الحمدللہ ! قرآن پاک روٹ ورڈ سرچ اور مترادف الفاظ کی سہولت پیش کر دی گئی ہے۔

 
صحيح مسلم کل احادیث 3033 :ترقیم فواد عبدالباقی
صحيح مسلم کل احادیث 7563 :حدیث نمبر
صحيح مسلم
حسن سلوک، صلہ رحمی اور ادب
The Book of Virtue, Enjoining Good Manners, and Joining of the Ties of Kinship
24. باب النَّهْيِ عَنْ لَعْنِ الدَّوَابِّ وَغَيْرِهَا:
24. باب: جانوروں اور ان کے علاوہ کو لعنت نہ کرنے کابیان۔
حدیث نمبر: 6610
پی ڈی ایف بنائیں اعراب
حدثني سويد بن سعيد ، حدثني حفص بن ميسرة ، عن زيد بن اسلم ، ان عبد الملك بن مروان بعث إلى ام الدرداء بانجاد من عنده، فلما ان كان ذات ليلة قام عبد الملك من الليل، فدعا خادمه فكانه ابطا عليه فلعنه، فلما اصبح، قالت له ام الدرداء: سمعتك الليلة لعنت خادمك حين دعوته، فقالت: سمعت ابا الدرداء ، يقول: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " لا يكون اللعانون شفعاء ولا شهداء يوم القيامة ".حَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنِي حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، أَنَّ عَبْدَ الْمَلِكِ بْنَ مَرْوَانَ بَعَثَ إِلَى أُمِّ الدَّرْدَاءِ بِأَنْجَادٍ مِنْ عِنْدِهِ، فَلَمَّا أَنْ كَانَ ذَاتَ لَيْلَةٍ قَامَ عَبْدُ الْمَلِكِ مِنَ اللَّيْلِ، فَدَعَا خَادِمَهُ فَكَأَنَّهُ أَبْطَأَ عَلَيْهِ فَلَعَنَهُ، فَلَمَّا أَصْبَحَ، قَالَتْ لَهُ أُمُّ الدَّرْدَاءِ: سَمِعْتُكَ اللَّيْلَةَ لَعَنْتَ خَادِمَكَ حِينَ دَعَوْتَهُ، فَقَالَتْ: سَمِعْتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَكُونُ اللَّعَّانُونَ شُفَعَاءَ وَلَا شُهَدَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ".
حفص بن میسرہ نے زید بن اسلم سے روایت کی کہ عبدالملک بن مروان نے حضرت ام درداء رضی اللہ عنہا کو اپنی طرف سے گھر کا کچھ عمدہ سامان بھیجا، پھر ایسا ہوا کہ ایک رات کو عبدالملک اٹھا، اس نے اپنے خادم کو آواز دی، غالبا اس نے دیر لگا دی تو عبدالملک نے اس پر لعنت کی، جب اس (عبدالملک) نے صبح کی تو حضرت ام درداء رضی اللہ عنہا نے کہا: میں نے رات کو سنا کہ جس وقت تم نے اپنے خادم کو بلایا تھا تو تم نے اس پر لعنت کی تھی، پھر وہ کہنے لگیں: میں نے حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "زیادہ لعنت کرنے والے قیامت کے دن نہ شفاعت کرنے والے ہوں گے، نہ گواہ بنیں گے۔"
زید بن اسلم رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ عبد الملک بن مروان نے اُم لدرداء رحمۃ اللہ علیہ کو اپنی طرف سے کچھ گھر کی آرائش کا سامان بھیجا (وہ اس کے ہاں مہمان تھیں) پھر کسی رات کو عبدالملک رات کے وقت اٹھا اور اپنے خادم کو آواز دی تو گویا اس نے آنے میں تاخیر کی چنانچہ اس نے اس پر لعنت بھیجی تو جب صبح ہوئی حضرت ام الدرداء رحمۃ اللہ علیہ نے اسے کہا میں نے رات تجھے سنا تو نے جب اپنے خادم کو بلایا اس پر لعنت بھیجی میں نے ابو الدراء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا، انھوں نے بتایا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لعنت بھیجنا جن کی عادت ہے وہ قیامت کے دن سفارشی اور گواہ نہیں بن سکیں گے۔
ترقیم فوادعبدالباقی: 2598


تخریج الحدیث کے تحت حدیث کے فوائد و مسائل
  الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 6610  
1
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
انجاد:
نجد کی جمع ہے،
گھر کی آرائش و زیبائش کا سامان۔
فوائد ومسائل:
قیامت کے دن،
مومن اپنے مومن بھائیوں کے بارے میں سفارش کریں گے،
لیکن لعنت بھیجنا جن کا وطیرہ ہے وہ سفارش کرنے سے محروم ہو جائیں گے،
اسی طرح وہ قیامت کے دن دوسری امتوں کے سامنے ان کے رسولوں کی پیغام رسانی کی شہادت نہیں دیں گے،
یا اللہ کی راہ میں شہید ہونے کی نعمت سے محروم رہیں گے،
لیکن جن لوگوں پر اللہ نے لعنت بھیجی ہے،
ان پر لعنت بھیجنا،
اس میں داخل نہیں ہے۔
   تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث\صفحہ نمبر: 6610   

http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.