الحمدللہ ! قرآن پاک روٹ ورڈ سرچ اور مترادف الفاظ کی سہولت پیش کر دی گئی ہے۔

 
صحيح البخاري کل احادیث 7563 :حدیث نمبر
صحيح البخاري
کتاب: خمس کے فرض ہونے کا بیان
The Book of The Obligations of Khumus
9. بَابُ الْغَنِيمَةُ لِمَنْ شَهِدَ الْوَقْعَةَ:
9. باب: مال غنیمت ان لوگوں کو ملے گا جو جنگ میں حاضر ہوں۔
(9) Chapter. The war booty is for those who witness the battles.
حدیث نمبر: 3125
پی ڈی ایف بنائیں مکررات اعراب English
(مرفوع) حدثنا صدقة، اخبرنا عبد الرحمن، عن مالك، عن زيد بن اسلم، عن ابيه، قال: قال عمر رضي الله عنه" لولا آخر المسلمين ما فتحت قرية إلا قسمتها بين اهلها كما قسم النبي صلى الله عليه وسلم خيبر".(مرفوع) حَدَّثَنَا صَدَقَةُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ" لَوْلَا آخِرُ الْمُسْلِمِينَ مَا فَتَحْتُ قَرْيَةً إِلَّا قَسَمْتُهَا بَيْنَ أَهْلِهَا كَمَا قَسَمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ".
ہم سے صدقہ بن فضل نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو عبدالرحمٰن بن مہدی نے خبر دی ‘ انہیں امام مالک نے ‘ انہیں زید بن اسلم نے ‘ انہیں ان کے والد نے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا اگر مسلمانوں کی آنے والی نسلوں کا خیال نہ ہوتا تو جو شہر بھی فتح ہوتا میں اسے فاتحوں میں اسی طرح تقسیم کر دیا کرتا جس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کی تقسیم کی تھی۔

Narrated Aslam: `Umar said, "Were it not for those Muslims who have not come to existence yet, I would have distributed (the land of) every town I conquer among the fighters as the Prophet distributed the land of Khaibar."
USC-MSA web (English) Reference: Volume 4, Book 53, Number 354


   صحيح البخاري4235عمر بن الخطابلولا أن أترك آخر الناس ببانا ليس لهم شيء ما فتحت علي قرية إلا قسمتها كما قسم النبي خيبر ولكني أتركها خزانة لهم يقتسمونها
   صحيح البخاري2334عمر بن الخطابلولا آخر المسلمين ما فتحت قرية إلا قسمتها بين أهلها كما قسم النبي خيبر
   صحيح البخاري4236عمر بن الخطابلولا آخر المسلمين ما فتحت عليهم قرية إلا قسمتها كما قسم النبي خيبر
   صحيح البخاري3125عمر بن الخطابلولا آخر المسلمين ما فتحت قرية إلا قسمتها بين أهلها كما قسم النبي خيبر
   سنن أبي داود3020عمر بن الخطابلولا آخر المسلمين ما فتحت قرية إلا قسمتها كما قسم رسول الله خيبر

تخریج الحدیث کے تحت حدیث کے فوائد و مسائل
  الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3020  
´خیبر کی زمینوں کے حکم کا بیان۔`
عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں اگر مجھے بعد میں آنے والے مسلمانوں کا (یعنی ان کی محتاجی کا) خیال نہ ہوتا تو جو بھی گاؤں و شہر فتح کیا جاتا اسے میں اسی طرح تقسیم کر دیتا جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کو تقسیم کیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 3020]
فوائد ومسائل:
خیبر کا تقریبا ً نصف حصہ جو بطور غنیمت حاصل ہوا تھا۔
خمس نکالنے کے بعد تقسیم کردیا گیا۔
یہ بہت بڑا حصہ تھا۔
حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا اشارہ اسی طرف ہے۔
علاوہ ازیں مملکت اسلامیہ میں حسب احوال ایک ایسا فنڈ اور وقف محفوظ رہنا چاہیے۔
جو مسلمانوں کی اتفاقی ضروریات میں کام آسکے۔
   سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعدی، حدیث\صفحہ نمبر: 3020   
  مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 3125  
3125. حضرت اسلم ؓ سے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ حضرت عمر ؓ نے فرمایا: اگر بعد میں آنے والے مسلمانوں کا مجھے خیال نہ ہوتا تو میں جو علاقہ فتح کرتا اس مجاہدین میں تقسیم کردیتا جس طرح نبی کریم ﷺ نے خیبر کو تقسیم کیا تھا۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:3125]
حدیث حاشیہ:
اکثر ائمہ کا فتویٰ ہے کہ مفتوحہ ملک کے لئے امام کو اختیار ہے خواہ تقسیم کردے خواہ خراجی ملک کے طور پررہنے دے۔
لیکن یہ خراج اسلامی قاعدے کے موافق مسلمانوں ہی پر خرچ کیا جائے‘ یعنی محتاجوں‘ یتیموں کی خبر گیری‘ جہاد کے سامان‘ اور اسباب کی تیاری میں غرض ملک کا محاصل بادشاہ کی ملک نہیں ہے۔
بلکہ عام مسلمانوں اور غازیوں کا مال ہے۔
بادشاہ بھی بطور ایک سپاہی کے اس میں سے اپنا خرچ لے سکتا ہے۔
یہ شرعی نظام ہے مگر صد افسوس کہ آج یہ بیشتر اسلامی ممالک سے مفقود ہے۔
فلیبك علی الإسلام إن کان باکیا۔
   صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث\صفحہ نمبر: 3125   
  الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3125  
3125. حضرت اسلم ؓ سے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ حضرت عمر ؓ نے فرمایا: اگر بعد میں آنے والے مسلمانوں کا مجھے خیال نہ ہوتا تو میں جو علاقہ فتح کرتا اس مجاہدین میں تقسیم کردیتا جس طرح نبی کریم ﷺ نے خیبر کو تقسیم کیا تھا۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:3125]
حدیث حاشیہ:

امام بخاری ؒ کا قائم کردہ عنوان دراصل حضرت عمر ؓ کا ایک قول ہے جسے مصنف عبدالرزاق میں صحیح سند سے نقل کیا گیا ہے کہ حضرت عمر ؓ نےحضرت عمار ؓ کو لکھا کہ غنیمت کا حقدار وہ مجاہد ہے جو میدان جنگ میں شریک ہو۔
(المصنف لعبدالرزاق: 302/5)

یہ حدیث بھی عنوان کے مطابق ہے کیونکہ رسول اللہ ﷺنے خیبر کی فتح ہوئی زمین مجاہدین میں تقسیم کردی تھی، البتہ حضرت عمر ؓ نے ایک خارجی مصلحت کی بنا پر مفتوحہ زمینوں اور علاقوں کوتقسیم کرنے کی بجائے انھیں وقف کردیا اور ان سے حاصل ہونے والی پیداوار کو مسلمانوں کی ضروریات میں صرف کرتے تھے۔
(فتح الباري: 270/6)
شارح بخاری ابن منیر لکھتے ہیں:
امام بخاری ؒ کے نزدیک فتح کی گئی زمینیں تقسیم کردینا ہی مناسب ہے کیونکہ بعد میں آنے والے مسلمان میدان جنگ میں شریک نہیں تھے کہ ان کےلیے اراضی وقف کردی جائے۔
ہمارا رجحان یہ ہے کہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی قول:
غنیمت اس کا حق ہے جو لڑائی میں حاضر ہوا، اور عمل:
انھوں نے مفتوحہ علاقے مجاہدین میں تقسیم نہیں کیے، میں تطبیق اس طرح دینا چاہتے ہیں کہ زمین وقف کردی جائے اور باقی مال غنیمت لڑائی میں شریک مجاہدین میں تقسیم کردیا جائے۔
(فتح الباري: 271/6)
دراصل حضرت عمر ؓ کے عملی موقف کی بنیاد سورہ حشر کی وہ آیات ہیں جن میں اموال فے کے حقداروں کا بیان ہے۔
ان میں سے پہلے محتاج مہاجرین کاذکر کیا، پھر ایثار کرنے والے انصار کا، تیسرے نمبر پر بعدمیں آنے والے اہل اسلام کا۔
(الحشر: 10،8)
اگروہ مفتوحہ بستی کی زمینیں فاتحین میں تقسیم کردی جاتیں تو بعد میں آنے والے مسلمانوں کے لیے کچھ باقی نہ رہتا جبکہ قرآن کریم نے انھیں بھی حقدار ٹھہرایا ہے، اس لیے حضرت عمر ؓنے مفتوحہ اراضی تقسیم کرنے کی بجائے انھیں وقف کردی۔
واللہ أعلم۔
   هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث\صفحہ نمبر: 3125   

http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.