🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
53. باب : فضل الذكر
باب: ذکر الٰہی کی فضیلت۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3792
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ , عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ , عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ , عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ , يَقُولُ: أَنَا مَعَ عَبْدِي إِذَا هُوَ ذَكَرَنِي , وَتَحَرَّكَتْ بِي شَفَتَاهُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ میں اپنے بندے کے ساتھ ہوتا ہوں، جب وہ میرا ذکر کرتا ہے، اور اس کے ہونٹ میرے ذکر کی وجہ سے حرکت میں ہوتے ہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3792]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 15512، ومصباح الزجاجة: 1323)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/التوحید 43 تعلیقا، مسند احمد (2/540) (صحیح)» ‏‏‏‏ (سند میں محمد بن مصعب قرقسانی صدوق اور کثیر الغلط راوی ہیں، ابن حبان کے یہاں ایوب بن سوید نے ان کی متابعت کی ہے، بوصیری نے سند کو حسن کہا ہے، اور البانی نے شاہد کی بناء پر صحیح کہا ہے)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥هجيمة بنت حيي الأوصابية، أم الدرداء
Newهجيمة بنت حيي الأوصابية ← أبو هريرة الدوسي
ثقة
👤←👥إسماعيل بن أبي المهاجر القرشي، أبو عبد الحميد
Newإسماعيل بن أبي المهاجر القرشي ← هجيمة بنت حيي الأوصابية
ثقة
👤←👥عبد الرحمن بن عمرو الأوزاعي، أبو عمرو
Newعبد الرحمن بن عمرو الأوزاعي ← إسماعيل بن أبي المهاجر القرشي
ثقة مأمون
👤←👥محمد بن مصعب القرقساني، أبو الحسن، أبو عبد الله
Newمحمد بن مصعب القرقساني ← عبد الرحمن بن عمرو الأوزاعي
مقبول
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر
Newابن أبي شيبة العبسي ← محمد بن مصعب القرقساني
ثقة حافظ صاحب تصانيف
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن ابن ماجه
3792
أنا مع عبدي إذا هو ذكرني وتحركت بي شفتاه
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 3792 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3792
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
 
(1)
اللہ تعالیٰ کی عام معیت تو ہر مخلوق کے ساتھ ہے کہ وہ اپنے علم اور قدرت کے لحاظ سے ہر ایک کے ساتھ ہے۔
ایک معیت مدد اور نصرت کی ہوتی ہے جو اس کی راہ میں جد و جہد یا جنگ کرنے والوں کو حاصل ہوتی ہے۔
یہ بھی ایسی ہی معیت ہے جو ذکر کرنے والوں کو حاصل ہوتی ہے، اس کا مقصد خوشنودی کا اظہار ہے۔

(2)
اللہ تعالیٰ ذاتی طور پر ہر جگہ موجود نہیں بلکہ آسمانوں پر عرش عظیم کے اوپر ہے جیسا کہ قرآن و حدیث کی صریح نصوص سے ثابت ہے۔
فرمان باری تعالیٰ ہے:
﴿ا لرَّ‌حمـٰنُ عَلَى العَر‌شِ استَوىٰ ﴾ (طه 20: 5)

(3)
اللہ کا ذکر بہت بڑی نیکی ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3792]