الحمدللہ! انگلش میں کتب الستہ سرچ کی سہولت کے ساتھ پیش کر دی گئی ہے۔

 
سنن ابن ماجه کل احادیث 4341 :حدیث نمبر
سنن ابن ماجه
کتاب: اسلامی آداب و اخلاق
Chapters on Etiquette
54. بَابُ : فَضْلِ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ
54. باب: لا الہٰ الا اللہ کی فضیلت۔
Chapter: The Virtue of (saying) None has the right to be Worshipped but Allah
حدیث نمبر: 3795
Save to word اعراب
(مرفوع) حدثنا هارون بن إسحاق الهمداني , حدثنا محمد بن عبد الوهاب , عن مسعر عن إسماعيل بن ابي خالد , عن الشعبي , عن يحيى بن طلحة , عن امه سعدى المرية , قالت: مر عمر بطلحة بعد وفاة رسول الله صلى الله عليه وسلم , فقال: ما لك مكتئبا اساءتك إمرة ابن عمك؟ قال: لا , ولكن سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم , يقول:" إني لاعلم كلمة لا يقولها احد عند موته , إلا كانت نورا لصحيفته , وإن جسده وروحه ليجدان لها روحا عند الموت" , فلم اساله حتى توفي , قال: انا اعلمها هي التي اراد عمه عليها , ولو علم ان شيئا انجى له منها لامره.
(مرفوع) حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاق الْهَمْدَانِيُّ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ , عَنْ مِسْعَرٍ عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ أَبِي خَالِدٍ , عَنْ الشَّعْبِيِّ , عَنْ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ , عَنْ أُمِّهِ سُعْدَى الْمُرِّيَّةِ , قَالَتْ: مَرَّ عُمَرُ بِطَلْحَةَ بَعْدَ وَفَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ: مَا لَكَ مُكتَئِبًا أَسَاءَتْكَ إِمْرَةُ ابْنِ عَمِّكَ؟ قَالَ: لَا , وَلَكِنْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ:" إِنِّي لَأَعْلَمُ كَلِمَةً لَا يَقُولُهَا أَحَدٌ عِنْدَ مَوْتِهِ , إِلَّا كَانَتْ نُورًا لِصَحِيفَتِهِ , وَإِنَّ جَسَدَهُ وَرُوحَهُ لَيَجِدَانِ لَهَا رَوْحًا عِنْدَ الْمَوْتِ" , فَلَمْ أَسْأَلْهُ حَتَّى تُوُفِّيَ , قَالَ: أَنَا أَعْلَمُهَا هِيَ الَّتِي أَرَادَ عَمَّهُ عَلَيْهَا , وَلَوْ عَلِمَ أَنَّ شَيْئًا أَنْجَى لَهُ مِنْهَا لَأَمَرَهُ.
سعدیٰ مریہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد عمر رضی اللہ عنہ طلحہ رضی اللہ عنہ کے پاس گزرے، تو انہوں نے پوچھا کہ کیا وجہ ہے کہ میں تم کو رنجیدہ پاتا ہوں؟ کیا تمہیں اپنے چچا زاد بھائی (ابوبکر رضی اللہ عنہ) کی خلافت گراں گزری ہے؟، انہوں نے کہا: نہیں، لیکن میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: میں ایک بات جانتا ہوں اگر کوئی اسے موت کے وقت کہے گا تو وہ اس کے نامہ اعمال کا نور ہو گا، اور موت کے وقت اس کے بدن اور روح دونوں اس سے راحت پائیں گے، لیکن میں یہ کلمہ آپ سے دریافت نہ کر سکا یہاں تک کہ آپ کی وفات ہو گئی، عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں اس کلمہ کو جانتا ہوں، یہ وہی کلمہ ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چچا (ابوطالب) سے مرتے وقت پڑھنے کے لیے کہا تھا، اور اگر آپ کو اس سے بہتر اور باعث نجات کسی کلمہ کا علم ہوتا تو وہی پڑھنے کے لیے فرماتے ۱؎۔

تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 5021، 10676، ومصباح الزجاجة: 1324)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/161) (صحیح)» ‏‏‏‏

وضاحت:
۱؎: کیونکہ نبی اکرم ﷺ کو اپنے چچا سے جو الفت و محبت تھی، اور جس طرح آپ انہیں آخری وقت میں قیامت کے دن کے عذاب سے بچانے کی کوشش میں لگے ہوئے تھے، اور کلمہ «لا إله إلا الله» کہنے کا حکم دیتے رہے، اس سے بہتر کوئی دوسرا کلمہ نہیں ہو سکتا جسے مرتے وقت کوئی اپنی زبان سے ادا کرے۔

قال الشيخ الألباني: صحيح

قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

   سنن ابن ماجه3795سعدى بنت عوفأعلم كلمة لا يقولها أحد عند موته إلا كانت نورا لصحيفته وإن جسده وروحه ليجدان لها روحا عند الموت
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 3795 کے فوائد و مسائل
  مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3795  
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
 
(1)
حضرت طلحہ عبید اللہ ؓعشرہ مبشرہ میں سے ہیں۔
یہ حضرت ابوبکر ؓ کے خاندان (بنو تمیم)
سے تعلق رکھتے تھے۔

(2)
صحابہ کرام ؓکے دل میں اللہ تعالیٰ کا اتنا خوف تھا کہ جنت کی خوشخبری ملنے کے باوجود ڈرتے تھے۔
یہ خوف ایمان کا جزء ہے جس طرح اللہ کی رحمت کی امید ایمان کا جزء ہے۔ 2۔
مومن کی نظر میں دنیا کی حکومت اور عہدے کی نسبت آخرت کی نجات زیادہ اہم ہے۔

(3)
دین کا علم بہت قیمتی ہے۔
صحابیء رسول کو ایک مسئلہ معلوم نہ کر سکنے پر بہت غم ہوا۔

(5)
کلمہ توحید کا اقرار اور اس پر ایمان ہی نجات کی بنیادی شرط ہے۔
   سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3795   


http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.