الحمدللہ ! قرآن پاک روٹ ورڈ سرچ اور مترادف الفاظ کی سہولت پیش کر دی گئی ہے۔

 
صحيح مسلم کل احادیث 3033 :ترقیم فواد عبدالباقی
صحيح مسلم کل احادیث 7563 :حدیث نمبر
صحيح مسلم
ایمان کے احکام و مسائل
61. باب وَعِيدِ مَنِ اقْتَطَعَ حَقَّ مُسْلِمٍ بِيَمِينٍ فَاجِرَةٍ بِالنَّارِ:
61. باب: جھوٹی قسم کھاکر کسی مسلمان کا حق مارنے پر جہنم کی وعید۔
حدیث نمبر: 355
پی ڈی ایف بنائیں اعراب
وحدثنا ابو بكر بن ابي شيبة ، حدثنا وكيع . ح وحدثنا ابن نمير ، حدثنا ابو معاوية ووكيع . ح وحدثنا إسحاق بن إبراهيم الحنظلي واللفظ له، اخبرنا وكيع ، حدثنا الاعمش ، عن ابي وائل ، عن عبد الله ، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: " من حلف على يمين صبر، يقتطع بها مال امرئ مسلم، هو فيها فاجر، لقي الله وهو عليه غضبان "، قال: فدخل الاشعث بن قيس ، فقال: ما يحدثكم ابو عبد الرحمن؟ قالوا: كذا وكذا، قال: صدق ابو عبد الرحمن، في نزلت كان بيني وبين رجل ارض باليمن، فخاصمته إلى النبي صلى الله عليه وسلم، فقال: هل لك بينة، فقلت: لا، قال: فيمينه، قلت: إذن يحلف، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم عند ذلك: " من حلف على يمين صبر، يقتطع بها مال امرئ مسلم، هو فيها فاجر، لقي الله وهو عليه غضبان "، فنزلت إن الذين يشترون بعهد الله وايمانهم ثمنا قليلا سورة آل عمران آية 77 إلى آخر الآية.وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ وَوَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ وَاللَّفْظُ لَهُ، أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينِ صَبْرٍ، يَقْتَطِعُ بِهَا مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ، هُوَ فِيهَا فَاجِرٌ، لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ "، قَالَ: فَدَخَلَ الأَشْعَثُ بْنُ قَيْسٍ ، فَقَالَ: مَا يُحَدِّثُكُمْ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ؟ قَالُوا: كَذَا وَكَذَا، قَالَ: صَدَقَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ، فِيَّ نَزَلَتْ كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَ رَجُلٍ أَرْضٌ بِالْيَمَنِ، فَخَاصَمْتُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: هَلْ لَكَ بَيِّنَةٌ، فَقُلْتُ: لَا، قَالَ: فَيَمِينُهُ، قُلْتُ: إِذَنْ يَحْلِفُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ ذَلِكَ: " مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينِ صَبْرٍ، يَقْتَطِعُ بِهَا مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ، هُوَ فِيهَا فَاجِرٌ، لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ "، فَنَزَلَتْ إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلا سورة آل عمران آية 77 إِلَى آخِرِ الآيَةِ.
اعمش نے ابو وائل سے، انہوں نے حضرت عبد اللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: جس نے مسلمان کا مال دبانے کے لیے ایسی قسم کھائی جس کے لیے عدالت نے اسے پابند کیا اور وہ اس میں جھوٹا ہے، وہ اللہ کے سامنے اس حالت میں حاضر ہو گا کہ اللہ اس پر ناراض ہو گا۔ انہوں (وائل) نے کہا: اس موقع پر حضرت اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ (مجلس میں) داخل ہوئے اور کہا: ابو عبد ا لرحمن (عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ) تمہیں کیا حدیث بیان کر رہے ہیں؟ لوگوں نے کہا: اس اس طرح (بیان کر رہے ہیں۔) انہوں نےکہا: ابو عبد الرحمن نے سچ کہا، یہ آیت میرے ہی معاملے میں نازل ہوئی۔ میرے اور ایک آدمی کے درمیان یمن کی ایک زمین کا معاملہ تھا۔میں اس کے ساتھ جھگڑا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کےہاں لے گیا تو آپ نے پوچھا: کیا تمہارے پاس کوئی دلیل (یا ثبوت) ہے؟ میں نے عرض کی: نہیں۔ آپ نے فرمایا: تو پھر اس کی قسم (پر فیصلہ ہو گا۔) میں نے کہا: تب وہ قسم کھا لے گا۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے کسی مسلمان کا مال دبانے کے لیے ایسی قسم کھائی جس کا فیصلہ کرنے والے نے اس سےمطالبہ کیا تھا اور وہ اس قسم میں جھوٹا ہے تو وہ اللہ کےسامنے اس حالت میں حاضر ہو گا کہ اللہ اس پر ناراض ہو گا۔ اس پر یہ آیت اتری: بلاشبہ جو لوگ اللہ کے ساتھ کیے گئے وعدے اور اپنی قسموں کا سودا تھوڑی قیمت پر کرتے ہیں ..... آیت کے آخر تک۔
حضرت عبداللہ ؓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت بیان کرتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے مسلمان کا مال دبانے کے لیے فیصلہ کن جھوٹی قسم کھائی، وہ اللہ سے ملاقات اس حال میں کرے گا کہ وہ اس سے ناراض ہوگا۔ راوی بیان کرتا ہے کہ اس دوران ان کے پاس اشعث بن قیسؓ آگئے اور پوچھنے لگے: تمھیں ابو عبدالرحمٰنؓ نے کیا سنا یا ہے؟ حاضرین نے کہا فلاں فلاں بات بتائی ہے، اشعثؓ نے کہا: ابو عبدالرحمٰن نے سچ کہا، یہ آیت میرے بارے میں اتری ہے، میری اور ایک آدمی کی مشترکہ زمین تھی۔ میں اس کے ساتھ اپنا جھگڑا حضور کے پاس لے گیا آپؐ نے پوچھا: کیا تیرے پاس شہادت (گواہ) ہے؟ میں نے عرض کیا: نہیں! آپ نے فرمایا: تو پھر اس سے قسم لینی ہوگی۔ میں نے کہا: تو وہ قسم اٹھا دے گا۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے فیصلہ کن جھوٹی قسم اٹھائی، تاکہ کسی مسلمان کا مال قبضہ میں کر ے، وہ اللہ کو اس حال میں ملے گا کہ اللہ اس پر ناراض ہو گا۔ اس پر یہ آیت اتری اور جو لوگ اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کے ذریعے متاعِ حقیر حاصل کرتے ہیں... آخر تک (آیت آلِ عمران: 77)
ترقیم فوادعبدالباقی: 138

تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه البخاري في ((صحيحه)) في المساقاة، باب: الخصومة في البئر والقضاء فيها برقم (2229) وفى الرهن، باب: اذا اختلف الراهن والمرتهن ونحوه، فالبينة على المدعى واليمين على المدعى عليه برقم (2380) وفى الشهادات، باب: سوال الحاكم المدعى، هل لك بينة قبل اليمين برقم (2523) وفى باب: قول الله تعالى: ﴿ إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا ﴾ برقم (2531) مختصراً وأخرجه ايضا في كتاب الخصومات باب كلام الخصوم بعضهم مع بعض برقم (2285) وأخرجه ايضا فى كتاب التفسير: آل عمران, باب: ﴿ إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا أُولَٰئِكَ لَا خَلَاقَ لَهُمْ ﴾ برقم (4275) وأخرجه ايضا في كتاب الايمان والنذور، باب: عهد الله عز وجل برقم (6283) وأخرجه ايضا في الكتاب نفسه، باب: قول تعالى: ﴿ إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا أُولَٰئِكَ لَا خَلَاقَ لَهُمْ فِي الْآخِرَةِ.... الاية ﴾ برقم (6299) وأخرجه فى الاحكام، باب: الحكم في البئر ونحوها برقم (6761) وفي التوحيد، باب: قوله تعالى ﴿ وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ نَّاضِرَةٌ ‎،‏ إِلَىٰ رَبِّهَا نَاظِرَةٌ ﴾ برقم (7007) وابوداؤد في ((سننه)) في الايمان والنذور، باب: فيمن حلف يمينا ليقطع بها مالا لاحد برقم (3243) والترمذی فی ((جامعه)) في البيوع، باب: ما جاء في اليمين الفاجرة يقتطع به مال المسلم۔ برقم (1269) وقال: حدیث ابن مسعود حدیث حسن صحيح - وأخرجه ايضا في التفسير، باب: ومن سورة آل عمران، وقال: حسن صحيح برقم (2996) وابن ماجه في ((سننه)) في الاحكام، باب: من حلف على يمين فاجرة ليقتطع بها مالا مختصراً برقم (2323) انظر ((التحفة)) برقم (158 و 9244)»

   صحيح البخاري6659من حلف على يمين كاذبة يقتطع بها مال رجل مسلم أو قال أخيه لقي الله وهو عليه غضبان
   صحيح البخاري4550من حلف يمين صبر ليقتطع بها مال امرئ مسلم لقي الله وهو عليه غضبان أنزل الله تصديق ذلك إن الذين يشترون بعهد الله وأيمانهم ثمنا قليلا أولئك لا خلاق لهم في الآخرة
   صحيح البخاري2667حلف على يمين وهو فيها فاجر ليقتطع بها مال امرئ مسلم لقي الله وهو عليه غضبان
   صحيح البخاري2670من حلف على يمين يستحق بها مالا وهو فيها فاجر لقي الله وهو عليه غضبان
   صحيح البخاري2677من حلف على يمين كاذبا ليقتطع مال رجل أو قال أخيه لقي الله وهو عليه غضبان
   صحيح البخاري2417من حلف على يمين وهو فيها فاجر ليقتطع بها مال امرئ مسلم لقي الله وهو عليه غضبان
   صحيح البخاري2357من حلف على يمين يقتطع بها مال امرئ مسلم هو عليها فاجر لقي الله وهو عليه غضبان أنزل الله إن الذين يشترون بعهد الله وأيمانهم ثمنا قليلا
   صحيح مسلم355من حلف على يمين صبر يقتطع بها مال امرئ مسلم هو فيها فاجر لقي الله وهو عليه غضبان
   جامع الترمذي1269من حلف على يمين وهو فيها فاجر ليقتطع بها مال امرئ مسلم لقي الله وهو عليه غضبان

تخریج الحدیث کے تحت حدیث کے فوائد و مسائل
  حافظ عمران ايوب لاهوري حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري 2357  
´جھوٹی قسم کھا کر کسی مسلمان کا مال ہڑپ لینا بہت بڑا گناہ ہے`
«. . . عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:"مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ يَقْتَطِعُ بِهَا مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ هُوَ عَلَيْهَا فَاجِرٌ، لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ . . .»
. . . نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص کوئی ایسی جھوٹی قسم کھائے جس کے ذریعہ وہ کسی مسلمان کے مال پر ناحق قبضہ کر لے تو وہ اللہ سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ تعالیٰ اس پر بہت زیادہ غضب ناک ہو گا . . . [صحيح البخاري/كِتَاب الشُّرْبِ والْمُسَاقَاةِ: 2357]

فہم الحدیث:
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جھوٹی قسم کھا کر کسی مسلمان کا مال ہڑپ لینا بہت بڑا گناہ ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ جس نے جھوٹی قسم کھا کر کسی کی پیلو کی ایک ٹہنی بھی ہڑپ لی اس پر آگ واجب ہو گئی۔ [مسلم: كتاب الايمان: مَنِ اقْتَطَعَ حَقَّ مُسْلِمٍ بِيَمِينٍ]
   جواہر الایمان شرح الولووالمرجان، حدیث\صفحہ نمبر: 84   
  الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 355  
1
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
:
(1)
قَضِيبٌ:
چھڑی،
شاخ۔
يَمِين صَبْرٍ:
جس پر قسم اٹھانے والا اپنے آپ کو روکتا ہے،
جس پر فیصلہ کا انحصار ہے۔
(2)
يَقْتَطِعُ:
دباتا ہے،
مارتا ہے،
مالک سے کاٹ لیتا ہے۔
فوائد ومسائل:
کسی شخص کا حق مارنا یا مال دبانا،
خصوصی طور پر جبکہ وہ اپنا دینی بھائی مسلمان ہواتنا بڑا جرم ہے (جبکہ اس کےلیے اللہ کی جھوٹی قسم بھی اٹھائی گئی ہو،
یہ حق معمولی ہو یا زیادہ)

کہ اس کا مرتکب،
اسلام جو ہمدردی اور خیر خواہی کا نام ہے کو پامال کرتا ہے۔
اور اللہ کے مقام ومرتبہ کی بے حرمتی کرتاہے،
اس لیے اگر اس کو معافی نہ مل سکے تو وہ اس سزا کا مستحق ہے کہ دوزخ میں جائے،
اور سیدھا جنت میں جانے کے شرف سے محروم ہو جائے۔
   تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث\صفحہ نمبر: 355   

http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.