صحيفه همام بن منبه کل احادیث 139 :حدیث نمبر
صحيفه همام بن منبه
متفرق
विभिन्न हदीसें
80. اللہ تعالیٰ بندے کی توبہ پر خوش ہوتا ہے
८०. “ अल्लाह तआला का बंदे की तोबा पर ख़ुश होना ”
حدیث نمبر: 80
پی ڈی ایف بنائیں مکررات اعراب Hindi
((حديث مرفوع) (حديث موقوف)) قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " ايفرح احدكم براحلته إذا ضلت منه ثم وجدها؟" قالوا: نعم يا رسول الله، قال:" والذي نفس محمد بيده، لله اشد فرحا بتوبة عبده إذا تاب من احدكم براحلته إذا وجدها"((حديث مرفوع) (حديث موقوف)) قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَيَفْرَحُ أَحَدُكُمْ بِرَاحِلَتِهِ إِذَا ضَلَّتْ مِنْهُ ثُمَّ وَجَدَهَا؟" قَالُوا: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لَلَّهُ أَشَدُّ فَرَحًا بِتَوْبَةِ عَبْدِهِ إِذَا تَابَ مِنْ أَحَدِكُمْ بِرَاحِلَتِهِ إِذَا وَجَدَهَا"
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم میں سے کسی شخص کی سواری گم ہو جائے پھر وہ اسے پا لے تو اسے خوشی ہوتی ہے؟ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کی: جی ہاں، اللہ کے رسول! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے! تم گمشدہ سواری پا لینے پر جتنے خوش ہوتے ہو اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ پر اس سے کئی گناہ زیادہ خوش ہوتا ہے۔
रसूल अल्लाह सल्लल्लाहु अलैहि वसल्लम ने फ़रमाया ! “किया तुम में से किसी व्यक्ति की सवारी गुम हो जाए फिर वह उसे पाले तो उसे ख़ुशी होती है ?” सहाबा रज़ी अल्लाह अन्हुम ने कहा ! जी हाँ, अल्लाह के रसूल ! रसूल अल्लाह सल्लल्लाहु अलैहि वसल्लम ने फ़रमाया ! “मुझे उस ज़ात की क़सम जिस के हाथ में मुहम्मद सल्लल्लाहु अलैहि वसल्लम की जान है ! तुम खोई हुई सवारी पा लेने पर जितने ख़ुश होते हो अल्लाह तआला अपने बंदे की तौबा पर इस से कई गुना ज़्यादा ख़ुश होता है।”

تخریج الحدیث: «صحيح بخاري، كتاب الدعوات، باب التوبة، رقم: 6308، 6309 - صحيح مسلم، كتاب التوبة، باب الحض على التوبة والفرح بها، رقم: 2675/2، 2744/3، 2745، 2746 - مسند أحمد: 79/16، رقم: 83/8177، حدثنا عبدالرزاق بن همام: حدثنا معمر عن همام بن منبه، قال: هذا ما حدثنا به أبو هريرة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال.... - مصنف عبدالرزاق: 297/11، 298 - شرح السنة، باب التوبة: 83/5، 84.»

   صحيح مسلم6955عبد الرحمن بن صخرلله أشد فرحا بتوبة أحدكم من أحدكم بضالته إذا وجدها
   جامع الترمذي3538عبد الرحمن بن صخرلله أفرح بتوبة أحدكم من أحدكم بضالته إذا وجدها
   سنن ابن ماجه4247عبد الرحمن بن صخرالله أفرح بتوبة أحدكم منه بضالته إذا وجدها
   صحيفة همام بن منبه80عبد الرحمن بن صخرلله أشد فرحا بتوبة عبده إذا تاب من أحدكم براحلته إذا وجدها

تخریج الحدیث کے تحت حدیث کے فوائد و مسائل
  مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث4247  
´توبہ کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ تم میں سے کسی کی توبہ سے اس سے کہیں زیادہ خوش ہوتا ہے جتنا کہ تم اپنی گمشدہ چیز پانے سے خوش ہوتے ہو۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4247]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جب بندہ گناہ سے توبہ کرتا ہے۔
تو اللہ تعالیٰ بہت خوش ہوجاتا ہے۔

(2)
بندے کو جب احساس ہوجائے کہ اس نے گناہ کیا ہے۔
خواہ وہ چھوٹا گناہ ہو یا بڑا۔
براہ راست اللہ کے آگے توبہ کرے۔
یعنی اپنی غلطی کا اعتراف کرکے آئندہ کے لئے یہ عزم اور وعدہ کرے کہ وہ اس گناہ سے بچ کررہے گا۔

(3)
توبہ بندے اور اللہ کا معاملہ ہے۔
اس میں کسی تیسرے کی مداخلت کی ضرورت نہیں البتہ کسی نیک آدمی کے سامنے اپنی غلطی کا اعتراف کرکے نیکی کا عزم کرنے کا یہ فائدہ ہوتا ہے۔
کہ پہلے انسان اس عالم کی شرم سے گناہ سے بچتا ہے۔
پھر براہ راست اللہ کی شرم سے گناہ سے بچنے کی توفیق مل جاتی ہے۔
تاہم یہ ضروری نہیں تنہائی میں توبہ کرکے اللہ سے استقامت کی دعا کرے تو کافی ہے۔

(4 جس گناہ کا تعلق حقوق العباد سے ہے۔
اس کے ارتکاب کی صورت میں وہ حق ادا کرنا یا صاحب حق سے معاف کروانا ضروری ہے۔
ورنہ توبہ مکمل نہیں ہوگی۔
   سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث\صفحہ نمبر: 4247   
  الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3538  
´توبہ و استغفار کی فضیلت اور بندوں پر اللہ کی رحمتوں کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ سے اس سے کہیں زیادہ خوش ہوتا ہے جتنا کہ کوئی شخص اپنی کھوئی ہوئی چیز (خاص طور سے گمشدہ سواری کی اونٹنی پا کر خوش ہوتا ہے)۔‏‏‏‏ [سنن ترمذي/كتاب الدعوات/حدیث: 3538]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یہ بندوں کے ساتھ اللہ کے کمال رحمت کی دلیل ہے،
اسی کمالِ رحمت کے سبب اللہ بندوں کی گمراہی،
یا نافرمانی کی روش سے ازحد ناخوش ہوتا ہے،
اور توبہ کر لینے پر ازحد خوش ہوتا ہے کہ اب بندہ میری رحمت کا مستحق ہو گیا۔
   سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث\صفحہ نمبر: 3538   

http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.