صحيح البخاري کل احادیث 7563 :حدیث نمبر
صحيح البخاري
کتاب: حیض کے احکام و مسائل
The Book of Menses (Menstrual Periods)
5. بَابُ مُبَاشَرَةِ الْحَائِضِ:
5. باب: اس بارے میں کہ حائضہ کے ساتھ مباشرت کرنا (یعنی جماع کے علاوہ اس کے ساتھ لیٹنا بیٹھنا جائز ہے)۔
(5) Chapter. Fondling a menstruating wife.
حدیث نمبر: 303
پی ڈی ایف بنائیں مکررات اعراب English
(مرفوع) حدثنا ابو النعمان، قال: حدثنا عبد الواحد، قال: حدثنا الشيباني، قال: حدثنا عبد الله بن شداد، قال: سمعت ميمونة،" كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا اراد ان يباشر امراة من نسائه امرها فاتزرت وهي حائض"، ورواه سفيان، عن الشيباني.(مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا الشَّيْبَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَدَّادٍ، قَالَ: سَمِعْتُ مَيْمُونَةَ،" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يُبَاشِرَ امْرَأَةً مِنْ نِسَائِهِ أَمَرَهَا فَاتَّزَرَتْ وَهِيَ حَائِضٌ"، وَرَوَاهُ سُفْيَانُ، عَنْ الشَّيْبَانِيِّ.
ہم سے ابوالنعمان محمد بن فضل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالواحد بن زیاد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابواسحاق شیبانی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبداللہ بن شداد نے بیان کیا، انہوں نے کہا میں نے میمونہ سے سنا، انہوں نے کہا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں میں سے کسی سے مباشرت کرنا چاہتے اور وہ حائضہ ہوتی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے، وہ پہلے ازار باندھ لیتیں۔ اور سفیان نے شیبانی سے اس کو روایت کیا ہے۔


Hum se Abu No’maan Muhammed bin Fazl ne bayan kiya, unhon ne kaha hum se Abdul Wahid bin Ziyaad ne bayan kiya, unhon ne kaha hum se Abu Ishaaq Shaibani ne bayan kiya, unhon ne kaha hum se Abdullah bin Shaddad ne bayan kiya, unhon ne kaha main ne Maimunah se suna, unhon ne kaha ke jab Nabi-e-Kareem Sallallahu Alaihi Wasallam apni biwiyon mein se kisi se mubaasharat karna chaahte aur woh haaiza hoti, to Aap Sallallahu Alaihi Wasallam ke hukm se, woh pehle izaar baandh leti. Aur Sufyan ne Shaibani se is ko riwayat kiya hai.

Narrated Maimuna: When ever Allah's Apostle wanted to fondle any of his wives during the periods (menses), he used to ask her to wear an Izar.
USC-MSA web (English) Reference: Volume 1, Book 6, Number 300


   صحيح البخاري303ميمونة بنت الحارثيباشر امرأة من نسائه أمرها فاتزرت وهي حائض
   صحيح مسلم681ميمونة بنت الحارثيباشر نساءه فوق الإزار وهن حيض
   صحيح مسلم682ميمونة بنت الحارثيضطجع معي وأنا حائض وبيني وبينه ثوب
   سنن أبي داود2167ميمونة بنت الحارثيباشر امرأة من نسائه وهي حائض أمرها أن تتزر ثم يباشرها
   سنن أبي داود267ميمونة بنت الحارثيباشر المرأة من نسائه وهي حائض إذا كان عليها إزار إلى أنصاف الفخذين أو الركبتين تحتجز به
   سنن النسائى الصغرى376ميمونة بنت الحارثيباشر المرأة من نسائه وهي حائض إذا كان عليها إزار يبلغ أنصاف الفخذين والركبتين
   سنن النسائى الصغرى288ميمونة بنت الحارثيباشر المرأة من نسائه وهي حائض إذا كان عليها إزار يبلغ أنصاف الفخذين والركبتين محتجزة به

تخریج الحدیث کے تحت حدیث کے فوائد و مسائل
  مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري 303  
´حائضہ کے ساتھ مباشرت کرنا (یعنی جماع کے علاوہ اس کے ساتھ لیٹنا بیٹھنا جائز ہے)`
«. . . حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَدَّادٍ، قَالَ: سَمِعْتُ مَيْمُونَةَ، " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يُبَاشِرَ امْرَأَةً مِنْ نِسَائِهِ أَمَرَهَا فَاتَّزَرَتْ وَهِيَ حَائِضٌ "، وَرَوَاهُ سُفْيَانُ، عَنْ الشَّيْبَانِيِّ . . . .»
. . . عبداللہ بن شداد نے بیان کیا، انہوں نے کہا میں نے میمونہ سے سنا، انہوں نے کہا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں میں سے کسی سے مباشرت کرنا چاہتے اور وہ حائضہ ہوتی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے، وہ پہلے ازار باندھ لیتیں۔ اور سفیان نے شیبانی سے اس کو روایت کیا ہے۔ . . . [صحيح البخاري/كِتَاب الْحَيْضِ/بَابُ مُبَاشَرَةِ الْحَائِضِ:: 303]

تشریح:
ان تمام احادیث میں حیض کی حالت میں مباشرت سے عورت کے ساتھ لیٹنا بیٹھنا مراد ہے۔ منکرین حدیث کا یہاں جماع مراد لے کر ان احادیث کو قرآن کا معارض ٹھہرانا بالکل جھوٹ اور افترا ہے۔
   صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث\صفحہ نمبر: 303   
  الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 267  
´حائضہ عورت سے جماع کے سوا آدمی سب کچھ کر سکتا ہے۔`
ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں سے حیض کی حالت میں مباشرت (اختلاط و مساس) کرتے تھے جب ان کے اوپر نصف رانوں تک یا دونوں گھٹنوں تک تہبند ہوتا جس سے وہ آڑ کئے ہوتیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة /حدیث: 267]
267۔ اردو حاشیہ:
زوجین کے یہ مسائل کسی عام عالم کے لیے اس انداز میں بیان کرنا بہت مشکل ہے، مگر چونکہ یہ دین طہارت اور اللہ کی حدود کے مسائل ہیں، اسی لیے ازواج مطہرات نے بھی بیان فرمائے ہیں ورنہ ان کی حیا و شرم بے مثل و بے مثال تھی (رضی اللہ عنہن) اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کثرت ازدواج کی حکمت بھی یہی تھی کہ زوجین کے مابین کے مسائل شرعی لحاظ سے امت کے سامنے آ جائیں۔

مسئلہ:
ایام حیض میں بوس و کنار یقیناًً جائز ہے، مگر دیکھنا یہ ہے کہ ایسے جوڑے کو اپنے اوپر کس حد تک ضبط ہے اگر اندیشہ ہو کہ ضبط قائم نہ رہے گا تو ازحد احتیاط کرنی چاہیے کہ کہیں حرام میں واقع نہ ہو جائیں۔ نيز ديكهيے حديث: [258]
   سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعدی، حدیث\صفحہ نمبر: 267   
  الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:303  
303. حضرت میمونہ‬ ؓ س‬ے روایت ہے، انھوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ اپنی ازواج میں سے کسی کے ساتھ استراحت فرمانا، یعنی مل کر سونا چاہتے اور وہ حائضہ ہوتی تو آپ کے حکم سے وہ ازار باندھ لیتی۔ اس حدیث کو سفیان نے شیبانی سے بیان کیا ہے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:303]
حدیث حاشیہ:

امام بخاری ؒ نے مباشرت حائض کے احکام بیان کرنے کے متعلق یہ عنوان قائم کیا ہے، اس سے مراد حائضہ کے ساتھ سونا یا اس سے بوس و کنار کرنا ہے، اس سے مراد جماع نہیں، کیونکہ وہ تو حائضہ سے کسی صورت میں جائز نہیں۔
اگرچہ ہمارے ہاں اور محاورے میں لفظ مباشرت جماع کے لیے بولا جاتا ہے، اس لیے اس کا لفظ اردو زبان میں مباشرت سے ترجمہ کرنا غلط ہے۔
بعض عاقبت نااندیش مستشرقین نے اس باب میں آنے والی احادیث کے پیش نظر رسول اللہ ﷺ کی ذات گرامی کو خاکم بدہن عورتوں کا رسیا ثابت کیا ہے جو حالت حیض میں بھی ان سے پرہیز نہ کرتے تھے، ان احادیث سے قطعاً یہ ثابت نہیں ہوتا۔
رسول اللہ ﷺ انتہائی نفاست پسند تھے۔
ایک عام آدمی کو بھی بحالت حیض میں عورت کے پاس جانے سے گھن آتی ہے، چہ جائیکہ رسول اللہ ﷺ کی طرف اس قسم کا فعل منسوب کیا جائے۔
﴿ سُبْحَانَكَ هَٰذَا بُهْتَانٌ عَظِيمٌ ﴾ قارئین کرام کی معلومات کے لیے عرض ہے کہ ضب (سانڈھے)
کو قسام ازل (اللہ تعالیٰ)
نے انتہائی شہوانی جذبات سے نوازا ہے، قابل اعتماد عینی گواہوں کا بیان ہے کہ اس کے دو ذکر ہوتے ہیں، لوگ اسے کھانے اور اس کی چربی کو طلا کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔
احادیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حلال ہونے کے باوجود اسے ناپسند فرمایا۔
آپ کے دسترخوان پر دوسرے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اسے کھایا، لیکن آپ نے تناول نہیں فرمایا۔
غالباً اس کی یہی وجہ تھی کہ لوگ اس بات کا چرچا کریں گے کہ آپ کے عقد میں نو بیویاں ہیں، اس لیے ضب (سانڈھے)
کو استعمال کرتے ہیں۔
آپ نے اس سے کراہت کا اظہار کیا تاکہ کسی طرف سے بھی آپ کی شخصیت پر حرف نہ آئے۔
واللہ أعلم 2۔
امام ثوری ؒ امام احمد ؒ امام اسحاق ؒ اور دیگر کئی آئمہ کے نزدیک دوران حیض میں عورت سے صرف جماع حرام ہے اور فرج (حیض والی جگہ)
کے سوا پورے جسم سے تمتع کرنا جائز ہے۔
دلائل کے اعتبار سے یہی رائے راجح معلوم ہوتی ہے، اس کی تائید سنن ابو داود کی اس روایت سے بھی ہوتی ہے جس میں ہے کہ نبی ﷺ اگراپنی اہلیہ سے خواہش کرتے اور وہ حیض سے ہوتی تو اس کی شرمگاہ پر کپڑا ڈال دیتے۔
(سنن أبي داود، الطهارة، حدیث: 272)
ابتدائی دنوں اور بعد کے ایام کی تفریق والی وہ روایت جسے ابن حجر ؒ نے فتح الباری میں ابن ماجہ کے حوالے سے نقل کیا ہے، وہ معجم طبرانی میں ہے، لیکن ضعیف ہے۔
(السلسلة الضعیفة: 2839)
یادرہے کہ جواز اسی صورت میں ہے جب انسان اپنے آپ پر کنٹرول رکھتا ہو، ورنہ ایام حیض میں مرد عورت سے الگ رہے۔

رسول اللہ ﷺ اپنی خواہشات پر انتہائی قابو یافتہ تھے۔
اس کے دو معنی ہو سکتے ہیں:
رسول اللہ ﷺ اپنے جذبات پر پوری طرح قابو یافتہ تھے اور نا ممکن تھا کہ ازار کے بغیر بھی اگر وہ کسی بیوی کے ساتھ استراحت کرنا چاہیں تو ان سے کوئی خلاف شرع فعل صادر ہو سکے، مگر اس قدر کنٹرول کے باوجود آپ پہلے ازار پہنانے کا اہتمام کرتے، پھر اس کے ساتھ محو استراحت ہوتے۔
ازار کے بعد بھی وفور جذبات میں بہہ جانے کا اندیشہ باقی رہتا ہے، اس لیے ازار استعمال کرانے کے باوجود احتیاط کی ضرورت ہے، لہذا ایام حیض میں بیوی کے ساتھ لیٹنے والے کے بارے میں تفصیل ہے کہ اگر اسے اپنی ذات پر پورا اعتماد ہو اور کسی غلط روی کا اندیشہ نہ ہو تو اس کی اجازت دی جائے گی، بصورت دیگر اسے منع کر دیا جائے گا۔

حدیث عائشہ ؓ (رقم 302)
کو ابو اسحاق شیبانی سےبیان کرنے میں خالد بن عبد اللہ الواسطی اور جریر بن عبدالحمید نے علی بن مسہر کی متابعت کی ہے، خالد کی متابعت کو ابو القاسم التنوخی نے اپنے فوائد میں موصولاً بیان کیا ہے، جبکہ جریر کی متابعت کو ابو داؤد نے اپنی سنن اور امام حاکم نے اپنی مستدرک میں موصولاً بیان کیا ہے۔
منصور بن ابی الاسود نے بھی شیبانی سے اس روایت کو بیان کیا ہے جسے ابو عوانہ نے اپنی مسند میں موصولاًبیان کیا ہے۔
(فتح الباري: 5261)

دور حاضرکے منکرین حدیث کی کوشش ہے کہ قرآن و حدیث میں تضاد اورٹکراؤ پیدا کر کے انکار حدیث کا راستہ ہموار کیا جائے۔
اس طرح جب حدیث کا قرآن فہمی میں کوئی کردار نہیں ہوگا تو قرآن کریم کی من مانی تاویلات کرنے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہو گی، اس حدیث کے متعلق بھی انھوں نے کہا کہ اس میں بحالت حیض بیوی سے مباشرت کرنے کا ذکر ہے، جبکہ قرآن کریم میں اس کے متعلق حکم امتناعی ہے، لہٰذا یہ حدیث قرآن کے خلاف ہونے کی وجہ سے ناقابل تسلیم ہے۔
قارئین کرام کو خبردار کرنے کے لیے ہم نے ان کا ذکر کردیا ہے۔
حدیث اپنے مفہوم کے اعتبار سے واضح ہے کہ مباشرت سے مراد جماع نہیں، بلکہ اپنی بیوی کے ساتھ لیٹنا اور اس سے بوس وکنار کرنا ہے، اگر قرآن و حدیث میں بظاہر تعارض نظر آئے تو انکار کے بجائے اس کی توجیہ کرنی چاہیے۔
قرآن کریم کی متعدد آیات میں بظاہر تعارض نظر آتا ہے، لیکن مفسرین اس کی توجیہ کرتے ہیں، یہ نہیں ہوتا کہ جہاں معمولی سا تعارض نظر آیا اس کا سرے سے انکار کردیا۔
   هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث\صفحہ نمبر: 303   

http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.