سنن ترمذي کل احادیث 3956 :حدیث نمبر
سنن ترمذي
کتاب: نماز میں سہو و نسیان سے متعلق احکام و مسائل
The Book on As-Shw
208. باب مَا جَاءَ أَنَّهُ يُصَلِّيهِمَا فِي الْبَيْتِ
208. باب: مغرب کی دو رکعت سنت گھر میں پڑھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 433
پی ڈی ایف بنائیں مکررات اعراب
(مرفوع) حدثنا الحسن بن علي الحلواني الخلال، حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا معمر، عن ايوب، عن نافع، عن ابن عمر، قال: " حفظت عن رسول الله صلى الله عليه وسلم عشر ركعات كان يصليها بالليل والنهار ركعتين قبل الظهر وركعتين بعدها وركعتين بعد المغرب وركعتين بعد العشاء الآخرة ". قال: وحدثتني حفصة انه كان يصلي قبل الفجر ركعتين. هذا حديث حسن صحيح.(مرفوع) حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ الْخَلَّالُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: " حَفِظْتُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشْرَ رَكَعَاتٍ كَانَ يُصَلِّيهَا بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الظُّهْرِ وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَهَا وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ ". قَالَ: وَحَدَّثَتْنِي حَفْصَةُ أَنَّهُ كَانَ يُصَلِّي قَبْلَ الْفَجْرِ رَكْعَتَيْنِ. هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دس رکعتیں یاد ہیں جنہیں آپ رات اور دن میں پڑھا کرتے تھے: دو رکعتیں ظہر سے پہلے ۱؎، دو اس کے بعد، دو رکعتیں مغرب کے بعد، اور دو رکعتیں عشاء کے بعد، اور مجھ سے حفصہ رضی الله عنہا نے بیان کیا ہے کہ آپ فجر سے پہلے دو رکعتیں پڑھتے تھے۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

تخریج الحدیث: «صحیح البخاری/التہجد 34 (1180)، (تحفة الأشراف: 7534) (صحیح)»

وضاحت:
۱؎: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ظہر کے فرضوں سے پہلے چار رکعت پڑھنا ثابت ہے، مگر یہاں دو کا ذکر ہے، حافظ ابن حجر نے دونوں میں تطبیق یوں دی ہے کہ آپ کبھی ظہر سے پہلے دو رکعتیں پڑھ لیا کرتے تھے اور کبھی چار۔

قال الشيخ الألباني: صحيح، الإرواء (440)

   صحيح البخاري937عبد الله بن عمريصلي قبل الظهر ركعتين وبعدها ركعتين بعد المغرب ركعتين في بيته وبعد العشاء ركعتين لا يصلي بعد الجمعة حتى ينصرف فيصلي ركعتين
   صحيح البخاري1165عبد الله بن عمرصليت مع رسول الله ركعتين قبل الظهر وركعتين بعد الظهر ركعتين بعد الجمعة ركعتين بعد المغرب ركعتين بعد العشاء
   صحيح البخاري1172عبد الله بن عمرصليت مع النبي سجدتين قبل الظهر وسجدتين بعد الظهر سجدتين بعد المغرب سجدتين بعد العشاء سجدتين بعد الجمعة
   صحيح البخاري1180عبد الله بن عمرعشر ركعات ركعتين قبل الظهر ركعتين بعدها ركعتين بعد المغرب في بيته ركعتين بعد العشاء في بيته ركعتين قبل صلاة الصبح كانت ساعة لا يدخل على النبي
   صحيح مسلم1698عبد الله بن عمرصليت مع رسول الله قبل الظهر سجدتين وبعدها سجدتين بعد المغرب سجدتين بعد العشاء سجدتين بعد الجمعة سجدتين
   جامع الترمذي425عبد الله بن عمرصليت مع النبي ركعتين قبل الظهر وركعتين بعدها
   جامع الترمذي433عبد الله بن عمرعشر ركعات كان يصليها بالليل والنهار ركعتين قبل الظهر وركعتين بعدها وركعتين بعد المغرب وركعتين بعد العشاء الآخرة
   سنن أبي داود1252عبد الله بن عمريصلي قبل الظهر ركعتين وبعدها ركعتين وبعد المغرب ركعتين في بيته وبعد صلاة العشاء ركعتين لا يصلي بعد الجمعة حتى ينصرف فيصلي ركعتين
   سنن النسائى الصغرى874عبد الله بن عمريصلي قبل الظهر ركعتين وبعدها ركعتين وكان يصلي بعد المغرب ركعتين في بيته وبعد العشاء ركعتين لا يصلي بعد الجمعة حتى ينصرف فيصلي ركعتين
   موطا امام مالك رواية ابن القاسم149عبد الله بن عمريصلي قبل الظهر ركعتين، وبعدها ركعتين، وبعد المغرب ركعتين فى بيته
   بلوغ المرام281عبد الله بن عمرركعتين قبل الظهر وركعتين بعدها وركعتين بعد المغرب في بيته وركعتين بعد العشاء في بيته وركعتين قبل الصبح

تخریج الحدیث کے تحت حدیث کے فوائد و مسائل
  حافظ زبير على زئي رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث موطا امام مالك رواية ابن القاسم 149  
´ظہر، مغرب، عشاء اور جمعہ کی سنتیں`
«. . . وبه: ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يصلي قبل الظهر ركعتين، وبعدها ركعتين، وبعد المغرب ركعتين فى بيته، وبعد صلاة العشاء ركعتين، وكان لا يصلي بعد الجمعة حتى ينصرف فيصلي ركعتين . . .»
. . . سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر سے پہلے دو رکعتیں اور بعد میں دو رکعتیں پڑھتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم مغرب کے بعد اپنے گھر میں دو رکعتیں پڑھتے تھے اور عشاء کے بعد دو رکعتیں پڑھتے تھے۔ آپ جمعہ (پڑھنے) کے بعد (گھر) واپس آنے تک کچھ بھی نہیں پڑھتے تھے پھر (گھر آ کر) دو رکعتیں پڑھتے تھے . . . [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 149]

تخریج الحدیث: [وأخرجه البخاري 937، ومسلم 882، من حديث مالك به]
تفقه:
① اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نوافل کا ذکر ہے اور امت کے لئے یہ نمازیں سنت ہیں۔
② ظہر کی فرض نماز سے پہلے چار سنتیں بھی ثابت ہیں۔ دیکھئے: [صحيح مسلم 730، ترقيم دارالسلام 1699]
جو شخص ظہر سے پہلے چار رکعتیں اور بعد میں چار رکعتیں پڑھے گا تو الله تعالیٰ اس کے جسم کو (جہنم کی) آگ پر حرام قرار دے گا۔ [سنن النسائي 264/3، 265 ح 1813، وسنده حسن]
③ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: الله اس آدمی پر رحم کرے جو عصر سے پہلے چار رکعتیں پڑھتا ہے۔ [سنن ابي داود: 1271، وسنده حسن] عصر سے پہلے دو رکعتیں بھی ثابت ہیں۔ دیکھئے: [سنن ابي داود 1242، وسنده حسن لذاته]
④ دن ہو یا رات نفل و سنت نمازیں دو دو رکعتیں کر کے پڑھنی چاہیئں۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: رات اور دن کی (نفل) نماز دو دو رکعتیں ہے۔ [السنن الكبريٰ للبيهقي 487/2 وسنده صحيح]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رات اور دن کی نماز دو دو رکعتیں ہے - [سنن ابي داود، 1295، وسنده حسن]
⑤ نافع سے روایت ہے کہ (سیدنا) عبدالله بن عمر رضی اللہ عنہ رات کو دو دو رکعتیں اور دن کو چار رکعتیں پڑھتے تھے پھر سلام پھیرتے تھے۔ [مصنف عبدالرزاق 5٠1/2 ح4225 وسنده حسن، الاوسط لابن المنذر 236/5 ح2773 وعنده: عبيد الله بن عمر!]
ابن عمر رضی اللہ عنہ دن کو چار چار رکعتیں پڑھتے تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه 274/2 ح6634 وسنده صحيح]
معلوم ہوا کہ ایک سلام سے چار رکعتیں جائز ہیں لیکن بہتر یہ ہے کہ دو دو رکعتیں پڑھی جائیں۔
⑥ نماز جمعہ سے پہلے دو رکعتیں پڑھنا مسنون ہے اور جمعہ کے بعد دو پڑھیں یا چار دونوں طرح ثابت ہے۔
   موطا امام مالک روایۃ ابن القاسم شرح از زبیر علی زئی، حدیث\صفحہ نمبر: 200   
  فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 874  
´ظہر کے بعد سنت پڑھنے کا بیان۔`
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر سے پہلے دو رکعت سنت پڑھتے تھے، اور اس کے بعد بھی دو رکعت پڑھتے تھے، اور مغرب کے بعد دو رکعت اپنے گھر میں پڑھتے، اور عشاء کے بعد بھی دو رکعت پڑھتے، اور جمعہ کے بعد مسجد میں کچھ نہیں پڑھتے یہاں تک کہ جب گھر لوٹ آتے تو دو رکعت پڑھتے۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 874]
874 ۔ اردو حاشیہ:
➊ حدیث میں ظہر سے پہلے دو رکعت بھی منقول ہیں اور چار بھی، لہٰذا دونوں طرح جائز ہے، نیز جس روایت میں بارہ رکعت کی فضیلت کا ذکر ہے، اس میں ظہر سے پہلے چارہی بنتی ہیں۔ دیکھیے: [صحیح مسلم، صلاة المسافرین، حدیث: 728، 730]
ممکن ہے کبھی کبھار دو بھی پڑھ لیتے ہوں۔ یا اگر پہلے دو پڑھتے ہوں تو بعد میں چار پڑھ لیتے ہوں کیونکہ بعض روایات میں ظہر کے بعد چار رکعت کا بھی ذکر ہے۔ گویا مجموعی طور پر بارہ ہونی چاہئیں۔ بہتر یہ ہے کہ جس جس طرح ان کا طریقہ احادیث میں مروی ہے، اس طرح ادا کی جائیں۔
➋ جمعے کے بعد دو رکعت پڑھنے کا ذکر ہے۔ [صحیح مسلم، الجمعة، حدیث: 882]
اور ایک قولی روایت میں چار رکعت کا ذکر ہے کہ جسے جمعے کے بعد نماز پڑھنی ہو، وہ چار رکعت پڑھے۔ دیکھیے: [صحیح مسلم، الجمعة، حدیث: 881]
ان روایات کی رو سے بعض علماء نے چار کو مسجد سے اور دوکو گھر سے خاص کیا ہے۔ لیکن اس تخصیص کی ضرورت نہیں، مرضی پر موقوف ہے، چاہے چار پڑھے اور چاہے تو دو، لیکن چار کی اہمیت اپنی جگہ مسلم ہے۔ بعض علماء دونوں کو جمع کرنے کے قائل ہیں، یعنی مسجد میں چار پڑھے اور گھر میں جاکر مزید دو پڑھے۔ اگرچہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے چھ رکعات کا عمل ملتا ہے لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس طریقے کا ثبوت نہیں ملتا۔ یہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کا ذاتی اجتہاد یا ان کی رائے تھی جس کی حیثیت یقیناًً مرفوع حدیث کی نہیں، اس لیے بہتر طریقہ یہی ہے کہ بجائے دو اور چار کو جمع کرنے کے الگ الگ طور پر دونوں پر عمل کر لیا جائے، یعنی کسی جمعے دو پڑھ لیں اور کسی جمعے چار، ان شاء اللہ یہ سنت کے اقرب عمل ہو گا۔ واللہ أعلم۔
   سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث\صفحہ نمبر: 874   
  علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 281  
´نفل نماز کا بیان`
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دس رکعتیں یاد ہیں۔ دو رکعتیں ظہر کی نماز سے پہلے اور دو بعد میں اور مغرب کے بعد دو رکعتیں گھر پر ادا کرتے تھے۔ اسی طرح دو رکعتیں عشاء کی فرض نماز کے بعد گھر پر اور دو رکعتیں صبح سے پہلے۔ (بخاری و مسلم) اور بخاری و مسلم دونوں کی روایت میں یہ بھی ہے کہ دو رکعتیں نماز جمعہ کی (فرض) نماز کے بعد گھر پر پڑھتے تھے۔ اور مسلم کی روایت میں یہ بھی ہے کہ صبح صادق کے بعد صرف ہلکی سی دو رکعتیں ادا فرمایا کرتے تھے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 281»
تخریج:
«أخرجه البخاري، التهجد، باب التطوع بعد المكتوبة، حديث:1172، ومسلم، صلاة المسافرين، باب فضل السنن الراتبة قبل الفرائض وبعدهن، حديث:729، وحديث "كان إذا طلع الفجر لا يصلي إلا ركعتين خفيفتين"، حديث:723.»
تشریح:
1. اس حدیث سے ظہر کی صرف دو رکعتیں فرض نماز سے پہلے اور دو رکعتیں بعد کی ثابت ہوتی ہیں اور دوسری حدیث سے چار پہلے اور دو بعد میں پڑھنے کا ثبوت بھی موجود ہے۔
دیکھیے: (صحیح مسلم‘ صلاۃ المسافرین‘ حدیث:۷۲۸.۷۳۰) 2. سنن نسائی اور بعض دوسری کتب حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجۂ محترمہ ام المومنین حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے مروی یہ حدیث بھی موجود ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص نماز ظہر سے پہلے اور نماز ظہر کے بعد چار چار رکعتیں پڑھے‘ اللہ عزوجل نے جہنم کی آگ پر اس شخص کا گوشت حرام فرما دیا ہے۔
(سنن النسائي‘ قیام اللیل‘ حدیث:۱۸۱۳)
   بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث\صفحہ نمبر: 281   
  الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 433  
´مغرب کی دو رکعت سنت گھر میں پڑھنے کا بیان۔`
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دس رکعتیں یاد ہیں جنہیں آپ رات اور دن میں پڑھا کرتے تھے: دو رکعتیں ظہر سے پہلے ۱؎، دو اس کے بعد، دو رکعتیں مغرب کے بعد، اور دو رکعتیں عشاء کے بعد، اور مجھ سے حفصہ رضی الله عنہا نے بیان کیا ہے کہ آپ فجر سے پہلے دو رکعتیں پڑھتے تھے۔ [سنن ترمذي/أبواب السهو/حدیث: 433]
اردو حاشہ:
1؎:
نبی اکرم ﷺ کی ظہر کے فرضوں سے پہلے چار رکعت پڑھنا ثابت ہے،
مگر یہاں دو کا ذکر ہے،
حافظ ابن حجر نے دونوں میں تطبیق یوں دی ہے کہ آپ کبھی ظہر سے پہلے دو رکعتیں پڑھ لیا کرتے تھے اور کبھی چار۔
   سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث\صفحہ نمبر: 433   
  الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 425  
´ظہر کے بعد دو رکعت سنت پڑھنے کا بیان۔`
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ظہر سے پہلے دو رکعتیں ۱؎ اور اس کے بعد دو رکعتیں پڑھیں۔ [سنن ترمذي/أبواب السهو/حدیث: 425]
اردو حاشہ:
 
1؎:
اس سے پہلے والی روایت میں ظہر سے پہلے چار رکعتوں کا ذکر ہے اور اس میں دو ہی رکعت کا ذکر ہے دونوں صحیح ہیں،
حالات و ظروف کے لحاظ سے ان دونوں میں سے کسی پر بھی عمل کیا جا سکتا ہے۔
البتہ دونوں پرعمل زیادہ افضل ہے۔
   سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث\صفحہ نمبر: 425   

http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.