الحمدللہ ! قرآن پاک روٹ ورڈ سرچ اور مترادف الفاظ کی سہولت پیش کر دی گئی ہے۔

 
صحيح مسلم کل احادیث 3033 :ترقیم فواد عبدالباقی
صحيح مسلم کل احادیث 7563 :حدیث نمبر
صحيح مسلم
سیرابی اور نگہداشت کے عوض پھل وغیرہ میں حصہ داری اور زمین دے کر بٹائی پر کاشت کرانا
3. باب وَضْعِ الْجَوَائِحِ:
3. باب: آفت سے جو نقصان ہو اس کو مجرا دینا۔
حدیث نمبر: 3975
پی ڈی ایف بنائیں اعراب
حدثني ابو الطاهر ، اخبرنا ابن وهب ، عن ابن جريج ، ان ابا الزبير ، اخبره، عن جابر بن عبد الله ، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: " إن بعت من اخيك ثمرا ". ح وحدثنا محمد بن عباد ، حدثنا ابو ضمرة ، عن ابن جريج ، عن ابي الزبير ، انه سمع جابر بن عبد الله ، يقول: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " لو بعت من اخيك ثمرا، فاصابته جائحة، فلا يحل لك ان تاخذ منه شيئا، بم تاخذ مال اخيك بغير حق ".حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَنَّ أَبَا الزُّبَيْرِ ، أَخْبَرَهُ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنْ بِعْتَ مِنْ أَخِيكَ ثَمَرًا ". ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو ضَمْرَةَ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْ بِعْتَ مِنْ أَخِيكَ ثَمَرًا، فَأَصَابَتْهُ جَائِحَةٌ، فَلَا يَحِلُّ لَكَ أَنْ تَأْخُذَ مِنْهُ شَيْئًا، بِمَ تَأْخُذُ مَالَ أَخِيكَ بِغَيْرِ حَقٍّ ".
ابوبکر بن ابی شیبہ نے کہا: ہمیں حفص بن غیاث نے حدیث بیان کی، نیز ابوکریب اور اسحاق بن ابراہیم نے ابومعاویہ سے روایت کی، اور عمرو ناقد نے کہا: ہمیں عمار بن محمد نے حدیث بیان کی، نیز ابوبکر بن ابی شیبہ نے کہا: ہمیں ابن فُضیل نے حدیث بیان کی، ان سب (حفص، ابومعاویہ، عمار اور ابن فضیل) نے اعمش سے، انہوں نے ابوسفیان (واسطی) سے اور انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ عمرو (ناقد) نے عمار سے روایت کردہ روایت میں اور ابوکریب نے ابومعاویہ سے روایت کردہ اپنی روایت میں کہا: ام مبشر رضی اللہ عنہا سے روایت ہے۔ ابن فضیل کی روایت میں ہے: زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کی بیوی سے روایت ہے، ابومعاویہ سے اسحاق کی روایت میں ہے، انہوں نے کہا: کبھی انہوں نے (ابومعاویہ) نے کہا: ام مبشر نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی اور بسا اوقات انہوں نے (ام مبشر) نہیں کہا۔ ان سب نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے۔۔۔ (آگے) عطاء، اور ابوزبیر اور عمرو بن دینار کی حدیث (3968-3971) کی طرح ہے
امام صاحب اپنے دو اساتذہ کی سند سے ابن جریج کے واسطہ سے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہما کی روایت بیان کرتے ہیں، ایک استاد کہتے ہیں، إن بعت
ترقیم فوادعبدالباقی: 1554

   صحيح مسلم3975جابر بن عبد اللهلو بعت من أخيك ثمرا فأصابته جائحة فلا يحل لك أن تأخذ منه شيئا بم تأخذ مال أخيك بغير حق
   سنن أبي داود3470جابر بن عبد اللهإن بعت من أخيك تمرا فأصابتها جائحة فلا يحل لك أن تأخذ منه شيئا بم تأخذ مال أخيك بغير حق
   سنن ابن ماجه2219جابر بن عبد اللهمن باع ثمرا فأصابته جائحة فلا يأخذ من مال أخيه شيئا علام يأخذ أحدكم مال أخيه المسلم
   سنن النسائى الصغرى4531جابر بن عبد اللهإن بعت من أخيك ثمرا فأصابته جائحة فلا يحل لك أن تأخذ منه شيئا بم تأخذ مال أخيك بغير حق
   سنن النسائى الصغرى4532جابر بن عبد اللهمن باع ثمرا فأصابته جائحة فلا يأخذ من أخيه وذكر شيئا على ما يأكل أحدكم مال أخيه المسلم

تخریج الحدیث کے تحت حدیث کے فوائد و مسائل
  مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2219  
´کئی سال کے لیے پھلوں کے بیچنے اور پھلوں کو لاحق ہونے والی آفات کا بیان۔`
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے پھل بیچا، پھر اس کو کوئی آفت لاحق ہوئی، تو وہ اپنے بھائی (خریدار) کے مال سے کچھ نہ لے، آخر کس چیز کے بدلہ تم میں سے کوئی اپنے مسلمان بھائی کا مال لے گا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2219]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
رقم مال کے بدلے لی جاتی ہے۔
جب باغ کا پھل بیچا گیا، اس وقت قابل استعمال نہیں تھا۔
گویا خریدار نے وصول نہیں کیا بلکہ یہ صرف وعدہ ہے کہ پھل تمہیں ملے گا، پھر جب پھل ضائع ہوگیا تو خریدار کو کچھ نہیں ملا، جب کہ رقم وہ پیشگی ادا کرچکا ہے یا ادا کرنے کا وعدہ کر چکا ہے۔
اس طرح وہ صرف رقم ادا کرے گا اور وصول کچھ نہیں کرے گا۔
، یہ ناجائز ہے۔

(2)
وہ اپنے مسلمان بھائی کا مال کس وجہ سے لیتا ہے؟ اس میں یہی اشارہ ہے کہ مال لے کر اس کے عوض کیا دیا ہے؟ ظاہر ہے کہ مال کے بدلے خریدار کو کچھ نہیں ملا تو پھر قیمت کس چیز کی لے رہا ہے؟ یعنی اس صورت میں قیمت نہ لی جائے، اگر لے لی ہو تو واپس کر دی جائے۔
   سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث\صفحہ نمبر: 2219   
  الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3470  
´کھیت یا باغ پر کوئی آفت آ جائے تو خریدار کے نقصان کی تلافی ہونی چاہئے۔`
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم اپنے کسی بھائی کے ہاتھ (باغ کا) پھل بیچو پھر اس پھل پر کوئی آفت آ جائے (اور وہ تباہ و برباد ہو جائے) تو تمہارے لیے مشتری سے کچھ لینا جائز نہیں تم ناحق اپنے بھائی کا مال کس وجہ سے لو گے؟ ۱؎۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الإجارة /حدیث: 3470]
فوائد ومسائل:
فائدہ۔
نبی کریم ﷺ نے درختوں کے پھل کی بیع اس وقت کرنے کا حکم دیا۔
جب وہ پھل آفتوں سے محفوظ ہوچکا ہو۔
اگر بیع میں مسنون شرطوں کا لحاظ نہ رکھا گیا ہو تو اس قسم کے نقصان کی تلافی واجب ہے۔
اگر بنیادی طور پر بیع صحیح ہو اور آفتوں سے محفوظ ہوجانے کے وقت کے بعد کی جائے۔
تو تلافی کرنا مستحب ہے۔
واجب نہیں۔
   سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعدی، حدیث\صفحہ نمبر: 3470   

http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.