الحمدللہ ! قرآن پاک روٹ ورڈ سرچ اور مترادف الفاظ کی سہولت پیش کر دی گئی ہے۔

 
صحيح مسلم کل احادیث 3033 :ترقیم فواد عبدالباقی
صحيح مسلم کل احادیث 7563 :حدیث نمبر
صحيح مسلم
حیض کے احکام و مسائل
حدیث نمبر: 695
پی ڈی ایف بنائیں اعراب
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة ، حدثنا وكيع ، وابو معاوية ، وهشيم ، عن الاعمش ، عن منذر بن يعلى ويكنى ابا يعلى ، عن ابن الحنفية ، عن علي ، قال: كنت رجلا مذاء، وكنت استحيي ان اسال النبي صلى الله عليه وسلم لمكان ابنته، فامرت المقداد بن الاسود فساله، فقال: " يغسل ذكره، ويتوضا ".حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ، وَهُشَيْمٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ مُنْذِرِ بْنِ يَعْلَى وَيُكْنَى أَبَا يَعْلَى ، عَنِ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ: كُنْتُ رَجُلًا مَذَّاءً، وَكُنْتُ أَسْتَحْيِي أَنْ أَسْأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمَكَانِ ابْنَتِهِ، فَأَمَرْتُ الْمِقْدَادَ بْنَ الأَسْوَدِ فَسَأَلَهُ، فَقَالَ: " يَغْسِلُ ذَكَرَهُ، وَيَتَوَضَّأُ ".
وکیع، ابو معاویہ اور ہشیم نے اعمش سے حدیث بیان کی، انہوں نے منذر بن یعلیٰ سے (جن کی کنیت ابو یعلیٰ ہے) انہوں نے ابن حنفیہ سے، انہوں نے (اپنے والد) حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: مجھے مذی (منی سے مختلف رطوبت جو اسی راستے سے خارج ہوتی ہے) زیادہ آتی تھی اور میں آپ کی بیٹی کے (ساتھ) رشتے کی وجہ سے براہ راست نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھنے میں شرم محسوس کرتا تھا۔ میں نے مقداد بن اسود سے کہا، انہوں نےآپ سے پوچھا، آپ نے فرمایا: (اس میں متبلا آدمی) اپنا عضو مخصوص دھوئے اور وضو کر لے۔
حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ مجھے بہت مذی آتی تھی، اور میں آپصلی اللہ علیہ وسلم کی لخت جگر کے اپنی بیوی ہونے کے باعث، آپصلی اللہ علیہ وسلم سے براہ راست پوچھنے سے شرماتا تھا، تو میں نے مقداد بن اسود کو کہا، اس نے آپصلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا، تو آپصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (اس میں مبتلا آدمی) اپنا عضو دھو لے اور وضو کر لے۔
ترقیم فوادعبدالباقی: 303

   صحيح البخاري269علي بن أبي طالبتوضأ واغسل ذكرك
   صحيح البخاري178علي بن أبي طالبفيه الوضوء
   صحيح البخاري132علي بن أبي طالبفيه الوضوء
   صحيح مسلم696علي بن أبي طالبمنه الوضوء
   صحيح مسلم695علي بن أبي طالبيغسل ذكره ويتوضأ
   جامع الترمذي114علي بن أبي طالبمن المذي الوضوء ومن المني الغسل
   سنن أبي داود206علي بن أبي طالبإذا رأيت المذي فاغسل ذكرك وتوضأ وضوءك للصلاة إذا فضخت الماء فاغتسل
   سنن النسائى الصغرى152علي بن أبي طالبقلت لرجل جالس إلى جنبي سله فسأله فقال فيه الوضوء
   سنن النسائى الصغرى194علي بن أبي طالبإذا رأيت المذي فتوضأ واغسل ذكرك إذا رأيت فضخ الماء فاغتسل
   سنن النسائى الصغرى193علي بن أبي طالبإذا رأيت المذي فاغسل ذكرك وتوضأ وضوءك للصلاة إذا فضخت الماء فاغتسل
   سنن النسائى الصغرى438علي بن أبي طالبفيه الوضوء
   سنن النسائى الصغرى157علي بن أبي طالبفيه الوضوء
   سنن النسائى الصغرى154علي بن أبي طالبيكفي من ذلك الوضوء
   سنن ابن ماجه504علي بن أبي طالبفيه الوضوء في المني الغسل
   بلوغ المرام64علي بن أبي طالبكنت رجلا مذاء فامرت المقداد ان يسال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم،‏‏‏‏ فساله فقال: «‏‏‏‏فيه الوضوء

تخریج الحدیث کے تحت حدیث کے فوائد و مسائل
  حافظ زبير على زئي رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث موطا امام مالك رواية ابن القاسم 66  
´مذی خارج ہونے سے وضو ضروری ہے`
«. . . 420- مالك عن أبى النضر مولى عمر بن عبيد الله عن سليمان بن يسار عن المقداد بن الأسود أن على بن أبى طالب أمره أن يسأل رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الرجل إذا دنا من أهله فخرج منه المذي، ماذا عليه؟ قال علي: فإن عندي ابنة رسول الله صلى الله عليه وسلم فأنا أستحي أن أسأله، قال المقداد: فسألت رسول الله صلى الله عليه وسلم عن ذلك فقال: إذا وجد ذلك أحدكم فلينضح فرجه بالماء وليتوضأ وضوءه للصلاة. . . .»
. . . سیدنا مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے انہیں حکم دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسے آدمی کے بارے میں پوچھیں جو اپنی بیوی کے پاس جب جاتا ہے تو اس سے مذی خارج ہوتی ہے، اس آدمی پر کیا ضروری ہے؟ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی میری بیوی ہے لہٰذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھتے ہوئے مجھے شرم آتی ہے۔ مقداد رضی اللہ عنہ نے کہا: پس میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں پوچھا: تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم میں سے کسی کے ساتھ ایسی حالت پیش آئے تو اسے چاہئے کہ اپنی شرمگاہ پانی سے دھوئے اور نماز کے لئے وضو کرے۔ . . . [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 66]

تخریج الحدیث:
[وأخرجه أبوداود 207، و ابن ماجه 505، و النسائي 97/1 ح 156، 125/1 ح 441، من حديث مالك به ورواه مسلم 303/19، من حديث سليمان بن يسار عن ابن عباس به وبه صح الحديث والحمد لله]

تفقه:
➊ مسئلہ پوچھتے وقت شرم وحیا کا خاص خیال رکھنا چاہے۔ سیدناعلی رضی اللہ عنہ کے نکاح میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بيٹی تھیں لہذا انھوں نے حیا کا خیال رکھتے ہوئے خود يه مسئله نہیں پوچھا بلکہ سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ کو کہا کہ وہ پوچھیں۔ معلوم ہوا کہ اسلام ادب و اخلاق سکھاتا ہے۔
➋ منی خارج ہونے سے غسل واجب ہو جاتا ہے لیکن صرف مذي خارج ہونے سے غسل نہیں بلکہ وضو واجب ہوتا ہے۔
➌ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بھی مذی خارج ہونے کی وجہ سے وضو کرنے کا فتوی دیا۔ دیکھئے [الموطأ رواية يحييٰ 41/1 ح 84 وسنده صحيح]
● مذی سے وضو کے وجوب پراجماع ہے۔ [التمهيد: 208/21]
➍ درج بالا حدیث [الموطأ 420] کی سند اگرچہ متصل نہیں ہے لیکن یہ [صحيح مسلم 303] کی یہ متصل حدیث کی وجہ سے بھی صحیح ہے۔ الحمدللہ
➎ مسئلہ معلوم نہ ہو تو اس کے لئے عالم کی طرف رجوع کرنا چاہئے
➏ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف رجوع اور عالم سے مسئلہ پوچھنا تقلید نہیں ہے۔
➐ سیدنا علی رضی اللہ عنہ عالم الغیب نہیں تھے اور نہ مشکل کشا تھے۔
➑ مسلمانوں کو نیکی اور جائز امور میں ایک دوسرے سے تعاون کرنا چاہے۔
➒ دینی امور اور نماز کی فکر میں رہنا ہل ایمان کا طرۂ امتیاز ہے۔
➓ یہ ضروری نہیں ہے کہ ہر بڑے عالم کو ہر مسئلہ ہر وقت معلوم ہو۔
   موطا امام مالک روایۃ ابن القاسم شرح از زبیر علی زئی، حدیث\صفحہ نمبر: 420   
  علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 64  
´وضو توڑنے والی چیزوں کا بیان`
«. . . وعن على بن ابي طالب رضى الله عنه قال: كنت رجلا مذاء فامرت المقداد ان يسال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم،‏‏‏‏ فساله فقال: ‏‏‏‏فيه الوضوء . . .»
. . . سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں کثرت سے مذی کے خارج ہونے کا مریض تھا۔ میں نے مقداد رضی اللہ عنہ سے کہا کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق دریافت کریں۔ مقداد رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں دریافت کیا (کہ اس کی وجہ سے وضو کرنا ہو گا یا غسل جنابت؟) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایسی حالت میں وضو ہی ہے . . . [بلوغ المرام/كتاب الطهارة: 64]

لغوی تشریح:
«مَذَّاءً» ذال پر تشدید ہے۔ یہ معالغے کا صیغہ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ مجھے بکثرت مذی آتی ہے۔ مذی کیا ہے؟ مذی رقیق اور لیس دار پانی ہے جو بیوی سے بوس و کنار اور جماع کی یاد اور ارادے کے وقت مرد کی شرمگاہ سے خارج ہوتا ہے۔
«فَأَمَرْتُ الْمِقْدَادَ بْنَ الْأَسْوَدِ» سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ کو مسئلے کی بابت پوچھنے کے لیے کہا، اس لیے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی زوجیت میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کی لخت جگر سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا تھیں۔ حیاداری کے پیش نظر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے براہ راست سوال کرنے سے گریز کیا۔

راوی حدیث:
SR سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ ER میم کے کسرہ کے ساتھ ہے۔ سلسلہ نسب یوں ہے: مقداد بن عمرو بن ثعلبة البھراني اور حلف کی وجہ سے الکندی کہلائے۔ ان کی کنیت ابوالاسود یا ابوعمرو ہے اور مقداد بن اسود کے نام سے مشہور ہیں۔ اور اسود سے مراد اسود بن یغوث زہری ہے۔ چونکہ اس نے مقداد کو متبنی (منہ بولا بیٹا) بنا لیا تھا اور جاہلیت میں اس کے ساتھ حلیفانہ تعلقات و روابط قائم کر لیے تھے، چنانچہ اس کی طرف نسبت کے ساتھ مشہور ہو گئے۔ اسلام لانے والوں میں ان کا چھٹا نمبر ہے۔ دو مرتبہ ہجرت کے شرف سے شرف یاب ہوئے۔ کبار، فضلاء اور بہترین اوصاف و خصائل کے مالک صحابہ میں ان کا شمار ہوتا ہے۔ عہد رسالت میں واقع ہونے والے تمام غزوات میں شریک رہے۔ معرکہ بدر کے روز گھڑ سواروں میں شامل تھے۔ فتح مصر میں حاضر تھے۔ 33 ہجری میں جوف کے مقام پر، جو مدینہ سے تین میل کے فاصلے پر واقع ہے، وفات پائی۔ ان کی میت کو مدینہ لایا گیا اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے نماز جنازہ پڑھائی اور بقیع میں دفن کیے گئے۔ اس وقت ان کی عمر 70 برس تھی۔
   بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث\صفحہ نمبر: 64   
  الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 206  
´مذی کا بیان`
«. . . قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَفْعَلْ إِذَا رَأَيْتَ الْمَذْيَ، فَاغْسِلْ ذَكَرَكَ وَتَوَضَّأْ وُضُوءَكَ لِلصَّلَاةِ، فَإِذَا فَضَخْتَ الْمَاءَ فَاغْتَسِلْ . . .»
. . . آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ایسا نہ کرو، جب تم مذی دیکھو تو صرف اپنے عضو مخصوص کو دھو ڈالو اور وضو کر لو، جیسے نماز کے لیے وضو کرتے ہو، البتہ جب پانی ۳؎ اچھلتے ہوئے نکلے تو غسل کرو . . . [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ: 206]
فوائد و مسائل:
منی وہ مادہ ہوتا ہے جو انزال کے وقت (تیزی سے اور اچھل کر) نکلتا ہے۔ اور مذی وہ رطوبت ہوتی ہے جو بوس و کنار یا شدت جذبات کے اثر سے لیس دار شکل میں نکلتی ہے۔ ودی وہ لیس دار پانی ہوتا ہے جو پیشاب سے پہلے یا بعد نکل آتا ہے۔ غسل صرف منی کے نکلنے سے واجب ہے۔ اگر انتہائی کمزوری کے باعث یا کوئی وزن وغیرہ اٹھانے سے یا کسی اور وجہ سے منی نکل آئے اور اس میں زور اور اچھل کر نکلنے کی کیفیت نہ ہو، تو غسل واجب نہ ہو گا۔
   سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعدی، حدیث\صفحہ نمبر: 206   
  حافظ عمران ايوب لاهوري حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري 132  
´ مسائل شرعیہ معلوم کرنے میں کسی دوسرے آدمی کے ذریعے سے مسئلہ معلوم کرانا`
«. . . عَنْ عَلِيِّ، قَالَ: " كُنْتُ رَجُلًا مَذَّاءً، فَأَمَرْتُ الْمِقْدَادَ أَنْ يَسْأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَهُ، فَقَالَ: فِيهِ الْوُضُوءُ . . .»
. . . علی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ` میں ایسا شخص تھا جسے جریان مذی کی شکایت تھی، تو میں نے (اپنے شاگرد) مقداد کو حکم دیا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کریں۔ تو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں پوچھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس (مرض) میں غسل نہیں ہے (ہاں) وضو فرض ہے۔ . . . [صحيح البخاري/كِتَاب الْعِلْمِ/بَابُ مَنِ اسْتَحْيَا فَأَمَرَ غَيْرَهُ بِالسُّؤَالِ: 132]

تخريج الحديث:
[175۔ البخاري فى: 4 كتاب الوضوء: 34 باب من لم ير الوضوء إلا من المخرجين 132، مسلم 303]
لغوی توضیح:
«الْمَذِیّ» ایسا باریک پانی جو کمزور شہوت کے وقت، یا اپنی بیوی سے کھیلتے وقت، یا اسی کی مثل کسی کام میں بغیر اچھلنے کے شرمگاہ سے خارج ہو۔
«مَـــدَّاء» جسے بہت زیادہ مذی آتی ہو۔ مذی نجس و پلید ہے اور اس پر اجماع ہے۔ [المجموع 552/2، نيل الأوطار 103/1، بداية المجتهد 73/1، المهذب 46/1]
اور جسے مذی آئے اس پر لازم ہے کہ اسے دھوئے اور پھر اگر نماز پڑھنی ہے تو وضو کرے، اس سے غسل واجب نہیں ہوتا، جیسا کہ حدیث کے الفاظ اس میں صرف وضو لازم ہے سے واضح ہے۔
   جواہر الایمان شرح الولووالمرجان، حدیث\صفحہ نمبر: 175   
  فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 152  
´وضو کو توڑ دینے اور نہ توڑنے والی چیزوں کا بیان، مذی سے وضو ٹوٹ جانے کا بیان۔`
ابوعبدالرحمٰن سلمی کہتے ہیں کہ علی رضی اللہ عنہ نے کہا: میں ایک ایسا آدمی تھا جسے کثرت سے مذی ۱؎ آتی تھی، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی (فاطمہ رضی اللہ عنہا) میرے عقد نکاح میں تھیں، جس کی وجہ سے میں نے خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھنے میں شرم محسوس کی، تو میں نے اپنے پہلو میں بیٹھے ایک آدمی سے کہا: تم پوچھو، تو اس نے پوچھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس میں وضو ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 152]
152۔ اردو حاشیہ:
➊ مذی وہ لیس دار پتلا سا پانی ہے جو شہوت کے وقت جوش کے بغیر شرم گاہ سے نکلتا ہے۔ بسا اوقات اس کے نکلنے کا احساس بھی نہیں ہوتا۔ اس کے نکلنے سے شہوت ختم ہوتی ہے نہ اس کے نکلنے سے غسل واجب ہوتا ہے۔
➋ پہلو میں بیٹھے ہوئے شخص حضرت مقداد رضی اللہ عنہ تھے۔ دیکھیے: [صحیح البخاري، العلم، حدیث: 132، و صحیح مسلم، الحیض، حدیث: 303]
سنن نسائی کی روایت میں ہے کہ حضرت علی نے حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کو کہا کہ وہ پوچھیں۔ دیکھیے: [سنن النسائي، الطھارۃ، حدیث: 154]
لیکن شیخ البانی رحمہ اللہ اس کے متعلق لکھتے ہیں کہ حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما سے اس مسئلے کے متعلق پوچھنے والی روایت منکر ہے۔ محفوظ روایت وہی ہے جس میں حضرت علی نے حضرت مقداد کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھنے کا کہا ہے۔ دیکھیے: [ضعیف سنن النسائي، رقم: 154، 155]
جبکہ بعض روایات میں آتا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے یہ مسئلہ خود پوچھا:۔ امام ابن حبان رحمہ اللہ ان کے درمیان تطبیق دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے پہلے حضرت مقداد کو کہا: ہو گا اور بعد میں حضرت عمار کو کہہ دیا اور پھر خود بھی پوچھ لیا ہو گا۔ لیکن جن روایات میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے خود پوچھنے کا ذکر ہے، وہ ان کے اپنے قول کے خلاف ہے جو صحیح روایات میں منقول ہے کہ میں نے خود پوچھنے میں شرم محسوس کی کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی فاطمہ رضی اللہ عنہا میرے حبالۂ عقد میں تھیں، لہٰذا جن راویوں نے سوال کی نسبت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف کی ہے، وہ اس لیے کہ اصل مسئلہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو درپیش تھا اور وہ اس موقع پر حاضر تھے جیسا کہ امام عبدالرزاق نے عائش بن انس کے واسطے سے بیان کیا ہے کہ حضرت علی، مقداد اور اسود رضی اللہ عنھم نے آپس میں مذی کا ذکر کیا تو علی رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے بہت زیادہ مذی آتی ہے، تم دونوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق دریافت کرو تو ان دونوں میں سے ایک نے پوچھا:۔ اس بنا پر سوال کی نسبت حضرت عمار رضی اللہ عنہ کی طرف مجازی ہے، درحقیقت حضرت مقداد رضی اللہ عنہ ہی نے مسئلہ دریافت کیا تھا جیسا کہ صحیحین کی روایت سے ثابت ہے۔ مزید دیکھیے: [فتح الباري: 493/1، تحت حدیث: 269]
   سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث\صفحہ نمبر: 152   
  فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 193  
´منی نکلنے پر غسل کا بیان۔`
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ایک ایسا شخص تھا جسے کثرت سے مذی آتی تھی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: جب مذی دیکھو تو اپنا ذکر دھو لو، اور نماز کے وضو کی طرح وضو کر لو، اور جب پانی (منی) کودتا ہوا نکلے تو غسل کرو۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 193]
193۔ اردو حاشیہ:
➊ مذی کا مسئلہ تو پیچھے (سنن نسائی حدیث 152، 153 کے تحت) گزر چکا ہے۔ منی گاڑھا، لیس دار سفید پانی ہوتا ہے جو زور سے اچھل کر نکلتا ہے کیونکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی حدیث میں فضخ اچھل کر نکلنے کی قید موجود ہے، اس صورت میں شہوت بھی یقینی امر ہے، اس کے نکلنے سے شہوت ختم ہو جاتی ہے۔
➋ حدیث: «الماء من الماء» خروج منی سے غسل ہے اگرچہ مطلق ہے اسے مقید حدیث پر محمول کیا جائے گا۔
➌ منی کا نکلنا، خواہ جماع سے ہو یا احتلام سے یا ویسے شہوت سے، غسل کو واجب کر دیتا ہے، البتہ اگر کسی کو بغیر شہوت کے کسی بیماری کی بنا پر یا قضائے حاجت کے وقت زور لگانے سے منی نکل آئے تو جمہور اہل علم کے نزدیک غسل واجب نہیں ہوتا۔ لیکن احتلام میں جس طرح بھی منی خارج ہو جائے، شہوت سے یا گرمی سے، خواب یاد ہو یا نہ ہو، زور سے نکلے یا آرام سے، ہر حال میں غسل واجب ہو جاتا ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک منی بیماری سے یا جیسے بھی نکلے، غسل واجب ہو جاتا ہے لیکن حدیث کے ظاہر الفاظ کے مقابلے میں یہ موقف محل نظر ہے۔ واللہ أعلم۔
   سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث\صفحہ نمبر: 193   
  مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث504  
´مذی سے وضو کے حکم کا بیان۔`
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے مذی ۱؎ کے بارے میں پوچھا گیا، تو آپ نے فرمایا: اس میں وضو ہے، اور منی ۲؎ میں غسل ہے۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 504]
اردو حاشہ:
(1)
مذی سے مراد وہ لیس دار پانی ہے جو بیوی سے دل لگی کے دوران میں صنفی خواہش کی وجہ سے عضو خاص سے خارج ہوتا ہے۔
اس کے خروج سے شہوت ختم نہیں ہوتی۔
منی سے مراد وہ گاڑھا پانی ہے جو صنفی عمل کی تکمیل پر خارج ہوتا ہے اور اس سے انسان کی تخلیق ہوتی ہے۔

(2)
مذی سے غسل فرض نہیں ہوتا صرف وضو کرلینا کافی ہے۔
وضو کا یہ فائدہ ہے کہ اس سے ذہن ان خیالات سے دوسری طرف منتقل ہوجاتا ہےاور انتشار کی کیفیت ختم ہوجاتی ہے۔

(3)
یہ مسئلہ پوچھنے کی ضرورت تو حضرت علی رضی اللہ عنہ کو پیش آئی تھی لیکن آپ نے رسول اللہﷺسے براہ راست نہیں پوچھا کیونکہ آپﷺ سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا رشتہ ایسا تھا جس کی وجہ سے شرم وحیا یہ مسئلہ پوچھنے میں حائل تھی، اس لیے حضرت مقداد رضی اللہ عنہ کے واسطے سے دریافت کیا۔ (صحیح البخاری، العلم، باب من استحیا فامرہ غیرہ بالسؤال، حدیث: 132)
اس سے معلوم ہوا کہ بالواسطہ معلوم ہونے والی حدیث یا مسئلہ بھی اسی طرح قابل اعتماد اور واجب العمل ہے جس طرح براہ راست حاصل ہونے والا علم بشرطیکہ واسطہ ثقہ (قابل اعتماد)
ہو۔
   سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث\صفحہ نمبر: 504   
  الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 114  
´منی اور مذی کا بیان۔`
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے مذی ۱؎ کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا: مذی سے وضو ہے اور منی سے غسل ۲؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الطهارة/حدیث: 114]
اردو حاشہ:
1؎:
حدیث اس بات پر دلیل ہے کہ مذی کے نکلنے سے غسل واجب نہیں ہوتا،
اس سے صرف وضو ٹوٹتا ہے،
مذی سفید،
پتلا لیس دار پانی ہے جو بیوی سے چھیڑ چھاڑ کے وقت اور جماع کے ارادے کے وقت مرد کی شرم گاہ سے خارج ہوتا ہے۔

2؎:
خواہ یہ منی جماع سے نکلے یا چھیڑ چھاڑ سے،
یا خواب (نیند) میں،
بہر حال اس سے غسل واجب ہو جاتا ہے۔
نوٹ:
(سند میں یزید بن ابی زیاد ضعیف ہیں،
لیکن متابعات و شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے)
   سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث\صفحہ نمبر: 114   
  الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 695  
1
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
مذي:
وہ سفید اور باریک (پتلا)
مادہ جو بیوی سے ملاعبت ہنسی مذاق کرتے وقت بعض دفعہ غیر شعوری طور پر ہی نکل جاتا ہے۔
   تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث\صفحہ نمبر: 695   

http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.