الحمدللہ ! قرآن پاک روٹ ورڈ سرچ اور مترادف الفاظ کی سہولت پیش کر دی گئی ہے۔

 
صحيح مسلم کل احادیث 3033 :ترقیم فواد عبدالباقی
صحيح مسلم کل احادیث 7563 :حدیث نمبر
صحيح مسلم
نکاح کے احکام و مسائل
8. باب الْوَفَاءِ بِالشُّرُوطِ فِي النِّكَاحِ:
8. باب: نکاح کی شرائط کے پورے کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3472
پی ڈی ایف بنائیں اعراب
حدثنا يحيى بن ايوب ، حدثنا هشيم . ح وحدثنا ابن نمير ، حدثنا وكيع . ح وحدثنا ابو بكر بن ابي شيبة ، حدثنا ابو خالد الاحمر . ح وحدثنا محمد بن المثنى ، حدثنا يحيى وهو القطان ، عن عبد الحميد بن جعفر ، عن يزيد بن ابي حبيب، عن مرثد بن عبد الله اليزني ، عن عقبة بن عامر ، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " إن احق الشرط ان يوفى به ما استحللتم به الفروج "، هذا لفظ حديث ابي بكر، وابن المثنى، غير ان ابن المثنى، قال: الشروط.حدثنا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، حدثنا هُشَيْمٌ . ح وحدثنا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حدثنا وَكِيعٌ . ح وحدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حدثنا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ . ح وحدثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حدثنا يَحْيَى وَهُوَ الْقَطَّانُ ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْيَزَنِيِّ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ أَحَقَّ الشَّرْطِ أَنْ يُوفَى بِهِ مَا اسْتَحْلَلْتُمْ بِهِ الْفُرُوجَ "، هَذَا لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي بَكْرٍ، وَابْنِ الْمُثَنَّى، غَيْرَ أَنَّ ابْنَ الْمُثَنَّى، قَالَ: الشُّرُوطِ.
یحییٰ بن ایوب نے کہا: ہمیں ہُشَیم نے حدیث بیان کی، ابن نمیر نے کہا: ہمیں وکیع نے حدیث بیان کی، ابوبکر بن ابی شیبہ نے کہا: ہمیں ابوخالد احمر نے حدیث سنائی اور محمد بن مثنیٰ نے کہا: ہمیں یحییٰ قطان نے عبدالحمید بن جعفر سے، انہوں نے یزید بن ابی حبیب سے، انہوں نے مرثد بن عبداللہ یزنی سے، انہوں نے حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "سب سے زیادہ پوری کیے جانے کے لائق شرط وہ ہے جس سے تم نے شرمگاہوں کو حلال کیا ہے۔" یہ ابوبکر اور ابن مثنیٰ کی حدیث کے الفاظ ہیں، البتہ ابن مثنیٰ نے (الشرط کی بجائے) الشروط (شرطیں وہ ہیں) کہا ہے
امام مختلف اساتذہ سے، حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سب شرطوں سے زیادہ پورا کرنے کی حقدار وہ شرطیں ہیں، جن سے تم نے شرم گاہوں کو اپنے لیے حلال ٹھہرایا ہے۔ بعض روایوں نے شرط کا لفظ مفرد بولا اور بعض نے شروط جمع کا لفظ استعمال کیا۔
ترقیم فوادعبدالباقی: 1418

   صحيح البخاري2721عقبة بن عامرأحق الشروط أن توفوا به ما استحللتم به الفروج
   صحيح البخاري5151عقبة بن عامرأحق ما أوفيتم من الشروط أن توفوا به ما استحللتم به الفروج
   صحيح مسلم3472عقبة بن عامرأحق الشرط أن يوفى به ما استحللتم به الفروج
   جامع الترمذي1127عقبة بن عامرأحق الشروط أن يوفى بها ما استحللتم به الفروج
   سنن أبي داود2139عقبة بن عامرأحق الشروط أن توفوا به ما استحللتم به الفروج
   سنن النسائى الصغرى3284عقبة بن عامرأحق الشروط أن يوفى به ما استحللتم به الفروج
   سنن النسائى الصغرى3283عقبة بن عامرأحق الشروط أن يوفى به ما استحللتم به الفروج
   سنن ابن ماجه1954عقبة بن عامرأحق الشرط أن يوفى به ما استحللتم به الفروج
   بلوغ المرام847عقبة بن عامر إن أحق الشروط أن يوفى به ،‏‏‏‏ ما استحللتم به الفروج

تخریج الحدیث کے تحت حدیث کے فوائد و مسائل
  مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1954  
´نکاح میں شرط کا بیان۔`
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سب سے زیادہ پوری کی جانے کی مستحق شرط وہ ہے جس کے ذریعے تم نے شرمگاہوں کو حلال کیا ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1954]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
نکاح مرد اور عورت کے درمیان ایک معاہدہ ہے جس میں کچھ فرائض مردوں پر عائد ہوتے ہیں اور کچھ عورتوں پر، لہٰذا مرد و عورت دونوں کو چاہیے کہ ان فرائض کا خیال رکھیں۔

(2)
نکاح کے موقع پر حالات کے مطابق مزید شرطیں رکھی جاسکتی ہیں جن کی وجہ سے عورت کو اس مرد سے نکاح کی ترغیب ہو، مثلاً:
مرد کہتا ہے اگر تم نے مجھ سے نکاح کیا تو میں تمہیں اس قدر جیب خرچ دیا کروں گا یا فلاں مکان تمہارے نام الاٹ کردوں گا۔
نکاح کے بعد مرد کا فرض ہے کہ یہ شرطیں پوری کرے۔

(3)
مرد کو اس قسم کا وعدہ نہیں کرنا چاہیے جس میں شرعاً قباحت پائی جائے عورت کو بھی اس قسم کا مطالبہ نہیں کرنا چاہیے مثلاً:
مرد سے یہ مطالبہ کہ وہ پہلی بیوی کو طلاق دے دے۔
مرد کو بھی چاہیے کہ عورت سے ناجائز مطالبات نہ کرے، مثلاً:
یہ مطالبہ کہ عورت غیر محرموں سے پردہ نہ کرے۔
   سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث\صفحہ نمبر: 1954   
  علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 847  
´(نکاح کے متعلق احادیث)`
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ شرط پورا کئے جانے کا زیادہ حق رکھتی ہے جس کے ذریعہ تم نے عورتوں کی شرمگاہوں کو حلال کیا ہے۔ (بخاری و مسلم) «بلوغ المرام/حدیث: 847»
تخریج:
«أخرجه البخاري، النكاح، باب الشروط في النكاح، حديث:5151، ومسلم، النكاح، باب الوفاء بالشروط في النكاح، حديث:1418.»
تشریح:
1 .اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ جو شرائط سب سے زیادہ پوری کرنے کی مستحق ہیں وہ شروط نکاح ہیں کیونکہ اس کا معاملہ بڑا ہی محتاط اور نازک ہے۔
2.یہ حدیث اس بات کی بھی دلیل ہے کہ نکاح میں شرط طے کرنا جائز ہے اور اسے پورا کرنا ضروری ہے۔
3. نکاح کی شرطوں سے کیا مراد ہے؟ اس میں اختلاف ہے۔
ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد ادائیگی ٔ مہر ہے کیونکہ مہر وطی سے مشروط ہے۔
اور ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد وہ سب کچھ ہے جس کی عورت زوجیت کے تقاضے میں مستحق ٹھہرتی ہے۔
اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مقصود ہر وہ شرط ہے جو خاوند عورت کو نکاح پر آمادہ کرنے کے لیے طے کر لے بشرطیکہ شریعت میں ممنوع نہ ہو۔
سیاق حدیث کی رو سے یہی آخری رائے زیادہ مناسب معلوم ہوتی ہے۔
واللّٰہ أعلم۔
   بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث\صفحہ نمبر: 847   
  الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2139  
´شوہر یہ شرط مان لے کہ عورت اپنے گھر میں ہی رہے گی۔`
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پورا کئے جانے کی سب سے زیادہ مستحق شرطیں وہ ہیں جن کے ذریعہ تم نے شرمگاہوں کو حلال کیا ہے۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب النكاح /حدیث: 2139]
فوائد ومسائل:
امام صاحبؒ کا استدال ہے کہ ایسی شرطوں کا پورا کرنا واجب ہے بشرطیکہ کسی حلال کو حرام یا حرام کو حلال نہ ٹھہرایا گیا ہو۔

   سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعدی، حدیث\صفحہ نمبر: 2139   
  الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 3472  
1
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
میاں بیوی جب شادی کرتے ہیں تو نکاح سے ان کے کچھ مقاصد اور اغراض ہوتے ہیں اور کچھ شروط ایسی ہوتی ہیں جو خود نکاح کا تقاضا ہیں اس لیے ان شروط سے مراد وہ شرطیں ہیں جو تقاضا کے منافی نہ ہوں،
اگرچہ وہ نکاح کے مقتضیٰ سے زائد ہوں مثلاً عورت مہر مثل سے زیادہ کا تقاضا کرے،
یا بہتر اور اچھی رہائش کی شرط لگائے اور خاوند اس کے دوشیزہ ہونے یا کسی مخصوص خاندان سے ہونے کی شرط لگائے،
لیکن عورت یہ شرط لگائے کہ پہلی بیوی کو طلاق دو،
یا خاوند شرط لگائے کہ میں نان و نفقہ نہیں دوں گا،
یا تجھے اپنے ساتھ نہیں رکھوں گا،
تویہ درست نہیں ہے،
یا فریقین میں کوئی خلاف اسلام شرط لگائے،
مثلاً مرد کہے،
تم پردہ نہیں کر سکو گی یا عورت کہے،
میں پردہ نہیں کروں گی تو ایسی شرطوں کا کوئی اعتبار نہیں ہے۔
   تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث\صفحہ نمبر: 3472   

http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.