الحمدللہ ! قرآن پاک روٹ ورڈ سرچ اور مترادف الفاظ کی سہولت پیش کر دی گئی ہے۔

 
صحيح مسلم کل احادیث 3033 :ترقیم فواد عبدالباقی
صحيح مسلم کل احادیث 7563 :حدیث نمبر
صحيح مسلم
نماز کے احکام و مسائل
16. باب التَّشَهُّدِ فِي الصَّلاَةِ:
16. باب: نماز میں تشہد کا بیان۔
حدیث نمبر: 902
پی ڈی ایف بنائیں اعراب
حدثنا قتيبة بن سعيد ، حدثنا ليث . ح وحدثنا محمد بن رمح بن المهاجر ، اخبرنا الليث ، عن ابي الزبير ، عن سعيد بن جبير ، وعن طاوس ، عن ابن عباس ، انه قال: " كان رسول الله صلى الله عليه وسلم، يعلمنا التشهد، كما يعلمنا السورة من القرآن، فكان يقول: التحيات المباركات، الصلوات الطيبات لله، السلام عليك ايها النبي ورحمة الله وبركاته، السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين، اشهد ان لا إله إلا الله، واشهد ان محمدا رسول الله "، وفي رواية ابن رمح: كما يعلمنا القرآن.حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحِ بْنِ الْمُهَاجِرِ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، وَعَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يُعَلِّمُنَا التَّشَهُّدَ، كَمَا يُعَلِّمُنَا السُّورَةَ مِنَ الْقُرْآنِ، فَكَانَ يَقُولُ: التَّحِيَّاتُ الْمُبَارَكَاتُ، الصَّلَوَاتُ الطَّيِّبَاتُ لِلَّهِ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ "، وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ رُمْحٍ: كَمَا يُعَلِّمُنَا الْقُرْآنَ.
امام مسلم نے قتیبہ بن سعید اور محمد بن رمح بن مہاجر کی سندوں سے لیث سے، انہوں نے ابو زبیر سے، انہوں نے سعید بن جبیر اور طاؤس سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں تشہد اسی طرح سکھاتے جس طرح قرآن کی کوئی سورت سکھاتے تھے، چنانچہ آپ فرماتے تھے: بقا وبادشاہت، عظمت و اختیار اور کثرت خیر، ساری دعائیں اور ساری پاکیزہ چیزیں اللہ ہی کےلیے ہیں۔ آپ پر سلام ہو اے نبی! اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں۔ ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر سلام ہو۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں تشہد اس طرح سکھاتے تھے، جیسے ہمیں قرآن کی کوئی سورت سکھاتے تھے، آپصلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: (اَلتَّحِیَّاتُ اَلْمُبَارَکاَتُ، ادب و تعظیم کے سارے خیروبرکت والے کلمات اللہ کے لیے مخصوص ہیں، یا وہی ان کا حقدار ہے تمام عبادات، تمام صدقات اللہ ہی کے واسطے ہیں، تم پر سلام ہو اے نبی! اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں، سلام ہو ہم پر اور اللہ کے سب نیک بندوں پر، میں گواہی دیتا ہوں اللہ کے سوا کوئی عبادت اور بندگی کے لائق نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں اور ابن رمح کی حدیث میں یُعَلِّمُنَا السُّوْرَةَ مِنَ الْقُرْآن کی بجائے کَمَا یُعَلِّمُنَا اْلقُرْآن ہے۔
ترقیم فوادعبدالباقی: 403

   سنن النسائى الصغرى1175عبد الله بن عباسالتحيات المباركات الصلوات الطيبات لله سلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبركاته سلام علينا وعلى عباد الله الصالحين أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا عبده ورسوله
   صحيح مسلم902عبد الله بن عباسالتحيات المباركات الصلوات الطيبات لله السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبركاته
   صحيح مسلم903عبد الله بن عباسيعلمنا التشهد كما يعلمنا السورة من القرآن
   سنن أبي داود974عبد الله بن عباسالتحيات المباركات الصلوات الطيبات لله السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبركاته
   سنن ابن ماجه900عبد الله بن عباسالتحيات المباركات الصلوات الطيبات لله السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبركاته السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا عبده ورسوله
   سنن النسائى الصغرى1279عبد الله بن عباسيعلمنا التشهد كما يعلمنا السورة من القرآن

تخریج الحدیث کے تحت حدیث کے فوائد و مسائل
  الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 974  
´تشہد (التحیات) کا بیان۔`
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں تشہد اسی طرح سکھاتے تھے جس طرح قرآن سکھاتے تھے، آپ کہا کرتے تھے: «التحيات المباركات الصلوات الطيبات لله السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبركاته السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا رسول الله» آداب، بندگیاں، پاکیزہ صلاۃ و دعائیں اللہ ہی کے لیے ہیں، اے نبی! آپ پر سلام، اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں نازل ہوں، اور سلام ہو ہم پر اور اللہ کے تمام نیک و صالح بندوں پر، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 974]
974۔ اردو حاشیہ:
تشہد اس اہتمام سے سکھاتے تھے، جیسے کہ قرآن اس میں یہ اشارہ ہے کہ یہ واجب ہے۔ ترجمہ اوپر گزرے الفاظ ہی کی مانند ہے۔ یعنی تمام بابرکت عظمتیں اور پاکیزہ اذکار اللہ ہی کے لئے خاص ہیں۔
➋ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی تصریح ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان ہی الفاظ سے پورا تشہد پڑھا کرتے تھے، جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین کو تعلیم فرماتے تھے۔
   سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعدی، حدیث\صفحہ نمبر: 974   
  مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث900  
´تشہد کا بیان۔`
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں تشہد سکھاتے جس طرح قرآن کی سورت سکھاتے، آپ کہتے: «التحيات المباركات الصلوات الطيبات لله السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبركاته السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا عبده ورسوله» بابرکت دعائیں اور پاکیزہ نمازیں سب اللہ کے لیے ہیں، اے نبی! آپ پر سلام، اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں، ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر سلام ہو، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اس کے بندے اور رسول ہیں۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 900]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
قرآن کیطرح دعا سکھانے کا مطلب یہ ہے کہ بہت اہتمام اور توجہ سے یہ دعا سکھائی۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دعا نماز میں ضرور پڑھنی چاہیے۔

(2)
جس طرح قرآن کے الفاظ گھٹا بڑھا لینا جائز نہیں لیکن بعض الفاظ کئی طرح نازل ہوئے ہیں۔
اور ان طریقوں میں سے کسی بھی طریقے سے انھیں پڑھنا درست ہے۔
اسی طرح جو دعایئں کئی طرح مروی ہیں۔
انھیں انہی روایت شدہ طریقوں میں سے کسی بھی طریقے سے پڑھا جا سکتا ہے۔

(3) (ایھاالنبی)
اے نبی! سے مقصود رسول اللہﷺ کو سنانا نہیں۔
بلکہ یہ الفاظ اسی طرح پڑھے جاتے ہیں۔
جس طرح قرآن مجید کے الفاظ پڑھے جاتے ہیں۔
مثلاً (ينوح، يا ابراهيم، يا ايها المزمل، يا ايهاالذين امنوا، ياايهاالناس، يبني آدم، يفرعون، يهامن)
 وغیرہ۔
ان کو پڑھتے وقت قاری انھیں مخاطب کرنے کی نیت نہیں رکھتا اور نہ حاضروموجود سمجھتا ہے۔
   سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث\صفحہ نمبر: 900   

http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.