الحمدللہ ! قرآن پاک روٹ ورڈ سرچ اور مترادف الفاظ کی سہولت پیش کر دی گئی ہے۔

 
صحيح البخاري کل احادیث 7563 :حدیث نمبر
صحيح البخاري
کتاب: قسموں اور نذروں کے بیان میں
The Book of Oaths and Vows
9. بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَأَقْسَمُوا بِاللَّهِ جَهْدَ أَيْمَانِهِمْ} :
9. باب: اللہ پاک کا سورۃ النور میں ارشاد ”یہ منافق اللہ کی بڑی پکی قسمیں کھاتے ہیں“۔
(9) Chapter. The Statement of Allah: “They swear by Allah their strongest oaths that..." (V.24:53)
حدیث نمبر: 6656
پی ڈی ایف بنائیں مکررات اعراب English
(مرفوع) حدثنا إسماعيل، قال: حدثني مالك، عن ابن شهاب، عن ابن المسيب، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال:" لا يموت لاحد من المسلمين ثلاثة من الولد، تمسه النار، إلا تحلة القسم".(مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ ابْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا يَمُوتُ لِأَحَدٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ ثَلَاثَةٌ مِنَ الْوَلَدِ، تَمَسُّهُ النَّارُ، إِلَّا تَحِلَّةَ الْقَسَمِ".
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ سے امام مالک نے، انہوں نے ابن شہاب سے روایت کیا، انہوں نے سعید بن مسیب سے روایت کیا، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس مسلمان کے تین بچے مر جائیں تو اس کو دوزخ کی آگ نہیں چھوئے گی مگر صرف قسم اتارنے کے لیے۔

Narrated Abu Huraira: Allah's Apostle said, "Any Muslim who has lost three of his children will not be touched by the Fire except that which will render Allah's oath fulfilled."
USC-MSA web (English) Reference: Volume 8, Book 78, Number 650


   صحيح البخاري6656عبد الرحمن بن صخرلا يموت لأحد من المسلمين ثلاثة من الولد تمسه النار إلا تحلة القسم
   صحيح البخاري1251عبد الرحمن بن صخرلا يموت لمسلم ثلاثة من الولد فيلج النار إلا تحلة القسم
   صحيح مسلم6703عبد الرحمن بن صخردفنت ثلاثة قال لقد احتظرت بحظار شديد من النار
   صحيح مسلم6704عبد الرحمن بن صخردفنت ثلاثة قالت نعم قال لقد احتظرت بحظار شديد من النار
   صحيح مسلم6698عبد الرحمن بن صخرلا يموت لإحداكن ثلاثة من الولد فتحتسبه إلا دخلت الجنة
   صحيح مسلم6698عبد الرحمن بن صخرلا يموت لأحد من المسلمين ثلاثة من الولد فتمسه النار إلا تحلة القسم
   جامع الترمذي1060عبد الرحمن بن صخرلا يموت لأحد من المسلمين ثلاثة من الولد فتمسه النار إلا تحلة القسم
   سنن النسائى الصغرى1878عبد الرحمن بن صخرقدمت ثلاثة فقال رسول الله لقد احتظرت بحظار شديد من النار
   سنن النسائى الصغرى1877عبد الرحمن بن صخرما من مسلمين يموت بينهما ثلاثة أولاد لم يبلغوا الحنث إلا أدخلهما الله بفضل رحمته إياهم الجنة يقال لهم ادخلوا الجنة فيقولون حتى يدخل آباؤنا ادخلوا الجنة أنتم وآباؤكم
   سنن النسائى الصغرى1876عبد الرحمن بن صخرلا يموت لأحد من المسلمين ثلاثة من الولد فتمسه النار إلا تحلة القسم
   سنن ابن ماجه1603عبد الرحمن بن صخرلا يموت لرجل ثلاثة من الولد فيلج النار إلا تحلة القسم
   موطا امام مالك رواية ابن القاسم239عبد الرحمن بن صخرلا يموت لاحد من المسلمين ثلاثة من الولد فتمسه النار إلا تحلة القسم
   مسندالحميدي1050عبد الرحمن بن صخرلا يموت لمسلم ثلاثة من الولد، فيلج النار إلا تحلة القسم

تخریج الحدیث کے تحت حدیث کے فوائد و مسائل
  حافظ زبير على زئي رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث موطا امام مالك رواية ابن القاسم 239  
´مسلمانوں کے (نابالغ) بچے جنت میں ہیں`
«. . . ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: لا يموت لاحد من المسلمين ثلاثة من الولد فتمسه النار إلا تحلة القسم.»
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمانوں میں سے جس کے تین بچے فوت ہو جائیں تو اسے (جہنم کی) آگ نہیں چھوئے گی سوائے قسم پوری کرنے کے۔ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 239]

تخریج الحدیث:
[الموطأ رواية يحييٰ بن يحييٰ 235/1 ح 557، ك 16 ب 13 ح 38، التمهيد 346/6، الاستذكار: 511 ● و أخرجه البخاري 6656،، ومسلم 2632، من حديث مالك به]
تفقه:
➊ مسلمان کو صبر کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے دربار رحمت اور فضل و کرم سے بہت بڑا اجر ملتا ہے۔
➋ مسلمانوں کے (نابالغ) بچے جنت میں ہیں۔
➌ ایک صحابی کا بچہ فوت ہوگیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: «أَمَا تَرْضَى أَلَّا تَأْتِيَ بَابًا مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ إِلَّا جَاءَ يَسْعَى حَتَّى يَفْتَحَهُ لَكَ؟» کیا تم اس پر راضی نہیں ہو کہ تم جنت کے جس دروازے کی طرف سے آؤ تو تمہارا بچہ بھاگتا ہوا آئے اور تمہارے لئے دروازہ کھول دے؟ [مسند على بن الجعد:1075 وسنده صحيح، مسند أحمد 436/3، 34،35/5، سنن النسائي 22/4 ح 1871، 118/4 ح 2090]
● معلوم ہوا کہ صبر کرنے والے والدین کا فوت شدہ بچہ قیامت کے دن ان کے لئے جنت کے دروازے کھولے گا۔
سوائے قسم پوری کرنے کے میں قران مجید کی آیت «وَإِن مِّنكُمْ إِلَّا وَارِدُهَا» اور تم میں سے ہر آدمی اس پر وارد ہو گا۔ [سورة مريم: 71] کی طرف اشارہ ہے۔ [فتح الباري 661/11 ح 6656، طبع دارالسلام]
◄ مزید تفصیل کے لئے مذکورہ آیت کی تفسیر و کتب تفاسیر کی طرف رجوع کریں۔
   موطا امام مالک روایۃ ابن القاسم شرح از زبیر علی زئی، حدیث\صفحہ نمبر: 15   
  مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1603  
´جس کا بچہ مر جائے اس کے ثواب کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کے تین بچے انتقال کر جائیں، وہ جہنم میں داخل نہیں ہو گا مگر قسم پوری کرنے کے لیے ۱؎۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1603]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
انسان کو اپنی اولاد سے فطری طور پر زیادہ محبت ہوتی ہے۔
اس لئے اولاد کی وفات پر صبر کرنے پر خصوصی ثواب ہے۔

(2)
الولد (اولاد)
میں بچے اور بچیاں دونوں شامل ہیں۔
خواہ بچے فوت ہوں یا بچیاں ثواب برابر ہے۔

(3)
یہ ثواب ماں اور باپ دونوں کےلئے ہے۔

(4)
قسم پوری کرنے کا یہ مطلب ہے کہ وہ جہنم پر سے گزرے گا جہنم میں داخل نہیں ہوگا۔
جیسے کہ ارشاد الٰہی ہے:
﴿وَإِن مِّنكُمْ إِلَّا وَارِدُهَا ۚ كَانَ عَلَىٰ رَبِّكَ حَتْمًا مَّقْضِيًّا﴾  (مریم: 71)
تم میں سے ہر ایک اس پر ضرور وارد ہونے والا ہے۔
یہ تیرے رب کا قطعی فیصلہ ہے۔
نیک مومن آسانی سے پار ہوجایئں گے۔
گناہ گار مومن اور کافر جہنم میں گر جایئں گے۔
اس کے بعد مومنوں کو اپنے اپنے وقت پر جہنم سے نکال لیا جائے گا۔
اور کافر ہمیشہ کے لئے جہنم میں رہ جایئں گے۔
   سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث\صفحہ نمبر: 1603   
  الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1060  
´اس شخص کے ثواب کا بیان جس نے کوئی لڑکا ذخیرہ آخرت کے طور پر پہلے بھیج دیا ہو۔`
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس مسلمان کے تین بچے فوت ہو جائیں اسے جہنم کی آگ نہیں چھوئے گی مگر قسم پوری کرنے کے لیے ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الجنائز/حدیث: 1060]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
تحلۃ القسم سے مراداللہ تعالیٰ کافرمان ﴿وإن منكم إلا واردها﴾  (تم میں سے ہرشخص اس جہنم میں واردہوگا) ہے اور وارد سے مراد پُل صراط پرسے گزرناہے۔
   سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث\صفحہ نمبر: 1060   
  مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 6656  
6656. حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس مسلمان کے تین بچے فوت ہو جائیں تو اسے جہنم کی آگ نہیں چھوئے گی مگر صرف قسم کو پورا کرنے کے لیے ایسا ہوگا۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:6656]
حدیث حاشیہ:
قسم سے مراد اللہ کا یہ فرمودہ ہے ﴿وَإِن مِّنكُمْ إِلَّا وَارِدُهَا﴾ یعنی تم میں سے کوئی ایسا نہیں ہے جو دوزخ پر سے ہو کر نہ جائے۔
   صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث\صفحہ نمبر: 6656   
  الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:6656  
6656. حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس مسلمان کے تین بچے فوت ہو جائیں تو اسے جہنم کی آگ نہیں چھوئے گی مگر صرف قسم کو پورا کرنے کے لیے ایسا ہوگا۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:6656]
حدیث حاشیہ:
(1)
اس حدیث میں لفظ قسم استعمال ہوا ہے جس سے مراد یمین یا حلف ہے۔
روایت میں قسم سے مراد اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے:
﴿وَإِن مِّنكُمْ إِلَّا وَارِدُهَا﴾ تم میں سے کوئی ایسا نہیں جو دوزخ پر سے ہو کر نہ جائے۔
(مریم: 71/19)
اس ارشاد باری تعالیٰ میں لفظ مقدر ہے۔
اصل عبارت یوں ہے:
اللہ کی قسم! تم میں سے کوئی ایسا نہیں جو دوزخ پر سے گزر کر نہ جائے۔
(عمدة القاري: 706/15) (2)
کچھ حضرات کا خیال ہے کہ اس میں قسم مقدر (پوشیدہ)
نہیں بلکہ آیت سابقہ پر عطف ہے جس کے الفاظ یہ ہیں:
آپ کے پروردگار کی قسم! ہم انہیں اور ان کے ساتھ شیطانوں کو ضرور جمع کریں گے۔
اس قسم پر عطف ڈالا گیا ہے۔
(فتح الباري: 661/11) (3)
واضح رہے کہ وارد ہونے سے مراد داخل ہونا نہیں بلکہ اوپر سے گزرنا ہے۔
واللہ أعلم
   هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث\صفحہ نمبر: 6656   

http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.