سنن ترمذي کل احادیث 3956 :حدیث نمبر
سنن ترمذي
کتاب: مثل اور کہاوت کا تذکرہ
Chapters on Parables
7. باب مَا جَاءَ فِي مَثَلِ ابْنِ آدَمَ وَأَجَلِهِ وَأَمَلِهِ
7. باب: آدمی کی موت اور آرزو کی مثال۔
حدیث نمبر: 2872
پی ڈی ایف بنائیں اعراب
(مرفوع) حدثنا الحسن بن علي الخلال، وغير واحد، قالوا: حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا معمر، عن الزهري، عن سالم، عن ابن عمر، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " إنما الناس كإبل مائة لا يجد الرجل فيها راحلة "، قال ابو عيسى: هذا حديث حسن صحيح.(مرفوع) حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّمَا النَّاسُ كَإِبِلٍ مِائَةٍ لَا يَجِدُ الرَّجُلُ فِيهَا رَاحِلَةً "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگ سو اونٹ کی طرح ہیں۔ آدمی ان میں سے ایک بھی سواری کے قابل نہیں پاتا ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

تخریج الحدیث: «صحیح البخاری/الرقاق 35 (6498)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة 60 (2547)، سنن ابن ماجہ/الفتن 16 (3990) (تحفة الأشراف: 6945)، و مسند احمد (2/7، 44، 70، 109، 121، 122، 123، 130) (صحیح)»

وضاحت:
۱؎: یعنی: اچھے لوگ بہت کم ملتے ہیں۔

قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (3990)

   صحيح البخاري6498عبد الله بن عمرالناس كالإبل المائة لا تكاد تجد فيها راحلة
   صحيح مسلم6499عبد الله بن عمرتجدون الناس كإبل مائة لا يجد الرجل فيها راحلة
   جامع الترمذي2872عبد الله بن عمرالناس كإبل مائة لا يجد الرجل فيها راحلة
   سنن ابن ماجه3990عبد الله بن عمرالناس كإبل مائة لا تكاد تجد فيها راحلة
   المعجم الصغير للطبراني467عبد الله بن عمرالناس كإبل مائة لا تجد فيها راحلة لا نعلم شيئا خيرا من ألف مثله إلا الرجل المؤمن
   المعجم الصغير للطبراني1003عبد الله بن عمر الناس كإبل مائة لا تجد فيها راحلة ، قال : وقال النبى صلى الله عليه وسلم : لا نعلم شيئا خيرا من ألف مثله إلا الرجل المؤمن
   مسندالحميدي678عبد الله بن عمرتجدون الناس كإبل مائة ليس فيها راحلة

تخریج الحدیث کے تحت حدیث کے فوائد و مسائل
  مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3990  
´جن کے بارے میں امید ہے کہ وہ فتنوں سے محفوظ ہوں گے ان کا بیان۔`
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگوں کی مثال ان سو اونٹوں کے مانند ہے، جن میں سے ایک بھی سواری کے لائق نہیں پاؤ گے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 3990]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
صاحب کمال لوگ تعداد میں بہت کم ہوتے ہیں۔

(2)
عوام میں زیادہ تر لوگ ایسے ہوتے ہیں جو کسی اہم ذمہ داری کو اٹھانے کی اہلیت نہیں رکھتے۔
اگر کامل اہلیت والا فرد نہ ملے تو ناقص اہلیت والے ہی سے کام چلانا چاہیے تاہم ان کی مناسب رہنمائی اور ان کے کام کی مناسب نگرانی ضروری ہے۔

(3)
مربی تربیت میں محنت کرے اور اس کا مطلوب نتیجہ نہ نکلے تو ضروری نہیں کہ تربیت میں نقص ہو۔
بعض اوقات تربیت پانے والوں کے نقص کی وجہ سے مطلوب نتائج حاصل نہیں ہوتے۔
   سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث\صفحہ نمبر: 3990   
  الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 2872  
´آدمی کی موت اور آرزو کی مثال۔`
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگ سو اونٹ کی طرح ہیں۔ آدمی ان میں سے ایک بھی سواری کے قابل نہیں پاتا ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الأمثال/حدیث: 2872]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یعنی:
اچھے لوگ بہت کم ملتے ہیں۔
   سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث\صفحہ نمبر: 2872   

http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.