صحيح مسلم کل احادیث 3033 :ترقیم فواد عبدالباقی
صحيح مسلم کل احادیث 7563 :حدیث نمبر
صحيح مسلم
صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے فضائل و مناقب
29. باب مِنْ فَضَائِلِ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ:
29. باب: سیدنا جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت۔
حدیث نمبر: 6365
پی ڈی ایف بنائیں اعراب
حدثني عبد الحميد بن بيان ، اخبرنا خالد ، عن بيان ، عن قيس ، عن جرير ، قال: " كان في الجاهلية بيت، يقال له ذو الخلصة، وكان يقال له الكعبة اليمانية، والكعبة الشامية، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: هل انت مريحي من ذي الخلصة، والكعبة اليمانية، والشامية؟ فنفرت إليه في مائة وخمسين من احمس فكسرناه، وقتلنا من وجدنا عنده فاتيته فاخبرته، قال: فدعا لنا ولاحمس ".حَدَّثَنِي عَبْدُ الحَمِيدِ بْنُ بَيَانٍ ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ ، عَنْ بَيَانٍ ، عَنْ قَيْسٍ ، عَنْ جَرِيرٍ ، قَالَ: " كَانَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ بَيْتٌ، يُقَالُ لَهُ ذُو الْخَلَصَةِ، وَكَانَ يُقَالُ لَهُ الْكَعْبَةُ الْيَمَانِيَةُ، وَالْكَعْبَةُ الشَّامِيَّةُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَلْ أَنْتَ مُرِيحِي مِنْ ذِي الْخَلَصَةِ، وَالْكَعْبَةِ الْيَمَانِيَةِ، وَالشَّامِيَّةِ؟ فَنَفَرْتُ إِلَيْهِ فِي مِائَةٍ وَخَمْسِينَ مِنْ أَحْمَسَ فَكَسَرْنَاهُ، وَقَتَلْنَا مَنْ وَجَدْنَا عِنْدَهُ فَأَتَيْتُهُ فَأَخْبَرْتُهُ، قَالَ: فَدَعَا لَنَا وَلِأَحْمَسَ ".
عبد الحمید بن بیان نے کہا: ہمیں خ رحمۃ اللہ علیہ الد نے بیان سے خبر دی، انھوں نے قیس سے، انھوں نے حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انھوں نے کہا: زمانہ جاہلیت میں ایک عبادت گاہ تھی جس کو ذوالخلصہ کہتے تھے اور اس کو کعبہ یمانیہ اور کعبہ شامیہ بھی کہا جا تا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرما یا: " کیا تم مجھے ذوالخلصہ کعبہ یمانیہ اور کعبہ شامیہ کی اذیت سے راحت دلا ؤ گے؟"تو میں قبیلہ احمس کے ڈیڑھ سو جوانوں کے ساتھ اس کی طرف گیا۔ہم نے اس بت خانے کو تو ڑ دیا اور جن لو گوں کو وہاں پا یا ان سب کو قتل کر دیا پھر میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کو خبر سنائی تو آپ نے ہمارے لیے اور (پورے) قبیلہ احمس کے لیے دعا فر ما ئی۔
حضرت جریر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، زمانہ جاہلیت میں ایک عبادت گاہ تھی جس کو ذوالخلصہ کہتے تھے اور اس کو کعبہ یمانیہ اور کعبہ شامیہ بھی کہا جا تا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فر یا:" کیا تم مجھے ذوالخلصہ کعبہ یمانیہ اور کعبہ شامیہ کی اذیت سے راحت دلا ؤ گے؟"تو میں قبیلہ احمس کے ڈیڑھ سو جوانوں کے ساتھ اس کی طرف گیا۔ہم نے اس بت خانے کو تو ڑ دیا اور جن لو گوں کو وہاں پا یا ان سب کو قتل کر دیا پھر میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کو خبر سنائی تو آپ نے ہمارے لیے اور (پورے) قبیلہ احمس کے لیے دعا فر ئی۔
ترقیم فوادعبدالباقی: 2476

   صحيح البخاري3020جرير بن عبد اللهألا تريحني من ذي الخلصة وكان بيتا في خثعم يسمى كعبة اليمانية قال فانطلقت في خمسين ومائة فارس من أحمس وكانوا أصحاب خيل قال وكنت لا أثبت على الخيل فضرب في صدري حتى رأيت أثر أصابعه في صدري وقال اللهم ثبته واجعله هاديا مهديا فانطلق إليها فكسرها وحرقها ثم بعث
   صحيح البخاري6090جرير بن عبد اللهاللهم ثبته واجعله هاديا مهديا
   صحيح البخاري4355جرير بن عبد اللهألا تريحني من ذي الخلصة
   صحيح البخاري3076جرير بن عبد اللهألا تريحني من ذي الخلصة وكان بيتا فيه خثعم يسمى كعبة اليمانية فانطلقت في خمسين ومائة من أحمس وكانوا أصحاب خيل فأخبرت النبي أني لا أثبت على الخيل فضرب في صدري حتى رأيت أثر أصابعه في صدري فقال اللهم ثبته واجعله هاديا مهديا فانطلق إليها فكسرها وحرقها فأرسل إ
   صحيح البخاري4357جرير بن عبد اللهألا تريحني من ذي الخلصة فقلت بلى فانطلقت في خمسين ومائة فارس من أحمس وكانوا أصحاب خيل وكنت لا أثبت على الخيل فذكرت ذلك للنبي فضرب يده على صدري حتى رأيت أثر يده في صدري وقال اللهم ثبته واجعله هاديا مهديا
   صحيح البخاري6333جرير بن عبد اللهألا تريحني من ذي الخلصة وهو نصب كانوا يعبدونه يسمى الكعبة اليمانية قلت يا رسول الله إني رجل لا أثبت على الخيل فصك في صدري فقال اللهم ثبته واجعله هاديا مهديا
   صحيح البخاري4356جرير بن عبد اللهألا تريحني من ذي الخلصة وكان بيتا في خثعم يسمى الكعبة اليمانية فانطلقت في خمسين ومائة فارس من أحمس وكانوا أصحاب خيل وكنت لا أثبت على الخيل فضرب في صدري حتى رأيت أثر أصابعه في صدري وقال اللهم ثبته واجعله هاديا مهديا فانطلق إليها فكسرها وحرقها ثم بعث إلى رس
   صحيح البخاري3823جرير بن عبد اللههل أنت مريحي من ذي الخلصة قال فنفرت إليه في خمسين ومائة فارس من أحمس قال فكسرنا وقتلنا من وجدنا عنده فأتيناه فأخبرناه فدعا لنا ولأحمس
   صحيح البخاري3036جرير بن عبد اللهاللهم ثبته واجعله هاديا مهديا
   صحيح مسلم6366جرير بن عبد اللهألا تريحني من ذي الخلصة بيت لخثعم كان يدعى كعبة اليمانية قال فنفرت في خمسين ومائة فارس وكنت لا أثبت على الخيل فذكرت ذلك لرسول الله فضرب يده في صدري فقال اللهم ثبته واجعله هاديا مهديا قال فانطلق فحرقها بالنار ثم بعث جرير إلى رسول الله رجلا يبشره يكنى أبا أ
   صحيح مسلم6365جرير بن عبد اللهكان في الجاهلية بيت يقال له ذو الخلصة وكان يقال له الكعبة اليمانية والكعبة الشامية فقال رسول الله هل أنت مريحي من ذي الخلصة والكعبة اليمانية والشامية فنفرت إليه في مائة وخمسين من أحمس فكسرناه وقتلنا من وجدنا عنده فأتيته فأخبرته قال فدعا لنا ولأحمس
   سنن أبي داود2772جرير بن عبد اللهألا تريحني من ذي الخلصة فأتاها فحرقها ثم بعث رجلا من أحمس إلى النبي يبشره يكنى أبا أرطاة
   سنن ابن ماجه159جرير بن عبد اللهاللهم ثبته واجعله هاديا مهديا
   مسندالحميدي818جرير بن عبد الله
   مسندالحميدي820جرير بن عبد اللهألا تكفيني هذه الخلصة اليمانية؟

تخریج الحدیث کے تحت حدیث کے فوائد و مسائل
  مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث159  
´جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل۔`
جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے پاس آنے سے نہیں روکا، اور جب بھی مجھے دیکھا میرے روبرو مسکرائے اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی کہ میں گھوڑے پر ٹک نہیں پاتا (گر جاتا ہوں) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ میرے سینے پہ مارا اور دعا فرمائی: اے اللہ! اس کو ثابت رکھ اور اسے ہدایت کنندہ اور ہدایت یافتہ بنا دے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 159]
اردو حاشہ:
(1)
حضرت جریر رضی اللہ عنہ دراز قد، خوبصورت اور خوش شکل تھے۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ انہیں اس امت کا یوسف کہا کرتے تھے۔

(2)
حاضر ہونے سے منع نہیں فرمایا۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر میں تشریف فرما ہوتے تھے یا کسی خاص مجلس میں رونق افروز ہوتے تھے اگر میں حاضری کی اجازت چاہتا تو مجھے ضرور اجازت مل جاتی تھی۔
کبھی حاضری سے منع نہیں کیا گیا، یعنی حضرت جریر رضی اللہ عنہ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا خصوصی قرب حاصل تھا۔

(3)
ملاقات کے وقت مسکرانا خوشی کا مظہر ہے، جو محبت کی علامت ہے کیونکہ جس سے محبت ہوتی ہے اس کی ملاقات سے خوشی ہوتی ہے، اس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خوش خلقی اور خندہ پیشانی کی عادتِ مبارکہ بھی معلوم ہوتی ہے۔

(4)
گھوڑ سواری ایک فن ہے جس کا حصول ایک مجاہد کے لیے بہت ضروری ہے، حضرت جریر رضی اللہ عنہ کو یہ شکایت تھی کہ گھوڑے پر جم کر نہیں بیٹھ سکتے تھے، گرنے کا خطرہ محسوس کرتے تھے، اس لیے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات بتائی۔
کسی بزرگ ہستی کو اپنی کسی کمزوری سے آگاہ کرنا درست ہے تاکہ کوئی مناسب مشورہ حاصل ہو یا دعا ہی مل جائے۔

(5)
جب کسی بزرگ سے دعا کی درخواست کی جائے تو اسے چاہیے کہ دعا کر دے، انکار نہ کرے۔
   سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث\صفحہ نمبر: 159   
  الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2772  
´جنگ میں فتح کی خوشخبری دینے والوں کو بھیجنے کا بیان۔`
جریر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم مجھے ذو الخلصہ ۱؎ سے آرام نہیں پہنچاؤ گے؟ ۲؎، یہ سن کر جریر رضی اللہ عنہ وہاں آئے اور اسے جلا دیا پھر انہوں نے قبیلہ احمس کے ایک آدمی کو جس کی کنیت ابوارطاۃ تھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا کہ وہ آپ کو اس کی خوشخبری دیدے۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2772]
فوائد ومسائل:

بنو خشعم نے اپنا ایک معبد بنا رکھا تھا۔
جسے وہ (الکعبة الیمانیة) کہتے تھے۔
اس گھرکا نام (خلصہ) اور بت کا نام (ذوالخلصہ) رکھا ہوا تھا۔
حضرت جریر فتح مکہ کے بعد مسلمان ہوئے اور یہ مہم سر کی۔


کسی اہم واقعے کی خوشخبری بھیجنا جائز ہے۔
بشرط یہ کہ اس میں اپنے کردار کا لوگوں کو سنانا اور دکھلانا مقصود نہ ہو بلکہ اسلام کی سر بلندی کی اطلاع دینا مقصود ہویا مسلمانوں کا بڑھاوا اور ان کی حوصلہ افزائی مقصود ہو۔
   سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعدی، حدیث\صفحہ نمبر: 2772   
  الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 6365  
1
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
ذوالخلصه نامی بت کدہ یمن میں واقع تھا،
اس لیے اس کو اس کے پرستار کعبہ یمانیہ کا نام دیتے تھے اور اس کا ایک دروازہ شام کی طرف تھا،
اس لیے اس کو کعبہ شامیہ کا نام بھی دیتے تھے،
حضرت جریر رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں کی معیت میں اس کو توڑ پھوڑ کر جلا دیا تھا اور اس کو خارشی اونٹ کی طرح جسے تارکول ملایا جاتا ہے،
کوئلہ بنا دیا تھا۔
   تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث\صفحہ نمبر: 6365   

http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.