سنن ترمذي کل احادیث 3956 :حدیث نمبر
سنن ترمذي
کتاب: قرآن کریم کے مناقب و فضائل
Chapters on The Virtues of the Qur'an
2. باب مَا جَاءَ فِي فَضْلِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ وَآيَةِ الْكُرْسِيِّ
2. باب: سورۃ البقرہ اور آیت الکرسی کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 2879
پی ڈی ایف بنائیں اعراب
(مرفوع) حدثنا يحيى بن المغيرة ابو سلمة المخزومي المدني، حدثنا ابن ابي فديك، عن عبد الرحمن بن ابي بكر المليكي، عن زرارة بن مصعب، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " من قرا " حم المؤمن إلى إليه المصير "، وآية الكرسي حين يصبح، حفظ بهما حتى يمسي، ومن قراهما حين يمسي حفظ بهما حتى يصبح "، قال ابو عيسى: هذا حديث غريب، وقد تكلم بعض اهل العلم في عبد الرحمن بن ابي بكر بن ابي مليكة المليكي من قبل حفظه، وزرارة بن مصعب هو ابن عبد الرحمن بن عوف، وهو جد ابي مصعب المدني.(مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ الْمُغِيرَةِ أَبُو سَلَمَةَ الْمَخْزُومِيُّ الْمَدَنِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الْمُلَيْكِيِّ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ مُصْعَبٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ قَرَأَ " حم الْمُؤْمِنَ إِلَى إِلَيْهِ الْمَصِيرُ "، وَآيَةَ الْكُرْسِيِّ حِينَ يُصْبِحُ، حُفِظَ بِهِمَا حَتَّى يُمْسِيَ، وَمَنْ قَرَأَهُمَا حِينَ يُمْسِي حُفِظَ بِهِمَا حَتَّى يُصْبِحَ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، وَقَدْ تَكَلَّمَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ الْمُلَيْكِيِّ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ، وَزُرَارَةُ بْنُ مُصْعَبٍ هُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، وَهُوَ جَدُّ أَبِي مُصْعَبٍ الْمَدَنِيِّ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے سورۃ مومن کی (ابتدائی تین آیات) «حم» سے «إليه المصير» تک اور آیت الکرسی صبح ہی صبح (بیدار ہونے کے بعد ہی) پڑھی تو ان دونوں کے ذریعہ شام تک اس کی حفاظت کی جائے گی، اور جس نے ان دونوں کو شام ہوتے ہی پڑھا تو ان کے ذریعہ اس کی صبح ہونے تک حفاظت کی جائے گی۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث غریب ہے،
۲- بعض اہل علم نے عبدالرحمٰن بن ابی بکر بن ابی ملیکہ کے حافظے کے سلسلے میں کلام کیا ہے،
۳- زرارہ بن مصعب کا پورا نام زرارہ بن مصعب بن عبدالرحمٰن بن عوف ہے، اور وہ ابومصعب مدنی کے دادا ہیں۔

تخریج الحدیث: «تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 1495) (ضعیف) (سند میں عبد الرحمن ملیکی ضعیف راوی ہیں)»

قال الشيخ الألباني: ضعيف، المشكاة (2144 / التحقيق الثاني) // ضعيف الجامع الصغير (5769) //

قال الشيخ زبير على زئي: (2879) إسناده ضعيف
عبدالرحمن المليكي: ضعيف (تق: 3813)

   جامع الترمذي2879عبد الرحمن بن صخرمن قرأ حم المؤمن إلى إليه المصير وآية الكرسي حين يصبح حفظ بهما حتى يمسي ومن قرأهما حين يمسي حفظ بهما حتى يصبح

تخریج الحدیث کے تحت حدیث کے فوائد و مسائل
  الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 2879  
´سورۃ البقرہ اور آیت الکرسی کی فضیلت کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے سورۃ مومن کی (ابتدائی تین آیات) «حم» سے «إليه المصير» تک اور آیت الکرسی صبح ہی صبح (بیدار ہونے کے بعد ہی) پڑھی تو ان دونوں کے ذریعہ شام تک اس کی حفاظت کی جائے گی، اور جس نے ان دونوں کو شام ہوتے ہی پڑھا تو ان کے ذریعہ اس کی صبح ہونے تک حفاظت کی جائے گی۔‏‏‏‏ [سنن ترمذي/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 2879]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں عبد الرحمن ملیکی ضعیف راوی ہیں)
   سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث\صفحہ نمبر: 2879   

http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.