الحمدللہ ! قرآن پاک روٹ ورڈ سرچ اور مترادف الفاظ کی سہولت پیش کر دی گئی ہے۔

 
صحيح مسلم کل احادیث 3033 :ترقیم فواد عبدالباقی
صحيح مسلم کل احادیث 7563 :حدیث نمبر
صحيح مسلم
معاشرتی آداب کا بیان
3. باب اسْتِحْبَابِ تَغْيِيرِ الاِسْمِ الْقَبِيحِ إِلَى حَسَنٍ وَتَغْيِيرِ اسْمِ بَرَّةَ إِلَى زَيْنَبَ وَجُوَيْرِيَةَ وَنَحْوِهِمَا:
3. باب: برے نام کا بدل ڈالنا مستحب ہے اور برّہ کو زینب سے بدلنے کے استحباب کے بیان میں۔
حدیث نمبر: 5604
پی ڈی ایف بنائیں اعراب
حدثنا احمد بن حنبل ، وزهير بن حرب ، ومحمد بن المثنى ، وعبيد الله بن سعيد ، ومحمد بن بشار ، قالوا: حدثنا يحيي بن سعيد ، عن عبيد الله ، اخبرني نافع ، عن ابن عمر " ان رسول الله صلى الله عليه وسلم غير اسم عاصية، وقال: انت جميلة ". قال احمد مكان، اخبرني عن.حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بشار ، قَالُوا: حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيَّرَ اسْمَ عَاصِيَةَ، وَقَالَ: أَنْتِ جَمِيلَةُ ". قَالَ أَحْمَدُ مَكَانَ، أَخْبَرَنِي عَنْ.
احمد بن حنبل، زہیر بن حرب، محمد بن مثنیٰ، عبیداللہ بن سعید اور محمد بن بشار نے (ان سب نے) کہا: ہمیں یحییٰ بن سعید نے عبیداللہ سے حدیث بیان کی، کہا: مجھے نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عاصیہ (نافرمانی کرنے والی) کانام تبدیل کردیا اور فرمایا: "تم جمیلہ (خوبصورت) ہو۔" احمد نے"مجھے خبر دی" کی جگہ" سے روایت ہے۔"کہا ہے۔
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عاصیہ (نافرمان) نام بدل کر فرمایا: تم جمیلہ ہو۔
ترقیم فوادعبدالباقی: 2139

   صحيح مسلم5605عبد الله بن عمرسماها رسول الله جميلة
   صحيح مسلم5604عبد الله بن عمرغير اسم عاصية وقال أنت جميلة
   جامع الترمذي2838عبد الله بن عمرغير اسم عاصية وقال أنت جميلة
   سنن أبي داود4952عبد الله بن عمرغير اسم عاصية وقال أنت جميلة
   سنن ابن ماجه3733عبد الله بن عمرسماها رسول الله جميلة

تخریج الحدیث کے تحت حدیث کے فوائد و مسائل
  مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3733  
´نا مناسب ناموں کی تبدیلی کا بیان۔`
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ کی ایک بیٹی کا نام عاصیہ تھا (یعنی گنہگار، نافرمان) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نام بدل کر جمیلہ رکھ دیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3733]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(عاصية)
کا مطلب نافرمان ہے۔
مسلمان فرماں بردار ہوتا ہے، اس لیے یہ نام ناپسندیدہ ہے۔
فرعون کی مومن بیوی کا نام حضرت آسیہ تھا۔
یہ نام رکھنا جائز ہے۔
   سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث\صفحہ نمبر: 3733   
  الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 2838  
´خراب نام کی تبدیلی کا بیان۔`
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے «عاصیہ» کا نام بدل دیا اور کہا (آج سے) تو «جمیلہ» یعنی: تیرا نام جمیلہ ہے ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الأدب/حدیث: 2838]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
معلوم ہوا کہ ایسے نام جو برے ہوں انہیں بدل کر ان کی جگہ اچھا نام رکھ دیا جائے۔
   سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث\صفحہ نمبر: 2838   
  الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4952  
´برے نام کو بدل دینے کا بیان۔`
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عاصیہ کا نام بدل دیا ۱؎، اور فرمایا: تو جمیلہ ہے ۲؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4952]
فوائد ومسائل:
عرب لوگ عاس اور عاصیہ نام رکھتے تھے۔
ان سے مراد ہوتی تھے ظلم و ذیادتی اور برائی سے انکار کرنے والا کرنے والی۔
مگر اس میں عصیان نافرمانی کا مفہوم بھی ہے۔
اس لیے اس نام کو بدل دیا گیا۔
   سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعدی، حدیث\صفحہ نمبر: 4952   
  الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 5604  
1
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین قسم کے ناموں سے روکا ہے (1)
جن کا معنی ناپسندیدہ ہے،
جیسے عاصیہ،
یعنی نافرمان،
حالانکہ ایک مسلمان کے لیے نافرمانی زیبا نہیں ہے،
چہ جائیکہ کہ اس کا نام نافرمان رکھ دیا جائے۔
(2)
جن ناموں سے بدشگونی کا اندیشہ ہے،
جبکہ بدشگونی جائز نہیں ہے،
جیسے افلح،
نجیح اور یسار وغیرہ۔
(3)
جن میں اپنا تزکیہ اور صفائی پیش کی گئی ہے،
جیسے برہ،
وفادار،
اطاعت گزار،
اگرچہ یہ دوسری قسم میں بھی داخل ہے اور اس سے بدشگونی کا اندیشہ ہے یعنی نفی کی صورت میں۔
   تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث\صفحہ نمبر: 5604   

http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.