الحمدللہ ! قرآن پاک روٹ ورڈ سرچ اور مترادف الفاظ کی سہولت پیش کر دی گئی ہے۔

 
صحيح مسلم کل احادیث 3033 :ترقیم فواد عبدالباقی
صحيح مسلم کل احادیث 7563 :حدیث نمبر
صحيح مسلم
ذکر الہی، دعا، توبہ، اور استغفار
3. باب الْعَزْمِ بِالدُّعَاءِ وَلاَ يَقُلْ إِنْ شِئْتَ:
3. باب: یوں دعا کرنا منع ہے کہ اگر تو چاہے تو بخش مجھ کو۔
حدیث نمبر: 6812
پی ڈی ایف بنائیں اعراب
حدثنا يحيى بن ايوب ، وقتيبة ، وابن حجر ، قالوا: حدثنا إسماعيل يعنون ابن جعفر ، عن العلاء ، عن ابيه ، عن ابي هريرة ، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: " إذا دعا احدكم فلا يقل اللهم اغفر لي إن شئت، ولكن ليعزم المسالة وليعظم الرغبة، فإن الله لا يتعاظمه شيء اعطاه ".حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنُونَ ابْنَ جَعْفَرٍ ، عَنْ الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ ّرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا دَعَا أَحَدُكُمْ فَلَا يَقُلِ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي إِنْ شِئْتَ، وَلَكِنْ لِيَعْزِمْ الْمَسْأَلَةَ وَلْيُعَظِّمْ الرَّغْبَةَ، فَإِنَّ اللَّهَ لَا يَتَعَاظَمُهُ شَيْءٌ أَعْطَاهُ ".
علاء کے والد (عبدالرحمٰن) نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جب تم میں سے کوئی شخص دعا کرے تو یہ نہ کہے: اے اللہ! اگر تو چاہے تو مجھے بخش دے، بلکہ وہ پختگی اور اصرار سے سوال کرے اور بڑی رغبت کا اظہار کرے، کیونکہ دینے کے لیے اللہ تعالیٰ کے لیے کوئی چیز بڑی نہیں ہے۔"
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"جب تم سے کوئی ایک دعا کرے تو یوں نہ کہے اے اللہ!اگر تو چاہے تو مجھے معاف کردے بلکہ درخواست پورے عزم و یقین کے ساتھ کرے اور بہت رغبت واشتیاق کا اظہار کرے۔ کیونکہ اللہ کے لیے اس کو کچھ بھی دینا مشکل نہیں ہے۔"
ترقیم فوادعبدالباقی: 2679

   صحيح البخاري7464أنس بن مالكإذا دعوتم الله فاعزموا في الدعاء ولا يقولن أحدكم إن شئت فأعطني فإن الله لا مستكره له
   صحيح البخاري6338أنس بن مالكإذا دعا أحدكم فليعزم المسألة ولا يقولن اللهم إن شئت فأعطني فإنه لا مستكره له
   صحيح مسلم6812أنس بن مالكإذا دعا أحدكم فليعزم في الدعاء ولا يقل اللهم إن شئت فأعطني فإن الله لا مستكره له
   صحيح البخاري6339عبد الرحمن بن صخرلا يقولن أحدكم اللهم اغفر لي إن شئت اللهم ارحمني إن شئت ليعزم المسألة فإنه لا مكره له
   صحيح البخاري7477عبد الرحمن بن صخرلا يقل أحدكم اللهم اغفر لي إن شئت ارحمني إن شئت ارزقني إن شئت وليعزم مسألته إنه يفعل ما يشاء لا مكره له
   صحيح مسلم6813عبد الرحمن بن صخرلا يقولن أحدكم اللهم اغفر لي إن شئت اللهم ارحمني إن شئت ليعزم في الدعاء فإن الله صانع ما شاء لا مكره له
   صحيح مسلم6812عبد الرحمن بن صخرإذا دعا أحدكم فلا يقل اللهم اغفر لي إن شئت ولكن ليعزم المسألة وليعظم الرغبة فإن الله لا يتعاظمه شيء أعطاه
   جامع الترمذي3497عبد الرحمن بن صخرلا يقول أحدكم اللهم اغفر لي إن شئت اللهم ارحمني
   سنن أبي داود1483عبد الرحمن بن صخرلا يقولن أحدكم اللهم اغفر لي إن شئت اللهم ارحمني إن شئت ليعزم المسألة فإنه لا مكره له
   سنن ابن ماجه3854عبد الرحمن بن صخرلا يقولن أحدكم اللهم اغفر لي إن شئت وليعزم في المسألة فإن الله لا مكره له
   المعجم الصغير للطبراني1065عبد الرحمن بن صخرلا يقولن أحدكم اللهم اغفر لي إن شئت ولكن ليعزم في المسألة فإنه لا مكره له
   صحيفة همام بن منبه123عبد الرحمن بن صخرلا يقل أحدكم اللهم اغفر لي إن شئت أو ارحمني إن شئت أو ارزقني إن شئت ليعزم المسألة إنه يفعل ما يشاء لا مكره له
   موطا امام مالك رواية ابن القاسم449عبد الرحمن بن صخرا يقولن احدكم: اللهم اغفر لي إن شئت، اللهم ارحمني إن شئت؛ ليعزم المسالة، فإنه لا مكره له

تخریج الحدیث کے تحت حدیث کے فوائد و مسائل
  حافظ زبير على زئي رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث موطا امام مالك رواية ابن القاسم 449  
´دعا کرتے وقت اگر تو چاہے کہنے کی ممانعت`
«. . . 336- وبه: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: لا يقولن أحدكم: اللهم اغفر لي إن شئت، اللهم ارحمني إن شئت؛ ليعزم المسألة، فإنه لا مكره له. . . .»
. . . اور اسی سند کے ساتھ (سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے) روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی آدمی بھی (دعا کے وقت) یہ نہ کہے کہ اے اللہ! اگر تو چاہے تو مجھے بخش دے، اے اللہ! اگر تو چاہے تو مجھ پر رحم کر۔ تاکید کے ساتھ (اللہ سے) سوال کرنا چاہئیے کیونکہ اسے مجبور کرنے والا کوئی نہیں ہے۔ . . . [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 449]

تخریج الحدیث:
[وأخرجه البخاري 6339، من حديث مالك به]
تفقه:
➊ دعا صرف اللہ سے مانگنی چاہئے۔
➋ اللہ تعالیٰ سے اس جذبے کے ساتھ بطور جزم دعا مانگنی چاہئے کہ وہ اپنے فضل وکرم سے ضرور دعا قبول فرمائے گا۔
   موطا امام مالک روایۃ ابن القاسم شرح از زبیر علی زئی، حدیث\صفحہ نمبر: 336   
  مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3854  
´آدمی کو اس طرح نہیں کہنا چاہئے کہ اے اللہ! اگر تو چاہے تو مجھ کو بخش دے۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی یہ نہ کہے کہ اے اللہ! اگر تو چاہے تو مجھے بخش دے، بلکہ اللہ تعالیٰ سے یقینی طور پر سوال کرے، کیونکہ اللہ تعالیٰ پر کوئی زور زبردستی کرنے والا نہیں ہے۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الدعاء/حدیث: 3854]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
اللہ تعالیٰ سے قبولیت کی امید رکھتے ہوئے اپنی حاجت طلب کرنی چاہیے۔

(2)
  یہ کہنا کہ اگر تو چاہے اللہ کے شایان شان نہیں، اس لیے ناپسندیدہ ہے کیونکہ سب کچھ دینے والا تو وہی ایک ہے اس سے تو اس عزم کے ساتھ مانگنا چاہیے کہ اگر تو میری دعا قبول نہیں کرے گا تو میرا تو تیر ے سوا اور کوئی در ہی نہیں ہے، میں تیرا در چھوڑ کر کہاں جاؤں؟ بہرحال ایسے الفاظ نا پسندیدہ ہیں جن میں یقین کی بجائے مایوسی کا اظہار ہو۔

(3)
یہ دعا کرنا درست ہے کہ اگر فلاں چیز میرے لیے بہتر ہے تو مجھے عطا فرما دے ورنہ وہ چیز عطا فرما دے جو میرے لیے بہتر ہو۔
دعائے استخارہ میں یہی دعا کی جاتی ہے۔
   سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث\صفحہ نمبر: 3854   
  الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3497  
´باب:۔۔۔`
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (کوئی شخص دعا مانگے تو) اس طرح نہ کہے: اے اللہ! تو چاہے تو ہمیں بخش دے، اے اللہ! تو چاہے تو ہم پر رحم فرما ۱؎ بلکہ زور دار طریقے سے مانگے، اس لیے کہ اللہ کو کوئی مجبور کرنے والا تو ہے نہیں (کہ کہا جائے: اگر تو چاہے)، [سنن ترمذي/كتاب الدعوات/حدیث: 3497]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یعنی شبہہ اور تذبذب والی اور ڈھیلے پن کی بات نہیں ہونی چاہیے بلکہ پورے عزم،
پختہ ارادے،
اور اپنی پوری کوشش کے ساتھ دعا مانگے جیسے مجھے یہ چاہیے،
مجھے یہ دے،
مجھے تو بس تجھی سے مانگنا ہے اور تجھ ہی سے پانا ہے وغیرہ وغیرہ۔
   سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث\صفحہ نمبر: 3497   

http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.