سنن ترمذي کل احادیث 3956 :حدیث نمبر
سنن ترمذي
کتاب: نماز میں سہو و نسیان سے متعلق احکام و مسائل
The Book on As-Shw
180. باب مَا جَاءَ فِي الرَّجُلِ يُسَلِّمُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ مِنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ
180. باب: غلطی سے ظہر یا عصر کی دو ہی رکعت میں سلام پھیر دینے والے کا حکم۔
حدیث نمبر: 399
پی ڈی ایف بنائیں مکررات اعراب
(مرفوع) حدثنا الانصاري، حدثنا معن، حدثنا مالك، عن ايوب بن ابي تميمة وهو: ايوب السختياني، عن محمد بن سيرين، عن ابي هريرة، ان النبي صلى الله عليه وسلم " انصرف من اثنتين، فقال له ذو اليدين: اقصرت الصلاة ام نسيت يا رسول الله، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: اصدق ذو اليدين، فقال الناس: نعم، فقام رسول الله صلى الله عليه وسلم فصلى اثنتين اخريين ثم سلم ثم كبر فسجد مثل سجوده او اطول ثم كبر فرفع ثم سجد مثل سجوده او اطول " قال ابو عيسى: وفي الباب عن عمران بن حصين , وابن عمر , وذي اليدين، قال ابو عيسى: وحديث ابي هريرة حديث حسن صحيح، واختلف اهل العلم في هذا الحديث، فقال بعض اهل الكوفة: إذا تكلم في الصلاة ناسيا او جاهلا او ما كان فإنه يعيد الصلاة، واعتلوا بان هذا الحديث كان قبل تحريم الكلام في الصلاة، قال: واما الشافعي فراى هذا حديثا صحيحا، فقال به، وقال: هذا اصح من الحديث الذي روي عن النبي صلى الله عليه وسلم في " الصائم إذا اكل ناسيا فإنه لا يقضي وإنما هو رزق رزقه الله "، قال الشافعي: وفرق هؤلاء بين العمد والنسيان في اكل الصائم بحديث ابي هريرة، وقال احمد في حديث ابي هريرة: إن تكلم الإمام في شيء من صلاته وهو يرى انه قد اكملها ثم علم انه لم يكملها يتم صلاته، ومن تكلم خلف الإمام وهو يعلم ان عليه بقية من الصلاة، فعليه ان يستقبلها، واحتج بان الفرائض كانت تزاد وتنقص على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم، فإنما تكلم ذو اليدين وهو على يقين من صلاته انها تمت، وليس هكذا اليوم ليس لاحد ان يتكلم على معنى ما تكلم ذو اليدين، لان الفرائض اليوم لا يزاد فيها ولا ينقص، قال احمد نحوا من هذا الكلام، وقال إسحاق نحو قول احمد في هذا الباب.(مرفوع) حَدَّثَنَا الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ أَبِي تَمِيمَةَ وَهُوَ: أَيُّوبُ السَّخْتِيَانِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " انْصَرَفَ مِنَ اثْنَتَيْنِ، فَقَالَ لَهُ ذُو الْيَدَيْنِ: أَقُصِرَتِ الصَّلَاةُ أَمْ نَسِيتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَصَدَقَ ذُو الْيَدَيْنِ، فَقَالَ النَّاسُ: نَعَمْ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى اثْنَتَيْنِ أُخْرَيَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ ثُمَّ كَبَّرَ فَسَجَدَ مِثْلَ سُجُودِهِ أَوْ أَطْوَلَ ثُمَّ كَبَّرَ فَرَفَعَ ثُمَّ سَجَدَ مِثْلَ سُجُودِهِ أَوْ أَطْوَلَ " قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَاب عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ , وَابْنِ عُمَرَ , وَذِي الْيَدَيْنِ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَحَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَاخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي هَذَا الْحَدِيثِ، فَقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْكُوفَةِ: إِذَا تَكَلَّمَ فِي الصَّلَاةِ نَاسِيًا أَوْ جَاهِلًا أَوْ مَا كَانَ فَإِنَّهُ يُعِيدُ الصَّلَاةَ، وَاعْتَلُّوا بِأَنَّ هَذَا الْحَدِيثَ كَانَ قَبْلَ تَحْرِيمِ الْكَلَامِ فِي الصَّلَاةِ، قَالَ: وَأَمَّا الشَّافِعِيُّ فَرَأَى هَذَا حَدِيثًا صَحِيحًا، فَقَالَ بِهِ، وقَالَ: هَذَا أَصَحُّ مِنَ الْحَدِيثِ الَّذِي رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي " الصَّائِمِ إِذَا أَكَلَ نَاسِيًا فَإِنَّهُ لَا يَقْضِي وَإِنَّمَا هُوَ رِزْقٌ رَزَقَهُ اللَّهُ "، قَالَ الشافعي: وَفَرَّقَ هَؤُلَاءِ بَيْنَ الْعَمْدِ وَالنِّسْيَانِ فِي أَكْلِ الصَّائِمِ بِحَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ، وقَالَ أَحْمَدُ فِي حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ: إِنْ تَكَلَّمَ الْإِمَامُ فِي شَيْءٍ مِنْ صَلَاتِهِ وَهُوَ يَرَى أَنَّهُ قَدْ أَكْمَلَهَا ثُمَّ عَلِمَ أَنَّهُ لَمْ يُكْمِلْهَا يُتِمُّ صَلَاتَهُ، وَمَنْ تَكَلَّمَ خَلْفَ الْإِمَامِ وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّ عَلَيْهِ بَقِيَّةً مِنَ الصَّلَاةِ، فَعَلَيْهِ أَنْ يَسْتَقْبِلَهَا، وَاحْتَجَّ بِأَنَّ الْفَرَائِضَ كَانَتْ تُزَادُ وَتُنْقَصُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِنَّمَا تَكَلَّمَ ذُو الْيَدَيْنِ وَهُوَ عَلَى يَقِينٍ مِنْ صَلَاتِهِ أَنَّهَا تَمَّتْ، وَلَيْسَ هَكَذَا الْيَوْمَ لَيْسَ لِأَحَدٍ أَنْ يَتَكَلَّمَ عَلَى مَعْنَى مَا تَكَلَّمَ ذُو الْيَدَيْنِ، لِأَنَّ الْفَرَائِضَ الْيَوْمَ لَا يُزَادُ فِيهَا وَلَا يُنْقَصُ، قَالَ أَحْمَدُ نَحْوًا مِنْ هَذَا الْكَلَامِ، وقَالَ إِسْحَاق نَحْوَ قَوْلِ أَحْمَدَ فِي هَذَا الْبَابِ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم (ظہر یا عصر کی) دو رکعت پڑھ کر (مقتدیوں کی طرف) پلٹے تو ذوالیدین نے آپ سے پوچھا: اللہ کے رسول! کیا نماز کم کر دی گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا ذوالیدین سچ کہہ رہے ہیں؟ لوگوں نے عرض کیا: ہاں (آپ نے دو ہی رکعت پڑھی ہیں) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور آخری دونوں رکعتیں پڑھیں پھر سلام پھیرا، پھر اللہ اکبر کہا، پھر اپنے پہلے سجدہ کی طرح یا اس سے کچھ لمبا سجدہ کیا، پھر اللہ اکبر کہا اور سر اٹھایا، پھر اپنے اسی سجدہ کی طرح یا اس سے کچھ لمبا سجدہ کیا۔ (یعنی سجدہ سہو کیا)
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے،
۲- اس باب میں عمران بن حصین، ابن عمر، ذوالیدین رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں،
۳- اس حدیث کے بارے میں اہل علم کے مابین اختلاف ہے۔ بعض اہل کوفہ کہتے ہیں کہ جب کوئی نماز میں بھول کر یا لاعلمی میں یا کسی بھی وجہ سے بات کر بیٹھے تو اسے نئے سرے سے نماز دہرانی ہو گی۔ وہ اس حدیث میں مذکور واقعہ کی تاویل یہ کرتے ہیں کہ یہ واقعہ نماز میں بات چیت کرنے کی حرمت سے پہلے کا ہے ۱؎،
۴- رہے امام شافعی تو انہوں نے اس حدیث کو صحیح جانا ہے اور اسی کے مطابق انہوں نے فتویٰ دیا ہے، ان کا کہنا ہے کہ یہ حدیث اُس حدیث سے زیادہ صحیح ہے جو روزہ دار کے سلسلے میں مروی ہے کہ جب وہ بھول کر کھا لے تو اس پر روزہ کی قضاء نہیں، کیونکہ وہ اللہ کا دیا ہوا رزق ہے۔ شافعی کہتے ہیں کہ ان لوگوں نے روزہ دار کے قصداً اور بھول کر کھانے میں جو تفریق کی ہے وہ ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث کی وجہ سے ہے،
۵- امام احمد ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث کے متعلق کہتے ہیں کہ اگر امام یہ سمجھ کر کہ اس کی نماز پوری ہو چکی ہے کوئی بات کر لے پھر اسے معلوم ہو کہ اس کی نماز پوری نہیں ہوئی ہے تو وہ اپنی نماز پوری کر لے، اور جو امام کے پیچھے مقتدی ہو اور بات کر لے اور یہ جانتا ہو کہ ابھی کچھ نماز اس کے ذمہ باقی ہے تو اس پر لازم ہے کہ وہ اسے دوبارہ پڑھے، انہوں نے اس بات سے دلیل پکڑی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں فرائض کم یا زیادہ کئے جا سکتے تھے۔ اور ذوالیدین رضی الله عنہ نے جو بات کی تھی تو وہ محض اس وجہ سے کہ انہیں یقین تھا کہ نماز کامل ہو چکی ہے اور اب کسی کے لیے اس طرح بات کرنا جائز نہیں جو ذوالیدین کے لیے جائز ہو گیا تھا، کیونکہ اب فرائض میں کمی بیشی نہیں ہو سکتی ۱؎،
۶- احمد کا قول بھی کچھ اسی سے ملتا جلتا ہے، اسحاق بن راہویہ نے بھی اس باب میں احمد جیسی بات کہی ہے۔

تخریج الحدیث: «صحیح البخاری/الأذان 88 (482)، والأذان 69 (714)، والسہو 3 (1227)، و4 (1228)، و85 (1367)، والأدب 45 (6051)، وأخبار الآحاد 1 (7250)، صحیح مسلم/المساجد 19 (573)، سنن ابی داود/ الصلاة 195 (1008)، سنن النسائی/السہو 22 (1225)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 134 (1214)، (تحفة الأشراف: 14449)، مسند احمد (2/235، 433، 460)، سنن الدارمی/الصلاة 175 (1538) (صحیح)»

وضاحت:
۱؎: اس پر ان کے پاس کوئی ٹھوس دلیل نہیں، صرف یہ کمزور دعویٰ ہے کہ یہ واقعہ نماز میں بات چیت ممنوع ہونے سے پہلے کا ہے، کیونکہ ذوالیدین رضی اللہ کا انتقال غزوہ بدر میں ہو گیا تھا، اور ابوہریرہ رضی الله عنہ نے یہ واقعہ کسی صحابی سے سن کر بیان کیا، حالانکہ بدر میں ذوالشمالین رضی الله عنہ کی شہادت ہوئی تھی نہ کہ ذوالیدین کی، نیز ابوہریرہ رضی الله عنہ نے صاف صاف بیان کیا ہے کہ میں اس واقعہ میں تھا (جیسا کہ مسلم اور احمد کی روایت میں ہے) پس یہ واقعہ نماز میں بات چیت ممنوع ہونے کے بعد کا ہے۔
۲؎: یہ بات مبنی بر دلیل نہیں ہے اگر بات ایسی ہی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت اس کی وضاحت کیوں نہیں فرما دی، اصولیین کے یہاں یہ مسلمہ اصول ہے کہ شارع علیہ السلام (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم) کے لیے یہ جائز نہیں تھا کہ کسی بات کو بتانے کی ضرورت ہو اور آپ نہ بتائیں۔

قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (1214)

   صحيح البخاري6051عبد الرحمن بن صخرصدق ذو اليدين فقام فصلى ركعتين ثم سلم ثم كبر فسجد مثل سجوده أو أطول ثم رفع رأسه وكبر ثم وضع مثل سجوده أو أطول ثم رفع رأسه وكبر
   صحيح البخاري715عبد الرحمن بن صخرصليت ركعتين فصلى ركعتين ثم سلم ثم سجد سجدتين
   صحيح البخاري714عبد الرحمن بن صخرأقصرت الصلاة أم نسيت يا رسول الله فقال رسول الله ص
   صحيح البخاري482عبد الرحمن بن صخرأنسيت أم قصرت الصلاة قال لم أنس ولم تقصر فقال أكما يقول ذو اليدين فقالوا نعم فتقدم فصلى ما ترك ثم سلم ثم كبر وسجد مثل سجوده أو أطول ثم رفع رأسه وكبر ثم كبر وسجد مثل سجوده أو أطول ثم رفع رأسه وكبر فربما سألوه ثم سلم فيقول نبئت أن عمران بن حصين قال ث
   صحيح البخاري7250عبد الرحمن بن صخرأقصرت الصلاة يا رسول الله أم نسيت فقال أصدق ذو اليدين فقال الناس نعم فقام رسول الله فصلى ركعتين أخريين ثم سلم ثم كبر ثم سجد مثل سجوده أو أطول ثم رفع ثم كبر فسجد مثل سجوده ثم رفع
   صحيح البخاري1228عبد الرحمن بن صخرأقصرت الصلاة أم نسيت يا رسول الله فقال رسول الله أصدق ذو اليدين فقال الناس نعم فقام رسول الله فصلى اثنتين أخريين ثم سلم ثم كبر فسجد مثل سجوده أو أطول ثم رفع
   صحيح البخاري1232عبد الرحمن بن صخرإن أحدكم إذا قام يصلي جاء الشيطان فلبس عليه حتى لا يدري كم صلى فإذا وجد ذلك أحدكم فليسجد سجدتين وهو جالس
   صحيح البخاري1227عبد الرحمن بن صخرالصلاة يا رسول الله أنقصت فقال النبي لأصحابه أحق ما يقول قالوا نعم فصلى ركعتين أخريين ثم سجد سجدتين
   صحيح البخاري1229عبد الرحمن بن صخرأقصرت الصلاة ورجل يدعوه النبي
   صحيح مسلم1265عبد الرحمن بن صخرإن أحدكم إذا قام يصلي جاءه الشيطان فلبس عليه حتى لا يدري كم صلى فإذا وجد ذلك أحدكم فليسجد سجدتين وهو جالس
   صحيح مسلم1290عبد الرحمن بن صخرسجد سجدتين وهو جالس بعد التسليم
   جامع الترمذي394عبد الرحمن بن صخرسجدهما بعد السلام
   جامع الترمذي397عبد الرحمن بن صخريسجد سجدتين وهو جالس
   جامع الترمذي399عبد الرحمن بن صخرأقصرت الصلاة أم نسيت يا رسول الله فقال رسول الله أصدق ذو اليدين فقال الناس نعم فقام رسول الله فصلى اثنتين أخريين ثم سلم ثم كبر فسجد مثل سجوده أو أطول ثم كبر فرفع ثم سجد مثل سجود
   سنن أبي داود1030عبد الرحمن بن صخرإن أحدكم إذا قام يصلي جاءه الشيطان فلبس عليه حتى لا يدري كم صلى فإذا وجد أحدكم ذلك فليسجد سجدتين وهو جالس
   سنن أبي داود1014عبد الرحمن بن صخرصلى الظهر فسلم في الركعتين فقيل له نقصت الصلاة فصلى ركعتين ثم سجد سجدتين
   سنن النسائى الصغرى1331عبد الرحمن بن صخرسلم ثم سجد سجدتي السهو وهو جالس ثم سلم
   سنن النسائى الصغرى1227عبد الرحمن بن صخرأصدق ذو اليدين فقالوا نعم فأتم رسول الله ما بقي من الصلاة ثم سجد سجدتين وهو جالس بعد التسليم
   سنن النسائى الصغرى1236عبد الرحمن بن صخرسجد في وهمه بعد التسليم
   سنن النسائى الصغرى1234عبد الرحمن بن صخرسجد يوم ذي اليدين سجدتين بعد السلام
   سنن النسائى الصغرى1231عبد الرحمن بن صخرما يقول ذو اليدين فقالوا صدق يا نبي الله فأتم بهم الركعتين اللتين نقص
   سنن النسائى الصغرى1230عبد الرحمن بن صخرأصدق ذو اليدين قالوا نعم فقام رسول الله فأتم الصلاة
   سنن النسائى الصغرى1228عبد الرحمن بن صخرصلى صلاة الظهر ركعتين ثم سلم فقالوا قصرت الصلاة فقام وصلى ركعتين ثم سلم ثم سجد سجدتين
   سنن النسائى الصغرى1226عبد الرحمن بن صخرأصدق ذو اليدين فقال الناس نعم فقام رسول الله فصلى اثنتين ثم سلم ثم كبر فسجد مثل سجوده أو أطول ثم رفع رأسه ثم سجد مثل سجوده أو أطول ثم رفع
   سنن النسائى الصغرى1225عبد الرحمن بن صخرلم أنس ولم تقصر الصلاة قال وقال أكما قال ذو اليدين قالوا نعم فجاء فصلى الذي كان تركه ثم سلم ثم كبر فسجد مثل سجوده أو أطول ثم رفع رأسه وكبر ثم كبر ثم سجد مثل سجوده أو أطول ثم رفع رأسه ثم كبر
   سنن النسائى الصغرى1253عبد الرحمن بن صخرإن أحدكم إذا قام يصلي جاءه الشيطان فلبس عليه صلاته حتى لا يدري كم صلى فإذا وجد أحدكم ذلك فليسجد سجدتين وهو جالس
   سنن النسائى الصغرى1229عبد الرحمن بن صخرلم تنقص الصلاة ولم أنس قال بلى والذي بعثك بالحق قال رسول الله أصدق ذو اليدين قالوا نعم فصلى بالناس ركعتين
   سنن ابن ماجه1214عبد الرحمن بن صخرلم تقصر ولم أنس قال فإنما صليت ركعتين قال أكما يقول ذو اليدين قالوا نعم فقام فصلى ركعتين ثم سلم ثم سجد سجدتين ثم سلم
   سنن ابن ماجه1216عبد الرحمن بن صخرالشيطان يأتي أحدكم في صلاته فيدخل بينه وبين نفسه حتى لا يدري زاد أو نقص فإذا كان ذلك فليسجد سجدتين قبل أن يسلم ثم يسلم
   سنن ابن ماجه1217عبد الرحمن بن صخرالشيطان يدخل بين ابن آدم وبين نفسه فلا يدري كم صلى فإذا وجد ذلك فليسجد سجدتين قبل أن يسلم
   موطا امام مالك رواية ابن القاسم133عبد الرحمن بن صخرإن احدكم إذا قام يصلي جاءه الشيطان فلبس عليه حتى لا يدري كم صلى، فإذا وجد ذلك احدكم فليسجد سجدتين وهو جالس
   موطا امام مالك رواية ابن القاسم135عبد الرحمن بن صخرانصرف من اثنتين، فقال له ذو اليدين: اقصرت الصلاة ام نسيت يا رسول الله
   موطا امام مالك رواية ابن القاسم136عبد الرحمن بن صخرصلى بنا رسول الله صلى الله عليه وسلم العصر فسلم فى ركعتين
   بلوغ المرام263عبد الرحمن بن صخر لم أنس ولم تقصر

تخریج الحدیث کے تحت حدیث کے فوائد و مسائل
  حافظ زبير على زئي رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث موطا امام مالك رواية ابن القاسم 133  
´اگر آدمی نماز میں بھول جائے تو کیا کرے`
«. . . ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: إن احدكم إذا قام يصلي جاءه الشيطان فلبس عليه حتى لا يدري كم صلى، فإذا وجد ذلك احدكم فليسجد سجدتين وهو جالس . . .»
. . . سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی آدمی نماز پڑھتا ہے تو اس کے پاس شیطان آ کر اس کی نماز کے بارے میں شک و شبہ ڈالتا ہے حتیٰ کہ اسے یہ پتا نہیں ہوتا کہ وہ کتنی نماز پڑھ چکا ہے۔ اگر تم میں سے کوئی شخص ایسی حالت پائے تو بیٹھے بیٹھے (آخری تشہد کے آخر میں) دو سجدے کرے . . . [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 133]

تخریج الحدیث:
[وأخرجه البخاري 1232، و مسلم 389/82 بعدح 529، من حديث ما لك به]

تفقه:
➊ خنزب نامی شیطان کا یہ کام ہے کہ وہ نمازیوں کے دلوں میں وسوسے ڈالتا ہے۔ [ديكهئے: صحيح مسلم 2203/68]
● غنیتہ الطالبین کی ایک موضوع (من گھڑت) روایت میں شیطان کے بارے میں حدیث کا لفظ آیا ہے جو کہ کتابت کی غلطی ہے۔
➋ نماز میں بھول چوک ہو جانے پر سجدہ سہو واجب و مسنون ہے۔
● رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا:
«لِكُلِّ سَهْوٍ سَجْدَتَانِ بَعْدَ مَا يُسَلِّمُ»
ہر سہو کے لئے سلام کے بعد دو سجدے ہیں۔ [سنن ابي داود: 1038، وسنده حسن]

تنبیہ:
دوسرے دلائل کو مدنظر رکھتے ہوئے سہو کے دو سجدے سلام سے پہلے بھی جائز ہیں اور سلام کے بعد بھی۔
➌ شیعوں کے امام ابن بابویہ القمی نے لکھا ہے:
«إن الغلاة والمفوضة لعنهم الله ينكرون سهو النبى صلى الله عليه وسلم.... وإنما أسهاه ليعلم أنه بشر مخلوق فلا يتخذ ربا معبودا دونه وليعلم الناس بسهوه حكم السهو»
اللہ تعالی کی غالیوں اور مفوضہ (رافضیوں) پر لعنت ہو، یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سہو (بھول) کا انکار کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔ اللہ نے آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کو اس لئے بھلایا تاکہ معلوم ہو جائے کہ آپ بشر مخلوق ہیں اور لوگ آپ کو رب معبود نہ بنا لیں، دوسرے یہ کہ لوگوں کو سہو کے احکام مسائل معلوم ہو جائیں۔ [من لايحضره و الفقيه ج 1ص 234]
➍ سجدہ سہو میں صرف ایک طرف سلام پھیرنا کسی حدیث سے ثابت نہیں ہے۔
● فتاویٰ عالمگیری میں بغیر دلیل کے لکھا ہوا ہے:
صحیح مسئلہ یہ ہے کہ ایک طرف سلام پھیرے یہی جمہور کا مذہب ہے۔ [1125/1]
● جمہور کی طرف یہ انتساب واقعہ کے خلاف اور حوالے کے بغیر ہونے کی وجہ سے مردود ہے۔
   موطا امام مالک روایۃ ابن القاسم شرح از زبیر علی زئی، حدیث\صفحہ نمبر: 24   
  حافظ زبير على زئي رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث موطا امام مالك رواية ابن القاسم 135  
´حدیث میں شک ہو تو اس کی تحقیق کرنا مسنون ہے`
«. . . ان رسول الله صلى الله عليه وسلم انصرف من اثنتين، فقال له ذو اليدين: اقصرت الصلاة ام نسيت يا رسول الله؟ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: اصدق ذو اليدين؟ فقال الناس: نعم. فقام رسول الله صلى الله عليه وسلم فصلى اثنتين اخريين ثم سلم ثم كبر فسجد مثل سجوده او اطول، ثم رفع ثم كبر فسجد مثل سجوده او اطول، ثم رفع . . .»
. . . سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعتیں پڑھ کر سلام پھیر دیا تو (ایک صحابی) ذوالیدین رضی اللہ عنہ نے آپ سے پوچھا: یا رسول اللہ! کیا نماز کم ہو گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (لوگوں سے) کہا: کیا ذوالیدین نے سچ کہا ہے؟ تو لوگوں نے کہا: جی ہاں! پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو گئے اور (ظہر یا عصر کی) آخری دو رکعتیں پڑھائیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا، پھر تکبیر کہی تو اپنے سجدوں کی طرح یا اس سے طویل سجدہ کیا پھر (تکبیر کہہ کر) سر اٹھایا پھر تکبیر کہی تو اپنے سجدوں کی طرح یا اس سے طویل سجدہ کیا . . . [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 135]

تخریج الحدیث:
[وأخرجه البخاري 1228، من حديث مالك به ورواه مسلم 573/97، من حديث أيوب السخياني به]

تفقه:
➊ اگر کوئی شخص نماز مکمل کرنے سے پہلے بھول کر سلام پھیر دے تو اسے چاہئے کہ اس نماز کو شمار کر کے باقی رکعتیں پڑھ کر آخر میں سجدہ سہو کرے۔ سجدہ سہو نماز کے سجدوں کے برابر یا طویل تر ہونا چاہئے۔
➋ بھول کر نماز میں کلام کرنے یا سلام پھیرنے سے نماز فاسد نہیں ہوتی۔
➌ اگر کسی حدیث میں شک ہو تو اس کی تحقیق کرنا مسنون ہے اور صحیح ثابت ہونے کے بعد اس پر عمل کرنا ضروری ہے۔
➍ انبیاء و رسل کو دنیاوی امور اور نماز وغیرہ میں سہو ہو سکتا ہے لیکن یاد رہے کہ تبلیغ دین، اخبارِ سابقہ اور حوالے بیان کرنے میں کبھی سہو نہیں ہو سکتا۔
➎ یقین کو شک کی بنیاد پر چھوڑنا جائز نہیں ہے۔
➏ اگر روایت میں مخالفت ہو اور تطبیق ممکن نہ ہو تو ایک کے مقابلے میں جماعت کی روایت ہی راجح ہے۔
➐ سجدہ سہو میں تکبیر مسنون ہے
➑ بعض الناس نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ یہ حدیث مضطرب ہے۔ اس دعوے کی تفصیلی ابطال کے لئے دیکھئے: [التمهيد 364/1]
➒ یہ کہنا کہ ذوالیدین رضی اللہ عنہ غزوہ بدر میں شہید ہو گئے تھے، غلط ہے کیونکہ غزوہ بدر میں تو ذوالشمالین رضی اللہ عنہ شہید ہوئے تھے اور ذوالیدین (خرباق رضی اللہ عنہ) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے کافی عرصہ بعد تک زندہ رہے ہیں۔
➓ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم غیب نہیں جانتے تھے ورنہ تحقیق کے لئے لوگوں سے کیوں سوال کرتے؟ نیز دیکھئے: [ح 156]
   موطا امام مالک روایۃ ابن القاسم شرح از زبیر علی زئی، حدیث\صفحہ نمبر: 128   
  حافظ زبير على زئي رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث موطا امام مالك رواية ابن القاسم 136  
´سجدہ سہو سلام سے پہلے اور سلام کے بعد دونوں طرح جائز ہے`
«. . . فاتم رسول الله صلى الله عليه وسلم ما بقي من الصلاة ثم سجد سجدتين وهو جالس بعد السلام . . .»
. . . رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے باقی رہ جانے والی نماز پوری کی پھر سلام کے بعد بیٹھے بیٹھے دو سجدے کئے . . . [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 136]

تخریج الحدیث:
[وأخرجه مسلم 573/99، من حديث ما لك به، و من رواية يحيى بن يحيي وجاء فى الأصل: حميد]

تفقه:
➊ نماز میں بھول کر کلام کرنے سے نماز فاسد نہیں ہوتی۔
➋ مختلف احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ سجدہ سہو سلام سے پہلے اور سلام کے بعد دونوں طرح جائز ہے لیکن یاد رہے کہ بعض آل تقلید کا سجدہ سہو میں صرف ایک طرف سلام پھیرنا سنت سے ثابت نہیں ہے۔ سلام کے بعد تشہد پڑھ کر سلام پھیرنا بھی صحیح ہے اور مکمل تشہد کے بعد دو سجدے کر کے سلام پھیر دینا بھی صحیح ہے۔
➌ ذوالیدبن خرباق طلال رضی اللہ عنہ غزوہ بدر میں شہید نہیں ہوئے تھے بلکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد بھی زندہ رہے۔ بدر میں شہید ہونے والے ذوالشمالین رضی اللہ عنہ تھے۔
➍ نماز میں بھول کر باتیں کرنے کا یہ واقعہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور یہ ان کی موجودگی میں ہوا تھا جیسا کہ حدیث کے الفاظ «صلّي بنا» سے ثابت ہے۔
➎ بعض الناس کا اپنے تقلیدی مذہب کی اندھی حمایت میں اس حدیث کو مضطرب قرار دینا غلط ہے۔
➏ اس حدیث سے صحابہ کرام کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جناب میں کمال ادب و احترام ثابت ہوتا ہے۔
➐ نیز دیکھئے: [الموطأ حديث: 128، 489، البخاري 1228، ومسلم 573/97]
   موطا امام مالک روایۃ ابن القاسم شرح از زبیر علی زئی، حدیث\صفحہ نمبر: 156   
  الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1030  
´غالب گمان کے مطابق رکعات پوری کرے اس کے قائلین کی دلیل کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھنے کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو شیطان اس کے پاس آتا ہے اور اسے شبہے میں ڈال دیتا ہے، یہاں تک کہ اسے یاد نہیں رہ جاتا کہ اس نے کتنی رکعتیں پڑھی ہیں؟ لہٰذا جب تم میں سے کسی کو ایسا محسوس ہو تو وہ بیٹھے بیٹھے دو سجدے کر لے۔‏‏‏‏ ابوداؤد کہتے ہیں: اسی طرح اسے ابن عیینہ، معمر اور لیث نے روایت کیا ہے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 1030]
1030۔ اردو حاشیہ:
حافظ ابن عبدالبر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث امام مالک، لیث اور ابن وہب وغیرہ کے نزدیک ایسے افراد کے لئے ہے جو وسوسے کے مریض ہوں۔ شک و شبہ ان سے کسی طرح دور ہوتا ہی نہ ہو اس قسم کے لوگ اپنے یقین کی بنیاد پر جب نماز مکمل کر لیں تو سجدے کر لیا کریں۔ [عون المعبود]
مذکورہ حدیث [1029] بھی بربنائے صحت اسی مفہوم پر محمول ہو گی۔
   سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعدی، حدیث\صفحہ نمبر: 1030   
  مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1214  
´دوسری یا تیسری رکعت میں بھول کر سلام پھیر دے تو اس کے حکم کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں عشاء (یعنی زوال کے بعد کی دو نمازوں ظہر یا عصر) میں سے کوئی نماز دو ہی رکعت پڑھائی، پھر سلام پھیر دیا، پھر مسجد میں پڑی ہوئی ایک لکڑی پر ٹیک لگا کر کھڑے ہو گئے، جلد باز لوگ تو یہ کہتے ہوئے نکل گئے کہ نماز کم ہو گئی، مقتدیوں میں ابوبکرو عمر رضی اللہ عنہما بھی تھے، لیکن وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ کہنے کی ہمت نہ کر سکے، لوگوں میں ذوالیدین نامی ایک لمبے ہاتھوں والے آدمی نے کہا: اللہ کے رسول! کیا نماز کم ہو گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں؟ آپ صلی ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1214]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
نماز باجماعت کے بعد اپنی جگہ سے اٹھ سکتے ہیں۔
اگرچہ مسجد میں دوسری جگہ بیٹھنے کا ارادہ ہو تاہم نماز کی جگہ بیٹھ رہنا ثواب کا باعث ہے۔
ایسے شخص کے لئے فرشتے دعایئں کرتے ہیں۔
دیکھئے: (سنن ابن ماجة، حدیث: 799)

(2)
کسی کی بات کی تحقیق کرلینا اس پر عدم اعتماد کا اظہار نہیں ہوتا۔
بلکہ یقین میں اضافے کے لئے ہوتا ہے۔

(3)
اگر کوئی شخص اپنی کسی خاص جسمانی ساخت (مثلا چھوٹا قد یادبلاجسم وغیرہ)
کی وجہ سے کسی خاص نام سے مشہور ہوجائے تو اسے اس نام سے ذکر کرنا جائزہے۔
جیسے رسول اللہ ﷺنے اس صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ذوالیدین (ہاتھوں  والا)
كہہ کر یاد فرمایا کیونکہ اس کے ہاتھ لمبے تھے لیکن اس نام سے پکارنے سے تحقیر ظاہر ہو تو یہ نام نہ لیں بلکہ بہتر نام یے ذکر کریں)

(4)
سلا م کے بعد سجدہ سہو کیا جائے تو اس کے بعد دوبارہ سلام پھیرنا چاہیے۔
   سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث\صفحہ نمبر: 1214   
  علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 263  
´سجود سہو وغیرہ کا بیان`
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بعد از دوپہر کی دو نمازوں (ظہر و عصر) میں سے ایک میں دو رکعت پڑھ کر سلام پھیر دیا اور مسجد کے سامنے رکھی ہوئی لکڑی کے پاس جا کر کھڑے ہو گئے اور اپنے ہاتھ اس پر رکھ لئے۔ نمازیوں میں سے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے، یہ دونوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں بات کرنے سے ذرا خوفزدہ تھے۔ جلد باز لوگ مسجد سے نکل گئے تو لوگوں نے آپس میں سرگوشی کے انداز میں ایک دوسرے سے پوچھنا شروع کیا کہ کیا نماز میں کمی کر دی گئی ہے؟ ایک آدمی تھا جسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (اس کے لمبے ہاتھوں کی وجہ سے) ذوالیدین کہہ کر بلاتے تھے، (اس) نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! آپ (آج) بھول گئے ہیں یا نماز کم کر دی گئی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہ میں بھولا ہوں اور نہ نماز میں کمی کی گئی ہے۔ اس شخص نے پھر عرض کیا ہاں آپ ضرور بھول گئے ہیں۔ تو پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعتیں (جو چھوٹ گئی تھیں) پڑھیں اور سلام پھیرا پھر «الله اكبر» کہہ کر معمول کے سجدوں کی طرح سجدہ کیا یا اس سے ذرا لمبا پھر سجدہ سے «الله اكبر» کہہ کر سر اوپر اٹھایا پھر «الله اكبر» کہہ کر (زمین پر) رکھا اور معمول کے سجدہ کی طرح یا ذرا اس سے طویل سجدہ کیا اور پھر «الله اكبر» کہہ کر اپنا سر اٹھایا۔ (بخاری و مسلم) یہ الفاظ بخاری کے ہیں۔ اور مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ یہ عصر کی نماز تھی اور ابوداؤد میں مروی روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ کیا ذوالیدین نے ٹھیک کہا ہے؟ تو لوگوں نے سر ہلا کر اشاروں سے کہا ہاں! یہ اضافہ صحیحین میں بھی ہے لیکن ان میں «فقالوا» کے لفظ کے ساتھ مروی ہے (یعنی زبان سے انہوں نے کہا) اور مسلم ہی کی ایک روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب تک اللہ کی جانب سے یقین نہ ہوا اس وقت سجدہ سہو نہیں کیا۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) «بلوغ المرام/حدیث: 263»
تخریج:
«أخرجه البخاري، الصلاة، باب تشبيك الأصابع في المسجد وغيره، حديث:482، والسهو، باب يكبر في سجدتي السهو، حديث:1229، ومسلم، المساجد، باب السهو في الصلاة، حديث:573، وأبوداود، الصلاة، حديث:1008، وهو حديث صحيح، وحديث:"ولم يسجد حتي يقَّنه الله تعاليٰ ذلك" أخرجه أبوداود، الصلاة، حديث:1012 وسنده ضعيف، فيه محمد بن كثير الصنعاني وهو ضعيف، ضعفه الجمهور من جهة سوء حفظه واختلط أيضًا.»
تشریح:
1. اس حدیث سے ثابت ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سہو سرزد ہوا ہے اور یہ نبوت کے منافی نہیں۔
2.اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ آپ بھی انسان تھے۔
سہو وغیرہ ایک انسان سے ہی سرزد ہوتا ہے۔
جس طرح آپ نے فرمایا: «إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ أَنْسٰی کَمَا تَنْسَوْنَ فَإِذَا نَسِیتُ فَذَکِّرُونِي» (صحیح مسلم‘ المساجد‘ باب السھو في الصلاۃ والسجودلہ‘ حدیث:۵۷۲) نیز یہ بھی معلوم ہوا کہ آپ عالم الغیب نہ تھے اور نہ آپ نے کبھی عالم ما کان وما یکون ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔
اگر آپ کو علم غیب ہوتا تو سہو نہ ہوتا اور پھر تصدیق کے لیے لوگوں سے دریافت نہ فرماتے کہ کیا ذوالیدین نے ٹھیک اور سچ کہا ہے؟ سہو کی تصدیق ہونے پر اسے تسلیم کر لیا۔
3. اگر غلطی سرزد ہو جانے پر کوئی اصلاح کرے تو اسے ثابت ہو جانے پر مان لینا چاہیے۔
4. اس سے یہ بھی ثابت ہوا کہ سجدۂ سہو کرتے اور اٹھتے وقت اللہ اکبر کہنا چاہیے۔
5.اس حدیث سے سجدۂ سہو سلام سے پہلے ثابت ہے۔
6.یہ بھی معلوم ہوا کہ پہلا تشہد بھول جائے تو اس کی تلافی سہو کے دو سجدوں سے ہو جاتی ہے۔
7. اس حدیث میں تو صرف «صَلَّی النَّبِيُّ» ہے‘ مگر بعض روایات میں «صَلّٰی بِنَا» کے الفاظ منقول ہیں‘ یعنی ہمیں نماز پڑھائی۔
(صحیح البخاري‘ الصلاۃ‘ حدیث: ۴۸۲) اس صورت میں راوئ حدیث بھی ان نمازیوں میں شریک تھے‘ لہٰذا معلوم ہوا کہ یہ حدیث قرآن مجید کی آیت: ﴿ قُوْمُوْا لِلّٰہِ قَانِتِیْنَ ﴾ سے منسوخ نہیں کیونکہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اس آیت کے نزول سے چار پانچ سال بعد اسلام لائے ہیں۔
صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی یہ گفتگو سہواً نہیں قصداً ہوئی ہے‘ لہٰذا سلام کے بعد اصلاح نماز کے لیے اتنی سی بات نماز کو باطل نہیں کرتی۔
8. مذکورہ حدیث کے آخری ٹکڑے «وَلَمْ یَسْجُدْ حَتّٰی یَقَّنَہُ اللّٰہُ تَعَالٰی ذٰلِکَ» کی بابت علمائے محققین لکھتے ہیں کہ یہ ضعیف ہے۔
وضاحت: «حضرت خرباق بن عمرو سلمی رضی اللہ عنہ» ‏‏‏‏ بنو سلیم سے ہونے کی وجہ سے سلمی کہلائے۔
سہیلی نے الروض الأنف میں لکھا ہے کہ انھوں نے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں وفات پائی۔
اور ابوعوانہ نے اپنی صحیح میں کہا ہے کہ انھوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں مقام ذی خشب پر وفات پائی۔
اور بعض روایات میں ذوالیدین کی بجائے ذوالشمالین بھی وارد ہے۔
بعض کا خیال ہے کہ دونوں سے ایک ہی شخص مراد ہے جبکہ یہ وہم ہے۔
صحیح بات یہی ہے کہ یہ دو شخص تھے۔
اس کی دلیل یہ ہے کہ ذوالشمالین بدر میں شہید ہوئے ہیں اور یہ واقعہ بیان کرنے والے حضرت ابوہریرہ اور حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہم ہیں اور یہ دونوں غزوۂ خیبر کے سال اسلام لائے ہیں۔
اور انھوں نے ذوالیدین کا اس واقعہ میں ذکر کیا ہے۔
اور یہ اسی وقت ہی ہوسکتا ہے جب ذوالیدین کو اس وقت زندہ مانا جائے اور اسے ذوالشمالین سے الگ سمجھا جائے۔
   بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث\صفحہ نمبر: 263   
  الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 399  
´غلطی سے ظہر یا عصر کی دو ہی رکعت میں سلام پھیر دینے والے کا حکم۔`
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم (ظہر یا عصر کی) دو رکعت پڑھ کر (مقتدیوں کی طرف) پلٹے تو ذوالیدین نے آپ سے پوچھا: اللہ کے رسول! کیا نماز کم کر دی گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا ذوالیدین سچ کہہ رہے ہیں؟ لوگوں نے عرض کیا: ہاں (آپ نے دو ہی رکعت پڑھی ہیں) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور آخری دونوں رکعتیں پڑھیں پھر سلام پھیرا، پھر اللہ اکبر کہا، پھر اپنے پہلے سجدہ کی طرح یا اس سے کچھ لمبا سجدہ کیا، پھر اللہ اکبر کہا اور سر اٹھایا، پ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/أبواب السهو/حدیث: 399]
اردو حاشہ:
1؎:
اس پر ان کے پاس کوئی ٹھوس دلیل نہیں،
صرف یہ کمزور دعوی ہے کہ یہ واقعہ نماز میں بات چیت ممنوع ہونے سے پہلے کا ہے،
کیونکہ ذوالیدین رضی اللہ کا انتقال غزوہ بدر میں ہو گیا تھا،
اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے یہ واقعہ کسی صحابی سے سن کر بیان کیا،
حالانکہ بدر میں ذوالشمالین رضی اللہ عنہ کی شہادت ہوئی تھی نہ کہ ذوالیدین کی،
نیز ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے صاف صاف بیان کیا ہے کہ میں اس واقعہ میں تھا (جیسا کہ مسلم اور احمد کی روایت میں ہے) پس یہ واقعہ نماز میں بات چیت ممنوع ہونے کے بعد کا ہے۔

2؎:
یہ بات مبنی بر دلیل نہیں ہے اگر بات ایسی ہی تھی تو آپ ﷺ نے اس وقت اس کی وضاحت کیوں نہیں فرما دی،
اصولیین کے یہاں یہ مسلمہ اصول ہے کہ شارع علیہ السلام (نبی اکرم ﷺ) کے لیے یہ جائز نہیں تھا کہ کسی بات کو بتانے کی ضرورت ہو اور آپ نہ بتائیں۔
   سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث\صفحہ نمبر: 399   
  الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 394  
´سلام اور کلام کے بعد سجدہ سہو کرنے کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سہو کے دونوں سجدے سلام کے بعد کئے۔ [سنن ترمذي/أبواب السهو/حدیث: 394]
اردو حاشہ:
1؎:
سفیان ثوری،
اہل کوفہ اور ابو حنیفہ کا قول محض رائے پر مبنی ہے،
جب کہ آئمہ کرام مالک بن انس،
شافعی،
احمد بن حنبل اور بقول امام نووی سلف و خلف کے تمام جمہور علماء مذکور بالا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ والی صحیح حدیث کی بنیاد پر یہی فتویٰ دیتے اور اسی پر عمل کرتے ہیں،
کہ اگر کوئی بھول کر اپنی نماز میں ایک رکعت اضافہ کر بیٹھے تو اُس کی نماز نہ باطل ہو گی اور نہ ہی فاسد،
بلکہ سلام سے پہلے اگر یاد آ جائے تو سلام سے قبل سہو کے دو سجدے کر لے اور اگر سلام کے بعد یاد آئے تو بھی سہو کے دو سجدے کر لے،
یہی اُس کے لیے کا فی ہے،
اس لیے کہ نبی اکرم ﷺ نے ایسا ہی کیا تھا اور آپ نے کوئی اور رکعت پڑھ کر اس نماز کو جُفت نہیں بنایا تھا۔
(دیکھئے:
تحفۃ الأحوذی: 1/304طبع ملتان)
   سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث\صفحہ نمبر: 394   

http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.