الحمدللہ ! قرآن پاک روٹ ورڈ سرچ اور مترادف الفاظ کی سہولت پیش کر دی گئی ہے۔

 
صحيح البخاري کل احادیث 7563 :حدیث نمبر
صحيح البخاري
کتاب: مشروبات کے بیان میں
The Book of Drinks
25. بَابُ النَّهْيِ عَنِ التَّنَفُّسِ فِي الإِنَاءِ:
25. باب: برتن میں سانس نہیں لینا چاہیئے۔
(25) Chapter. It is forbidden to breathe in the vessel (while drinking water).
حدیث نمبر: 5630
پی ڈی ایف بنائیں مکررات اعراب English
(مرفوع) حدثنا ابو نعيم، حدثنا شيبان، عن يحيى، عن عبد الله بن ابي قتادة، عن ابيه، قال:" قال رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا شرب احدكم فلا يتنفس في الإناء، وإذا بال احدكم فلا يمسح ذكره بيمينه، وإذا تمسح احدكم فلا يتمسح بيمينه".(مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:" قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا شَرِبَ أَحَدُكُمْ فَلَا يَتَنَفَّسْ فِي الْإِنَاءِ، وَإِذَا بَالَ أَحَدُكُمْ فَلَا يَمْسَحْ ذَكَرَهُ بِيَمِينِهِ، وَإِذَا تَمَسَّحَ أَحَدُكُمْ فَلَا يَتَمَسَّحْ بِيَمِينِهِ".
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے شیبان نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن ابی کثیر نے، ان سے عبداللہ بن ابی قتادہ نے، ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص پانی پئے تو (پینے کے) برتن میں (پانی پیتے ہوئے) سانس نہ لے اور جب تم میں سے کوئی شخص پیشاب کرے تو داہنے ہاتھ کو ذکر پر نہ پھیرے اور جب استنجاء کرے تو داہنے ہاتھ سے نہ کرے۔

Narrated Abu Qatada: Allah's Apostle said, "When you drink (water), do not breath in the vessel; and when you urinate, do not touch your penis with your right hand. And when you cleanse yourself after defecation, do not use your right hand."
USC-MSA web (English) Reference: Volume 7, Book 69, Number 534


   صحيح البخاري5630حارث بن ربعيإذا شرب أحدكم فلا يتنفس في الإناء إذا بال أحدكم فلا يمسح ذكره بيمينه إذا تمسح أحدكم فلا يتمسح بيمينه
   صحيح البخاري153حارث بن ربعيإذا شرب أحدكم فلا يتنفس في الإناء إذا أتى الخلاء فلا يمس ذكره بيمينه لا يتمسح بيمينه
   صحيح مسلم615حارث بن ربعييتنفس في الإناء يمس ذكره بيمينه أن يستطيب بيمينه
   جامع الترمذي1889حارث بن ربعيإذا شرب أحدكم فلا يتنفس في الإناء
   سنن النسائى الصغرى48حارث بن ربعييتنفس في الإناء يمس ذكره بيمينه أن يستطيب بيمينه
   سنن النسائى الصغرى47حارث بن ربعيإذا شرب أحدكم فلا يتنفس في إنائه إذا أتى الخلاء فلا يمس ذكره بيمينه لا يتمسح بيمينه
   بلوغ المرام83حارث بن ربعيا يمسن احدكم ذكره بيمينه وهو يبول،‏‏‏‏ ولا يتمسح من الخلاء بيمينه،‏‏‏‏ ولا يتنفس في الإناء
   بلوغ المرام904حارث بن ربعيإذا شرب أحدكم فلا يتنفس في الإناء

تخریج الحدیث کے تحت حدیث کے فوائد و مسائل
  علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 83  
´دائیں ہاتھ سے اپنے عضو کو پیشاب کرتے ہوئے نہ چھوئے اور نہ پکڑے`
«. . . قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: ‏‏‏‏لا يمسن احدكم ذكره بيمينه وهو يبول،‏‏‏‏ ولا يتمسح من الخلاء بيمينه،‏‏‏‏ ولا يتنفس فى الإناء . . .»
. . . رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ تم میں سے کوئی بھی پیشاب کرتے وقت دائیں ہاتھ سے اپنے عضو مخصوص کو ہرگز نہ چھوئے اور قضائے حاجت کے بعد سیدھے ہاتھ سے استنجاء بھی نہ کرے۔ نیز پانی پیتے وقت اس میں سانس بھی نہ لے . . . [بلوغ المرام/كتاب الطهارة: 83]

لغوی تشریح:
«لَا یَمَسَّنَّ» «مَسّ» سے نہی کا صیغہ ہے اور نون ثقیلہ تاکید کے لیے ہے۔
«وَلَا یَتَمَسَّحُ» یعنی استنجا نہ کرے۔
«تَمَسُّح» کے معنی ہیں: ہاتھ کو پھیرنا اور ملنا تاکہ بہنے والی گندگی دور ہو جائے، یا ناپاک چیز سے لتھڑی ہوئی شے کو ہاتھ سے صاف کرنا۔

فوائد و مسائل:
اس حدیث میں تین مسئلے بیان کیے گئے ہیں:
➊ ایک یہ کہ اپنے دائیں ہاتھ سے اپنے عضو مخصوص کو پیشاب کرتے ہوئے نہ چھوئے اور نہ پکڑے۔ دوسرا یہ کہ اس ہاتھ سے استنجا نہ کرے۔ ایسا کرنا حرام بھی ہے اور سوء ادب اور کم ظرفی بھی۔ اور تیسرا یہ کہ کوئی مشروب وغیرہ پیتے وقت برتن میں سانس نہ لے۔
➋ برتن میں سانس لینا اس لیے ممنوع ہے کہ سانس کے ذریعے سے خارج ہونے والے جراثیم پیے جانے والے مشروب وغیرہ میں شامل ہو کر معدے میں داخل ہوں گے۔ یہ جراثیم طبی تحقیق کی رو سے صحت کے لیے نقصان دہ اور ضرر رساں ہیں۔
➌ جس حدیث میں سانس لینے کا ذکر ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ پینے والا ایک ہی سانس میں غٹ غٹ نہ چڑھا جائے بلکہ تین دفعہ پیے اور سانس باہر نکالے۔
   بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث\صفحہ نمبر: 83   
  حافظ عمران ايوب لاهوري حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري 153  
´داہنے ہاتھ سے طہارت کرنے کی ممانعت `
«. . . عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا شَرِبَ أَحَدُكُمْ فَلَا يَتَنَفَّسْ فِي الْإِنَاءِ، وَإِذَا أَتَى الْخَلَاءَ فَلَا يَمَسَّ ذَكَرَهُ بِيَمِينِهِ، وَلَا يَتَمَسَّحْ بِيَمِينِهِ . . .»
. . . عبداللہ بن ابی قتادہ سے، وہ اپنے باپ ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی پانی پئے تو برتن میں سانس نہ لے اور جب بیت الخلاء میں جائے تو اپنی شرمگاہ کو داہنے ہاتھ سے نہ چھوئے اور نہ داہنے ہاتھ سے استنجاء کرے . . . [صحيح البخاري/كِتَاب الْوُضُوءِ/بَابُ النَّهْيِ عَنْ الاِسْتِنْجَاءِ بِالْيَمِينِ: 153]

تخريج الحديث:
[151۔ البخاري فى: 4 كتاب الوضوء: 18 باب النهي عن الاستنجاء باليمين 153، مسلم 267، ابن ماجه 310]
لغوی توضیح:
«لَا يَتَنَفَّسْ» سانس نہ لے۔
«لَا يَتَمَسَّحْ» استنجاء نہ کرے۔ معلوم ہوا کہ دائیں ہاتھ سے استنجاء کرنا جائز نہیں۔
   جواہر الایمان شرح الولووالمرجان، حدیث\صفحہ نمبر: 151   
  فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 47  
´داہنے ہاتھ سے استنجاء کرنے کی ممانعت کا بیان۔`
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی پانی پئیے تو اپنے برتن میں سانس نہ لے، اور جب قضائے حاجت کے لیے آئے تو اپنے داہنے ہاتھ سے ذکر (عضو تناسل) نہ چھوئے، اور نہ اپنے داہنے ہاتھ سے استنجاء کرے ۱؎۔ [سنن نسائي/ذكر الفطرة/حدیث: 47]
47۔ اردو حاشیہ:
➊ برتن میں سانس لینے سے مراد یہ ہے کہ پیتے پیتے سانس لے، یہ ممنوع ہے۔ شاید یہ ممانعت اس لیے ہو کہ اس صورت میں ناک سے سانس کے ساتھ غلاظت خارج ہونے کا احتمال ہوتا ہے کہ جس سے مشروب آلودہ ہو جائے گا، نیز سانس کے ساتھ پھیپھڑے کے فاسد مادوں کی آمیزش ہوتی ہے وہ بھی پانی میں شامل ہو جائیں گے، نیز اس میں جانوروں سے مشابہت ہے، وہ پیتے پیتے سانس لیتے ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ سانس لینے کے لیے برتن کو منہ سے الگ کیا جائے۔
➋ چونکہ دایاں ہاتھ کھانے کے لیے استعمال ہوتا ہے، اس لیے اس سے استنجا کرنے سے منع فرمایا۔ اور عقل سلیم بھی اس چیز کا تقاضا کرتی ہے کہ کھانے اور استنجے کے لیے ایک ہی ہاتھ کا استعمال نہ ہو۔
   سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث\صفحہ نمبر: 47   
  الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1889  
´پیتے وقت برتن میں سانس لینے کی کراہت کا بیان۔`
ابوقتادہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی پانی پیئے تو برتن میں سانس نہ چھوڑے ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الأشربة/حدیث: 1889]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یہ حدیث بظاہر انس رضی اللہ عنہ کی اس حدیث کے معارض ہے (أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ كَانَ يَتَنَفَّسُ فِي الْإِنَاءِ ثَلَاثًا) یعنی نبی اکرم ﷺ برتن سے پانی تین سانس میں پیتے تھے،
ابوقتادہ کی حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ اگر کوئی برتن سے پانی پیتے وقت برتن کو منہ سے ہٹائے بغیر برتن میں سانس لیتا ہے تو یہ مکروہ ہے،
اور انس رضی اللہ عنہ کی حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ آپ ﷺ برتن سے پانی تین سانس میں پیتے تھے،
اور سانس لیتے وقت برتن کو منہ سے جدا رکھتے تھے،
اس توجیہ سے دونوں میں کوئی تعارض باقی نہیں رہ جاتا۔
   سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث\صفحہ نمبر: 1889   
  مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 5630  
5630. حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی پانی پیے تو برتن میں سانس نہ لےاور جب تم میں سے کوئی پیشاب کرے تو اپنی شرمگاہ کو دائیں ہاتھ سے نہ چھوئے۔ اور جب استنجا کرے تو دائیں ہاتھ سے نہ کرے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:5630]
حدیث حاشیہ:
ان خدمات کے لیے اللہ نے بایاں ہاتھ بنایا ہے اور سیدھا ہاتھ کھانے پینے اورجملہ ضروری کاموں کے لیے ہے، اس لیے ہر ہاتھ سے اس کی حیثیت کا کام لینا چاہیئے۔
برتن میں سانس لینا طب کی رو سے بھی ناجائز ہے۔
اس طرح معدہ کے بخارات اس میں داخل ہو سکتے ہیں (فتح الباری)
   صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث\صفحہ نمبر: 5630   
  الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:5630  
5630. حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی پانی پیے تو برتن میں سانس نہ لےاور جب تم میں سے کوئی پیشاب کرے تو اپنی شرمگاہ کو دائیں ہاتھ سے نہ چھوئے۔ اور جب استنجا کرے تو دائیں ہاتھ سے نہ کرے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:5630]
حدیث حاشیہ:
پانی پیتے وقت برتن میں سانس نہ لینے کی حکمت یہ ہے کہ ایسا کرنے سے اس میں تھوک وغیرہ پڑ سکتا ہے جسے طبیعت ناگوار محسوس کرتی ہے۔
برتن میں سانس لینا موجودہ طب کے لحاظ سے بھی درست نہیں کیونکہ معدے کے بخارات پانی میں داخل ہو سکتے ہیں جس سے بیماری پیدا ہونے کا اندیشہ ہے۔
حفظ ما تقدم کے طور پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کرنے سے منع فرمایا ہے۔
اگر پانی، دودھ یا کوئی اور مشروب پیتے ہوئے سانس لینے کی ضرورت ہو تو برتن منہ سے ہٹا کر سانس لینا چاہیے، پھر حسب ضرورت دوبارہ پی لیا جائے۔
برتن ہی میں سانس لے کر دوبارہ پینا شروع کر دینا کسی صورت میں بھی اچھا نہیں ہے۔
واللہ أعلم
   هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث\صفحہ نمبر: 5630   

http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.