الحمدللہ ! قرآن پاک روٹ ورڈ سرچ اور مترادف الفاظ کی سہولت پیش کر دی گئی ہے۔

 
صحيح مسلم کل احادیث 3033 :ترقیم فواد عبدالباقی
صحيح مسلم کل احادیث 7563 :حدیث نمبر
صحيح مسلم
نکاح کے احکام و مسائل
7. باب تَحْرِيمِ نِكَاحِ الشِّغَارِ وَبُطْلاَنِهِ:
7. باب: نکاح شغار کا بطلان۔
حدیث نمبر: 3471
پی ڈی ایف بنائیں اعراب
وحدثني هارون بن عبد الله ، حدثنا حجاج بن محمد ، قال: قال ابن جريج . ح وحدثناه إسحاق بن إبراهيم ، ومحمد بن رافع ، عن عبد الرزاق ، اخبرنا ابن جريج ، اخبرني ابو الزبير ، انه سمع جابر بن عبد الله ، يقول: " نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الشغار ".وحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حدثنا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: قَال ابْنُ جُرَيْجٍ . ح وحدثناه إِسْحَاقَ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْر ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الشِّغَارِ ".
ابن جریج نے ہمیں خبر دی، کہا: مجھے ابوزبیر نے بتایا کہ انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا، کہہ رہے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شغار سے منع فرمایا
امام صاحب مختلف اساتذہ سے بیان کرتے ہیں، حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شغار سے منع فرمایا ہے۔
ترقیم فوادعبدالباقی: 1417


تخریج الحدیث کے تحت حدیث کے فوائد و مسائل
  الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 3471  
1
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
شِغَار:
کا لغوی معنی اٹھانا ہے،
کہتے ہیں۔
شَغَرَ الْكَلْبُ:
کتے نے پیشاب کرنے کے لیے ٹانگ اٹھائی،
گو یا نکاح شغار کا معنی ہوا،
تم میری بیٹی سے نکاح اس صورت میں کر سکتے ہو،
جب تم مجھے اپنی بیٹی کا نکاح دو،
اس کے بغیر تم میری بیٹی سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے،
ہمارے عرف میں اس کو وٹہ سٹہ کا نکاح کہا جاتا ہے۔
فوائد ومسائل:
وٹہ سٹہ کا نکاح بالاتفاق ممنوع ہے۔
لیکن اس میں اختلاف ہے یہ نکاح ہو جانے کی صورت میں باطل ہو گا یا نہیں،
امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ،
اور امام احمد رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک باطل ہو گا،
اور امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک اگر تعلقات قائم نہیں ہوئے تو باطل اور اگر تعلقات قائم ہو چکے ہیں تو باطل نہیں ہے،
صحیح بات یہ معلوم ہوتی ہے اگر اس کے ناجائز ہونے کا علم ہے تو پھر تو یہ باطل ہو گا اگرنکاح کے بعد پتہ چلا تو پھر حالات وظروف کا لحاظ رکھا جائے گا،
اگر نکاح ختم کرنے سے خرابی اور فساد و زیادہ پیدا ہوتا ہو تو اس شرط کو کالعدم قراردے کر نکاح کو قائم رکھا جائے،
شرط کے کالعدم ہونے کا معنی یہ ہے اگر ایک سے کسی وجہ سے نباہ نہیں ہوا تو اس کے مقابلہ میں بلا وجہ طلاق نہ دی جائے یا ایک خاوند نے کسی سبب اور وجہ کی بنا پر بیوی کی سرزنش و توبیخ کی ہے،
تو دوسری پر بلا وجہ غصہ نہ نکالا جائے یا وہ ایک دوسرے کے مقابلہ میں اپنے اپنے میکے نہ بیٹھ رہیں لیکن احناف کے نزدیک چونکہ شغار کی ممانعت کا سبب بلا مہر نکاح کرنا اور فرج کو مہر قرار دینا ہے،
اس لیے اگر مہر مثل مقرر کر دیا جائے تو نکاح صحیح ہو جائے گا،
حالانکہ وٹہ سٹہ کی حرمت کا سبب وہ بگاڑ اور فساد ہے جو اس کے نتیجہ میں رونما ہوتا ہے اور ہمارے معاشرہ میں اس کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔
مہر کے مقرر کرنے یا نہ کرنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔
   تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث\صفحہ نمبر: 3471   

http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.