الحمدللہ! انگلش میں کتب الستہ سرچ کی سہولت کے ساتھ پیش کر دی گئی ہے۔

 
سنن ابن ماجه کل احادیث 4341 :حدیث نمبر
سنن ابن ماجه
کتاب: ہبہ کے احکام و مسائل
The Chapters on Gifts
3. بَابُ : الْعُمْرَى
3. باب: عمریٰ (عمر بھر کے لیے کسی کو کوئی چیز دینے) کا بیان۔
Chapter: Lifelong Grant
حدیث نمبر: 2379
Save to word اعراب
(مرفوع) حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة ، حدثنا يحيى بن زكريا بن ابي زائدة ، عن محمد بن عمرو ، عن ابي سلمة ، عن ابي هريرة ، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:" لا عمرى فمن اعمر شيئا فهو له".
(مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا عُمْرَى فَمَنْ أُعْمِرَ شَيْئًا فَهُوَ لَهُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عمریٰ کوئی چیز نہیں ہے، جس کو عمریٰ کے طور پر کوئی چیز دی گئی تو وہ اسی کی ملک ہو جائے گی۔

تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 15107)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الرقبي 4 (3555) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏

وضاحت:
۱؎: صحیحین میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ عمریٰ والوں کے لئے، عمریٰ میراث ہو گی ایک روایت میں ہے کہ عمریٰ جائز ہے۔

قال الشيخ الألباني: حسن صحيح

قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

   صحيح مسلم4202عبد الرحمن بن صخرالعمرى جائزة
   سنن ابن ماجه2379عبد الرحمن بن صخرلا عمرى فمن أعمر شيئا فهو له
   سنن النسائى الصغرى3783عبد الرحمن بن صخرلا عمرى فمن أعمر شيئا فهو له
   سنن النسائى الصغرى3784عبد الرحمن بن صخرمن أعمر شيئا فهو له
   سنن النسائى الصغرى3785عبد الرحمن بن صخرالعمرى جائزة
   سنن النسائى الصغرى3786عبد الرحمن بن صخرالعمرى جائزة
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 2379 کے فوائد و مسائل
  مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2379  
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
اہل عرب بعض اوقات کسی پراحسان کرتےہوئے اسے کہہ دیتےتھے:
میں تمھیں اپنے اس گھر میں زندگی بھررہنے کی اجازت دیتاہوں۔
مطلب یہ ہوتا تھا کہ تمھاری وفات کےبعد یہ گھر دوبارہ مجھے یا میرے وارثوں کو مل جائےگا۔
اسے عمریٰ کہتےتھے۔

(2)
  رسول اللہﷺ نےعمریٰ کوعام ہبہ کےحکم میں کردیا۔
اب ایک چیز جسے دے دی گئی وہ اسی کی ہوگئی۔
اس پریہ شرط لگانا درست نہیں کہ تمھارے مرنےکےبعد مجھے واپس مل جائے گی۔
   سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2379   

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
  فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث3786  
´اس حدیث میں ابوسلمہ سے روایت میں یحییٰ بن ابی کثیر اور محمد بن عمرو کے اختلاف کا ذکر۔`
قتادہ کہتے ہیں کہ مجھ سے سلیمان بن ہشام نے عمریٰ کے متعلق پوچھا تو میں نے کہا: محمد بن سیرین نے شریح سے یہ روایت بیان کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ دیا ہے کہ عمریٰ نافذ ہو گا۔ قتادہ کہتے ہیں: میں نے کہا کہ مجھ سے محمد بن نضر بن انس نے بسند بشر بن نہیک بسند ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: عمریٰ نافذ ہو گا، قتادہ کہتے ہیں: میں نے کہا۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب العمرى/حدیث: 3786]
اردو حاشہ:
یہ تمام اقوال حضرت قتادہ نے اس مسئلے کی تفہیم کے لیے بیان فرمائے ہیں۔ کسی خلیفہ کا صحیح حدیث کے مطابق فیصلہ نہ کرنا اس حدیث کو کمزور نہیں بناتا‘ البتہ ان اقوال سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ مسئلہ مختلف ہے۔ لیکن صحیح بات وہی ہے جو احادیث صحیحہ سے ثابت ہے جیسا کہ تفصیل سے بیان ہوچکا ہے۔
   سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3786   


http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.