سنن نسائي کل احادیث 5761 :حدیث نمبر
سنن نسائي
کتاب: امامت کے احکام و مسائل
The Book of Leading the Prayer (Al-Imamah)
52. بَابُ : حَدِّ إِدْرَاكِ الْجَمَاعَةِ
52. باب: (بغیر جماعت) جماعت کا ثواب پانے کی حد کا بیان۔
Chapter: "Catching the congregation" (when is one regarded As having caught up with the congregation)
حدیث نمبر: 857
پی ڈی ایف بنائیں مکررات اعراب
(مرفوع) اخبرنا سليمان بن داود، عن ابن وهب، قال: اخبرني عمرو بن الحارث، ان الحكيم بن عبد الله القرشي حدثه، ان نافع بن جبير، وعبد الله بن ابي سلمة حدثاه، ان معاذ بن عبد الرحمن حدثهما، عن حمران مولى عثمان بن عفان، عن عثمان بن عفان، قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم، يقول:" من توضا للصلاة فاسبغ الوضوء ثم مشى إلى الصلاة المكتوبة فصلاها مع الناس او مع الجماعة او في المسجد غفر الله له ذنوبه".
(مرفوع) أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، قال: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ الْحُكَيْمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْقُرَشِيّ حَدَّثَهُ، أَنَّ نَافِعَ بْنَ جُبَيْرٍ، وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي سَلَمَةَ حَدَّثَاهُ، أَنَّ مُعَاذَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَهُمَا، عَنْ حُمْرَانَ مَوْلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، قال: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" مَنْ تَوَضَّأَ لِلصَّلَاةِ فَأَسْبَغَ الْوُضُوءَ ثُمَّ مَشَى إِلَى الصَّلَاةِ الْمَكْتُوبَةِ فَصَلَّاهَا مَعَ النَّاسِ أَوْ مَعَ الْجَمَاعَةِ أَوْ فِي الْمَسْجِدِ غَفَرَ اللَّهُ لَهُ ذُنُوبَهُ".
عثمان بن عفان رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جس نے نماز کے لیے وضو کیا، اور کامل وضو کیا، پھر فرض نماز کے لیے چلا، اور آ کر لوگوں کے ساتھ نماز پڑھی یا جماعت کے ساتھ، یا مسجد میں (تنہا) نماز پڑھی، تو اللہ تعالیٰ اس کے گناہوں ۱؎ کو بخش دے گا۔

تخریج الحدیث: «صحیح البخاری/الرقاق 8 (6433)، صحیح مسلم/الطھارة 4 (232)، (تحفة الأشراف: 9797)، مسند احمد 1/64، 67، 71، (صحیح)»

وضاحت:
۱؎: مراد صغیرہ گناہ ہیں۔

قال الشيخ الألباني: صحيح

قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

   صحيح البخاري6433عثمان بن عفانمن توضأ مثل هذا الوضوء ثم أتى المسجد فركع ركعتين ثم جلس غفر له ما تقدم من ذنبه قال وقال النبي لا تغتروا
   صحيح البخاري164عثمان بن عفانمن توضأ نحو وضوئي هذا ثم صلى ركعتين لا يحدث فيهما نفسه غفر الله له ما تقدم من ذنبه
   صحيح البخاري159عثمان بن عفانمن توضأ نحو وضوئي هذا ثم صلى ركعتين لا يحدث فيهما نفسه غفر له ما تقدم من ذنبه
   صحيح مسلم540عثمان بن عفانلا يتوضأ رجل مسلم فيحسن الوضوء فيصلي صلاة إلا غفر الله له ما بينه وبين الصلاة التي تليها
   صحيح مسلم539عثمان بن عفانمن توضأ نحو وضوئي هذا ثم صلى ركعتين لا يحدث فيهما نفسه غفر له ما تقدم من ذنبه
   صحيح مسلم542عثمان بن عفانلا يتوضأ رجل فيحسن وضوءه ثم يصلي الصلاة إلا غفر له ما بينه وبين الصلاة التي تليها
   صحيح مسلم538عثمان بن عفانمن توضأ نحو وضوئي هذا ثم قا م فركع ركعتين لا يحدث فيهما نفسه غفر له ما تقدم من ذنبه
   صحيح مسلم544عثمان بن عفانمن توضأ هكذا غفر له ما تقدم من ذنبه كانت صلاته ومشيه إلى المسجد نافلة
   صحيح مسلم548عثمان بن عفانمن توضأ هكذا ثم خرج إلى المسجد لا ينهزه إلا الصلاة غفر له ما خلا من ذنبه
   صحيح مسلم549عثمان بن عفانمن توضأ للصلاة فأسبغ الوضوء ثم مشى إلى الصلاة المكتوبة فصلاها مع الناس أو مع الجماعة أو في المسجد غفر الله له ذنوبه
   صحيح مسلم543عثمان بن عفانما من امرئ مسلم تحضره صلاة مكتوبة فيحسن وضوءها وخشوعها وركوعها إلا كانت كفارة لما قبلها من الذنوب ما لم يؤت كبيرة وذلك الدهر كله
   صحيح مسلم578عثمان بن عفانمن توضأ فأحسن الوضوء خرجت خطاياه من جسده حتى تخرج من تحت أظفاره
   سنن أبي داود106عثمان بن عفانمن توضأ مثل وضوئي هذا ثم صلى ركعتين لا يحدث فيهما نفسه غفر الله له ما تقدم من ذنبه
   سنن النسائى الصغرى84عثمان بن عفانمن توضأ نحو وضوئي هذا ثم صلى ركعتين لا يحدث نفسه فيهما بشيء غفر له ما تقدم من ذنبه
   سنن النسائى الصغرى116عثمان بن عفانمن توضأ نحو وضوئي هذا ثم قا م فركع ركعتين لا يحدث فيهما نفسه غفر له ما تقدم من ذنبه
   سنن النسائى الصغرى85عثمان بن عفانمن توضأ مثل وضوئي هذا ثم قام فصلى ركعتين لا يحدث فيهما نفسه بشيء غفر الله له ما تقدم من ذنبه
   سنن النسائى الصغرى857عثمان بن عفانمن توضأ للصلاة فأسبغ الوضوء ثم مشى إلى الصلاة المكتوبة فصلاها مع الناس أو مع الجماعة أو في المسجد غفر الله له ذنوبه
   سنن النسائى الصغرى146عثمان بن عفانما من امرئ يتوضأ فيحسن وضوءه ثم يصلي الصلاة إلا غفر له ما بينه وبين الصلاة الأخرى حتى يصليها
   سنن ابن ماجه285عثمان بن عفانمن توضأ مثل وضوئي هذا غفر له ما تقدم من ذنبه وقال رسول الله ولا تغتروا
   بلوغ المرام30عثمان بن عفانرايت رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم توضا نحو وضوئي هذا
   المعجم الصغير للطبراني117عثمان بن عفان توضأ فتمضمض ثلاثا ، واستنشق ثلاثا ، وغسل وجهه ثلاثا ، وغسل يديه ثلاثا ثلاثا ، ومسح برأسه واحدة ، وغسل رجليه ثلاثا ، ثم قال : هكذا رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم يتوضأ
   المعجم الصغير للطبراني124عثمان بن عفان توضأ ثلاثا ثلاثا
   المعجم الصغير للطبراني130عثمان بن عفان من توضأ نحو وضوئي ، ثم ركع ركعتين لا يحدث فيهما نفسه إلا بخير غفر له ما تقدم من ذنبه

تخریج الحدیث کے تحت حدیث کے فوائد و مسائل
  علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 30  
´اعضائے وضو میں سے ہاتھ، منہ اور پاؤں کا تین تین مرتبہ دھونا`
«. . . ان عثمان دعا بوضوء فغسل كفيه ثلاث مرات،‏‏‏‏ ثم تمضمض واستنشق واستنثر،‏‏‏‏ ثم غسل وجهه ثلاث مرات ثم غسل يده اليمنى إلى المرفق ثلاث مرات،‏‏‏‏ ثم اليسرى مثل ذلك،‏‏‏‏ ثم مسح براسه،‏‏‏‏ ثم غسل رجله اليمنى إلى الكعبين ثلاث مرات،‏‏‏‏ ثم اليسرى مثل ذلك . . .»
. . . سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے وضو کا پانی طلب فرمایا پہلے اپنے ہاتھوں کی ہتھیلیاں تین مرتبہ دھوئیں۔ پھر منہ میں پانی ڈال کر کلی کی پھر ناک میں پانی چڑھایا اور اسے جھاڑ کر صاف کیا۔ پھر تین مرتبہ اپنا چہرہ دھویا۔ پھر دایاں ہاتھ کہنی تک تین مرتبہ دھویا۔ پھر اسی طرح بایاں ہاتھ کہنی تک تین مرتبہ دھویا۔ پھر اپنے سر کا مسح کیا۔ پھر اپنا دایاں اور بایاں پاؤں ٹخنوں تک تین، تین مرتبہ دھویا . . . [بلوغ المرام/كتاب الطهارة: 30]

لغوی تشریح:
«بِوَضُوء» واؤ کے فتحہ کے ساتھ ہے۔ وہ پانی جس سے وضو کیا جائے۔
«تَمَضْمَضَ» «اَلْمَضْمَضَة» سے ماخوذ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ منہ میں پانی داخل کر کے اسے حرکت دے، پھر باہر پھینک دے۔
«اِسْتَنْشَقَ» «اِسْتِنْشَاق» سے ماخوذ ہے۔ پانی کا ناک کے داخلی حصے میں پہنچا کر بذریعہ سانس اوپر چڑھانا۔
«اِسْتَنْشَرَ» ناک سے داخل شدہ پانی کو باہر نکالنا اور اسے جھاڑنا۔
«اَلْمِرْفَقِ» میم کے کسرہ، را کے سکون اور فا کے فتحہ کے ساتھ ہے، یعنی کہنی جو ذراع اور عضد کے درمیان جوڑ والی ہڈی ہے۔
«إِلَى الْكَعْبَيْنِ» ٹخنوں تک۔ پنڈلی اور پاؤں کے ملنے کی جگہ۔ ابھری ہوئی ہڈیاں۔ بلوغ المرام میں اس حدیث کے آخر میں یہ الفاظ بھی ہیں جنہیں مؤلف نے اختصاراً حذف کر دیا ہے: پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اس طرح وضو کر کے فرمایا: «من توضا نحو وضوئي هذا ثم صلى ركعتين لا يحدث فيهما نفسه غفرله ما تقدم من ذنبه» جس شخص نے میرے اس وضو کی طرح وضو کیا، پھر دو رکعتیں ادا کیں اور اس دوران میں اس نے اپنے دل میں کوئی ایسی بات بھی نہ کی جس کا نماز سے کوئی تعلق نہ ہو تو اس کے گزشتہ تمام گناہ معاف کر دیے جائیں گے۔

فائدہ:
اس حدیث سے اعضائے وضو میں سے ہاتھ، منہ اور پاؤں کا تین تین مرتبہ دھونا ثابت ہوتا ہے۔ دوسری روایت میں دو دو مرتبہ اور بعض روایات میں ایک ایک مرتبہ دھونے کا ذکر بھی آیا ہے۔ محدثین فقہاء نے اس روایات میں اس طرح تطبیق دی ہے کہ ہر عضو کا ایک ایک مرتبہ دھونا واجب اور تین تین مرتبہ دھونا مسنون ہے، دو دو مرتبہ دھو لیا جائے تو بھی کافی ہے۔ امام نووی رحمہ اللہ نے اس پر اجماع نقل کیا ہے کہ واجب صرف ایک مرتبہ دھونا ہے۔

راوی حدیث:
SR حمران رحمہ اللہ ER حا کے ضمہ اور میم کے سکون کے ساتھ ہے۔ حمران بن ابان۔ ابان ہمزہ کے فتحہ اور با کی تخفیف کے ساتھ ہے۔ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے ایک غزوہ میں انہیں قید کیا۔ مسیّب بن نخبہ کے حصے میں آئے۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے مسیّب سے خرید کر آزاد کر دیا۔ طبقہ ثانیہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ ثقہ ہیں اور 75 ہجری میں فوت ہوئے۔ بعض نے سن وفات 76 اور 71 ہجری بھی ذکر کی ہے۔

SR سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ ER عثمان بن عفان تیسرے خلیفہ راشد اور سابقین اولین میں سے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کی دو لخت جگر سیدہ رقیہ اور سیدہ ام کلثوم رضی اللہ عنہما، یکے بعد دیگرے ان کی زوجیت میں رہیں۔ اسی وجہ سے آپ رضی اللہ عنہ ذوالنورین کے لقب سے مشہور ومعروف ہوئے۔ انہوں نے 18 ذوالحجہ 35 ہجری کو جمعہ کے روز جام شہادت نوش کیا۔
   بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث\صفحہ نمبر: 30   
  حافظ عمران ايوب لاهوري حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري 159  
´ وضو میں ہر عضو کو تین تین بار دھونا (سنت ہے) `
«. . . أَنَّ حُمْرَانَ مَوْلَى عُثْمَانَ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ رَأَى عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ دَعَا بِإِنَاءٍ، فَأَفْرَغَ عَلَى كَفَّيْهِ ثَلَاثَ مِرَارٍ فَغَسَلَهُمَا، ثُمَّ أَدْخَلَ يَمِينَهُ فِي الْإِنَاءِ فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا وَيَدَيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ ثَلَاثَ مِرَارٍ، ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِهِ، ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ ثَلَاثَ مِرَارٍ إِلَى الْكَعْبَيْنِ، ثُمَّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ تَوَضَّأَ نَحْوَ وُضُوئِي هَذَا، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ لَا يُحَدِّثُ فِيهِمَا نَفْسَهُ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ " . . . .»
. . . حمران عثمان کے مولیٰ نے خبر دی کہ انہوں نے عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو دیکھا، انہوں نے (حمران سے) پانی کا برتن مانگا۔ (اور لے کر پہلے) اپنی ہتھیلیوں پر تین مرتبہ پانی ڈالا پھر انہیں دھویا۔ اس کے بعد اپنا داہنا ہاتھ برتن میں ڈالا۔ اور (پانی لے کر) کلی کی اور ناک صاف کی، پھر تین بار اپنا چہرہ دھویا اور کہنیوں تک تین بار دونوں ہاتھ دھوئے پھر اپنے سر کا مسح کیا پھر (پانی لے کر) ٹخنوں تک تین مرتبہ اپنے دونوں پاؤں دھوئے۔ پھر کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جو شخص میری طرح ایسا وضو کرے، پھر دو رکعت پڑھے، جس میں اپنے نفس سے کوئی بات نہ کرے۔ تو اس کے گذشتہ گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں۔ . . . [صحيح البخاري/كِتَاب الْوُضُوءِ/بَابُ الْوُضُوءِ ثَلاَثًا ثَلاَثًا: 159]

تخريج الحديث:
[135۔ البخاري فى: 4 كتاب الوضوي: 24 باب الوضوء ثلاثًا ثلاثًا 159،مسلم 226،أبوداؤد 106]
لغوی توضیح:
«فَمَضْمَضَ» کلی کی۔
«اسْتَنْشَقَ» ناک میں پانی ڈالا۔
«الْمِرْفَقَيْن» کی واحد «الْمِرْفَق» ہے، معنی ہے کہنی۔
«لَا يُحَدِّثُ فِيْهِمَا نَفْسَهُ» وہ اپنے نفس سے کوئی بات نہ کرے، یعنی دنیوی امور میں سے کوئی چیز یا ایسی بات جس کا نماز سے کوئی تعلق نہیں۔
فهم الحديث:
اس اور آئندہ حدیث میں وضو کا مسنون طریقہ ذکر ہوا ہے۔ یہاں یہ یاد رہے کہ وضو سے پہلے نیت بھی ضروری ہے کیونکہ تمام اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہی ہے۔ [بخاري: كتاب بدء الوحي 1 مسلم 1907 ابوداود 2201 ترمذي 1647 حميدي 28] اور نیت کا تعلق صرف دل کے ساتھ ہے جیسا کہ امام نووی رحمہ الله نے بھی یہ وضاحت فرمائی ہے۔ [شرح المهذب 352/1]
زبان کے ساتھ نیت کو امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ، امام ابن قیم رحمہ اللہ، سعودی مستقل فتویٰ کمیٹی اور دیگر علماء بدعت شمار کرتے ہیں۔ [مجموع الفتاوي لا بن تيميه 262/18 غاثة اللهفان 158/1 فتاوي اللجنة الدائمة 203/5]
وضو کی ابتدا میں بسم اللہ پڑھنا بھی ضروری ہے جیسا کہ ایک روایت میں ہے کہ جس نے ابتدائے وضو میں بسم اللہ نہ پڑھی اس کا وضوء نہیں۔ [صحيح: صحيح أبوداود: كتاب الطهارة 92، أبوداود 101، ابن ماجه 399]
اعضائے وضو تین تین مرتبہ دھونا مستحب ہے واجب نہیں، کیونکہ ایک ایک مرتبہ اعضاء دھونا بھی ثابت ہے۔ [بخاري: كتاب الوضوء: باب الوضوء مرة مرة 157 ترمذي 42 أبوداود 138] اس لیے اگر کوئی ایک ایک بار بھی اعضاء دھوئے گا تو اس کا وضوء ہو جائے گا۔ البتہ سر کا مسح ہمیشہ ایک مرتبہ کرنا ہی مسنون ہے۔ اور سر کے مسح کے حکم میں کانوں کا مسح بھی شامل ہے۔ [صحيح: السلسلة الصحيحة 36]
نیز گردن کا مسح کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں جیسا کہ شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ، امام ابن قیم رحمہ اللہ اور سعودی مستقل فتویٰ کمیٹی نے یہی فتویٰ دیا ہے۔ [مجموع الفتاويٰ 127/21 زاد المعاد 195/1 فتاويٰ اللجنة الدائمة 236/5]
اور امام نووی رحمہ اللہ نے تو اسے بدعت کہا ہے۔ [المجموع للنووي 489/1]
   جواہر الایمان شرح الولووالمرجان، حدیث\صفحہ نمبر: 135   
  فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 84  
´کلی کرنے اور ناک میں پانی ڈالنے کا بیان۔`
حمران بن ابان کہتے ہیں کہ میں نے عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو دیکھا آپ نے وضو کیا تو اپنے دونوں ہاتھوں پر تین دفعہ پانی انڈیلا، انہیں دھویا، پھر کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا، پھر تین مرتبہ اپنا چہرہ دھویا، پھر کہنی تک اپنا دایاں ہاتھ دھویا، پھر اسی طرح بایاں ہاتھ دھویا، پھر اپنے سر کا مسح کیا، پھر اپنا دایاں پیر تین بار دھویا، پھر اسی طرح بایاں پیر دھویا، پھر کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے میرے اس وضو کی طرح وضو کیا، اور فرمایا: جو میرے اس وضو کی طرح وضو کرے اور دو رکعت نماز پڑھے، اور دل میں کوئی اور خیال نہ لائے تو اس کے گزشتہ گناہ بخش دیئے جائیں گے ۱؎۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 84]
84۔ اردو حاشیہ:
➊ مضمضہ اور استنشاق کا ذکر اگرچہ قرآن مجید میں صراحتاً نہیں ہے، مگر احادیث میں ان کا بکثرت ذکر آیا ہے۔ نبیٔ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: «إذا توضا أحدکم فلیجعل في أنفه ماء ثم لینشر» جب تم میں سے کوئی ایک وضو کرے تو اسے چاہیے کہ اپنی ناک میں پانی ڈالے، پھر اسے جھاڑے۔ [سنن أبي داود، الطھارة، حدیث 140]
مزید آپ نے فرمایا: «بالغ في الاستنشاق الا ان تکون صائما» ناک میں پانی چڑھانے میں مبالغہ کر الا یہ کہ تو روزے سے ہو۔ ان احادیث میں ناک میں پانی چڑھانے کا حکم ہے اور حکم وجوب کا تقاضا کرتا ہے، نیز کلی کے متعلق فرمایا: «اذا توضات فمضمض» جب تو وضو کرے تو کلی کر۔ اس حدیث سے یہ بھی پتا چلا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو میں کلی کرنے کا حکم دیا ہے جس سے کلی کا وجوب ثابت ہوتا ہے۔ قرآن مجید میں ﴿فاغسلوا وجوھکم﴾ چہرا دھونے کا حکم ہے جبکہ چہرے میں ناک اور منہ بھی شامل ہے، لہٰذا ان کا حکم بھی وجوب کا ہو گا۔ الگ ناموں کی وجہ سے اصل مسمی سے خارج نہ ہوں گے، جیسے رخسار اور آنکھیں چہرے سے خارج نہیں ہوتے۔ مضمضمہ اور استنشاق کے وجوب کی مؤید یہ دلیل بھی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوری زندگی ان کا التزام کیا ہے۔ آپ سے یا صحابۂ کرام رضی اللہ عنھم سے کہیں یہ نہیں ملتاکہ کبھی آپ نے انہیں چھوڑا ہو، نیز آپ کا وضو فرمانا حکم وضو والی آیت کی عملی تفسیر تھا، اس لیے ان کا حکم بھی وجوب ہی کا ہو گا۔ جن علماء نے عشر من السنن کی بنا پر مضمضہ اور اشتنشاق کو سنت قرار دیا ہے کیونکہ اس حدیث میں مضمضہ اور استنشاق کا بھی ذکر ہے، اسی حدیث میں باقی امور فطرت کے بارے میں ان کا کیا خیال ہے؟ کیونکہ ان امور فطرت کو بجا لانا ضروری ہے، جیسے زیر ناف کے بالوں کا مونڈنا اور بغلوں کی صفائی وغیرہ تو کیا انہیں چھوڑا بھی جا سکتا ہے؟ تو اگر سنت سے ان کی مراد اصطلاحی سنت جو فقہاء کے ہاں واجب کے مقابلے میں ہوتی ہے تو یہ بات صراحتاً مذکورہ دلائل کی روشنی میں مرجوح ہے۔ بہرحال وضو اور غسل میں دونوں کا بجا لانا ضروری ہے اگر انہیں وضو میں ترک کر دیا جائے تو وضو باطل ہو گا اور دوبارہ وضو کرنا چاہیے۔ یہ موقف جلیل ائمہ کی ایک جماعت کا ہے، جیسے امام احمد، اسحاق اور عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ وغیرہ۔ دیکھیے [جامع الترمذي، الطھارة، حدیث: 27]
➋ فطری طور پر بھی مضمضمہ اور استنشاق ضروری ہیں کیونکہ نماز کے تمام اور اد و اذکار کی ادائیگی منہ اور ناک کے ذریعے سے ہی ہوتی ہے۔ اگر یہ دو عضو صاف نہ کیے گئے تو نہ صرف یہ کہ ادائیگی میں خرابی واقع ہو گی بلکہ قریبی نمازیوں اور فرشتوں کو بدبو سے تکلیف بھی ہو گی۔
اس کے گزشتہ سب گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔ اس سے مراد قابل معافی گناہ ہیں، مثلاً: صغائر، جبکہ کبائر کی معافی کے لیے توبہ و استغفار ضروری ہے۔
➍ وضو کے بعد دو رکعتیں پڑھنا مستحب ہے۔ اور یہ جس وقت بھی وضو کیا جائے اس وقت پڑھی جا سکتی ہے۔
➎ اس حدیث سے یہ بھی ثابت ہوا کہ وضو کرتے ہوئے ترتیب کا لحاظ رکھنا ضروری ہے۔
   سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث\صفحہ نمبر: 84   
  فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 85  
´کس ہاتھ سے کلی کرے؟`
حمران سے روایت ہے کہ انہوں نے عثمان رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے وضو کا پانی منگوایا، اور اسے برتن سے اپنے دونوں ہاتھ پر انڈیلا، پھر انہیں تین بار دھویا، پھر اپنا داہنا ہاتھ پانی میں ڈالا ۱؎ اور کلی کی، اور ناک صاف کی، پھر تین بار اپنا چہرہ دھویا اور کہنیوں تک تین بار ہاتھ دھوئے، پھر اپنے سر کا مسح کیا، پھر اپنے دونوں پیروں میں سے ہر پیر کو تین تین بار دھویا، پھر کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ نے میرے اس وضو کی طرح وضو کیا، اور فرمایا: جو میرے اس وضو کی طرح وضو کرے، پھر کھڑے ہو کر دو رکعت نماز پڑھے، دل میں کوئی اور خیال نہ لائے تو اس کے گزشتہ گناہ بخش دئیے جائیں گے۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 85]
85۔ اردو حاشیہ: کہنیوں تک سے مراد کہنیوں سمیت دھونا ہے کیونکہ یہاں «إلی» تک «مع» سمیت کے معنی میں ہے۔ دیکھیے: [ذخیرۃ العقبیٰ شرح سنن النسائي: 276/2]
   سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث\صفحہ نمبر: 85   
  فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 116  
´دھونے کی حد یعنی ہاتھ اور پاؤں کہاں تک دھوئے؟`
حمران مولی عثمان سے روایت ہے کہ عثمان رضی اللہ عنہ نے وضو کا پانی مانگا، اور وضو کیا، تو انہوں نے اپنے دونوں ہتھیلی تین بار دھو لی، پھر کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا، پھر اپنا چہرہ تین بار دھویا، پھر اپنا دایاں ہاتھ کہنی تک تین بار دھویا، پھر اسی طرح اپنا بایاں ہاتھ دھویا، پھر اپنے سر کا مسح کیا، پھر اپنا دایاں پاؤں ٹخنے تک تین بار دھویا، پھر اسی طرح بایاں پاؤں دھویا، پھر کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے میرے اسی وضو کی طرح وضو کیا، پھر کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو میرے اس وضو کی طرح وضو کرے، پھر کھڑے ہو کر دو رکعت نماز پڑھے، اور اپنے دل میں دوسرے خیالات نہ لائے تو اس کے گزشتہ گناہ معاف کر دیئے جائیں گے ۱؎۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 116]
116۔ اردو حاشیہ:
➊ یہ حدیث پیچھے گزر چکی ہے، دیکھیے: [حدیث: 84]
امام صاحب اس حدیث کو دوبارہ لا کر یہ بتلانا چاہتے ہیں کہ پاؤں کو ٹخنوں سمیت دھویا جائے گا، یہ نہیں کہ وضو کرتے وقت کہنیوں اور ٹخنوں کو ترک کر دیا جائے گا۔
➋ یہ بھی معلوم ہوا کہ جب پاؤں ننگے ہوں، یعنی موزے یا جرابیں نہ پہنی ہوں تو بجائے مسح کرنے کے، انہیں دھونا چاہیے۔ واللہ أعلم۔
   سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث\صفحہ نمبر: 116   
  فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 146  
´مسنون وضو کرنے والے کا ثواب۔`
عثمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: جو شخص بھی اچھی طرح وضو کرے، پھر نماز پڑھے، تو اس کے اس نماز سے لے کر دوسری نماز پڑھنے تک کے دوران ہونے والے گناہ بخش دئیے جائیں گے۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 146]
146۔ اردو حاشیہ:
➊ ان احادیث کے ظاہر سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ ان اعمال سے سابقہ تمام گناہ معاف ہو جاتے ہیں، خواہ صغیرہ ہوں یا کبیرہ اور یقیناًً یہ اللہ تعالیٰ کی وسیع رحمت اور عظیم قدرت کا لازمہ ہے، نیز «من عمل» جونسا بھی عمل ہو۔ سے اسی موقف کی تائید ہوتی ہے۔ لیکن جمہور علماء نے دیگر روایات کو مدنظر رکھتے ہوئے کہا ہے کہ یہاں گناہوں سے صغیرہ گناہ مراد ہیں، بشرطیکہ کبائر سے اجتناب کرے۔ کبائر کی معافی کے لیے توبہ ضروری ہے تفصیل کے لیے دیکھیے: [فتح الباری: 342/1، تحت حدیث: 159، و شرح مسلم للنوی: 141/3، تحت حدیث: 228]
➋ آئندہ نماز تک کے گناہوں کی معافی کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان پر مؤاخذہ نہیں فرمائے گا۔
   سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث\صفحہ نمبر: 146   
  مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث285  
´وضو (طہارت) کا ثواب۔`
عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے غلام حمران کہتے ہیں کہ میں نے عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو مسجد کے قریب چبوترے پہ بیٹھا ہوا دیکھا، انہوں نے وضو کا پانی منگایا، اور وضو کیا، پھر کہنے لگے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے اسی بیٹھنے کی جگہ پر دیکھا کہ آپ نے اسی طرح وضو کیا جس طرح میں نے کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے میرے اس وضو کی طرح وضو کیا اس کے پچھلے تمام گناہ بخش دئیے جائیں گے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اس بشارت سے دھوکے میں نہ آ جانا (کہ نیک اعمال چھوڑ دو)۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 285]
اردو حاشہ: (1) (مقاعد)
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے گھر کے پاس یا مسجد کے پاس ایک جگہ تھی جہاں لوگ فارغ اوقات میں مل بیٹھتے تھے۔

(2)
صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کے اقوال وافعال کو یاد رکھتے تھے ان کے مطابق عمل کرتے اور دوسروں کو اسی طرح کرکے دکھاتے تھے تاکہ اچھی طرح سمجھ میں آجائیں۔

(3)
تعلیم کا ایک موثر طریقہ یہ بھی ہے کہ استاد خود کام کرکے دکھائے تاکہ شاگرد اسے دیکھ کر اس کے مطابق کرنے کی کوشش کریں۔
خصوصا وضو نماز حج عمرہ وغیرہ جیسے عملی مسائل میں یہ طریقہ بہت مفید ہے۔

(4)
مغرور نہ ہونا یا دھوکا نہ کھانا اس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی شخص یہ سوچ کرغرور نہ کرے کہ میرے سب گناہ معاف ہوچکے ہیں اور میں بالکل پاک باز اور پاک دامن ہوں۔
   سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث\صفحہ نمبر: 285   

http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.