الحمدللہ ! قرآن پاک روٹ ورڈ سرچ اور مترادف الفاظ کی سہولت پیش کر دی گئی ہے۔

 
صحيح مسلم کل احادیث 3033 :ترقیم فواد عبدالباقی
صحيح مسلم کل احادیث 7563 :حدیث نمبر
صحيح مسلم
مسجدوں اور نماز کی جگہ کے احکام
15. باب كَرَاهَةِ الصَّلاَةِ فِي ثَوْبٍ لَهُ أَعْلاَمٌ:
15. باب: پھولدار کپڑے میں نماز پڑھنا مکروہ ہے۔
حدیث نمبر: 1239
پی ڈی ایف بنائیں اعراب
حدثنا حرملة بن يحيى ، اخبرنا ابن وهب ، اخبرني يونس ، عن ابن شهاب ، قال: اخبرني عروة بن الزبير ، عن عائشة ، قالت: " قام رسول الله صلى الله عليه وسلم، يصلي في خميصة ذات اعلام، فنظر إلى علمها، فلما قضى صلاته، قال: اذهبوا بهذه الخميصة إلى ابي جهم بن حذيفة، واتوني بانبجانيه، فإنها الهتني آنفا في صلاتي ".حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يُصَلِّي فِي خَمِيصَةٍ ذَاتِ أَعْلَامٍ، فَنَظَرَ إِلَى عَلَمِهَا، فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ، قَالَ: اذْهَبُوا بِهَذِهِ الْخَمِيصَةِ إِلَى أَبِي جَهْمِ بْنِ حُذَيْفَةَ، وَأْتُونِي بِأَنْبِجَانِيِّهِ، فَإِنَّهَا أَلْهَتْنِي آنِفًا فِي صَلَاتِي ".
یونس نے ابن شہاب (زہری) سے خبر دی، انھوں نے کہا: مجھے عروہ بن زبیر نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے خبر دی، انھوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک بیل بوٹوں والی منقش چادر پر نماز پڑھنے کے لیے کھڑے ہوئے تو اس کے نقش و نگار پر آپ کی نظر پڑی، جب آپ اپنی نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: یہ منقش چادر ابو جہم بن حذیفہ کے پاس لے جاؤ اور مجھے اس کی (سادہ) انبجانی چادر لادو کیونکہ اس نے ابھی میر نماز سے میری توجہ ہٹا دی تھی۔
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک نقش و نگار والی چادر میں نماز پڑھنے لگے اور اس کے نقش و نگار پر نظر ڈالی تو جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: یہ اونی چادر ابوجہم بن حذیفہ کے پاس لے جاؤ اور مجھے اس کی اَنْبِجَانِی چادر لا دو، کیونکہ اس نے ابھی مجھے میری نماز سے غافل کر دیا تھا۔
ترقیم فوادعبدالباقی: 556

   صحيح البخاري373عائشة بنت عبد اللهاذهبوا بخميصتي هذه إلى أبي جهم وأئتوني بأنبجانية أبي جهم فإنها ألهتني آنفا عن صلاتي
   صحيح البخاري752عائشة بنت عبد اللهشغلتني أعلام هذه اذهبوا بها إلى أبي جهم وأتوني بأنبجانية
   صحيح البخاري5817عائشة بنت عبد اللهاذهبوا بخميصتي هذه إلى أبي جهم فإنها ألهتني آنفا عن صلاتي وأتوني بأنبجانية أبي جهم بن حذيفة بن غانم من بني عدي بن كعب
   صحيح مسلم1240عائشة بنت عبد اللهكانت له خميصة لها علم فكان يتشاغل بها في الصلاة فأعطاها أبا جهم وأخذ كساء له أنبجانيا
   صحيح مسلم1238عائشة بنت عبد اللهشغلتني أعلام هذه فاذهبوا بها إلى أبي جهم وأتوني بأنبجانيه
   صحيح مسلم1239عائشة بنت عبد اللهاذهبوا بهذه الخميصة إلى أبي جهم بن حذيفة وأتوني بأنبجانيه فإنها ألهتني آنفا في صلاتي
   سنن أبي داود915عائشة بنت عبد اللهأخذ كرديا كان لأبي جهم فقيل يا رسول الله الخميصة كانت خيرا من الكردي
   سنن أبي داود4052عائشة بنت عبد اللهاذهبوا بخميصتي هذه إلى أبي جهم فإنها ألهتني آنفا في صلاتي وأتوني بأنبجانيته
   سنن النسائى الصغرى772عائشة بنت عبد اللهشغلتني أعلام هذه اذهبوا بها إلى أبي جهم وأتوني بأنبجانيه
   سنن ابن ماجه3550عائشة بنت عبد اللهشغلني أعلام هذه اذهبوا بها إلى أبي جهم وأتوني بأنبجانيته
   مسندالحميدي172عائشة بنت عبد اللهأن النبي صلى الله عليه وسلم صلى في خميصة لها أعلام

تخریج الحدیث کے تحت حدیث کے فوائد و مسائل
  الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 915  
´نماز میں (ادھر ادھر) دیکھنے کا بیان۔`
اس سند سے بھی ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہی حدیث مروی ہے اس میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوجہم کی کر دی چادر لے لی، تو آپ سے کہا گیا: اللہ کے رسول! وہ (باریک نقش و نگار والی) چادر اس (کر دی چادر) سے اچھی تھی۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 915]
915۔ اردو حاشیہ:
➊ ابوجہم رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے تھے۔ ان کا نام عبید یا عامر بن حذیفہ قرشی عدوی آیا ہے۔ ان کی طرف منقش چادر اس لئے بھیجی تھی کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ چادر ہدیہ کی تھی۔ [عون المعبود]
➋ لباس، مصلیٰ، فرش یا سامنے کی دیوار وغیرہ اگر ایسی ہو کہ اس کے نقوش سے نماز کے دوران میں الجھن ہوتی ہو تو اس سے بچنا چاہیے۔
➌ نماز کے دوران میں آنکھیں بند کر لینا کسی طرح صحیح نہیں۔ نظر حتی الامکان سجدے کی جگہ پر رہنی چاہیے۔ مگر تشہد میں بیٹھتے ہوئے انگشت شہادت پر ہو تو مستحب ہے۔ [سنن نسائي۔ حديث۔ 1161]
تفصیل کے لئے دیکھئے: [نيل الاوطار باب نظر المصلي اليٰ موضع سحوده۔۔۔ ص 211/2]
   سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعدی، حدیث\صفحہ نمبر: 915   
  فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 772  
´نقش و نگار والی چادر میں نماز پڑھنے کی رخصت کا بیان۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چادر میں نماز پڑھی جس میں نقش و نگار تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان بیل بوٹوں نے مجھے مشغول کر دیا، اسے ابوجہم کے پاس لے جاؤ، اور اس کے عوض کوئی سادی چادر لے آؤ۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب القبلة/حدیث: 772]
772 ۔ اردو حاشیہ:
➊ یہ منقش چادر ابوجہم رضی اللہ عنہ ہی نے بطور تحفہ بھیجی تھی چونکہ تحفے کی واپسی سے ان کی دل شکنی کا خطرہ تھا، لہٰذا تحفے کا تبادلہ کر لیا۔
➋ انبجانی بغیر دھاریوں کے سادہ چادر ہوتی تھی۔ انبجان علاقہ تھا جہاں وہ چادریں بنتی تھیں۔
➌ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا قلب مقدس اس قدر صاف تھا کہ اس میں ہلکی سی لہر بھی آپ کو محسوس ہوتی تھی۔ معمولی سا خیال بھی آپ کو بہت زیادہ محسوس ہوا ہو گا ورنہ آپ جیسا خشوع و خضوع کسے نصب ہو گا؟
➍ مصنف رحمہ اللہ نے اس روایت سے استدلال کیا ہے کہ منقش کپڑے میں نماز ہو سکتی ہے۔ آپ نے نماز دہرائی نہیں۔ ویسے بھی دھاری دار کپڑا پہننا منع نہیں۔ پہنا ہوا یا جائے نماز کا کپڑا دھاری دار ہو تو نماز میں کوئی خرابی لازم نہ آئے گی لیکن اس سے پرہیز بہتر ہے۔ ہمارے دل اس قدر صاف نہیں ہیں کہ اتنی معمولی سی دھاریاں ہماری نماز کے خشوع و خضوع میں فرق ڈالیں کیونکہ ہمارا خشوع و خضوع پہلے ہی بہت کم ہوتا ہے، البتہ اگر کسی شخص کا لباس یا مصلے کی دھاریوں، رنگوں وغیرہ سے، خشوع و خضوع کم ہوتا ہو تو وہ ایسے کپڑے سے پرہیز کرے۔ آج کل مصلے پر مسجد، مینار اور گنبد وغیرہ کی تصاویر ہوتی ہیں جو نماز کی مناسبت سے ہیں، لہٰذا ان میں کوئی حرج نہیں سمجھا جاتا، لیکن اس حدیث کی رو سے یہ بھی ناپسندیدہ ہیں، ان سے بھی بچنے کا اہتمام کرنا چاہیے، البتہ ایسا کپڑایا مصلیٰ بالکل ناجائز ہے جس میں کسی جاندار کی یا کسی ایسی چیز کی تصویر ہو جس کی پوجا ہوتی ہو۔
   سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث\صفحہ نمبر: 772   
  مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3550  
´رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لباس کا بیان۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چادر میں نماز پڑھی جس میں نقش و نگار تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے ان بیل بوٹوں نے غافل کر دیا، اسے ابوجہم کو کے پاس لے کر جاؤ اور مجھے ان کی انبجانی چادر لا کر دے دو۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3550]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
  مرد کے لیے نقش و نگار والا کپڑا پہننا جائز ہے بشرطیکہ وہ اس قسم کا نہ ہو جسے زنانہ کپڑا قرار دیا جاتا ہو۔

(2)
نمازی کے سامنے ایسے نقش و نگار نہیں ہونے چاہیں جو نمازی کی توجہ اپنی طرف مبذول کریں، اس لئے رنگ برنگے مصلوں پر نماز پڑھنا مناسب نہیں۔

(3)
مسجد کی دیواروں کو طرح طرح سے مزین کرنا بھی درست نہیں، اس سے بھی نمازی کی توجہ نمار سے ہٹ جاتی ہے۔

(4)
مرد کے لئے سادہ لباس پہننا بہتر ہے۔

(5)
کسی کا تحفہ واپس کرنا پڑے تو عذر واضح کر دینا چاہیے۔

(6)
رسول اللہ ﷺنے صحابی سے دوسری چادر اس لئے طلب فرمالی کہ ہدیہ واپس ہونے کی وجہ سے ان کی دل شکنی نہ ہو۔

(7)
مقتدیوں اور ساتھیوں کے جذبات مجروح کرنے سے حتی الوسع اجتنا ب کرنا چاہیے۔

(8) (انجانیہ)
ایک قسم کی سادہ، نقش و نگار کے بغیر چادر ہوتی تھی جو بہت معمولی درجے کے موٹے کپڑے کی ہوتی تھی۔
   سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث\صفحہ نمبر: 3550   

http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.