الحمدللہ ! قرآن پاک روٹ ورڈ سرچ اور مترادف الفاظ کی سہولت پیش کر دی گئی ہے۔

 
سنن ابن ماجه کل احادیث 4341 :حدیث نمبر
سنن ابن ماجه
کتاب: اقامت صلاۃ اور اس کے سنن و آداب اور احکام و مسائل
Establishing the Prayer and the Sunnah Regarding Them
24. بَابُ : مَا جَاءَ فِي التَّشَهُّدِ
24. باب: تشہد کا بیان۔
حدیث نمبر: 900
پی ڈی ایف بنائیں مکررات اعراب
(مرفوع) حدثنا محمد بن رمح ، انبانا الليث بن سعد ، عن ابي الزبير ، عن سعيد بن جبير ، وطاوس ، عن ابن عباس ، قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يعلمنا التشهد كما يعلمنا السورة من القرآن، فكان يقول:" التحيات المباركات الصلوات الطيبات لله، السلام عليك ايها النبي ورحمة الله وبركاته، السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين، اشهد ان لا إله إلا الله، واشهد ان محمدا عبده ورسوله".
(مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، وَطَاوُسٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُنَا التَّشَهُّدَ كَمَا يُعَلِّمُنَا السُّورَةَ مِنَ الْقُرْآنِ، فَكَانَ يَقُولُ:" التَّحِيَّاتُ الْمُبَارَكَاتُ الصَّلَوَاتُ الطَّيِّبَاتُ لِلَّهِ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں تشہد سکھاتے جس طرح قرآن کی سورت سکھاتے، آپ کہتے: «التحيات المباركات الصلوات الطيبات لله السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبركاته السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا عبده ورسوله» بابرکت دعائیں اور پاکیزہ نمازیں سب اللہ کے لیے ہیں، اے نبی! آپ پر سلام، اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں، ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر سلام ہو، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اس کے بندے اور رسول ہیں۔

تخریج الحدیث: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الصلاة 16 (403)، سنن ابی داود/الصلاة 182 (974)، سنن الترمذی/الصلاة 101 (290)، سنن النسائی/التطبیق 103 (1175)، السہو 42 (1279)، (تحفة الأشراف: 5750، 5607)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/292) (صحیح)» ‏‏‏‏

It was narrated that Ibn ‘Abbas said: “The Messenger of Allah (ﷺ) used to teach us the Tashah-hud as he used to teach us a Surah of the Qur’an. He used to say: ‘At-Tahiyyatul-Mubarakatus salawatut-tayyibatu lillah; As-salamu ‘alayka ayyuhan-Nabiyyu wa rahmatullahi wa barakatuhu; as-salamu ‘alayna wa ‘ala ‘ibadillahis-salihin. Ashhadu an la ilaha illallah wa ashhadu anna Muhammadan ‘abduhu wa Rasuluhu (All blessed compliments and good prayers are due to Allah; peace be upon you, O Prophet, and the mercy of Allah and His blessings; peace be upon us and upon the righteous slaves of Allah. I bear witness that none has the right to be worshipped but Allah and I bear witness that Muhammad is His slave and Messenger).’”
USC-MSA web (English) Reference: 0


قال الشيخ الألباني: صحيح

قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

   سنن النسائى الصغرى1175عبد الله بن عباسالتحيات المباركات الصلوات الطيبات لله سلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبركاته سلام علينا وعلى عباد الله الصالحين أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا عبده ورسوله
   صحيح مسلم902عبد الله بن عباسالتحيات المباركات الصلوات الطيبات لله السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبركاته
   صحيح مسلم903عبد الله بن عباسيعلمنا التشهد كما يعلمنا السورة من القرآن
   سنن أبي داود974عبد الله بن عباسالتحيات المباركات الصلوات الطيبات لله السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبركاته
   سنن ابن ماجه900عبد الله بن عباسالتحيات المباركات الصلوات الطيبات لله السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبركاته السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا عبده ورسوله
   سنن النسائى الصغرى1279عبد الله بن عباسيعلمنا التشهد كما يعلمنا السورة من القرآن

تخریج الحدیث کے تحت حدیث کے فوائد و مسائل
  الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 974  
´تشہد (التحیات) کا بیان۔`
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں تشہد اسی طرح سکھاتے تھے جس طرح قرآن سکھاتے تھے، آپ کہا کرتے تھے: «التحيات المباركات الصلوات الطيبات لله السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبركاته السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا رسول الله» آداب، بندگیاں، پاکیزہ صلاۃ و دعائیں اللہ ہی کے لیے ہیں، اے نبی! آپ پر سلام، اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں نازل ہوں، اور سلام ہو ہم پر اور اللہ کے تمام نیک و صالح بندوں پر، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 974]
974۔ اردو حاشیہ:
تشہد اس اہتمام سے سکھاتے تھے، جیسے کہ قرآن اس میں یہ اشارہ ہے کہ یہ واجب ہے۔ ترجمہ اوپر گزرے الفاظ ہی کی مانند ہے۔ یعنی تمام بابرکت عظمتیں اور پاکیزہ اذکار اللہ ہی کے لئے خاص ہیں۔
➋ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی تصریح ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان ہی الفاظ سے پورا تشہد پڑھا کرتے تھے، جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین کو تعلیم فرماتے تھے۔
   سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعدی، حدیث\صفحہ نمبر: 974   
  مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث900  
´تشہد کا بیان۔`
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں تشہد سکھاتے جس طرح قرآن کی سورت سکھاتے، آپ کہتے: «التحيات المباركات الصلوات الطيبات لله السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبركاته السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا عبده ورسوله» بابرکت دعائیں اور پاکیزہ نمازیں سب اللہ کے لیے ہیں، اے نبی! آپ پر سلام، اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں، ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر سلام ہو، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اس کے بندے اور رسول ہیں۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 900]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
قرآن کیطرح دعا سکھانے کا مطلب یہ ہے کہ بہت اہتمام اور توجہ سے یہ دعا سکھائی۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دعا نماز میں ضرور پڑھنی چاہیے۔

(2)
جس طرح قرآن کے الفاظ گھٹا بڑھا لینا جائز نہیں لیکن بعض الفاظ کئی طرح نازل ہوئے ہیں۔
اور ان طریقوں میں سے کسی بھی طریقے سے انھیں پڑھنا درست ہے۔
اسی طرح جو دعایئں کئی طرح مروی ہیں۔
انھیں انہی روایت شدہ طریقوں میں سے کسی بھی طریقے سے پڑھا جا سکتا ہے۔

(3) (ایھاالنبی)
اے نبی! سے مقصود رسول اللہﷺ کو سنانا نہیں۔
بلکہ یہ الفاظ اسی طرح پڑھے جاتے ہیں۔
جس طرح قرآن مجید کے الفاظ پڑھے جاتے ہیں۔
مثلاً (ينوح، يا ابراهيم، يا ايها المزمل، يا ايهاالذين امنوا، ياايهاالناس، يبني آدم، يفرعون، يهامن)
 وغیرہ۔
ان کو پڑھتے وقت قاری انھیں مخاطب کرنے کی نیت نہیں رکھتا اور نہ حاضروموجود سمجھتا ہے۔
   سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث\صفحہ نمبر: 900   

http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.