سنن ترمذي کل احادیث 3956 :حدیث نمبر
سنن ترمذي
کتاب: قرآن کریم کے مناقب و فضائل
Chapters on The Virtues of the Qur'an
2. باب مَا جَاءَ فِي فَضْلِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ وَآيَةِ الْكُرْسِيِّ
2. باب: سورۃ البقرہ اور آیت الکرسی کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 2877
پی ڈی ایف بنائیں مکررات اعراب
(مرفوع) حدثنا قتيبة، حدثنا عبد العزيز بن محمد، عن سهيل بن ابي صالح، عن ابيه، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: " لا تجعلوا بيوتكم مقابر، وإن البيت الذي تقرا فيه البقرة لا يدخله الشيطان "، قال ابو عيسى: هذا حديث حسن صحيح.(مرفوع) حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا تَجْعَلُوا بُيُوتَكُمْ مَقَابِرَ، وَإِنَّ الْبَيْتَ الَّذِي تُقْرَأُ فِيهِ الْبَقَرَةُ لَا يَدْخُلُهُ الشَّيْطَانُ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے گھروں کو قبرستان نہ بناؤ۔ وہ گھر جس میں سورۃ البقرہ پڑھی جاتی ہے اس میں شیطان داخل نہیں ہوتا۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

تخریج الحدیث: «صحیح مسلم/المسافرین 29 (280)، سنن ابی داود/ المناسک 100 (الشق الأول فحسب، وفي سیاق آخر) (تحفة الأشراف: 12722) (صحیح)»

قال الشيخ الألباني: صحيح أحكام الجنائز (212)

   صحيح مسلم1824عبد الرحمن بن صخرلا تجعلوا بيوتكم مقابر الشيطان ينفر من البيت الذي تقرأ فيه سورة البقرة
   جامع الترمذي2877عبد الرحمن بن صخرلا تجعلوا بيوتكم مقابر البيت الذي تقرأ فيه البقرة لا يدخله الشيطان
   سنن أبي داود2042عبد الرحمن بن صخرلا تجعلوا بيوتكم قبورا ولا تجعلوا قبري عيدا وصلوا علي فإن صلاتكم تبلغني حيث كنتم

تخریج الحدیث کے تحت حدیث کے فوائد و مسائل
  الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2042  
´قبروں کی زیارت کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے گھروں کو قبرستان نہ بناؤ ۱؎ اور میری قبر کو میلا نہ بناؤ (کہ سب لوگ وہاں اکٹھا ہوں)، اور میرے اوپر درود بھیجا کرو کیونکہ تم جہاں بھی رہو گے تمہارا درود مجھے پہنچایا جائے گا۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 2042]
فوائد ومسائل:

گھروں کو قبرستان بنانا یوں ہے کہ وہاں نماز تلاوت اور اذکار کے اعمال ترک کردیئے جایئں جیسے کہ قبرستان میں نہیں کئے جاتے۔
اس میں مردوں کو بالخصوص تاکید ہے۔
کہ اپنی نمازوں کا ایک حصہ یعنی سنن اور نوافل گھروں میں پڑھا کریں جو کہ نزول برکات کا باعث ہیں۔
اور گھر والوں کے لئے اعمال خیر کی ترغیب وتربیت بھی۔
اس کا دوسرا مفہوم یہ بھی ہوسکتا ہے۔
کہ اپنی میتوں کو اپنے گھروں میں مت دفن کیا کرو بلکہ قبرستان میں دفنائو۔


رسول اللہ ﷺ کی قبر مبارک کے پاس مجمع لگانا بھیڑ کرنا بہت زیادہ دیرکھڑے رہنا یا بار بار آنا اسے میلہ گاہ بنانا ہے۔
جو کہ ممنوع اور انتہائی خلاف ادب ہے۔
جب ر سول اللہﷺ کی قبر مبارک کا ادب یہ ہے تو دیگر صالحین کی قبروں پراجتماع اور عرس بطریق اولیٰ ممنوع اور حرام ہیں۔


رسول اللہ ﷺ پر صلاۃ وسلام پڑھنے کے لئے سفر کی مشقت اٹھانے کی کوئی ضرورت نہیں انسان جہاں کہیں ہو اس کا درود آپﷺ کو پہنچا دیا جاتا ہے۔

   سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعدی، حدیث\صفحہ نمبر: 2042   

http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.