروع ہے، مگر مصنف نے اس کے غیر محفوظ ہونے کی جانب اشارہ کیا ہے۔
↰ علامہ ابن قیم رحمہ اللہ نے زاد المعاد میں پورے یقین اور وثوق کے ساتھ کہا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے کانوں کے لیے نیا پانی لینا ثابت نہیں، البتہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کے اپنے عمل سے ثابت ہے۔
↰ امام عبدالرحمٰن مبارک پوری رحمہ اللہ نے تحفة الأحوذی [1/ 49] میں کہا ہے کہ میں کسی مرفوع صحیح حدیث، جس پر کلام نہ ہو، سے واقف نہیں ہو سکا جس میں یہ بیان ہو کہ آپ نے کانوں کے لیے نیا پانی لیا۔ ہاں، ابن عمر رضی اللہ عنہما کے اپنے فعل سے یہ ثابت ہے۔
↰ امام مالک رحمہ اللہ نے موطا میں نافع کے حوالے سے روایت کیا ہے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اپنی دونوں انگلیوں سے اپنے کانوں کے لیے نیا پانی لیتے تھے۔ «والله اعلم»

فوائد و مسائل:
امام شافعی رحمہ اللہ وغیرہ کی یہی رائے ہےکہ کانوں کے مسح کے لیے نیا پانی لینا چاہئیے۔ مگر امام ابوحنیفہ اور سفیان ثوری رحمہ اللہ کی رائے یہ ہے کہ جب کان سر کے ساتھ شامل ہیں تو پھر سر کے مسح کا پانی ہی کانوں کے لیے کافی ہے۔
بکثرت احادیث صحیحہ اسی رائے کی تائید کرتی ہیں۔ بیہقی، ابن خزیمہ اور ابن حبان میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے صراحتاً مروی ہے: «فَمَسَحَ بِرَأْسِهِ وِأُذُنَيْهِ» کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی لیا تو اس سے سر اور دونوں کانوں کا مسح کیا۔ [السنن الكبري للبيهقي الطهاره باب غسل اليدين و ابن خزيمة حديث 148 و ابن حبان حديچ 1086 واللفظ له] «و الله اعلم بالصواب»
   بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث\صفحہ نمبر: 39   
  علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 49  
´ایک ہی چلو پانی، منہ اور ناک دونوں کے لئے استعمال`
«. . . في صفة الوضوء او وضوئه صلى الله عليه وآله وسلم-: ثم ادخل صلى الله عليه وآله وسلم يده فمضمض واستنشق من كف واحد،‏‏‏‏ يفعل ذلك ثلاثا . . .»
. . . نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ پانی میں ڈالا، پھر کلی کی اور ناک میں پانی چڑھایا، ایک ہی چلو سے، ایسا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ کیا . . . [بلوغ المرام/كتاب الطهارة: 49]

لغوی تشریح:
«مِنْ كَفٍّ وَاحِدٍ» «کف» مذکر اور مؤنث دونوں طرح استعمال ہوتا ہے۔ چلو بھر پانی مراد ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کلی کرنے کے لیے تھوڑا سا پانی منہ میں ڈالا اور باقی ناک صاف کرنے کے لیے ناک میں چڑھایا۔

فوائد ومسائل:
➊ دونوں احادیث کلی اور ناک میں پانی چڑھانے کے لیے ایک ہی چلو کے کفایت کرنے پر دلالت کرتی ہیں۔
➋ طلحہ بن مصرف کی حدیث علیحدگی اور تفریق کی مقتضی ہے، لیکن وہ مصرف کے مجہول الحال ہونے اور ضعیف راوی لیث بن ابی سلیم کی بنا پر ضعیف ہے۔
➌ صاحب السبل نے کہا ہے کہ دونوں طرح کی روایات کے بارے میں اقرب الی الصواب بات یہ ہے کہ دونوں میں سے جس پر چاہے عمل کر لے۔ دونوں طرح سنت ہے اگرچہ جمع کرنے کی روایات تعداد میں زیادہ ہیں اور صحیح بھی ہیں تاہم جب تفریق والی روایات ضعیف ہیں تو انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ جو روایات صحیح اور متعدد ہیں ان پر عمل کیا جائے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
   بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث\صفحہ نمبر: 49   
  حافظ زبير على زئي رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث موطا امام مالك رواية ابن القاسم 58  
´طریقہ وضو`
«. . . 401- وبه: عن عمرو بن يحيى عن أبيه أنه قال لعبد الله بن زيد بن عاصم وكان من أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو جد عمرو بن يحيى: هل تستطيع أن تريني كيف كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يتوضأ؟ فقال عبد الله بن زيد: نعم، فدعا بوضوء فأفرغ على يديه فغسل يديه مرتين، ثم مضمض واستنثر ثلاثا، ثم غسل وجهه ثلاثا، ثم غسل ذراعيه مرتين، مرتين إلى المرفقين، ثم مسح رأسه بيديه فأقبل بهما وأدبر، بدأ بمقدم رأسه ثم ذهب بهما إلى قفاه، ثم ردهما حتى رجع إلى المكان الذى بدأ منه، ثم غسل رجليه. . . .»
. . . یحییٰ بن عمارہ المازنی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنے نانا عبداللہ بن زید بن عاصم سے پوچھا: جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی تھے: کیا آپ مجھے دکھا سکتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح وضو کرتے تھے؟ تو سیدنا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جی ہاں، پھر انہوں نے وضو کا پانی منگوایا تو اپنے ہاتھوں پر ڈال کر انہیں دو دفعہ دھویا، پھر تین دفعہ کلی کی اور ناک میں پانی ڈال کر جھاڑا، پھر اپنا چہرہ تین دفعہ دھویا پھر اپنے دونوں ہاتھ کہنیوں سمیت دو دفعہ دھوئے پھر اپنے دونوں ہاتھوں کے ساتھ سر کا مسح کیا آگے سے پیچھے لے گئے اور پیچھے سے آگے لائے، آپ نے سر کا مسح ابتدائی حصے سے شروع کیا پھر اسے گدی تک لے گئے پھر وہاں سے اس مقام تک واپس لائے جہاں سے شروع کیا تھا پھر اپنے دونوں پاؤں دھوئے۔ . . . [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 58]

تخریج الحدیث:
[وأخرجه البخاري 185، و مسلم 235، من حديث مالك به]

تفقه:
➊ اس حدیث میں وضو کا طریقہ تفصیل سے مذکور ہے لیکن بعض امور کا ذکر نہیں مثلاً سر کے مسح کے بعد کانوں کا مسح کرنا چاہئے۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ جب وضو کرتے تو شہادت والی دونوں انگلیاں اپنے کانوں میں ڈالتے (اور ان کے ساتھ دونوں کانوں کے) اندرونی حصوں کا مسح کرتے اور انگوٹھوں کے ساتھ باہر والے حصے پر مسح کرتے تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه 1/18 ح173، وسنده صحيح]
◄ یاد رہے کہ سر اور کانوں کے مسح کے بعد اُلٹے ہاتھوں کے ساتھ گردن کے مسح کا کوئی ثبوت کسی حدیث میں نہیں ہے۔
➋ اعضائے وضو کو دو دو دفعہ دھونا اور ایک ایک دفعہ دھونا بھی جائز ہے۔ دیکھئے [صحيح بخاري 157، 158] بعض اعضاء کو دو دفعہ اور بعض کو تین دفعہ دھونا بھی جائز ہے۔ دیکھئے [صحيح بخاري 186]
➌ بہتر یہ ہے کہ درج بالا حدیث کی روشنی میں ایک ہی چلو سے منہ اور ناک میں پانی ڈالا جائے اور اگر منہ میں علیحدہ اور ناک میں علیحدہ چلو سے پانی ڈالا جائے تو بھی جائز ہے۔ دیکھئے [التاريخ الكبير لابن ابي خيثمه ص588 ح1410، وسنده حسن]
➍ وضو میں ہاتھ پاؤں کی انگلیوں کا خلال کرنا بھی ثابت ہے۔ دیکھئے [سنن ابي داود 142، وسنده حسن]
➎ مزید تفصیل کے لئے دیکھئے میری کتاب [مختصر صحيح نمازِ نبوي ص5 8]
➏ وضو میں داڑھی کا خلال کرنا بھی ثابت ہے۔ دیکھئے: [سنن الترمذي 31 وقال: هذا حديث صحيح و سنده حسن]
   موطا امام مالک روایۃ ابن القاسم شرح از زبیر علی زئی، حدیث\صفحہ نمبر: 401   
  الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 118  
´خیرالقرون میں لوگ دین کی باتوں کو اہتمام سے سیکھتے اور سکھاتے تھے`
«. . . عَمْرِو بْنِ يَحْيَى الْمَازِنِيِّ: هَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تُرِيَنِي كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ؟ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ: نَعَمْ،" فَدَعَا بِوَضُوءٍ، فَأَفْرَغَ عَلَى يَدَيْهِ فَغَسَلَ يَدَيْهِ، ثُمَّ تَمَضْمَضَ وَاسْتَنْثَرَ ثَلَاثًاى . . .»
. . . یحییٰ مازنی کہتے ہیں کہ انہوں نے عبداللہ بن زید بن عاصم (جو عمرو بن یحییٰ مازنی کے نانا ہیں) سے کہا: کیا آپ مجھے دکھا سکتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح وضو فرماتے تھے؟ تو عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ نے کہا: ہاں، پس آپ نے وضو کے لیے پانی منگایا، اور اپنے دونوں ہاتھوں پر ڈالا اور اپنے دونوں ہاتھ دھوئے، پھر تین بار کلی کی . . . [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ: 118]
فوائد و مسائل:
➊ خیرالقرون میں لوگ دین کی باتوں کو اہتمام سے سیکھتے اور سکھاتے تھے۔
➋ کچھ اعضائے وضو کو تین بار اور کچھ کو دو بار دھونا بھی جائز ہے۔
➌ مسح کا آسان مسنون طریقہ قابل توجہ ہے، صرف اگلے حصے کا مسح یا چند بالوں کو چھو لینا کافی نہیں۔ بلکہ دونوں ہاتھوں کو سر کے اگلے حصے سے شروع کر کے پچھلے حصے گدی تک اور پھر گدی سے سر کے اگلے حصے تک واپس لے آنا چاہیے، جہاں سے شروع کیا تھا۔ حافظ ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ گدی کے نیچے گردن کے الگ مسح کے بارے میں قطعاً کوئی صحیح حدیث نہیں ہے۔ گردن کے مسح کی روایت کے متعلق امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: گردن کے مسح کی حدیث بالاتفاق ضعیف ہے۔
   سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعدی، حدیث\صفحہ نمبر: 118   
  الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 119  
´کلی اور ناک دونوں کے لیے ایک چلو پانی لیا جائے`
«. . . عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَاصِمٍ بِهَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ: فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ مِنْ كَفٍّ وَاحِدَةٍ يَفْعَلُ ذَلِكَ ثَلَاثًا، ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَهُ . . .»
. . . اس سند سے بھی عبداللہ بن زید بن عاصم رضی اللہ عنہ سے یہی حدیث مروی ہے، اس میں ہے کہ انہوں نے ایک ہی چلو سے کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا تین بار ایسا ہی کیا، پھر انہوں نے اسی طرح ذکر کیا . . . [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ: 119]
فوائد و مسائل:
مسنون اور مستحب یہ ہے کہ کلی اور ناک دونوں کے لیے ایک چلو پانی لیا جائے، اس طرح کہ چلو کا آدھا پانی کلی کے لیے کھینچ لے اور آدھا ناک میں چڑھا دے۔ جیسا کہ صحیح احادیث سے ثابت ہے۔
   سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعدی، حدیث\صفحہ نمبر: 119   
  الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 120  
´سر کے مسح کے لیے نیا پانی لینا`
«. . . سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ زَيْدِ بْنِ عَاصِمٍ الْمَازِنِيَّ يَذْكُرُ:" أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ وُضُوءَهُ، وَقَالَ: وَمَسَحَ رَأْسَهُ بِمَاءٍ غَيْرِ فَضْلِ يَدَيْهِ، وَغَسَلَ رِجْلَيْهِ حَتَّى أَنْقَاهُمَا . . .»
. . . عبداللہ بن زید بن عاصم ذکر کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو (وضو کرتے ہوئے) دیکھا، پھر آپ کے وضو کا ذکر کیا اور کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سر کا مسح اپنے ہاتھ کے بچے ہوئے پانی کے علاوہ نئے پانی سے کیا اور اپنے دونوں پاؤں دھوئے یہاں تک کہ انہیں صاف کیا . . . [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ: 120]
فوائد و مسائل:
➊ سر کے مسح کے لیے نیا پانی لینا چاہیے۔
➋ اعضائے وضو کو مل کر دھونا اور صاف کرنا چاہیے۔
   سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعدی، حدیث\صفحہ نمبر: 120   
  حافظ عمران ايوب لاهوري حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري 186  
´اس بارے میں کہ ٹخنوں تک پاؤں دھونا ضروری ہے `
«. . . عَمْرَو بْنَ أَبِي حَسَنٍ سَأَلَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ وُضُوءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَدَعَا بِتَوْرٍ مِنْ مَاءٍ، فَتَوَضَّأَ لَهُمْ وُضُوءَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " فَأَكْفَأَ عَلَى يَدِهِ مِنَ التَّوْرِ فَغَسَلَ يَدَيْهِ ثَلَاثًا، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فِي التَّوْرِ فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ وَاسْتَنْثَرَ ثَلَاثَ غَرَفَاتٍ، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فَغَسَلَ يَدَيْهِ مَرَّتَيْنِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ مَرَّتَيْنِ، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فَمَسَحَ رَأْسَهُ فَأَقْبَلَ بِهِمَا وَأَدْبَرَ مَرَّةً وَاحِدَةً، ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ إِلَى الْكَعْبَيْنِ " . . . .»
. . . عمرو بن ابی حسن نے عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے پانی کا طشت منگوایا اور ان (پوچھنے والوں) کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سا وضو کیا۔ (پہلے طشت سے) اپنے ہاتھوں پر پانی گرایا۔ پھر تین بار ہاتھ دھوئے، پھر اپنا ہاتھ طشت میں ڈالا (اور پانی لیا) پھر کلی کی، ناک میں پانی ڈالا، ناک صاف کی، تین چلوؤں سے، پھر اپنا ہاتھ طشت میں ڈالا اور تین مرتبہ منہ دھویا۔ پھر اپنے دونوں ہاتھ کہنیوں تک دو بار دھوئے۔ پھر اپنا ہاتھ طشت میں ڈالا اور سر کا مسح کیا۔ (پہلے) آگے لائے پھر پیچھے لے گئے، ایک بار۔ پھر ٹخنوں تک اپنے دونوں پاؤں دھوئے . . . [صحيح البخاري/كِتَاب الْوُضُوءِ/بَابُ غَسْلِ الرِّجْلَيْنِ إِلَى الْكَعْبَيْنِ: 186]

تخريج الحديث:
[136۔ البخاري فى: 4 كتاب الوضوء: 39 باب غسل الرجلين إلى الكعبين 186، مسلم 235 أبوداود 100]
لغوی توضیح:
«تَوْر» برتن یا پیالہ یا ہنڈیا جیسی کوئی چیز۔
«اسْتَنْثِرْ» ناک جھاڑا۔
   جواہر الایمان شرح الولووالمرجان، حدیث\صفحہ نمبر: 136   
  فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 97  
´اعضائے وضو دھونے کی حد کا بیان۔`
عمرو بن یحییٰ المازنی کے والد روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے عبداللہ بن زید بن عاصم رضی اللہ عنہ سے پوچھا- وہ ۱؎ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ہیں اور (عمرو بن یحییٰ کے دادا ہیں) کہ کیا آپ مجھے دکھا سکتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیسے وضو کرتے تھے؟ تو عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ نے کہا: ہاں، پھر انہوں نے پانی منگایا، اور اسے اپنے دونوں ہاتھوں پر انڈیلا، انہیں دو دو بار دھویا، پھر تین بار کلی کی، اور تین بار ناک میں پانی ڈالا، پھر تین بار اپنا چہرہ دھویا، پھر اپنے دونوں ہاتھ دو دو مرتبہ کہنیوں تک دھوئے، پھر اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنے سر کا مسح کیا تو انہیں آگے لائے اور پیچھے لے گئے، اپنے سر کے اگلے حصہ سے (مسح) شروع کیا پھر انہیں اپنی گدی تک لے گئے، پھر جس جگہ سے شروع کیا تھا وہیں انہیں لوٹا لائے، پھر اپنے دونوں پاؤں دھوئے۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 97]
97۔ اردو حاشیہ: اس حدیث سے پتا چلا کہ اگرچہ أقبل و أدبر کا مفہوم مشترک ہے، یعنی أقبل سے مراد پیچھے سے آگے کی طرف آنا اور أدبر کا مفہوم سر کے اگلے حصے سے پیچھے گدی کی طرف ہاتھوں کو لے جانا ہے۔ لیکن حدیث میں موجود تفصیل «بَدَأَ بِمُقَدَّمِ رَأْسِهِ» سے دوسرے مفہوم کی تائید ہوتی ہے، یعنی یہاں (أقبل) سے مراد سر کے اگلے حصے سے گدی کی طرف دونوں ہاتھوں کا لے جانا ہے اور «أدبر» سے مراد پیچھے سے ہاتھوں کو اگلی جانب لانا ہے۔ نبیٔ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سر کے مسح کا عمومی طریقہ یہی تھا۔ واللہ أعلم۔
   سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث\صفحہ نمبر: 97   
  فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 98  
´سر کے مسح کا طریقہ۔`
یحییٰ سے روایت ہے کہ انہوں نے (ان کے باپ عمارہ نے) عبداللہ بن زید بن عاصم رضی اللہ عنہ سے کہا - (وہ عمرو بن یحییٰ کے دادا ہیں) کیا آپ مجھے دکھا سکتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیسے وضو کرتے تھے؟ عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ نے کہا: جی ہاں! چنانچہ انہوں نے پانی منگایا، اور اپنے دائیں ہاتھ پر انڈیل کر اپنے دونوں ہاتھ دو دو بار دھوئے، پھر تین بار کلی کی، اور ناک میں پانی ڈالا، پھر اپنا چہرہ تین بار دھویا، پھر اپنے دونوں ہاتھ دو دو مرتبہ کہنیوں تک دھوئے، پھر اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنے سر کا مسح کیا، ان کو آگے لائے اور پیچھے لے گئے، اپنے سر کے اگلے حصہ سے (مسح) شروع کیا، پھر انہیں اپنی گدی تک لے گئے، پھر انہیں واپس لے آئے یہاں تک کہ اسی جگہ لوٹا لائے جہاں سے شروع کیا تھا، پھر اپنے دونوں پاؤں دھوئے۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 98]
98۔ اردو حاشیہ: اس حدیث میں سر کے مسح کا تفصیلی ذکر ہے کہ پورے سر کا مسح کیا جائے گا۔ آپ کے وضو کی حدیث میں پورے سر کے مسح ہی کا ذکر ہے، اسی لیے امام مالک رحمہ اللہ نے پورے سر کا مسح فرض قرار دیا ہے اور یہی صحیح ہے۔ احناف نے چوتھائی سر (کسی بھی جانب) کے مسح کو کافی کہا ہے مگر دلائل کی رو سے یہ موقف کمزور ہے۔ اسی طرح امام شافعی رحمہ اللہ کا خیال کہ چند بالوں پر بھی مسح ہو جائے تو کافی ہے۔ لیکن احناف اور شوافع کا موقف ان صریح احادیث کے مقابلے میں کوئی حیثیت نہیں رکھتا لہٰذا مکمل سر کا مسح کرنا ضروری ہے۔ واللہ أعلم۔
   سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث\صفحہ نمبر: 98   
  فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 99  
´سر کا مسح کتنی بار کیا جائے؟`
عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ (جنہیں خواب میں کلمات اذان بتلائے گئے تھے ۱؎) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ نے وضو کیا، تو اپنا چہرہ تین بار اور اپنے دونوں ہاتھ دو بار دھوئے، اور اپنے دونوں پاؤں دو بار دھوئے، اور دو بار ۲؎ اپنے سر کا مسح کیا۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 99]
99۔ اردو حاشیہ:
➊ خواب میں اذان دکھلائے جانے کی تفصیل ان شاء اللہ آگے آئے گی۔ ویسے یہ عبداللہ بن زید اذان والے نہیں جنھیں اذان دکھائی گئی تھی، وہ عبداللہ بن زید بن عبد ربہ ہیں اور یہ عبداللہ بن زید بن عاصم ہیں۔ یہاں پر (راویٔ حدیث) سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ سے غلطی ہوئی ہے۔ اس کی وضاحت خود امام نسائی رحمہ اللہ نے اپنی سنن میں اور امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی صحیح میں فرمائی ہے۔ دیکھیے: [سنن النسائي، الاستسقاء، حدیث: 1506، و صحیح البخاري، الاستسقاء، حدیث: 1012]
سر کا مسح دو دفعہ کیا۔ اس سے مراد ایک دفعہ دونوں ہاتھوں کو آگے سے شروع کر کے گدی تک لے جانا اور دوسری دفعہ پیچھے سے اسی طرح آگے لانا ہے۔ اسے دو دفعہ کہیں یا ایک دفعہ، کوئی فرق نہیں کیونکہ ہاتھوں کو اپنی ایک دفعہ ہی لگایا جاتا ہے، اس لیے اسے عام طور پر ایک دفعہ ہی کہا جاتا ہے اور یہی مکمل مسح ہے۔
➌ ہمارے فاضل محقق نے پوری حدیث کو صحیح قرار دیا ہے جبکہ شیخ البانی رحمہ اللہ نے اس حدیث کے طرق کا بڑی باریک بینی سے جائزہ لے کر حدیث میں وارد الفاظ: «وَغَسَلَ رِجْلَيْهِ مَرَّتَيْنِ وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ مَرَّتَيْنِ» پاؤں دو دفعہ دھوئے اور اپنے سر کا مسح دو دفعہ کیا۔ کو سفیان بن عیینہ کا شدید وہم قرار دیا ہے کیونکہ وہ ان الفاظ کے بیان کرنے می سخت اضطراب کا شکار تھے، اس لیے شیخ البانی رحمہ اللہ نے مذکورہ الفاظ کے ساتھ روایت کو شاذ قرار دیا ہے۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھیے: [سنن أبي داود (مفصل) للألباني، حدیث: 109]
   سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث\صفحہ نمبر: 99   
  مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث434  
´سر کے مسح کا بیان۔`
یحییٰ بن عمارہ بن ابی حسن مازنی کہتے ہیں کہ انہوں نے اپنے نانا عبداللہ بن زید بن عاصم انصاری مازنی رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ مجھے دکھا سکتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیسے وضو کرتے تھے؟ عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ نے کہا: ہاں، اور وضو کا پانی منگایا، اور اپنے دونوں ہاتھوں پر ڈالا، اور دوبار دھویا، پھر تین بار کلی کی اور ناک میں پانی چڑھا کر جھاڑا، پھر اپنا چہرہ تین بار دھویا، پھر اپنے دونوں ہاتھ کہنیوں سمیت دو دو بار دھوئے، پھر اپنے دونوں ہاتھوں سے سر کا مسح اس طرح کیا کہ دونوں ہاتھ سر کے اگلے حصہ پر رکھے، اور ان کو پیچھے کو لے گئے یعنی سر کے اگلے حصے ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 434]
اردو حاشہ:
(1)
زبانی سنے ہوئے مسئلہ کومزید بہتر طور پر سمجھنے کے لیےدوبارہ پوچھنے میں کوئی خرج نہیں۔

(2)
کوئی کام عملی طور پر کرکے دکھانا تعلیم کا ایک مؤثر اور مفید طریقہ ہے جس سے مسئلہ بہتر طور پر سمجھ میں آتا ہےاور زیادہ اچھی طرح یاد رہتا ہے۔

(3)
وضو کے بعد اعضاء کو دو دو بار اور بعض کو تین تین بار دھونا جائز ہے البتہ سر کا مسح ایک ہی بار کرنا چاہیے۔

(4)
سر کے مسح میں کانوں کا مسح بھی شامل ہے جسے راوی نے اس روایت میں اختصار کے طور پر ترک کردیا ہے جس طرح پاؤں دھونے کی تعداد ذکر نہیں کی۔
حدیث بیان کرنے کا اصل مقصد یہ وضاحت کرنا ہے کہ مسح پورے سر کا ہوتا ہے کچھ سر کا نہیں۔

(5)
  ہاتھوں کو آگے لائے اور پیچھے لے گئے اس جملے میں مقصود یہ بیان کرنا ہے کہ یہ دونوں کام کئے۔
یہ مطلب نہیں کہ پہلے ہاتھوں کو پیچھے سے آگے لائےاور بعد میں آگے سے پیچھے لے گئے اس لیے فوراً اس کی وضاحت فرما دی۔
   سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث\صفحہ نمبر: 434   
  الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 28  
´ایک ہی چلو سے کلی کرنے اور ناک میں پانی چڑھانے کا بیان​۔`
عبداللہ بن زید رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے ایک ہی چلو سے کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا، تین بار آپ نے ایسا کیا ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الطهارة/حدیث: 28]
اردو حاشہ:
1؎:
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ایک ہی چلو سے کلی کرنا اور ناک میں پانی چڑھانا افضل ہے دونوں کے لیے الگ الگ پانی لینے کی بھی احادیث آئی ہیں لیکن ایک چلو سے دونوں میں پانی ڈالنے کی احادیث زیادہ اور صحیح ترین ہیں،
دونوں صورتیں جائز ہیں،
لیکن ایک چلو سے دونوں میں پانی ڈالنا زیادہ اچھا ہے،
علامہ محمد بن اسماعیل الأمیرالیمانی سبل السلام میں فرماتے ہیں:
اقرب یہ ہے کہ دونوں صورتوں میں اختیار ہے اور ہر ایک سنت ہے،
گرچہ دونوں کو ایک کلی میں جمع کرنے کی روایات زیادہ ہیں اور صحیح تر ہیں،
واضح رہے کہ اختلاف زیادہ بہتر ہونے میں ہے جائز اور ناجائز کی بات نہیں ہے۔

2؎:
امام شافعی سے اس سلسلہ میں دو قول مروی ہیں ایک تو یہی جسے امام ترمذی نے یہاں نقل کیا ہے اور دوسرا ایک ہی چلو میں دونوں کو جمع کرنے کا اور یہ ان کا مشہور قول ہے۔
   سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث\صفحہ نمبر: 28   

http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.