الحمدللہ ! قرآن پاک روٹ ورڈ سرچ اور مترادف الفاظ کی سہولت پیش کر دی گئی ہے۔

 

صحيح مسلم کل احادیث 3033 :ترقیم فواد عبدالباقی
صحيح مسلم کل احادیث 7563 :حدیث نمبر
صحيح مسلم
كِتَاب الصَّلَاةِ
نماز کے احکام و مسائل
36. باب الْقِرَاءَةِ فِي الْعِشَاءِ:
باب: نماز عشاء کی نماز میں قرأت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1037
پی ڈی ایف بنائیں اعراب
حدثنا عبيد الله بن معاذ العنبري ، حدثنا ابي ، حدثنا شعبة ، عن عدي ، قال: سمعت البراء يحدث، عن النبي صلى الله عليه وسلم، " انه كان في سفر، فصلى العشاء الآخرة، فقرا: في إحدى الركعتين والتين والزيتون ".حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَدِيٍّ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْبَرَاءَ يُحَدِّثُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " أَنَّهُ كَانَ فِي سَفَرٍ، فَصَلَّى الْعِشَاءَ الآخِرَةَ، فَقَرَأَ: فِي إِحْدَى الرَّكْعَتَيْنِ وَالتِّينِ وَالزَّيْتُونِ ".
‏‏‏‏ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء پڑھائی تو سورہ «وَالتِّينِ وَالزَّيْتُونِ» ایک رکعت میں پڑھی۔
حدیث نمبر: 1038
پی ڈی ایف بنائیں اعراب
حدثنا قتيبة بن سعيد ، حدثنا ليث ، عن يحيى وهو ابن سعيد عن عدي بن ثابت ، عن البراء بن عازب ، انه قال: " صليت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم العشاء، فقرا ب التين والزيتون ".حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ يَحْيَى وَهُوَ ابْنُ سَعِيدٍ عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، أَنَّهُ قَالَ: " صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِشَاءَ، فَقَرَأَ بِ التِّينِ وَالزَّيْتُونِ ".
‏‏‏‏ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عشاء کی نماز پڑھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم (اس میں) سورہ «وَالتِّينِ وَالزَّيْتُونِ» پڑھی۔
حدیث نمبر: 1039
پی ڈی ایف بنائیں اعراب
حدثنا محمد بن عبد الله بن نمير ، حدثنا ابي ، حدثنا مسعر ، عن عدي بن ثابت ، قال: سمعت البراء بن عازب ، قال: " سمعت النبي صلى الله عليه وسلم قرا في العشاء ب: التين والزيتون، فما سمعت احدا احسن صوتا منه ".حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ ، قَالَ: " سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ فِي الْعِشَاءِ بِ: التِّينِ وَالزَّيْتُونِ، فَمَا سَمِعْتُ أَحَدًا أَحْسَنَ صَوْتًا مِنْهُ ".
‏‏‏‏ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے سنا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز میں سورہ «وَالتِّينِ وَالزَّيْتُونِ» پڑھی۔ میں نے ایسا خوش الحان کسی کو نہیں پایا۔
حدیث نمبر: 1040
پی ڈی ایف بنائیں اعراب
حدثني محمد بن عباد ، حدثنا سفيان ، عن عمرو ، عن جابر ، قال: كان معاذ، يصلي مع النبي صلى الله عليه وسلم، ثم ياتي فيؤم قومه، فصلى ليلة مع النبي صلى الله عليه وسلم العشاء، ثم اتى قومه فامهم، فافتتح بسورة البقرة، فانحرف رجل، فسلم، ثم صلى وحده وانصرف، فقالوا له: انافقت يا فلان؟ قال: لا والله، ولآتين رسول الله صلى الله عليه وسلم فلاخبرنه، فاتى رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال: يا رسول الله، إنا اصحاب نواضح، نعمل بالنهار، وإن معاذا، صلى معك العشاء، ثم اتى فافتتح بسورة البقرة، فاقبل رسول الله صلى الله عليه وسلم على معاذ، فقال: يا معاذ، افتان انت، اقرا بكذا، واقرا بكذا، قال سفيان : فقلت لعمرو: إن ابا الزبير حدثنا، عن جابر ، انه قال: اقرا: والشمس وضحاها، والضحى، والليل إذا يغشى، وسبح اسم ربك الاعلى، فقال عمرو: نحو هذا ".حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: كَانَ مُعَاذٌ، يُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ يَأْتِي فَيَؤُمُّ قَوْمَهُ، فَصَلَّى لَيْلَةً مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِشَاءَ، ثُمَّ أَتَى قَوْمَهُ فَأَمَّهُمْ، فَافْتَتَحَ بِسُورَةِ الْبَقَرَةِ، فَانْحَرَفَ رَجُلٌ، فَسَلَّمَ، ثُمَّ صَلَّى وَحْدَهُ وَانْصَرَفَ، فَقَالُوا لَهُ: أَنَافَقْتَ يَا فُلَانُ؟ قَالَ: لَا وَاللَّهِ، وَلَآتِيَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَأُخْبِرَنَّهُ، فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا أَصْحَابُ نَوَاضِحَ، نَعْمَلُ بِالنَّهَارِ، وَإِنَّ مُعَاذًا، صَلَّى مَعَكَ الْعِشَاءَ، ثُمَّ أَتَى فَافْتَتَحَ بِسُورَةِ الْبَقَرَةِ، فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مُعَاذٍ، فَقَالَ: يَا مُعَاذُ، أَفَتَّانٌ أَنْتَ، اقْرَأْ بِكَذَا، وَاقْرَأْ بِكَذَا، قَالَ سُفْيَانُ : فَقُلْتُ لِعَمْرٍو: إِنَّ أَبَا الزُّبَيْرِ حَدَّثَنَا، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّهُ قَالَ: اقْرَأْ: وَالشَّمْسِ وَضُحَاهَا، وَالضُّحَى، وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى، وَسَبِّحْ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى، فَقَالَ عَمْرٌو: نَحْوَ هَذَا ".
‏‏‏‏ سیدنا سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے، پھر گھر آ کر اپنے لوگوں کی امامت کرتے۔ وہ ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عشاء کی نماز پڑھ کر آئے۔ پھر اپنی قوم کی امامت کی اور سورہ بقرہ شروع کر دی۔ ایک شخص نے منہ موڑ کر سلام پھیر دیا اور اکیلے پڑھ کر چلا گیا۔ لوگوں نے کہا: شاید تو منافق ہے۔ وہ بولا: نہیں۔ میں منافق نہیں ہوں اللہ کی قسم! میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاوَں گا اور آپ سے کہوں گا۔ پھر وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم اونٹوں والے ہیں (دن بھر اونٹوں سے پانی نکالتے ہیں) اور سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ آپ کے ساتھ عشاء کی نماز پڑھ کر آئے اور سورہ بقرہ شروع کی۔ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: اے معاذ! کیا تو فسادی ہے (جو لوگوں کو نفرت دلانا چاہتا ہے اور فتنہ کھڑا کرتا ہے) یہ یہ سورت پڑھا کر۔ سفیان نے کہا کہ میں نے عمرو سے کہا کہ ابوزبیر نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «وَالشَّمْسِ وَضُحَاهَا وَالضُّحَى وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى» ‏‏‏‏ اور «سَبِّحْ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى» پڑھا کر۔ عمرو نے کہا: ان جیسی سورتیں پڑھا کر۔
حدیث نمبر: 1041
پی ڈی ایف بنائیں اعراب
وحدثنا قتيبة بن سعيد ، حدثنا ليث ، قال: ح وحدثنا ابن رمح ، اخبرنا الليث ، عن ابي الزبير ، عن جابر ، انه قال: صلى معاذ بن جبل الانصاري لاصحابه العشاء، فطول عليهم، فانصرف رجل منا، فصلى، فاخبر معاذ عنه، فقال: إنه منافق، فلما بلغ ذلك الرجل، دخل على رسول الله صلى الله عليه وسلم، فاخبره ما قال معاذ، فقال له النبي صلى الله عليه وسلم: اتريد ان تكون فتانا يا معاذ؟ إذا اممت الناس، فاقرا ب الشمس وضحاها، وسبح اسم ربك الاعلى، واقرا: باسم ربك، والليل إذا يغشى ".وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، قَالَ: ح وحَدَّثَنَا ابْنُ رُمْحٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّهُ قَالَ: صَلَّى مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ الأَنْصَارِيُّ لِأَصْحَابِهِ الْعِشَاءَ، فَطَوَّلَ عَلَيْهِمْ، فَانْصَرَفَ رَجُلٌ مِنَّا، فَصَلَّى، فَأُخْبِرَ مُعَاذٌ عَنْهُ، فَقَالَ: إِنَّهُ مُنَافِقٌ، فَلَمَّا بَلَغَ ذَلِكَ الرَّجُلَ، دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرَهُ مَا قَالَ مُعَاذٌ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَتُرِيدُ أَنْ تَكُونَ فَتَّانًا يَا مُعَاذُ؟ إِذَا أَمَمْتَ النَّاسَ، فَاقْرَأْ بِ الشَّمْسِ وَضُحَاهَا، وَسَبِّحْ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى، وَاقْرَأْ: بِاسْمِ رَبِّكَ، وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى ".
‏‏‏‏ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے اپنے لوگوں کو عشاء کی نماز پڑھائی تو قرأت لمبی کی۔ ایک شخص نے ہم میں سے نماز توڑ دی اور اکیلے پڑھ لی۔ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو جب یہ خبر پہنچی تو انہوں نے کہا: وہ منافق ہے۔ یہ خبر اس شخص کو پہنچی۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا اور سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے جو کہا تھا وہ بیان کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے کہا: اے معاذ! تو فسادی ہونا چاہتا ہے۔ جب تو امامت کرے تو «وَالشَّمْسِ وَضُحَاهَا» اور «سَبِّحْ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى» اور «اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ» اور «وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى» پڑھ۔
حدیث نمبر: 1042
پی ڈی ایف بنائیں اعراب
حدثنا يحيى بن يحيى ، اخبرنا هشيم ، عن منصور ، عن عمرو بن دينار ، عن جابر بن عبد الله : " ان معاذ بن جبل، كان يصلي مع رسول الله صلى الله عليه وسلم العشاء الآخرة، ثم يرجع إلى قومه، فيصلي بهم تلك الصلاة ".حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ : " أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ، كَانَ يُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِشَاءَ الآخِرَةَ، ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى قَوْمِهِ، فَيُصَلِّي بِهِمْ تِلْكَ الصَّلَاةَ ".
‏‏‏‏ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ عشاء کی نماز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھتے پھر اپنے لوگوں میں آ کر وہی نماز پڑھاتے۔
حدیث نمبر: 1043
پی ڈی ایف بنائیں اعراب
حدثنا قتيبة بن سعيد ، وابو الربيع الزهراني ، قال ابو الربيع، حدثنا حماد ، حدثنا ايوب ، عن عمرو بن دينار ، عن جابر بن عبد الله ، قال: " كان معاذ، يصلي مع رسول الله صلى الله عليه وسلم العشاء، ثم ياتي مسجد قومه، فيصلي بهم ".حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَأَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، قَالَ أَبُو الرَّبِيعِ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: " كَانَ مُعَاذٌ، يُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِشَاءَ، ثُمَّ يَأْتِي مَسْجِدَ قَوْمِهِ، فَيُصَلِّي بِهِمْ ".
‏‏‏‏ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عشاء کی نماز پڑھتے۔ پھر اپنے لوگوں کی مسجد میں آ کر امامت کرتے۔

http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.