الحمدللہ ! قرآن پاک روٹ ورڈ سرچ اور مترادف الفاظ کی سہولت پیش کر دی گئی ہے۔

 
صحيح مسلم کل احادیث 3033 :ترقیم فواد عبدالباقی
صحيح مسلم کل احادیث 7563 :حدیث نمبر
صحيح مسلم
ایمان کے احکام و مسائل
61. باب وَعِيدِ مَنِ اقْتَطَعَ حَقَّ مُسْلِمٍ بِيَمِينٍ فَاجِرَةٍ بِالنَّارِ:
61. باب: جھوٹی قسم کھاکر کسی مسلمان کا حق مارنے پر جہنم کی وعید۔
حدیث نمبر: 357
پی ڈی ایف بنائیں اعراب
وحدثنا ابن ابي عمر المكي ، حدثنا سفيان ، عن جامع بن ابي راشد وعبد الملك بن اعين سمعا شقيق بن سلمة ، يقول: سمعت ابن مسعود ، يقول: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم، يقول: " من حلف على مال امرئ مسلم بغير حقه، لقي الله وهو عليه غضبان "، قال عبد الله: ثم قرا علينا رسول الله صلى الله عليه وسلم، مصداقه من كتاب الله إن الذين يشترون بعهد الله وايمانهم ثمنا قليلا سورة آل عمران آية 77 إلى آخر الآية.وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَكِّيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ جَامِعِ بْنِ أَبِي رَاشِدٍ وَعَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَعْيَن سَمِعَا شَقِيقَ بْنَ سَلَمَةَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ حَلَفَ عَلَى مَالِ امْرِئٍ مُسْلِمٍ بِغَيْرِ حَقِّهِ، لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ "، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: ثُمَّ قَرَأَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِصْدَاقَهُ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلا سورة آل عمران آية 77 إِلَى آخِرِ الآيَةِ.
جامع بن ابی راشد اور عبد المالک بن اعین نے (ابو وائل) شقیق بن سلمہ سے سنا، کہہ رہے تھے: میں نے حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہتے تھے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جس ن کسی مسلمان شخص کے مال پر، حق نہ ہوتے ہوئے، قسم کھائی، وہ اللہ سے اس حالت میں ملے گا کہ اللہ تعالیٰ اس سے ناراض ہو گا۔ عبد اللہ نے کہا: پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے سامنے کتاب اللہ سے اس کا مصداق (جس سے بات کی تصدیق ہو جائے) پڑھا: بلاشبہ جو لوگ اللہ کےساتھ کیے گئے عہد (میثاق) اور اپنی قسموں کا سودا تھوڑی سی قیمت پر کرتے ہیں ......، آخر آیت تک۔
حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جس نے مسلمان کے مال کے بارے میں ناحق قسم اٹھائی، وہ اللہ کو ناراضی کی حالت میں ملے گا۔ عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں پھر آپ نے اس کی تصدیق میں کتاب اللہ کی آیت سنائی: جو لوگ اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کے عوض حقیر پونجی حاصل کرتے ہیں۔ (آلِ عمران: 77) آخر تک-
ترقیم فوادعبدالباقی: 138

تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه البخاري في ((صحيحه)) في التوحيد، باب: قول الله تعالى: ﴿ وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ نَّاضِرَةٌ ‎،‏ إِلَىٰ رَبِّهَا نَاظِرَةٌ ﴾ برقم (7007) انظر ((التحفة)) برقم (9238)»

   صحيح البخاري7445عبد الله بن مسعودمن اقتطع مال امرئ مسلم بيمين كاذبة لقي الله وهو عليه غضبان
   صحيح البخاري7183عبد الله بن مسعودلا يحلف على يمين صبر يقتطع مالا وهو فيها فاجر إلا لقي الله وهو عليه غضبان فأنزل الله إن الذين يشترون بعهد الله وأيمانهم ثمنا قليلا
   صحيح البخاري2673عبد الله بن مسعودمن حلف على يمين ليقتطع بها مالا لقي الله وهو عليه غضبان
   صحيح البخاري2516عبد الله بن مسعودمن حلف على يمين يستحق بها مالا وهو فيها فاجر لقي الله وهو عليه غضبان أنزل الله تصديق ذلك ثم اقترأ هذه الآية إن الذين يشترون بعهد الله وأيمانهم ثمنا قليلا إلى ولهم عذاب أليم
   صحيح البخاري6676عبد الله بن مسعودمن حلف على يمين صبر يقتطع بها مال امرئ مسلم لقي الله وهو عليه غضبان
   صحيح مسلم357عبد الله بن مسعودمن حلف على مال امرئ مسلم بغير حقه لقي الله وهو عليه غضبان مصداقه من كتاب الله إن الذين يشترون بعهد الله وأيمانهم ثمنا قليلا
   جامع الترمذي2996عبد الله بن مسعودمن حلف على يمين هو فيها فاجر ليقتطع بها مال امرئ مسلم لقي الله وهو عليه غضبان
   سنن أبي داود3243عبد الله بن مسعودمن حلف على يمين هو فيها فاجر ليقتطع بها مال امرئ مسلم لقي الله وهو عليه غضبان
   سنن ابن ماجه2323عبد الله بن مسعودمن حلف على يمين وهو فيها فاجر يقتطع بها مال امرئ مسلم لقي الله وهو عليه غضبان
   المعجم الصغير للطبراني21عبد الله بن مسعودمن حلف على يمين صبر متعمدا ليقتطع بها مالا بغير حق لقي الله وهو عليه غضبان
   مسندالحميدي95عبد الله بن مسعودمن اقتطع مال امرئ مسلم بيمين كاذبة لقي الله وهو عليه غضبان

تخریج الحدیث کے تحت حدیث کے فوائد و مسائل
  مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2323  
´جھوٹی قسم کھا کر کسی کا مال ہڑپ کر لینے کی شناعت کا بیان۔`
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص کسی چیز کے لیے قسم کھائے اور وہ اس قسم میں جھوٹا ہو، اور اس کے ذریعہ وہ کسی مسلمان کا مال ہڑپ کر لے، تو اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ تعالیٰ اس سے ناراض ہو گا۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الأحكام/حدیث: 2323]
اردو حاشہ:
جھوٹی قسم بڑا گناہ ہے خاص طور پر جب کہ مقصد کسی کا مال چھیننا ہو۔ 2۔
غیر مسلم کامال ناجائز طور پر حاصل کرنا بھی جرم ہے لیکن ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا مال ناجائز طریقے سے لے لے یہ اور بھی بڑا گناہ اور جرم ہے۔ 3۔
اللہ تعالیٰ قیامت کے دن بعض گناہوں گاروں پر ناراضی کا اظہار بھی فرمائے گا۔ 4۔
غضب اللہ کی صفت ہے اس پر ایمان رکھنا چاہیے۔
اور اللہ کے غضب سے بچنے کےلیے نیکیاں کرنی چاہییں اور گناہوں سے بچنا چاہیے۔
   سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث\صفحہ نمبر: 2323   
  الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 2996  
´سورۃ آل عمران سے بعض آیات کی تفسیر۔`
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے کسی امر پر قسم کھائی اور وہ جھوٹا ہو اور قسم اس لیے کھائی تاکہ وہ اس کے ذریعہ کسی مسلمان کا مال ناحق لے لے تو جب وہ (قیامت میں) اللہ سے ملے گا، اس وقت اللہ اس سخت غضبناک ہو گا۔‏‏‏‏ اشعث بن قیس رضی الله عنہ کہتے ہیں: قسم اللہ کی! یہ حدیث میرے بارے میں ہے۔ میرے اور ایک یہودی شخص کے درمیان ایک (مشترک) زمین تھی، اس نے اس میں میری حصہ داری کا انکار کر دیا، تو میں اسے لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا:۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 2996]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
بے شک جو لوگ اللہ تعالیٰ کے عہد اور اپنی قسموں کو تھوڑی قیمت پر بیچ ڈالتے ہیں،
ان کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں (آل عمرآن: 77)۔
   سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث\صفحہ نمبر: 2996   

http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.