الحمدللہ ! قرآن پاک روٹ ورڈ سرچ اور مترادف الفاظ کی سہولت پیش کر دی گئی ہے۔

 
صحيح مسلم کل احادیث 3033 :ترقیم فواد عبدالباقی
صحيح مسلم کل احادیث 7563 :حدیث نمبر
صحيح مسلم
نماز کے احکام و مسائل
36. باب الْقِرَاءَةِ فِي الْعِشَاءِ:
36. باب: نماز عشاء کی نماز میں قرأت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1042
پی ڈی ایف بنائیں اعراب
حدثنا يحيى بن يحيى ، اخبرنا هشيم ، عن منصور ، عن عمرو بن دينار ، عن جابر بن عبد الله : " ان معاذ بن جبل، كان يصلي مع رسول الله صلى الله عليه وسلم العشاء الآخرة، ثم يرجع إلى قومه، فيصلي بهم تلك الصلاة ".حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ : " أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ، كَانَ يُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِشَاءَ الآخِرَةَ، ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى قَوْمِهِ، فَيُصَلِّي بِهِمْ تِلْكَ الصَّلَاةَ ".
منصور نے عمرو بن دینار سے اور انہوں نے حضرت جابربن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عشاء کی نماز پڑھا کرتے تھے، پھر اپنی قوم میں آ کر یہی نماز ان کو پڑھاتے تھے۔
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے کہ معاذ بن جبل رضی اللہ تعالی عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عشاء کی نماز پڑھا کرتے تھے، پھر اپنی قوم میں آ کر یہی نماز ان کو پڑھاتے تھے۔
ترقیم فوادعبدالباقی: 465

   صحيح البخاري711جابر بن عبد اللهيصلي مع النبي ثم يأتي قومه فيصلي بهم
   صحيح مسلم1042جابر بن عبد اللهيصلي مع رسول الله العشاء الآخرة ثم يرجع إلى قومه فيصلي بهم تلك الصلاة
   صحيح مسلم1043جابر بن عبد اللهيصلي مع رسول الله العشاء ثم يأتي مسجد قومه فيصلي بهم
   سنن أبي داود599جابر بن عبد اللهيصلي مع رسول الله العشاء ثم يأتي قومه فيصلي بهم تلك الصلاة
   سنن أبي داود600جابر بن عبد اللهيصلي مع النبي ثم يرجع فيؤم قومه
   المعجم الصغير للطبراني317جابر بن عبد الله يصلي مع النبى صلى الله عليه وآله وسلم صلاة العشاء الأخيرة ، ثم يأتى قومه فيصلي بهم تلك الصلاة
   مسندالحميدي1283جابر بن عبد اللهأفتان أنت يا معاذ، أفتان أنت، اقرأ سورة كذا، وسورة كذا

تخریج الحدیث کے تحت حدیث کے فوائد و مسائل
  الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 600  
´جو شخص نماز پڑھ چکا ہو کیا وہ وہی نماز دوسروں کو پڑھا سکتا ہے؟`
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے، پھر لوٹ کر جاتے اور اپنی قوم کی امامت کرتے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة /حدیث: 600]
600۔ اردو حاشیہ:
➊ جب کوئی معقول سبب موجود ہو تو نماز کو دہرایا جا سکتا ہے، مگر دوسری نماز نفل ہو گی۔ جیسے کہ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کی پہلی نماز فرض اور دوسری نفل ہوتی تھی اور ایک بار حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بھی ایک پیچھے رہ جانے والے کے ساتھ مل کر نماز پڑھی تھی۔ دیکھیے: [سنن ابي داؤد۔ حديث 574]
➋ امام نفل پڑھ رہا ہو تو مقتدی فرض کی نیت کر سکتا ہے، یہ صورت بالعموم رمضان میں نماز تراویح میں پیش آ سکتی ہے اور جائز ہے کہ دیر سے آنے والا امام کے پیچھے فرض کی نیت کر لے، امام دو رکعت پر سلام پھیر دے۔ تو وہ کھڑے ہو کر اپنی بقیہ نماز پوری کر لے۔
   سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعدی، حدیث\صفحہ نمبر: 600   

http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.